پاکستان: ترقی کی خواہش اور حقیقت
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 06 / اگست / 2016
- 6544
کیا ترقی چند بڑے شہروں میں پُلوں، چند ایک پبلک ٹرانسپورٹ، الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کے قیام اور حکومتی میٹنگز کو جدید مواصلاتی نظام کے ساتھ منعقد کرنے کا نام ہے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاک امریکہ تعلقات کا ’’سنہری دور‘‘ شروع ہوا۔ ریلوے انجنوں پر پاک امریکہ ہاتھ جھنڈوں کی شکل میں ایک دوسرے کو تھامے ہوئے مجھے یاد ہیں۔ پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے اور اس فخر پر جینا کہ ہم ساٹھ کی دہائی میں کہیں آگے نکل چکے تھے، اپنی تاریخ پر فخر Glorify کرنا ہمارا قومی رویہ ہے۔
پاک امریکہ تعلقات معیشت سے لے کر عسکری اداروں کی تربیت حتیٰ کہ علاقائی تعلقات تک ، جس قدر گہرے تھے اور ہیں، آج اُن تعلقات اور پالیسیوں کے نتائج کا پاکستان کا ہر شخص گواہ ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کے سبب معاشی ترقی، اقتصادی خوش حالی اور مضبوط ریاست کے عمل نے آج ہمیں جس مقام پر لا کھڑا کیا ہے، یہ اب کوئی ایسا راز نہیں جس کے لیے کسی وسیع مطالعے کی ضرورت ہو۔ یہ قوم کا اجتماعی تجربہ ہے۔ نتائج اور جو ہم پر بیتی، سب کو اس کا علم ہوگیا ۔ بسوں کے چند روٹوں اور چند فلائی اوورز کی ترقی کے دعووں کے ساتھ پاک چین دوستی کے نتیجے میں مختلف منصوبوں کے آغاز پر آج ہم ایک بار پھر پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں آکھڑے ہوئے ہیں۔ ہر طرف ایک ہی جملہ گونج رہا ہے چین کے حوالے سے، ’’اللہ نے مدد کی، بڑا بھائی مدد کو آگیا۔‘‘
پاک چین راہداری کو ملکی ترقی کی خوش قسمتی کا دروازہ کہا جارہا ہے۔ اگر ہم دنیا میں چین کی راہداریوں کی نئی منصوبہ بندیوں کو دیکھیں تو ان میں یہ صرف ایک منصوبہ ہے۔ ٹیلی ویژن کے ایک ٹاک شو میں پاک چین تعلقات اور چین کی راہداری پر گفتگو ہو رہی تھی۔ میرے ساتھ ایک سابق جرنیل اور ایک پروفیسر صاحب بھی گفتگو میں شریک کار تھے۔ بات پاک چین راہداری اور اس کے اقتصادی اثرات پر ہورہی تھی۔ یقیناً یہ منصوبہ پاک چین تعلقات کے بطن سے معرض وجود میں آیا۔ اس سے جس قدر مفادات پاکستان حاصل کرے گا، اس سے کہیں زیادہ معاشی، اقتصادی اور سٹریٹجک مفادات عوامی جمہوریہ چین حاصل کرے گا۔ چین کو نئی اقتصادی راہداری تک رسائی بھی ہوگی اور اس خطے کے گرم پانیوں تک بھی۔ ٹاک شو اپنے عروج پر تھا۔ پروفیسر صاحب کا مضمون تو سوشیالوجی ہے لیکن سب کی طرح ان صاحب کو بھی عالمی امور اور عالمی سیاسیات پر بولنے کا جنون ہے۔ کسی بھی ٹاک شو میں اعدادوشمار کے ساتھ خوب تیاری کرکے آتے ہیں۔ گفتگو کے عروج پر وہ اس ٹریلین ڈالر کی تجارت کا ذکر کرنے لگے جو اگلے چند سالوں میں چین اپنے ہاں کرے گا، دنیا پر اپنی معیشت کے حوالے سے چھا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
کمال کے اعداد وشمار پیش ہورہے تھے۔ ریٹائرڈ جنرل صاحب نے بھی بڑھ چڑھ کر چین کی ترقی کے حوالے سے مستقبل میں میدان مارنے کے اعدادوشمار پیش کرنا شروع کردئیے۔ راقم نے بڑا سنبھل کر سوال کیا۔ ترقی چین کی، خوشی ہمیں۔ ہماری ترقی کہاں ہے؟ کیا چین کی ترقی میں ہماری ترقی ہے؟ کیا چین ٹریلین ڈالر معیشت بن جائے گی تو قسمت پاکستان کی بدل جائے گی؟ جہالت سے تعلیم، غربت سے دولت، کمزور ریاست سے مضبوط ریاست، بدامنی سے امن، کیا سب کچھ ہمارے کسی دوست ملک نے ہمارے لیے کرنا ہے؟ پاک چین راہداری پر لاتعداد سوالات اور اعتراضات ہیں، خصوصاً ایک وفاقی ریاست میں ایک وفاقی اکائی بلوچستان کے عوام کی طرف سے۔ چلیں سب کو ایک طرف رکھتے ہیں، کیا یہ راہداری پاکستانی قوم کی قسمت بدل دے گی؟
