بھارت میں مذہبی منافرت کا پرچار
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا۔ ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا۔ علامہ اقبال کی نظم کے اس شعر کو پڑھ کر دل صرف خوش نہیں ہوتا ہے بلکہ سر فخر سے اونچا ہو جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعرِ مشرق نے اپنی نظم کے ذریعہ مذہب کی خوبصورتی اور بھائی چارے کی عمدہ مثال دنیا کے سامنے پیش کی ہے ۔ لیکن آج کل پوری دنیا اور خاص کر ہندوستان میں جس طرح نفرت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے اس سے تو ہر امن پسند انسان اور تمام مذاہب کا احترام کر نے والے انسان کا تو جینا دو بھر ہوگیا ہے۔آئے دن ہر طرف مذہب کے نام پر قتل وغارت گری مچی ہوئی ہے۔ مذہب کے ٹھیکیدار اپنی دکان چمکانے کے لئے ایسے نفرت آمیز بیان دے رہے ہیں کہ امن پسندوں کا جینا دو بھر ہو گیا ہے۔
ہندوستان میں فرقہ وارانہ ماحول دن بند بگڑتا جا رہا ہے اور اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہندؤں کی چندجماعتیں آر ایس ایس،بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے لیڈر اور رضاکار روزانہ ایک خاص فرقے کے لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کررہے ہیں۔ وہ اپنی زہریلی تقریروں سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر روزانہ گائے کا گوشت کھانے یا لے جاتے ہوئے پکڑے جانے والے لوگوں کو بے رحمی سے زد و کوب کرتے ہوئے بھی دکھایا جا رہا ہے۔ایسے لوگ اپنے آپ کو گؤ رکھشا جماعت کے کارکن بتاتے ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جو بھی ہماری ماں کے مانس کو لے جاتے ہوئے پکڑا جائے گا، ہم اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ تمام واقعات ہندوستان کے کئی شہروں میں ہورہے ہیں ۔ خاص طور پر جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں ایسے واقعات ذیادہ تر دیکھنے میں آتے ہیں۔یوں تو دنیا والوں کو یہی غلط فہمی ہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوریت والا ملک ہے۔ جہاں تمام مذاہب کے لو گوں کو اپنے مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہے۔ لیکن ان واقعات کے ویڈیو دیکھنے سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا واقعی ہندوستان ایک آزاد ملک ہے؟کیا واقع یہاں جمہوری نظام قائم ہے ؟ کیا ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کو یکساں جینے کا حق فراہم کرتا ہے؟ کیا ہندوستان میں صرف ہندو مذہب کے لوگوں کو آزادی سے جینے کا حق ہے؟
ہندوستان کی انتہا پسند جماعت آر ایس ایس،بجرنگ دل اور وی یچ پی کی مہم سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کی تصویر کو بگاڑ کر ایک ایسا ملک بنا د یں گے جہاں صرف نفرت ہی نفرت ہوگی اور لوگوں سے ان کے جینے کا حق چھین لیا جائے گا۔ حال ہی میں بی بی سی پر اس موضوع پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اسے پڑھ کر سر شرم سے جھک گیا کہ یوپی کے ضلع سدھارتھ نگر کی سلگتی دھوپ میں پسینہ سے شرابور لگ بھگ سو بجرنگ دل کے رضاکار کسی قوم یا انسان کو تباہ و برباد کر نے کے لئے بندوقیں اور تلواریں چلانے کی مشق کر رہے ہیں۔ اس کے قریب ہی لگ بھگ پچاس نوجوان آگ کے گول سے کودتے ہوئے دیکھے گئے اور اس دوران وہ ’بھارت ماتا کی جئے ‘ کا نعرہ بھی لگا رہے تھے۔اور تو اور ان تمام چیزوں کو دیکھنے کے لئے لگ بھگ سو تماشائی بھی موجود تھے جو ان نوجوانوں کی نمائش سے متاثر ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کے لئے جارحانہ انداز میں تالیاں بجا رہے تھے۔
ان نوجوانوں کی مشق سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ان کی ٹریننگ فوجی ٹریننگ سے ملتی جلتی ہے ۔ لیکن بجرنگ دل کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹریننگ نوجوان محض اپنے دفاع کے لئے کر رہے ہیں۔اس کیمپ کا انعقاد پورے ملک میں چھ ہفتے کے لئے کیا جاتا ہے جس میں ایک آدمی استاد ہوتا ہے اور وہ نوجوانوں کو ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دیتا ہے۔ اس کیمپ میں مردوں کو شامل ہونے کے لئے سو روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔کیمپ کے دوران موبائل فون کے استعمال کرنے پر پابندی ہوتی ہے ۔ یہ کیمپ صبح پانچ بجے شروع ہوتا ہے اور سورج غروب ہو نے تک جاری رہتا ہے جس کی وجہ سے رضاکار تھکن سے نڈھال ہوجاتے ہیں۔
