مصر کے رعمیسس دوئم سے ملاقات
- تحریر سرور غزالی
- منگل 02 / اگست / 2016
- 6902
اہرام مصر کا حال کتابوں میں پڑھ رکھا تھا اور رعمیسس دوئم سے فلموں کے ذریعہ شناسائی بھی تھی۔ مگر اس سے بالمشافہ ملاقات ہونا باقی تھی۔ اہرام مصر تکونی عمارتیں ہیں اور ان کو بنانے میں بہت عرصہ صرف ہوا ہے۔ یہ وہ قبریں ہیں جہاں فراعنہ معہ اپنے اہل و عیال، ساز و سامان اور جاہ و حشمت کے ساتھ دفن ہیں۔ زیورات و خوراک وغیرہ بھی قبروں میں ان کے ہمراہ تھی۔ یہ سب کچھ تو سبھی کو کتابوں میں پڑھنے کو مل جا تا ہے۔ مگر جب تک انسان اہرام مصر کو بہ نفس نفیس نہ دیکھ لے تو وہ سمجھنے قاصر ہے کہ یہ کیا چیز ہے۔
برلن سے قاہرہ کی فلائٹ کسی بھی عام سی فلائٹ کی طرح تھی۔ کوئی خاص نہ کچھ بری۔ قاہرہ ائرپورٹ پر البتہ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آن ارائیول On arrival ۔۔۔۔ منزل پر پہنچ کر سرعت کے ساتھ ویزے کا حصول واقعی بہت کام کی چیز ہے اور قاہرہ میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے ۔ جہاز سے اتر کر ائر پورٹ پر ہم، دی گئی اطلاع کے مطابق ایک بینک کے کاؤنٹر پر قطار میں کھڑے ہو گئے۔ وہاں ویزا فیس جمع کرواکے ریونیو ٹکٹ حاصل کیا اور اسے پاسپورٹ میں رکھ کر امیگریشن افسر کو پیش کیا، جس نے منٹوں میں ہمیں فارغ کر دیا۔ باہر نکلے تو نیکرمن سیاحی ادارے کا ایک فرد ہمیں ائرپورٹ سے ہوٹل لے جانے کو تیار کھڑا تھا۔ ٹورسٹ گائڈ ہمیں باہر لے آیا اور چند لمحوں بعد ہم بس میں بیٹھے ہوٹل کی طرف جارہے تھے ۔
راستے میں اس گائیڈ سے جو ایک عربی نوجوان تھا اور بہت اچھی جرمن زبان جانتا تھا بات چیت ہوتی رہی ۔ وہ کسی زمانے میں برلن میں رہتا تھا اور اسی وجہ سے جرمن زبان سے آشنا تھا۔ اس نے بچوں سے پوچھنا شروع کر دیا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ تم لوگ کون سے ملک میں آئے ہو۔۔۔۔ بھلا بچے ایسے آسان سوالوں سے کب گھبراتے۔۔۔ آج کل کے بچے والدین سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ۔ لیکن جب اہرام مصر کی بابت اس نے یہ سوال کیا گیا کہ آیا بچے جانتے ہیں کہ ان میں سب سے اہم اور بڑا کون سا مجسمہ ہے اور اس کا کیا نام ہے تو مجھے بچوں کے کانوں میں ابوالہول کا نام ڈالنا پڑا۔
ہوٹل بہت خوبصورت اور کشادہ تھا مگر اس کے داخلے کے گیٹ پر احتیاطی جانچ کی مشین لگی تھی۔ جو ہمیں بڑی عجیب بات لگی۔ کیا ہم ائرپورٹ سے گزررہے ہیں؟ میرے چھوٹے بیٹے نے سوال داغ دیا۔ خیر اندر داخل ہوئے اور تھوڑی دیر بعد ہم لوگ اپنے کمرے تک پہنچا دئے گئے۔ کرسمس کی مناسبت سے ہوٹل سجا ہوا تھا ۔ دوران قیام ایک عجیب بات دیکھی۔ ایک دن سب بچوں کو دعوت دی گئی کہ وہ لابی میں جمع ہوں کرسمس بابا بچوں کے لیے تحفے لےکر آئے گا ۔ سب کے ساتھ ہم بھی وہاں پہنچے ۔۔۔۔۔۔ پر کیا دیکھتے ہیں کہ کرسمس بابا بجائے کسی بارہ سنگھا اور خوبصورت بگھی کے ایک گدھے پر سوار چلے آرہے ہیں ۔ بہرحال تحفے وغیرہ بٹے اور بچےحیران ہونے کے باوجود خوش ہوئے۔ پھر شام کو باہر نکلے۔۔۔۔۔ ہوٹل سےقدم نکالتے ہی نہ نجانے کہاں سے ایک ٹیکسی نمودار ہوئی اور مول تول پونے لگا۔ ٹیکسی ڈرائیور ایسے ہمارے پیچھے پڑا کہ ہمیں اس کو نہ چاہتے ہوئے بھی لینا پڑا۔ اور یہی نہیں بلکہ ہمارے قاہرہ میں آٹھ دن کے قیام کے دوران یہ ٹیکسی والا یوں ہمارے پیچھے پڑا رہا جیسے وہ کوئی سی آئی ڈی والا ہو اور ہماری ٹوہ میں لگ گیا ہو۔ ہمیں اس طرز عمل سے اتنی کوفت ہونے لگی کہ بعد ہمیں اس سے چھپ کر باہر نکلنا پڑتا۔ مگروہ ہر دفعہ نہ جانے کہاں سے نمودار ہو جاتا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ہمیں ہر جگہ لے چلنے کا پابند ہے۔ مگر میں اس سے پیچھا چھڑانا چاہتا۔
