پراپرٹی ٹیکس پر مک مکا
- تحریر
- جمعہ 05 / اگست / 2016
- 5543
’بڑی زیادتی ہے جناب۔ کاروبار کا تو بیڑہ غرق ہو جائے ‘ چوہدری عبدا لخالق نے اپنی پانچ منٹ کی گفتگو میں پانچویں بار یہ فقرہ دوہرایا۔’اس حکومت سے یہ امید نہیں تھی۔ یہ تو کاروبار دوستی کے بڑے دعوے دار بنتے تھے‘۔ ہمارے یہ عزیز حکومت اور رئیل اسٹیٹ شعبے کے درمیان ہونے والے سمجھوتے پر کئی دوستوں کی طرح نالاں تھے۔ ان کے خیال میں یہی ایک کاروبار تو ڈھنگ سے چل رہا تھا جس کے طفیل ان کی دال روٹی چل رہی تھی۔ ’لکھ لیں میری بات، اب انویسٹر کے لیے کہیں آسان ہے کہ دوبئی جا کر انویسٹ کر لے۔ کہتے ہیں چالیس لاکھ روپے تک کے پلاٹ پر گین ٹیکس کی چھوٹ ہے۔ کمال ہے، اصل کاروبار تو شروع ہی ساٹھ ستّر لاکھ سے ہوتا ہے۔ اب دیکھیں ناں، لاہور کی اچھی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پانچ مرلے کا پلاٹ ساٹھ ستر لاکھ روپے کا ہے۔ ان کی تو نیت ہے کہ بندہ کاروبار نہ کرے‘۔ اسی پریشانی میں وہ اٹھے اور چل دیے۔
تین چار ہفتوں کی ردّ و کد اور بحثا بحثی کے بعد حکومت اور رئیل اسٹیٹ شعبے کے درمیان معاہدہ طے پا گیا بلکہ اکثر میڈیا نے اس معاہدے کے لیے انڈر سٹینڈنگ کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ پراپرٹی کی مالیت کا تخمینہ بجٹ تجویز کے برعکس اسٹیٹ بنک کی بجائے اب ایف بی آر ہی طے کرے گا۔ ڈی سی ریٹ اب صوبائی حکومت کے اپنے ٹیکسز کے لیے موثر ہوں گے لیکن ایف بی آر اب گین ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور جائیداد کی مالیت کے لیے مختلف شہروں کے تفصیلی سروے کے مطابق قیمتوں کا نوٹیفیکیشن کرے گا ۔ ہر سال ایف بی آر قیمتوں میں اضافے کے مطابق نیا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔ ایف بی آر نے گذشتہ روز بارہ بڑے شہروں کے لیے پہلا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق لاہور اور پشاور کے رہائشی پلاٹس مہنگے ترین پائے گئے۔ قیمت کا عام تخمینہ تین سے چھ لاکھ فی مرلہ بتایا گیا۔
گذشتہ بارہ سالوں سے پراپرٹی کی قیمتوں میں پر کشش منافع کی وجہ سے یہ شعبہ بلیک اکونومی کا سب سے بڑا ٹھکانہ بنا۔ سرمایہ کاری کے لیے ملک اور غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی پہلی ترجیح پراپرٹی رہی۔ موجودہ اور گذشتہ حکومتوں نے ہر ایرے غیرے شعبے میں ٹیکسز عائد کیے لیکن پراپرٹی کے شعبے کو ہاتھ لگانے سے گریز کیا۔ بے دلی سے دکھاوے کے لیے کچھ کیا بھی تو اس انداز سے کہ ہم نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں۔ اب جبکہ سروسز پر ٹیکسز صوبائی حکومتوں کے ذمے ٹھہرے، وفاقی حکومت نے اپنے ریونیوز کے لیے با لآخر دل مضبوط کرکے اس شعبے کو ہاتھ ڈال ہی دیا۔ مقصد بڑا سیدھا سادا تھا، سال دو سال میں دوگنا قیمتوں کے اندھا دھند منافع میں حکومت کا بھی کچھ حق بنتا ہے۔ اب تک جو ہوا سو ہوا ۔لیکن اب حکومت کو بھی تو اس منافع میں کچھ ساجھے داری چاہیے۔ خدا خدا کر کے آئی ایم ایف کا پروگرام کامیابی سے مکمل ہونے کو ہے۔ اس کے بعد حکومت کو اپنا کاروبارِ گلشن خود ہی چلانا ہے، اور گلشن ہو یا حکومت، ٹیکسز کے بغیر نہیں چلتے۔ حکومت کا اندازِ بیاں کچھ اس قد ر کاروباری تھا کہ رئیل اسٹیٹ شعبے کے جغادریوں کو مانتے ہی بنی۔
حکومت کو نیا ریونیو سیکٹر مبارک۔ پراپرٹی کے سرمایہ کاروں کا بھی کچھ خاص بقصان نہیں ہوا البتہ سالانہ منافع میں کچھ نقصان ضرور ہوا ہے۔ سمجھ لیں گے کہ اس بار منافع قدرے کم ہوا ہے لیکن اس کے باوجود کسی بھی دوسرے اکنامک شعبے سے اس شعبے کا منافع سب پر بھاری ہے ۔ ہمارے ایک اور دوست عبدل کا خیال ہے کہ حکومت کی خوشی اپنی جگہ لیکن پراپرٹی کے بڑے کھلاڑی کوئی نہ کوئی صورت نکال لیں گے کہ ان کی دال روٹی بھی چلتی رہے۔ مبارک سلامت کے اس رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے عبدل بار بار ایک سوال دہرا رہا ہے کہ درمیانے اور غریب طبقے کے لیے تو پلاٹ اور گھر کا خواب پہلے ہی ہر گذرتے سال تعبیر سے دور ہو رہا ہے، انہیں اس انڈر سٹینڈنگ سے کیا حاصل۔ بلکہ ڈر یہ ہے کہ پراپرٹی کے سرمایہ کار حکومت کو دیے گئے گین ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کا نقصان پورا کرنے کے لیے قیمتیں اسی تناسب سے مزید بڑھا دیں گے۔ سرمایہ کاروں کی جمع تفریق کا حساب تو تقریبا اتنا ہے بیٹھے گا لیکن اس قدر مہنگی قیمتوں کے ہوتے ہوئے سفید پوش درمیانے اور غریب طبقے کو بیٹھنے اور سر چھپانے کی جگہ کہاں ملے گی ؟ کون دے گا؟
