ایک کالم دو باتیں
- تحریر
- سوموار 08 / اگست / 2016
- 5118
ملک میں جشن آزادی کی تیاریاں جاری ہیں اور گھر گھر پاکستان کا پرچم لہرانا ابھی سے شروع ہو گیا ہے۔ جشن آزادی کے موقع پر پرچم، بیجزگھروں گاڑیوں وغیرہ کی سجاوٹ کے علاوہ خصوصی لباس بھی تیار کئے جا رہے ہیں۔پاکستان میں خصوصا گزشتہ چند سالوں سے ایک بار پھر پاکستان کے قیام کے دن 14اگست کو’’ یوم آزادی‘‘ مناتے ہوئے میڈیا کی نشریات میں افواج پاکستان کے کارہائے نمایاں اور ان کی قربانیوں کو خاص طور پر پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔اس سے ہماری نئی نسل اورقیام پاکستان کی تاریخ سے ناآشنا عا م شہری کو یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان کا قیام بھی افواج پاکستان کے کارہائے نمایاں میں شامل ہے۔واضح طور پرپاکستان کے قیام کی جدوجہد،تحریک ایک تاریخی سیاسی کارنامہ ہے۔
14اگست کو یوم آزادی کے دن قیام پاکستان کی تحریک اور جدوجہد کے واقعات،عوامل ،محرکات اور کرداروں سے نئی نسل کو آگاہی دی جائے کہ مسلمانان برصغیر نے کس طرح قائد اعظم محمد علی جناح کی باعث فخر قیادت میں انگریزوں اور ہندوؤں کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کے قیام کو ممکن کر دکھایا۔بدقسمتی اور بد اعمالیوں سے ہمارے ملک میں اثر انگیز میڈیا کے ذریعے عوام کو نظریہ پاکستان اور مقاصد پاکستان سے بے خبر رکھتے ہوئے آمر حکومتوں کے مفاد پر مبنی مسخ شدہ تاریخ کا پرچار کیا جاتا رہا ہے۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں اور عوام کو نظریہ پاکستان ، مقاصد پاکستان اور اس کے تقاضوں سے آگاہ کرنے کے لئے میڈیا سمیت ہر سطح پر اجاگر کیا جائے۔پاکستان میں نئی نسل کو تاریخ سے بے خبر نہیں بلکہ باخبر رکھا جانا چاہئے۔ یہ مشکل ترین کام ہے کیونکہ ہمارے ملک میں طاقت کی بنیاد پر سجائے گئے’’رولز آف گیم‘‘ پاکستان کے نظریے اور مقاصد کے برعکس ہی نہیں متصادم بھی ہیں۔
آزاد کشمیرکی نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں خصوصی8نشستوں، سپیکر،ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد 9رکنی کابینہ کی تشکیل کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ کابینہ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اس میں آزاد کشمیر کے کئی اضلاع کے علاوہ مہاجرین جموں و دیگر اورکشمیر ی مقیم پاکستان کی نمائندگی شامل نہیں ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے سنیئر نائب صدر فاروق چودھری حسب توقع سینئر وزیر بنائے گئے ہیں۔ کابینہ کے ارکان کی نامزدگی سے یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے لئے کس میرٹ کو اپنایا گیا ہے۔ خواتین کی خصوصی نشستوں کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جماعتی امیدواران کی نامزدگی پر کئی سوالات سامنے آ ئے ہیں۔خواتین کی ایک نشست وزیر اعظم نواز شریف کے کہنے پر دی گئی اور خواتین کی ہی ایک دوسری نشست پر نامزد’ ’ اجنبی‘‘ خاتون کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اسے ’’ خفیہ‘‘ والوں کے کہنے پر ممبر اسمبلی کے اعزاز سے نوازا گیا ۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی طرف سے ابھی کئی عہدوں پر نامزدگی کے فیصلے اور اقدامات کئے جانے باقی ہیں۔غالب توقع اور امید یہی ہے کہ عہدوں پرنامزدگی کے انتخاب میں حقیقی اہلیت اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) کے قیام کے حوالے سے مہینوں کے نامساعد حالات میں ثابت قدم رہنے والوں کے کردارکو ملحوظ خاص رکھا جائے گا۔سب کو مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کی قیادت سے یہی توقع ہے کہ وہ غیر مقبول فیصلوں کو محدود تر رکھتے ہوئے مقبول عام فیصلوں سے اپنے لئے عوامی حمایت کا احساس کریں گے۔مسلم لیگ (ن) کے لئے اہم ہے کہ غیر مقبول فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