آزاد کشمیر کا ٹیک تھری

شعور کی منازل پر ابھی قدم نہیں رکھا تھا کہ ہمارے گاؤں میں ڈرامے کی ریکارڈنگ کے لیے فنکار آئے۔ بچے بوڑھے سب ہی شوق میں جمع ہو گئے۔ ایک لڑکا ہاتھ میں سیاہ رنگ کی لکڑی کی تختی جس پر کچھ حروف لکھے ہوتے تھے، کھٹ سے اسے لہراتا اور پکارتا ٹیک ون، کچھ دیر کیمرہ چلتا پھر کام رک جاتا ۔ چند لمحوں بعد پھر یہی عمل دوہرایا جاتا اور آواز آتی ٹیک ٹو، اسی طرح کبھی کبھار ٹیک دس یا زیادہ پر بھی بات چ چلی جاتی ۔ ہوش سنبھالا تو پتہ چلا کہ کسی ایک ہی سین کو بہتر انداز میں ریکارڈ کرنے کے لیے بار بار ٹیک کا سہارا لیا جاتا ہے تا وقتیکہ وہ سین بہترین حالت میں نہ فلما لیا جائے۔

آزاد کشمیر انتخابات ٹیک تھری تھا۔ جی ہاں سین کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 2013 کے عام انتخابات میں تمام پارٹیاں اپنی اپنی ٹیم کے ساتھ مناظر فلمانے میں مصروف تھیں۔ باقی تمام پارٹیاں ابھی رول، کیمرہ ایکشن کی صدائیں ہی بلند کر رہی تھیں کہ نواز لیگ نے پہلے ہی ٹیک میں سین فائنل کر دیا۔ اور اقتدار کی مسند سنبھال لی ۔ پہلے سین کی ہی کچھ مزید جزئیات کی صورت میں بلدیاتی انتخابات کا ٹیک ٹو ہوا جس میں کوئی واضح تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ بلدیاتی نظام میں وہی نتائج آئے جس کی روایتی تجزیہ کار توقع کر رہے تھے۔ اور کچھ جوشیلے قسم کے رائٹر ز کے دعوے غلط ثابت ہوئے۔ سین میں کچھ کمی رہ گئی تھی۔ ٹیک ٹو میں بنیادی طور پر کچھ مزید بہتر انداز میں سین فلمایا گیا ۔ جو جزئیات پہلے سین میں رہ گئی تھیں ان کو مکمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور تمام مراحل میں کوئی مقابلہ بھی نظر نہ آیا۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کو نواز لیگ کا ٹیک تھری کہا جانا بہت بہتر ہو گا۔ کیوں کہ حالیہ ریاست آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج دیکھ کر یوں محسوس ہوا کہ پہلے سین کو ہی بار بار کٹ کر کے اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حقیقی معنوں میں وادی کے انتخابات میں سب سے اہم تاثر یہ ابھرا ہے کہ نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کے تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکلتی نظرآ رہی ہے بلکہ بلاول کی آکسفورڈ لہجے کی اردو بھی کچھ خاص دبدبہ قائم نہیں کر پائی۔ کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پوسٹرز اور بینرز پر آصف زرداری اور فریال تالپور کی تصاویر ، بلاول کی تصاویر سے چھوٹی کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پارٹی کا حقیقی وارث بلاول ہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود نقادوں کے لیے پیپلز پارٹی کی اتنی بری شکست حیران کن رہی ۔ پاکستان تحریک انصاف تو خود آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا کے مصداق بیرسٹر کے ہاتھوں لٹ گئی۔ کچھ ہاتھ بھی نہیں آیا اور عزتِ سادات بھی گئی۔الیکشن کہانی میں سب سے زیادہ افسوس کا مقام یہ ٹھہرا کہ کشمیر کی صرف ایک مقامی جماعت اس نظام میں مقابلے میں تھی، جس کی قیادت مضبوط اعصاب والے سردار عتیق کے ہاتھ میں تھی۔ سردار عبدالقیوم جیسا نام ہونے کے باوجود اس کی شکست سمجھ سے بالاتر ہے۔ شاید مسلم کانفرنس کو پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسمٹ گلے پڑا ۔ یہ ایسا ڈھول بن گیا جسے نہ اتارا جا سکے نہ بجایا جا سکے۔

پہلے سین کا ٹیک تھری ،مکمل طور پر نواز لیگ کے نام رہا۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں جو تھوڑی بہت اپوزیشن پریشانی پیدا کرتی رہتی ہے، آزاد جموں و کشمیر میں تو وہ بھی نہیں ہے۔ 41 میں سے 31 نشستوں پر نواز لیگ کا قبضہ ہے۔ کوئی واضح اپوزیشن باقی نہیں رہے گی۔ ایک دو دو ممبران سے اپوزیشن کا مضبوط کردار نبھانا ممکن نہیں ہو گا۔ کشمیریوں نے تحریک انصاف کے آزمائے ہوئے راہنماؤں کے زریعے تبدیلی کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی واضح ہیو گیا ہے کہ اب بھٹو کارڈ سے کام نہیں چل سکتا۔ بھٹو نے کشمیریوں کا اگر ساتھ دیا ہے تو آج تک پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر انہوں نے بھی اس ساتھ کا حق بھی ادا کر دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت کو اتنی سیٹیں اپنی کارکردگی سے زیادہ دوسروں کی غلطیوں کی وجہ سے ملی ہیں۔ مسلم کانفرنس کا پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد، پیپلز پارٹی کی ناقص حکمت عملی ایسے عوامل رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام نے بروں میں سے کم برے کو منتخب کرنا زیادہ اہم سمجھا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وفاق اور سب سے بڑے صوبے میں نواز لیگ کی مضبوط حکومت قائم ہے اور وادی میں یہ تاثر قائم ہے کہ جس پارٹی کی پاکستان کے وفاق میں حکومت قائم ہو گی، وہی ان کا بہتر خیال رکھ سکتی ہے۔

جس طرح کے حالات ترتیب پا رہے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ ٹیک تھری کی طرح، 2018 میں ٹیک فور بھی اسی سین کو دوبارہ سے سامنے لے آئے۔ کیوں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اگر غلطیاں بھی کر رہی ہے تو دوسری پارٹیاں اپنی کارکردگی کے بجائے صرف نعروں کو کامیابی کاذریعہ سمجھے بیٹھی ہیں۔