قاہرہ کا تحریر اسکوائر جو اخبارات اور خبروں کے ذریعہ بہت مشہور ہوا، قاہرہ شہر کا مشہور مرکز ہے۔ یہاں پر بازار ہیں۔ قریب ہی بہت عظیم الشان عجائب گھر ہے۔ ایک طرف بے شمار چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں اور ان ہی میں مصر کی سیر کرانے کے بے شمار دفتر نما دکانیں بھی ہیں ۔ جن میں آپ مختلف تفریحی پیکیچ خرید سکتے ہیں۔ ہم نے اہرام مصر کے لیے دوسرے دن کے لیے ایک مناسب سا پیکیچ خریدا۔ طے یہ ہوا کہ ہمیں ایک گاڑی لینے آئے گی اور وہ ہمیں قاہرہ کے قریب غزہ کا ابوالہول اہرام دیکھانے کے بعد دوسرے چھوٹے اہرام دیکھانے لے جائے گی۔ جو کہ بناوٹ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
غزہ میں تین بڑے اہرام ہیں جن کے نام خوفو، خافرہ اور مینکاور ہیں اور سب سے بڑا خوفو یا فرعون چیوپس کا اہرام واقعی قابل دید ہے۔ اس کے علاوہ ابوالہول کا مجسمہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ تین ہزار سال پرانا اس مجسمہ جس کا سر انسانی اور پنجے اور دھڑ شیر کے ہیں۔ اب تک کل 138 اہرام دریافت کیے جاچکے ہیں۔ ان قدیمی مخروطی میناروں کو فراعنہ مصر نے اپنی مقبروں کے لیے تعمیر کرایا تھا ۔ان میں استعمال ہونے والے پتھروں کا وزن 2.5 ٹن تک ہوا کرتا تھا ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس دور میں جبکہ انسان آج کی طرح مشینوں پر انحصار نہیں کر سکتا تھا، کیونکر اتنے بھاری بھرکم پتھر کو اس قدر مہارت سے جماجما کر ایسے عظم الشان اہرام تعمیر کئے گئے ہوں گے۔ اور پھر یہ خیال بھی انسان کو پریشان کرتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ بنانے کے لیے بے شمار انسانوں سے بیگارلی گئی ہوگی۔ لیکن یہ بات بھی حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ ایسا ہوا ہو گا۔ قاہرہ میں نہ صرف مصر کے خاص انداز کے اہرام مصر پاۓ جاتے ہیں بلکہ سیڑھیوں والے اہرام بھی دیکھنے کو ملے۔ اہرام مصر دیکھ لینے اور اس کی ہیبت دل پر طاری کر لینے کے بعد یہ جستجو ہوئی کہ جانا جائے کہ ان کو بنانے والے کون تھے ۔
سو اس رموز سے پردہ اٹھانے کے لیے ہمیں مصر کے سب سے بڑے عجایب گھر ، جوکہ قاہرہ میں ہی واقع ہے، جانا پڑا۔ اسے عربی میں المتحف المصری کہتے ہیں۔اور یہ مصر کے فن پاروں کا دنیا میں سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔ اس میں مصر کے مختلف ادوار کے فن پارے جمع کیے گیے ہیں۔ جن میں ابتدائے زمانہ ، تھینی ٹینزیٹی زمانہ، قدیم زمانہ، وغیرہ کے نواد رات جمع ہیں۔ یہ تحریر چوک پر واقع ہے، اسے سن 1902 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں بے شمار نوادرات جمع ہیں۔ باوجودیکہ ابتدا میں بہت سارے نوادرات چوری ہو کر بیرون ملک لے جائے گئے تھے۔
المتحف المصری کے ایک خاص شعبے میں رعمیسس دوم سے دوبدو ملاقات بھی ہوئی۔ اس کا تعلق مصر کے انیسویں حکمران خاندان سے تھا۔ یہ شاہ سیتی(Seti) کا بیٹا تھا۔ اس نے 67 سال حکومت کی۔ اس کی 110 سال عمر تھی اور وہ بیمار ہو کر فطری موت مرا ۔ اس کا جسم نہائت لاغر تھا۔ رعمیسس دوم کی حنوط شدہ لاش انیسویں صدی کے اواخر میں باب الملوک کی وادی کی کھدائی کے دوران برآمد ہوئی۔ یہ لاش ایک چوبی تابوت میں رکھی ہوئی تھی اس پر تین کتبے کندہ تھے۔ اس پر بعض ماہرین آثار قدیمہ کو شک تھا کہ یہ کس کی لاش ہے۔ اس شک کو دور کرنے کےلئے میپیرو(Maepero) نے اوپر لپٹے ہوئے کپڑے کو ہٹایااور لاش کے سینے پر روشنائی سے لکھا ہوا کتبہ دیکھا جس نے سارے شکوک دور کر دئیے کہ یہ رعمیسس دوم کی ہی لاش ہے۔ یکم جون 1886ء کو خدیو توفیق کی موجودگی میں اس لاش کو کھولا گیا۔ یہ لاش اب قاہر ہ کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔
رعمیسس دوم سے موینجوڈرو کی بابت چند اہم سوالات میرے لبوں پر ہی آکر رہ گئے ۔ چونکہ بادشاہ سلامت گفتگو کے موڈ میں نہیں تھے۔