معراج محمد خان جیسا اور کون

معراج محمد خان مرحوم کا کہنا تھا پاکستان کی سیاست استحصالی طبقوں کا ایک ایسا کلب ہے جس میں ان جیسی سیاسی سوچ اور نظریات رکھنے والوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ 1978 میں معروف صحافی اور انقلابی دانشور حیسن نقی نے مجھے کہا تھا “ تمہارا لیڈر یعنی معراج محمد خان قومی محاذ آزادی کو بڑی سیاسی جماعت بنانے میں کامیاب نیہں ہو سکتا “۔

نقی صاحب کا کہنا تھا کراچی کے سیٹھوں نے معراج کے لئے تجوریوں کے دروازے کھول رکھے ہیں مگر اس نے اصولی سیاست کے نام پر سیٹھوں کی ہر پیشکش کو ٹھو کر مار دی۔ ایک بار میرے استفسار پر معراج محمد خان نے جواب دیا سیٹھ اور ضیا الحق مجھے بھٹو کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اور پھر سیٹھوں کی دولت کے بل بوتے پر سیاست کریں گے تو انہی کے مفادات کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ سیٹھ لوگ اپنے ہی خلاف عوامی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری نہیں کرتے۔

عوامی مفادات پر مفاہمت نہ کرنا، عوامی مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کرنا، جبر و استحصال کی قوتوں کو للکارنا اور فوجی آمریتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا۔۔۔ معراج محمد خان کی نظریاتی پختگی، پسماندہ طبقوں کے حقوق اور ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت کے قیام کے لئے غیر متزلزل وابستگی ظاہر کرتی ہے۔ بنیادی انسانی حقوق، عظیم انسانی اقدار، انصاف اور انسانی برابری پر قائم استحصال سے پاک خوشحال معاشرہ ان کی جدوجہد کا مرکز تھا۔ 

معراج محمد خان کو قومی محاذ آزادی کے قیام کے ساتھ ہی ملک کے طول و عرض سے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تیار کردہ نظریاتی کارکنوں کی کھیپ کے علاوہ ٹریڈ یونین کارکنوں، وکلا اور سوشلسٹ دانشوروں کے ایک موثر حلقے کا ساتھ میسر آگیا تھا۔ وسائل سے محروم نوجوان نظریاتی کارکنوں کی شبانہ روز محنت سے قومی محاذ آزادی نے بہت جلد ملکی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا۔ معراج محمد خان اور قومی محاذ آزادی کی عوامی مقبولیت اور ضیا آمریت کے خلاف جدو جہد کا ہی نتیجہ تھا کہ محترمہ نصرت بھٹو نے معراج محمد خان کو ان کے گھر جا کر سیاسی جماعتوں کے ضیا آمریت کے خلاف جمہوری اتحاد ایم آر ڈی میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ ضیا آمریت کے خلاف بحالی جمہوریت کی تحریک میں قومی محاذ آزادی کے کارکنوں نے کراچی، تھرپارکر، لاہور، ملتان، راولپنڈی کے علاوہ ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں مثالی اور نمایاں کردار ادا کیا۔

1990 کی دہائی میں وسائل سے محروم قومی محاذ آزادی کی سرگرمیاں دن بدن کم ہونا شروع ہو گئی  تھیں۔ دوسری جانب ملکی سیاست میں سرمائے کا عمل دخل بہت بڑھ چکا تھا۔ 1996 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کے بعد عمران خان سیاسی مایوسی اور تنہائی کا شکار تھے۔ وہ معراج محمد خان کے گھر کراچی جا پہنچے۔ عمران خان نے معراج محمد خان سے کہا میں آپ کی ایمانداری، اصول پسندی اور جدوجہد سے بہت متاثر ہوں۔ اگر ہم اتحاد کر لیں تو آپ کی خواہش کے مطابق عوامی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی ایک بڑی عوامی سیاسی جماعت معرض وجود میں لائی جا سکتی ہے۔ وسائل سے محروم قومی محاذ آزادی کی ماند پڑتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اور کراچی کے کچھ دانشور دوستوں کے مشورے کے بعد معراج محمد خان نے قومی محاذ آزادی کو 1998 میں پی ٹی آئی کے ساتھ مدغم کر دیا۔ بعد ازاں معراج محمد خان نے راقم کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے اس میں شمولیت کی دعوت دی۔ راقم پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد تقریبا دو سال  مارچ 2000 تک پی ٹی آئی لاہور کا صدر رہا۔ لاہور پی ٹی آئی کی صدارت کو راقم نے خود اس وقت الوداع کہا جب عمران خان نے فوجی آمر مشرف کی حمایت کرنا شروع کر دی۔

معراج محمد خان نے بڑے دکھ سے مجھے کئی بار کہا “ ارشد بٹ، میں نے اپنے ساتھ تجھے بھی مروا دیا۔“,, اسی بات کو انہوں نے 7 اپریل 2016 کو کئی دوستوں کے سامنے پھر دہرایا جب میں انہیں ملنے کراچی گیا تھا۔ معراج محمد خان پی ٹی آئی میں شمولیت کے فیصلے کو بہت بڑی سیاسی غلطی مانتے تھے جس کو انہوں نے کھلے دل سے تسلیم کیا۔ جماعت کے اندر عمران خان اور پی ٹی آئی کی مشرف حمایت پالیسی کو تبدیل کرانے کی طویل کشمکش میں ناکامی کے بعد معراج محمد خان اور ان کے ساتھیوں نے بالآخر پی ٹی آئی کو چھوڑنے میں ہی عافیت جانی۔ روز افزوں بگڑتی صحت نے اجازت نہ دی کہ وہ قومی محاذ آزادی کو بحال کرتے یا کسی نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھتے۔