سوال اتنا بے وجہ بھی نہیں ۔’ لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے ‘ والی نظر لوٹ کے آتی ہے تو اپنے ساتھ ایسے ہی کئی اور سوال لے کر آتی ہے۔ 1950 میں فقط 33 ملین آبادی والا ملک اب خیر سے 190 ملین یا انیس کروڑ آبادی کا حامل ہے۔ سٹیٹ بنک کے گذشتہ سال کے اعدادو شمار کے مطابق ملک کو کم از کم نوے لاکھ گھروں کی قلت کاسامنا ہے۔ اوسط گھرانے کی تعداد چھ ہو تو اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ ساڑھے پانچ کروڑ آبادی کو رہائش کا مسئلہ درپیش ہے۔ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ اسی رفتار سے ہر دور میں یہ مسئلہ جاری و ساری رہا۔ 2010 میں ورلڈ بنک نے جنوبی ایشیاء میں ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے فنا نسنگ پر رپورٹ جاری کی تو انکشاف کیا کہ اس سال بھی پاکستان میں پچھتر لاکھ گھروں کی کمی تھی۔ شہروں کی نصف آبادی خستہ حال یعنی Slums میں رہنے پر مجبور تھی۔ اوسط گھرانے کا سائیز چھ بتایا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطا فی کمرہ 3.5 لوگ رہائش پذ یر تھے جب کہ عالمی پیمانہ 1.1 افراد فی کمرہ تھا۔ چھ سالوں میں دو مختلف سیاسی حکومتوں کے دور میں فقط اتنا ہوا کہ گھروں کی قلت پچھتر لاکھ سے بڑھ کر نوے لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی۔
عالمی بنک کی اسی رپورٹ میں لاہور شہر میں ایک کیس سٹڈی واضح کرتی ہے کہ کہ کس طرح آسمان سے چھوتی قیمتوں نے پلاٹ اور گھر درمیانے اور غریب طبقات کے لیے نا ممکن بنا دیا ہے۔ مختلف طبقوں کی ماہانہ آمدنی کو بنیاد بنا کر رپورٹ نے ثابت کیا کہ لاہور کی بالائی 12 % آبادی شہر کے ہاؤسنگ سٹاک کا 56 % خریدنے کی استطاعت رکھتی تھی جبکہ اسی پیمانے پر شہر کی کم آمدنی کی حامل 68 % آبادی کے پاس شہر کے ہا ؤسنگ اسٹاک کا فقط ایک فی صد خریدنے کی استطاعت تھی۔ ان چھ سالوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے لیکن ہاؤسنگ کے شعبے میں ’ زمیں جنبد نہ جنبدگل محمد ‘ والا معاملہ ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں سستی رہائش عوام کو فراہم کرنے کے فرض سے عملاسبکدوش ہو چکی ہیں۔ بڑے شہروں میں بنے ڈیولپمنٹ ادارے پرانی بنی بنائی اسکیموں کی کمائی کھا رہے ہیں۔ مدت ہوئی کہ کسی حکو متی ادارے کی طرف سے بڑی اور سستی لاگت والی رہائشی اسکیم کا اعلان ہوا ہو۔ ہاں گاہے گاہے سیاسی ضروتوں کے لیے بیان ضرور سنتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل حکومت پنجاب نے اعلان کیا کہ پچاس ہزار سستے مکانات بنائے گی۔ اتنی بڑی شارٹیج کے منہ میں یہ چند ہزاری زیرہ کیا کر پائے گا، اندازہ لگانا کیا مشکل ہے۔
صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم دلچسپی یا سوچی سمجھی پالیسی کے مطابق چھوٹے بڑے شہروں میں ہاؤسنگ اب پرائیویٹ سیکٹر میں ہے ۔ لے دے کر حکومت بنکوں کو سہولت دے سکتی ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر کو قرضے فراہم کیے جائیں۔ اس سہولت کا اسٹیٹ بنک کی اپنی رپورٹ کے مطابق حال یہ ہے کہ فنا نشل سیکٹر کے ذریعے ہاؤسنگ کی فقط دو فی صد ٹرانزیکشن سر انجام ہوتی ہیں۔ ایسے میں کون کیا کر رہا ہے؟ اور سفید پوش اور غریب طبقات کدھر جائیں؟ اس پر چند ماہ قبل اسلام آباد کی ایک رہائشی اسکیم کے کیس کی سماعت کے دوران تین رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں دریا کوزے میں دریا بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کم آمدنی والے لوگوں کے لیے کم لاگت رہائش مہیا کرنے پر صوبائی حکومتوں کی توجہ ہے نہ وفاقی حکومت کی۔شاید اس لیے کہ ان کا خیال ہے کہ غربت کی شرح سے نیچے ساٹھ فی صد عوام شاید موجود ( Exist ) ہی نہیں۔ ۔