سماجی زوال کا ہراول دستہ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 02 / اگست / 2016
- 4869
اگر ہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا پچھلی صرف ایک دہائی کا ریکارڈ دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے اس ملک کی بربادیوں کے ذمے دار سیاسی لوگ ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانی ریاست میں اقتدار کی مکمل طاقت کس کے پاس ہے اور اس کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول یا متاثر کرنے میں کن لوگوں اور اداروں کا کردار ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید دنیا میں تبدیلی کا واحد ذریعہ سیاسی عمل ہے۔ لیکن اس سیاسی عمل کے مختلف تقاضے ہیں۔ اوّل سیاسی جماعتوں کا جمہوری ہونا، عوام کی نچلی سطح تک اقتدار کی تقسیم ، سیاست میں دولت کی ریل پیل کے زور پر مقابلے میں اثر حاصل نہ کرسکنا۔ اور ایسے سیاسی عمل ایک حقیقی سیاسی عمل کہا ہی نہیں جا سکتا اگر اس میں معاشی انصاف کا عمل نہ ہو۔ یعنی سیاسی جمہوریت، معاشی جمہوریت کے بغیر ایک لایعنی عمل ہے۔ لوگوں کو جس قدر بولنے، لکھنے اور اظہار کی آزادی کا حق ہے، اسی قدر معاشی انصاف ملنا بھی لازم ہے۔ جس قدر انسانی حقوق Human Rights ایک ترقی یافتہ معاشرے یا جمہوریت میں لازم ہیں، اسی قدر انسانی ضرورتیں Human Needs بھی، یعنی روزگار، تعلیم، صحت، سفری سہولتیں اور رہائش بھی لازم ہیں۔ ہمارے خطے میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں، جمہوریت کا تصور اور تعارف سراسر سیاسی ہے، معاشی نہیں۔ اسی لیے یہاں کی جمہوریتیں اپنے سماج میں کچھ زیادہ حصہ Contribute نہیں ڈال پاتیں۔ جس کی سب سے اہم مثال بھارت کی سب سے بڑی جمہوریت Largest Democracy ہے، جہاں پر غربت اور جمہوریت کا ایک عجیب گٹھ جوڑ ہے۔
اگر بھارتی جمہوریت کو ہی مثال بنا کر سامنے رکھ لیں تو اس یقین کہ ’’جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے، سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا‘‘ کی حقیقت بے نقاب ہوجاتی ہے۔ بھارتی جمہوریت اور اس کا تسلسل بھارتی عوام کی زندگیوں میں کچھ فرق نہیں لاسکا۔ آج بھی بھارت جہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے وہیں پر دنیا کی سب سے ذیادہ غربت بھی وہیں پر ہے۔ بلکہ غربت سے اٹا یہ سماج اس جمہوریت کے سرخیلوں کے لیے ایندھن کا کام دیتا ہے جو جمہوری عمل کے نتیجے میں حکومت اور اقتدار کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ بھارت نے صنعتی ترقی میں شان دار ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ کیا اس صنعتی ترقی اور معاشی خوش حالی کے اثرات بھارت جو کہ سب سے بڑی جمہوریت ہے ، کو بدل سکے؟ ایسی جمہوریتیں درحقیقت ایک ایسی اشرافیہ کو جنم دیتی ہیں جو عوام، جمہوریت اور سیاسی عمل کے نام پر اقتدار میں حصہ دار بنتے ہیں۔ پاکستان میں اقتدار کی شراکت داری میں یہ سیاسی لوگ بھارت کے مقابلے میں کم حصہ دار یا شراکت دار ہیں۔ اس کی ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں پر بھی آتی ہے جو مین سٹریم کی سیاست میں عوام کی طاقت کے سرچشمے سے فیض یاب ہوتے ہیں اور وہ بھی جو پاکستان کے حقیقی اقتدار کے مالک ہیں۔