میں اکثر اپنے دانشور دوستوں سے سوال کرتا ہوں۔ پاکستان ، قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے بنایا۔ ہر قوم کا اپنا ایک لیڈر ہوتا ہے۔ ہم کیسے لوگ ہیں، مہاتیر محمد، خمینی، ماؤزے تنگ، معمر قذافی اور جانے کس کس لیڈر کی آمد کے خواب دیکھتے ہیں۔ جیسے ہم دوسروں کی ترقی میں اپنی ترقی کے خواب دیکھتے ہیں۔ امریکہ کی دوستی، چین کی دوستی، ترکی کی دوستی، عربوں کی دوستی، یہ اگر ہماری قسمت بدل دے تو یہ انسانی تاریخ کی واحد مثال ہوگی کہ ایک قوم کی قسمت دوسری ملت نے بدل دی۔ ہماری پستی اور ہماری ترقی، ہمارے اندر ہی ہے۔ جیسے اپنی سرزمین کے مفکر ہی اپنی سرزمین، ملت وقوم کے لیے سوچ سکتے ہیں، اسی طرح اپنا لیڈر ہی اپنی ملت کے لیے کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کسی قوم وملک کی ترقی دوسرے ملک کی ترقی میں کیسے پنہاں ہوسکتی ہے۔
پھر ہمارے حکمران جس ترقی کا واویلا کرتے ہیں، کیا کسی قوم کی ترقی کا سفر اس سے شروع ہوتا ہے۔ دنیا کی کوئی ایسی قوم جہاں تعلیم کے بغیر ترقی ممکن ہوئی ہو؟ کسی بھی قوم کی ترقی کا آغاز انسانی وسائل کی ترقی Human Development سے ہوتا ہے۔ مانگے کی ٹیکنالوجی میں دوچار لاکھ غیرتعلیم یافتہ لوگوں کو جدید ایئر کنڈیشنڈ بسوں اور لائٹ ریل پر بٹھانے سے کیا قومی ترقی کا سفر شروع ہوگا۔ ہاں یہ سیاسی ہتھیار کے طور پر اور ایک ایسے سماج میں جہاں تعلیم کم ہو، ضرور اہم ہے کہ دیکھو لوگو! ہم نے آپ کو جدید کھلونے بنا کر دئیے ہیں، ان سے خوب کھیلو! پاکستان جب بھی ترقی کرے گا، اپنے اندر سے، اپنے خمیر سے، اپنے وجود سے، اپنی قوم کے شعور سے اور اپنے زمینی حقائق پر ترقی کرے گا۔ بڑی معیشتوں کے لیے چند (بنیادی ڈھانچہ) Structural منصوبوں کی حقیقت برطانوی نظام کے ان سٹرکچرل منصوبوں جیسی ہے جس سے وہ برطانوی معیشت میں ترقی چاہتے تھے۔ جیسے برصغیر میں ریلوے کا وسیع نظام ، یہاں کی کاٹن کو جلدازجلد اپنی ملوں تک پہنچانے اور اس ریلوے نظام کے ذریعے اپنا دفاعی نظام مضبوط کرنے کی خاطر تھا۔ بالکل اسی طرح یہاں کا نہری نظام بھی بنایا گیا تھا۔ یقیناًایسے نظام کے کچھ مقامی (فائدہ اٹھانے والے) Beneficiary بھی ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں تو اس برطانوی نظام جیسے منصوبوں جیسا بھی ایک بھی منصوبہ معرضِ وجود میں نہیں آیا۔
ہمارے ہاں ترقی کے دعوے سوائے اپنا وقت ضائع کرنے کے اور کچھ نہیں اور حکومت کے خاتمے کے بعد ہمارے حکمران یہ کہہ کر اپنا مقدمہ مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا‘‘۔ ذرا غور کریں۔ شریف خاندان سیاست، حکومت اور اقتدار میں کتنی دہائیوں سے ہے۔ ان دہائیوں میں قوم کس قدر مضبوط ہوئی اور اُن کا خاندان کس قدر اور اس خاندان سے متعلق لوگ کس قدر ۔ جیسے موروثی سیاست پاکستان میں حقیقی ترقی کے اثرات مرتب کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، اسی طرح ہمیں یہ خواب دیکھنا بھی چھوڑ دینا چاہیے کہ چین مدد کو آیا ہے، ترکی مدد کو آئے گا یا سعودی عرب ہاتھ بڑھائے گا۔ کوئی مدد کو نہیں آئے گا ۔
سب قومیں اپنی فکر کرتی ہیں۔ ہمیں دوسری قوموں اور ان کے مستقبل کی بھی فکر ہے۔ وہاں پر جمہوریت رہے گی کہ آمریت آئے گی ۔ اگر فکر نہیں تو اپنی فکر نہیں۔ کیا چین اور ترکی کے اخبارات اور ٹیلی ویژن پاکستان کی فکر میں مصروف ہیں؟ ہاں ہمیں دوسروں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ علم حاصل کرنا چاہیے۔ مفادات حاصل کرنے چاہئیں۔ ویسا کرنا چاہیے جیسے سب قوموں نے اپنے عروج کے لیے کیا ۔ بس یہاں ایک نکتے پر بات ختم کرتا ہوں: چین نے سوشلزم پر ترقی کی بنیاد رکھی، ترکی نے سیکولرازم پر ترقی کی بنیاد رکھی۔ تعلیم دونوں جگہ سب سے پہلی بنیاد بنی۔