ترکی اور پاکستان صدارتی نظام کی طرف گامزن
- تحریر محی الدین عباسی
- ہفتہ 30 / جولائی / 2016
- 6541
پاکستان میں 1958کے مارشال لاء کی نوبت دیگر وجوہ کے علاوہ 1956کے پارلیمانی آئین کی ناکامی کی وجہ سے آئی۔ اس وقت کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے ایک کمیشن مقرر کیا جس کی سربراہی وفاقی عدالت کے ریٹائرڈ جج نے کی۔ یہ جج بے داغ شہرت رکھنے والے شہاب الدین تھے۔ اس کمیشن نے جائزے، سوچ بچار اور سیاست دانوں سے ملاقاتوں اور ان کی رائے لینے کے بعد پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام تجویز کیا۔
جنرل ایوب خان نے پارلیمانی نظام منسوخ کر کے صدارتی نظام اختیار کر لیا۔ آج ہمارے معاشرے میں جمہوریت ناکام دکھائی دے رہی ہے اور ترکی کے حالات کے پیش نظر ہمارے ملک کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ 13 برس سے اقتدار میں موجود ترک صدرطیب اردگان اس وقت متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں۔ انہوں نے اپنا سفر جمہوریت سے شروع کیا لیکن مذہب کی آڑ لے کر اب وہ آمریت کی طرف جارہے ہیں۔ وہ ایسے اقدامات کررہے ہیں کہ وہ تاحیات اقتدار میں رہ سکیں۔ اردگان اسلامی نظریات کے حامی ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کی طرف سے یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ عا م انتخابات میں کامیابی کے بعد حکمران جماعت ایک مرتبہ پھر یہ کوشش کرے گی کہ آئینی ترامیم کے ذریعہ ملک میں صدارتی نظام رائج کیا جائے۔ ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کا لین نے بتایا ہے کہ ترک سربراہ مملکت کویقین ہے کہ ملک میں صدارتی نظام حکومت رائج کرنا مستقبل کی ایک بہت بڑی پلاننگ ہوگی۔ ممکنہ طور پر اس بارے میں ترکی میں آئندہ ریفرنڈم بھی کروایا جاسکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کےلئے عوام سے فیصلہ کرانا ہی طریقہ کار ٹھہرا تو ایسا کیا بھی جاسکتا ہے۔ طیب اردگان کو نئی پارلیمان میں قطعی اکثریت تو حاصل ہوگئی ہے لیکن اس کے پاس کسی بھی ریفرنڈم کے لئے یا کسی آئینی ترمیم کےلئے ابھی بھی 13ارکا ن پارلیمنٹ کی کمی ہے۔ ملک میں نئے الیکشن کے بعد جو یکم نومبر 2015ء کو ہوا، اسلامی نظریہ کی سوچ رکھنے والی اے کے پارٹی دوبارہ پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی ۔ اگرترکی میں صدارتی نظام حکومت رائج کردیا گیا تو طیب اردگان کے اختیارات میں واضح اضافہ ہو جائے گا۔
نچلی سطح سے زندگی کا آغاز کرنے والے موجودہ ترک صدر، اتا ترک کے بعد ترکی کے مضبوط ترین سیاستدان بن چکے ہیں۔ تاہم 13سال سے زائد عرصہ سے اقتدا ر میں موجود طیب اردگان اس وقت متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں۔ انہوں نے اپنا سفر جمہوریت سے شروع کیا لیکن مذہب کی آڑ لے کر اب وہ آمریت کی طرف سفر کررہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی اخبارات اور صحافیوں پر پابندیاں عائد ہیں۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اب یہ قدامت پسندانہ اسلامی اقدار کو نافذ کرنے کے ساتھ اپنے مخالفین اور میڈیا کو کنٹرول کرکے سیکولر ڈیموکریسی کو تباہ کرنے کے در پے ہیں۔ حالیہ دنوں میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد اردگان کی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے سیکولر سوچ کے حامیوں کو تعلیمی اداروں سے فارغ کردیا ہے اور ایسے صحافیوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کی ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی ہے۔
ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان ایک کوسٹ گارڈ کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی اور 1994 میں استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔انہوں نے ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر کو فضائی آلودگی سے پاک کیا نیز ٹریفک اور نئی پولیس فورس ڈولفن بنائی۔ کئی بڑے تعمیراتی پروجیکٹ ، میٹرو ٹرین کے توسیعی منصوبوں کو مکمل کیا۔ ان کی مذہبی سیاسی جماعت کو جب کالعدم قرار دیا گیا تو انہیں 2 ماہ کی جیل بھی کاٹنا پڑی۔ اردگان 2002سے 2014 تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔ اسی سال وہ ملک کے صدر بن گئے۔ انہوں نے مشکل حالات میں معاشی بحران پر قابو پایا۔ انتخابی مہم کے دوران پولیس نے اردگان کے مخالف رہنما سے تعلق رکھنے والے ٹیلی ویژن سٹیشنوں کو بند کر دیا۔ ان ٹی وی سٹیشنوں کے خلاف چھاپوں کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران ایک پلے کارڈ پر طیب اردگان کو آخری آمر قرار دیاگیا تھا ۔
امریکہ میں خودساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے فتح اللہ گولن پر الزام عائد کیا جاتا ہےکہ وہ اردگان حکومت اور ان کے ساتھیوں پر بد عنوانی کے الزامات لگا کر ان کی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ طیب اردگان نے حالیہ ناکام فوجی بغاوت کو فتح اللہ گولن کامنصوبہ قرار دیا ہے اور امریکہ سے اس ضمن میں اپنی خفگی کا بھی اظہار کیا ہے۔
ہمارے ملک میں بھی ایسے ہی اسلامی مائنڈ سیٹ کے لوگوں کا اقتدار پر قبضہ ہے، جس کی وجہ سے ملک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ہماری جمہوریت کے چیمپین حکمرانوں کو ملک اور عوام کی کوئی فکر نہیں۔ بس یہ اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے دولت کماؤ اور ملک سے باہر جاؤ۔ ہمارا ملک کرپشن اور بد اعمالیوں او ر دہشت گردوں کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے اور یہی ہمارا دشمن چاہتا ہے۔ آج راحیل شریف کے پوسٹر پورے پاکستان میں سامنے آ رہے ہیں اور دن بدن ان کی مقبولیت کا گراف بڑھتا جارہا ہے ۔ جمہوریت کا دوسرا نام احتساب ہے جو پاکستانی نے کبھی نہیں کیا، یہی ملک میں جمہوریت کی ناکامی ہے۔ اسی لئے کوشش ہو رہی ہے یہ سفر جمہوریت سے صدارتی نظام کی طرف چلا جائے۔
فوج یا اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے۔ یہ طوفان کتنا تباہ کن ہوگا اور یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اس کا تعین مون سون کے موسم کے بعد ہی ہوگا۔ پھر بہار آئے گی اس چمن میں یا؟