مذاہب کی آڑ میں سیاسی داؤ پیچ
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 01 / اگست / 2016
- 5427
یہ عجب مذاق ہے کہ سیاسی لیڈر نہ صرف مختلف مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی راہنمابنے ہوئے ہیں بلکہ عرف عام میں سماج بھی انہیں اسی حیثیت سے دیکھتا ہے۔اس کے باوجود کہ ان کی عملی زندگیاں مذہب بیزار ی کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔کچھ یہی معاملہ ملک کی اکثرتی طبقہ ہندو ؤں کے ساتھ بھی ہے۔ اقلیتوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔
موجودہ برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوؤں کے ایک بڑے طبقہ کی ہر سطح پر رہنمائی کرتی نظر آتی ہے۔اور ہندوبھی انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔ ہندو مذہب و ثقافت کا تحفظ وبقا اور اس کا قیام اِس مخصوص پارٹی سے وابستہ ہوکر رہ گیا ہے۔دوسری جانب سماج کا کمزور طبقہ جسے عرف عام میں دلت کہا جاتا ہے ،وہ بھی اپنے افکار ونظریات کی ترویج ،بقا و تحفظ کے لیے بہوجن سماج پارٹی کی جانب نظریں اٹھاتاہے۔تیسری جانب مسلمان ہیں جو اگرچہ اپنی بقا و تحفظ کے لیے کسی مخصوص پارٹی کی جانب متوجہ نہیں ہیں ،اس کے باوجود مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ مسلمان سیاست دان یہی ثابت کرنے میں کوشاں رہتے ہیں کہ ہم نے جو اس سیاسی پارٹی سے اپنا تعلق استوار کیاہے ، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل حل ہوں، ان کو تحفظ ملے۔ یہاں بھی عموماً اسی پس منظر میں ان مسلمان لیڈروں کو دیکھنے کا رواج ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان انہیں کامیاب کرتے ہیں اور اپنا سیاسی و مذہبی مسیحا سمجھتے ہیں۔مذہبی و سیاسی راہنما اس لحاظ سے کہ مذہب پر عمل پیرا وہ رہنے میں اسٹیٹ اور قانون جو مواقع فراہم کرتا ہے ، اس میں وہ مدد گار ہوں گے۔لیکن جو تاثر ان سیاسی لیڈران اور ان کی سیاسی پارٹیوں کے بارے میں قائم کیا گیا ہے، وہ حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ شواہد یہی ثابت کرتے ہیں کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے اور مذہب اور مذہبی عقائد و نظریات سے وہ حد درجہ دورہیں۔
فی الوقت چونکہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں آئندہ سال انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے اترپردیش کی سماجی و مذہبی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ملک میں وقوع پذیر مختلف حادثات اور واقعات پر سیاسی لیڈر اپنا ردعمل سامنے لا رہے ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں چونکہ وہ مختلف طبقات ومذاہب کے نمائندے ہیں،اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا مؤقف سامنے لائیں۔لیکن ہمارے خیال میں یہ بات اس لیے درست نہیں ہے کہ جس منصوبہ بندی کے ساتھ آج کل سیاسی محاذ پر سرگرمیاں جاری ہیں، وہ اس سے قبل رونما ہونے والے واقعات کے بعد ،اپنا رد عمل ظاہر نہیں کر رہے تھے۔آج دلت سماج نے منظم طور پر گجرات واقعہ کے بعد اپنے جذبات کا جس طرح اظہار کیا ہے ،وہ گزشتہ سال رونما ہونے والے واقعات کے بعد نہیں کیا گیا تھا۔لیکن چونکہ ہمیں اس سے سروکار نہیں کہ کون کس وقت کس مسئلہ پر اپنا رد عمل کا اظہار کرتا ہے ۔ لیکن یہ جاننا اہم ہے کہ اس طبقہ کے بیشتر رہنما جو جوانی میں مسائل کے لیے سعی و جہد کرتے نظر آتے ہیں، وہ کیوں زندگی کے آخری دور میں داخل ہوتے وقت، اپنی فکر ونظریہ کے خلاف منصوبہ بند سعی و جہد کرنے والوں کاآلہ کار کیوں بن جاتے ہیں؟جس طرح ضعیفی کی حالت میں انسان کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح سیاسی و سماجی سطح پر وہ اپنے موقف میں اس وقت کیوں کمزور نظر آتے ہیں جبکہ وہ سیاسی و سماجی سطح پر کوئی مقام حاصل کر لیتے ہیں؟
واقعہ یہ ہے کہ سیاسی وسماجی ہر دو سطحوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی ایک دوسرے کے حریف ہیں۔اس کے باوجود بہوجن سماج پارٹی سے وابستہ یا اس طبقہ سے وابستہ افرادزندگی کے آخری دور میں اُسی حریف کے ساتھ کھڑے نظرآتے ہیں جس کے خلاف وہ زندگی بھر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہے؟یا ان کا ماننا ہے کہ سماج میں ذلت کی زندگی سے نکل کر عزت کی زندگی صرف سیاسی سطح پر بظاہر کامیابی ہی کی شکل میں حاصل کی جا سکتی ہے ؟کیا عزت کی زندگی سیاسی بساط پر کچھ عروج پالینا ہے ؟یا عزت یہ ہے کہ انسان جس عقیدہ اور نظریہ سے وابستہ ہے اس پر کاربند رہتے ہوئے مسائل کا صبر و تحمل کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اس دارفانی سے رخصت ہو جائے۔
ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ اردو میں لکھی تحریر کا اس طبقہ سے کیا تعلق جس کا تذکرہ اور مسائل یہاں چھیڑے جا رہے ہیں؟کیونکہ بات کو کہنے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے مخاطب ہوں، ان سے ، ان ہی کی زبان میں ان کے سامنے بات کی جائے۔پھر یہاں اس تحریر کو پڑھنے والے عموماً مسلمان ہیں تو مسلمانوں کے سامنے یہ سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر آپ ایسا سوچ رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ میری کوشش کارآمد ثابت ہو رہی ہے اور رائیگاں نہیں جائے گی۔کیونکہ مخاطب آپ اور ہم ہی ہیں، یعنی وہ عام مسلمان،جو سیاسی محاذ پر اپنے مسائل کے حل کے لئے ، مختلف سیاسی پارٹیوں کے ان لیڈروں سے وابستہ کرتے ہیں،جن کی سیاسی پارٹی نے ،کبھی بھی آپ کے مسائل کو حل کرنے کی جانب توجہ نہیں دی۔اب آپ سوچئے اور غور کیجیے کہ ہم بحیثیت مسلمان اُن سیاسی پارٹیوں سے اپنے مسائل کے حل کے لیے کیوں توقعات وابستہ کیے رہتے ہیں؟کیا ان سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور منصوبہ ساز،آپ اور آپ کے مسائل کی جانب کبھی متوجہ ہوئے ہیں۔کیا انہوں نے آپ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اور ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا ہے۔کیا ان مسلم لیڈروں کی جو مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ ہیں،اپنی ہی پارٹی میں مسلمانوں کے حوالے سے آواز اٹھانے پر ،متعلقہ لیڈر اور منصوبہ ساز،حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ عمل درآمد، رد عمل ،اور مسئلہ کے حل کی جانب پیش قدمی کی جاتی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مسلمان ہندوستان کی آزادی کے بعد سے اب تک ستر سالہ دور اور اس میں درپیش مسائل کے مشاہدے کے بعد ،کوئی دوسرا لائحہ عمل تیار کیوں نہیں کرتے؟اور کیا یہ لائحہ عمل صرف سیاسی لیڈرہی تیار کرسکتے ہیں۔یا اس لائحہ عمل میں علاقائی سطح پر موجودسیاسی شعور رکھنے والے افراد بھی کوئی موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہیں۔
بات کا اختتام اس بیان پر کرتے ہیں جس میں بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا ہے کہ معاشرہ بیدار ہوجائے تو پھر وہ کروڑوں لوگوں کے ساتھ بدھ مت اپنائیں گی۔مایاوتی نے کہا کہ باباصاحب امبیدکر نے بھی بدھ مت اپنانے میں جلد بازی نہیں کی تھی اور زندگی کے آخری وقت میں بدھ مت اپنایا تھا۔مایاوتی کا یہ بیان مہاراشٹر کے دلت لیڈر اٹھاولے کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔جس میں اتھاولے نے امبیڈکر کے نام پر مایاوتی پر سیاست کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ امبیڈکر کے نام پر سیاست تو کرتی ہیں لیکن ان کے نظریات کو نہیں مانتیں۔جواب میں مایاوتی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ رام داس اٹھاولے بی جے پی کی غلامی میں باباصاحب امبیڈکر کی تحریک کو صدمہ پہنچا رہے ہیں۔نیز یہ بھی کہ اٹھاولے دلتوں کو غلام بنانے کی ذہنیت رکھنے والے بی جے پی کے ایجنڈے پر کام کرنا بند کریں اور دلت اتحاد کو نہ توڑیں۔وہ یہ بھی کہتی سنی گئیں کہ وہ سچی امبیڈکروادی ہیں اوراترپردیش اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست کے خوف سے بی جے پی مذہب کی آڑ میں سیاست کر رہی ہے ۔اسی مقصد سے اس نے حال میں'بدھ دھرم یاترا'شروع کی ہے۔ساتھ ہی الزام لگایا کہ آرایس ایس اور نریندر مودی نے اپنے سیاسی مفاد کے پیش نظر ہی بدھ مذہب کی تعریف شروع کی ہے۔ اس کے برعکس وہ بدھ مذہب کی تعلیمات کو نہیں مانتے اور ان کے ماننے والوں پر ظلم کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔مایاوتی اور اٹھاولے کے بیان دربیان کے بعد اب آپ بتائیے کہ آپ اپنے مسائل کے حل کے لیے کون سا مذہب اختیار کرنے والے ہیں!