لیکن اس سارے عمل میں سب سے بڑی ذمہ داری اس طبقے پر آتی ہے جس کو ہمارے ہاں دانشور کہا جاتا ہے یعنی Intelligentsia۔ صحافی، ادیب، لکھاری، محقق، پروفیسرز، الیکٹرانک میڈیا پر جلوہ افروز ہونے والے میزبان اور مہمان اور دیگر لوگ۔ کسی بھی معاشرے کی سمت یہی طبقات طے کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں تو دانشور طبقات سے فکری اور نظریاتی رہنمائی کی محتاج ہوتی ہیں۔ اسی لیے میں کافی عرصے سے یہ عرض کرتا آیا ہوں کہ پاکستان کا بحران سیاسی نہیں بلکہ فکری اور علمی ہے۔ اگر کسی سماج کا دانشور طبقہ ہی علمی طور پر پسماندہ اور فکری طور پر پست ہوگا تو سماج کیسے سیاسی، جمہوری، معاشی، تہذیبی اور اجتماعی ترقی کرسکتا ہے۔ ہم ذرا غور کریں کہ ہمارے نامور دانشوروں (جو زیادہ پڑھے جاتے ہیں) کا علمی معیار کیا ہے، تو ہم آسانی سے جان سکتے ہیں کہ بحران کی گہرائی کس قدر ہے۔ میں ایسے لاتعداد اردو کے اساتذہ کو جانتا ہوں جو آج اس ملک میں ’’بڑے دانشور‘‘ کہلاتے ہیں، انہوں نے اردو ادب میں تو کچھ حصہ Contribute نہیں ڈالا لیکن اپنی نوکری کی بنیاد پر وہ اردو ادب کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ یعنی سرکار سے تنخواہ لینا اور اس نوکری کی بنیاد پر سماج میں پی آر بنانا اور ہر طرح کے مفادات اٹھانا۔ یہی حال دوسرے شعبہ جات کا ہے۔
اسی طرح ہمارے ہاں آج کل پی ایچ ڈی کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ کچھ اپنے ڈاکٹریٹ کے تھیسس کے لیے مجھ جیسے کم علم شخص کے پاس آتے ہیں ، عقل دنگ رہ جاتی ہے ان کی علمی، تحقیقی اور فکری بنیاد دیکھ کر۔ سرکاری اور غیرسرکاری یونیورسٹیاں جیسے ماسٹرز (MA) کے طلبا کو فارغ التحصیل کررہی ہیں، ویسے ہی اب پی ایچ ڈی کی ڈگریاں عطا کررہی ہیں۔ مجھے اپنے وطن عزیز میں پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے بعد مجھے امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں تنازعات کے حل Conflict Resolution میں مطالعہ امن Peace Studies میں ماسٹرز کا موقع ملا۔ تب دیکھا کہ آج کی دنیا میں ایم اے کسے کہتے ہیں۔
ہمارے ہاں اسلامیات، مطالعہ پاکستان، کشمیریات، پنجابی، اردو، فارسی، عربی اور ایسے ہی دوسرے سماجی علوم میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ خدا پناہ دے ایسی پی ایچ ڈی سے کسی معاشرے کو۔ کسی سماج کی ترقی یا پستی کو جانچنے کے یہی پیمانے ہیں۔ پرنٹ میڈیا نے کالم نگاروں کی منڈیاں لگا دی ہیں۔ لکھتے زیادہ ہیں، پڑھتے کم ہیں۔ اکثر تو پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ پاکستان کے جید اخبارات میں اکثر Ghost Columnists ہیں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اگر ان گھوسٹ کالم نگاروں کو، اپنے اوپر ایک صفحہ لکھنے کا کہا جائے تو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ اسی طرح محفلیں برپا کرنے والے شعرا کرام جو یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ ملک کے مقدر کا وہی ایک سہارا ہیں۔ ہمارے معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ جن کے قلم اور مطالعے نے پاکستان کے ادب میں شاندار حصہ Contribution ڈالا ہے، اُن کی رائے بڑی تلخ ہے ایسے گروہوں کے بارے جو شاعری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور افسانہ نگاری اور ناول نگاری تو مذاق ہی بن کر رہ گیا ہے۔ کہاں ڈاکٹر انور سجاد کی تحریریں اور کہاں آج کے ناول باز جو صفحات کو سیاہی سے بھرتے ہیں، تخلیق سے نہیں۔ کالم نگار تو ہر بیماری کا علاج ہیں، پاکستان، بھارت، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ، مغرب، اسلام، عالمی سیاسیات، پانی کا بحران۔ میں دعویٰ سے کہنے کی جسارت کروں گا، کتنے کالم نگار ہیں جو کسی ایک سیاسی، سماجی یا کسی علمی شعبے پر خصوصی مہارت Specialized رکھتےہیں؟ چند ہی ہیں، انگلیوں پر گن لیں۔