یہ کیمپ بجرنگ دل پچھلے کئی برسوں سے مختلف شہروں میں منعقد کر رہا ہے جو کہ ایک انتہا پسند ہندو تنظیم ہے اور جس کے رضاکاروں نے تاریخی بابری مسجد کی شہادت میں نمایاں رول ادا کیا تھا۔1992میں بجرنگ دل کے ہزاروں رضاکاروں نے بابری مسجد پر چڑھ کر اس کو ڈھا دیا تھا جس کے بعد پورے ہندوستان میں ہندو مسلمان فساد ات شروع ہو گئے تھے۔ ان میں دو ہزار سے زیادہ لوگوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، اپنی جان گنوا دی تھی۔
امبریش سنگھ وشو ہندو پریشد کے سینئر لیڈر ہیں، یہ تنظیم بجرنگ دل سے متعلق تنظیموں میں سے ایک ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندو ہر وقت کسی بھی حملے کے لئے تیار رہے ۔ یقیناً یہ حملہ ملک کی سرحدوں اور اور ملک کے اند ر بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم امبریش سنگھ نے کسی ایک قوم یا مذہب کا نام نہیں لیا مگر انہوں نے کہا کہ ہندؤں کو جو بھی دبانے کی کوشش کرے گا، وہ ہمارا دشمن ہے۔اسی لئے ہم ان لوگوں کے خلاف ہندؤں کو تیار کر رہے ہیں۔ وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے لیڈروں کا مطالبہ ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہندو اقدار پر ہونی چاہئے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم لوگ تمام قسم کے لوگوں کے ہندوستان میں رہنے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
ایسے کیمپ صرف مردوں کے لئے ہی نہیں منعقدد نہیں ہوتے بلکہ عورتوں کے لئے بھی ایسا ہی ایک کیمپ وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخابی حلقہ وارانسی میں بھی قائم کیا گیا۔ اس میں بڑی تعداد میں نوجوان لڑکیاں شامل ہوئی تھیں۔اس کیمپ کو’ درگا واہنی‘ کہتے ہیں ۔ اس کیمپ کی ایک لڑکی سشما سونکر کا کہنا ہے کہ وہ یہاں صرف لاٹھی چلانا سیکھنے نہیں آئی ہے بلکہ وہ رائفل چلانا بھی سیکھنا چاہتی ہے۔
کچھ ویڈیو ایسے پائے گئے ہیں جس سے ایک خاص مذہب کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ٹریننگ کرنے والے لوگ ان لوگوں سے لڑ رہے ہیں جو خاص مسلم لباس پہنے ہوئے تھے اور جن کے سر پر ٹوپیاں بھی تھیں۔ اس ویڈیو کی نمائش کی ہندوستان میں کافی مذمت کی گئی ہے۔زیادہ تر لوگوں کا کہناہے کہ اس طر ح کے ویڈیو کو دکھانا اور ایسے ٹریننگ کیمپ منعقد کرنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ مسلمانوں کے خلاف حملہ کی تیاری کی جائے اور ہندو نوجوانوں میں نفرت کابیج بویا جائے۔ وی ایچ پی کے لیڈر اس بات کو غلط بتا تے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس کیمپ میں شامل ہونے سے پہلے اُن نوجوانوں کو اپنے والدین سے اجازت لیناپڑتی ہے۔
وی ایچ پی اور بجرنگ دل نے ایودھیا میں ایسے کیمپ منعقد ہونے کے بارے میں لا علمی بھی ظاہر کی ہے۔ اور اس بارے میں ویڈیو سے بھی لاہلمی اور لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم مسلم برادری اور دیگر تنظیموں نے حکومت کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے حیرانی ظاہر کی ہے کہ آخر کار ایسے کیمپ منعقد کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔ایک مقامی مسلم لیڈر خالق احمد خان نے اس ویڈیو کو دیکھ کر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ سوچی سمجھی سازش ہے جس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائیں گے۔ ایودھیا کیمپ کے لیڈر کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور میں نفرت پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ لیکن یوپی کے گورنر رام نائک نے کہا کہ خود کا دفاع کرنا ضروری ہے اور ہر شہری کو ایسی ٹریننگ لیناچاہئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی موجودہ فضا میں مذہبی نفرت اور خوف کا ماحول پھیل چکا ہے۔ آئے دن ایسی خبروں سے اخبار بھرے ہوتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر اس پر مباحث بھی ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے تب سے ہندؤں کے ایک طبقے میں رواداری ختم ہوگئی ہے اور ان کا انداز جارحانہ ہو گیا ہے۔جس کی سب سے بڑی وجہ حکمران پارٹی کے نفرت آمیز بیان اور پالیسی ہے۔ اصل خطرہ آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کیمپ اور جارحانہ ٹریننگ نہیں ہے لیکن یہ اندیشہ موجود ہے کہ آنے والی نسلیں ان قسم کی ٹریننگ سے گاندھی جی کی امن اور بھائی چارے کی باتوں کو بھول کر ناتھو رام گوڈسے نہ بن جائے ۔ اس طرح ہندوستان کی ہم آہنگی، رواداری، محبت، ثقافت، بھائی چارہ ، تعاون اور امن کو اپنی گولیوں سے نشانہ بنا کر مذہب کی آڑ میں نفرت کا ٹیکا ہندوستان کے ماتھے پر لگا دیں گی۔