پاکستان کا فکری بحران Intellectual Crisis پرنٹ میڈیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا کے ظہور کے ساتھ مزید بڑھ گیا۔ الیکٹرانک اور کافی حد تک پرنٹ میڈیا بھی Market Economy (منڈی) کے مطابق چلنے لگااور سماج کے حقیقی اور اعلیٰ دانشور لوگ پس منظر میں جانے لگے۔ اب اس مال کا دَور آگیا ہے جو جلد بکے، فوراً بکے۔ جس کی بات میں سنسنی ہو، ہنگامہ ہو۔ منطق، خیال اور تحقیق کی ضرورت نہیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کوئی تصادم بھی نہیں۔ اس لیے کہ پاکستان Cross-Media پر چل رہا ہے۔ جن کے ٹی وی چینلز ہیں، اخبارات بھی انہی کے ہیں۔ اور جن کے اخبارات تھے، وہ ٹی وی چینلز بھی لے آئے۔ لہٰذا ہمارے ہاں جیسے اس جملے کو بڑی حتمی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جمہوریت کے استحکام کے لیے ’’تسلسل رہے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔ اسی طرح 2002ء کے بعد بھی یہی کہا گیا کہ میڈیا آزاد ہوگیا، اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ آمریت کی بجائے جمہوریت، وکلا تحریک کے نتیجے میں انصاف ہی انصاف اور لوگ سب کچھ جاننے لگیں گے۔ الیکٹرانک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کے اس فکری زوال کو بڑھاوا Enhance دیا اور تیزرفتار بھی کیا۔
اس سارے عمل میں ٹارگٹ (Scapegoat) سیاسی لوگ ٹھہرائے گئے، کہ ان کے پاس بندوق نہیں۔ درحقیقت وہ اس نظام کے شراکت دار ہیں، حتمی طاقت کے مالک نہیں۔ لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول یا مائل کرنے میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے جو کردار ادا کیا، وہ نہ تو جمہوریت کو مضبوط کرسکا نہ ہی جمہور کو اور نہ ہی سماج کو۔ ذرا ہم دیکھیں شام ڈھلے ہمارے ’’سینئر تجزیہ نگار‘‘ کیسے دعوے اور فتوے صاد کررہے ہوتے ہیں۔ اُن میں اب وہ ریٹائرڈ جرنیل بھی شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے پوری عمر اس نظام میں اعلیٰ مراعات حاصل کیں۔ سماج کا بحران سیاسی نہیں، علمی اور فکری ہے۔ ایسے سماج رہنمائی Lead نہیں گمراہ Mislead کرتے ہیں۔ علم اور معلومات سے خالی، خطابت اور دعوؤں سے لبریز یہ دانشور طبقات اس بحران کا ہراول دستہ ہیں۔ ان کا قلم اور زبان بحران کو حل نہیں، بڑھوتی Enhance دےرہا ہے۔ مطالعے سے دور، تعصبات سے لبریز دانشور، یہ بھلا کیسے کسی سماج میں تبدیلی کا سامان پیدا کرسکتے ہیں۔
سارے بحران کی ذمہ داری سیاست دانوں پر ڈالنے والے اپنے گریبانوں میں ہی نہیں اپنے گھر یا دفتر میں رکھی کتابوں میں ہی جھانک لیا کریں کہ اُن کا مطالعے میں کتنا وقت صرف ہوتا ہے تو ان کو اپنے اہل علم وفکر ہونے کا راز معلوم ہوجائے گا۔ کہتے ہیں پہاڑوں پر جب برف کے تودے Landsliding گرتے ہیں تو کاروان رک جاتے ہیں۔ مجھے اس کا تجربہ تین سال قبل سکردو جاتے ہوئے تتاپانی میں ہوا جب سڑک پر چلنے والے مسافر رات بھر Landsliding کے بعد راستہ صاف ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ ہمارا سماج بھی اس عمل سے گزر رہا ہے اور جو Landsliding کا نشانہ بنے گا، مٹ جائے گا۔