اردوآن چلے روس کی طرف

پچھلے سال نومبر میں ترکی نے روس کا طیارہ گرایا تو روس ترکی تعلقات جو پچھلے پانچ سو سال سے کبھی نارمل نہیں رہے، ان اختلافات میں مزید شدت آگئی۔ ترکی کے متعدد جذباتی دانشوروں نے اس صورتِ حال پر روس کو سبق سکھانے کی آواز بلند کی۔

نیٹو اور امریکہ کے اہم اتحادی ترکی نے سرد جنگ کے تمام دور میں بھی روس کے ساتھ اسی شدت کو اپنی خارجہ پالیسی میں مستقل جگہ دی جو وہ پچھلی پانچ صدیوں سے اپنائے ہوئے تھا۔ راقم نے انہی صفحات پر اس واقعے کو علاقائی صورتِ حال میں ایک اہم اور نازک موڑ قرار دیا تھا اور اس اقدام کو خودکشی کہا تھا۔ جبکہ اس وقت کے وزیراعظم احمت دعوت اولو اور صدر طیب اردوآن ، روسی طیارہ گرائے جانے پر صرف نازاں ہی نہیں تھے بلکہ روس کو مزید سبق سکھانے کا اعلان کر رہے تھے۔ جب روسی صدر پیوٹن نے اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد کریملین میں شام سے اپنی  افواج کو واپس بلا کر دنیا بھر کو ورطۂ حیرت میں ڈالا تو انہوں نے اپنی تقریر میں طنزاً کہا، ’’صدر اردوآن کو اللہ سبق دے گا‘‘۔

روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد نیٹو اور امریکہ کی سردمہری کے بعد ترک انتظامیہ کی آنکھیں کھلنا شروع ہوگئیں۔ ترکی، تیل اور گیس کے لئے یورپ کی بڑی راہداری ہے۔ ترک سیاحت کی 36ارب ڈالر سالانہ آمدن میں سے صرف روسی سیاح 6ارب ڈالر حصہ Contribute  ڈالتے ہیں۔ ترکی کا روسی گیس پر انحصارہے اور وہ اہم ترین بزنس پارٹنرہے۔ شام میں امریکی پالیسی کی ناکامی جس میں ترکی فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کررہا تھا، اس ایک روسی طیارے کے گرائے جانے کے سبق جلد ہی ملنا شروع ہوگئے۔ ترکی جو بار بار روس کے اس مطالبے کو رد کررہا تھا کہ ہم اس جیٹ طیارے کو گرائے جانے پر معافی نہیں مانگیں گے، اس نے پچھلے دو ماہ میں بڑے یو ٹرن لیے ہیں۔ ترک صدر طیب اردوآن کی جون میں روس سے تحریری معافی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی مکمل بحالی کا اعادہ اس خارجہ پالیسی کی ناکامی تھی جس کے معمار سابق وزیر خارجہ و سابق وزیراعظم احمت دعوت اولو تھے۔ طیب اردوآن کے دست راست احمت دعوت اولو، مصر، عراق، شام اور مشرقی یورپ میں جس طرح بڑھ چڑھ کر امریکی پالیسیوں کو سلطنت عثمانیہ کے Revival کے فریم میں مذہب کی بنیاد پر کامیاب کرنا چاہتے تھے، اس کی ناکامی کا نقطہ عروج یہی روسی طیارہ تھا جو ترکی نے اپنی فضا میں مار گرایا تھا اور جس پر جذباتی مسلمان بھی ایک نئے دور کا آغاز دیکھنے لگے تھے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔

ناکام بغاوت سے قبل ترکی نہ صرف اپنی اس شدت پسندانہ خارجہ پالیسی پر یو ٹرن لے چکا تھا بلکہ ترکی کو احساس ہوا کہ کس طرح اس خارجہ پالیسی نے ترکی کو خطے کا مشکلات میں گھرا ملک بنانے میں کردار ادا کیا۔ کُرد علیحدگی پسندی، مذہبی انتہاپسندوں کے دہشت گرد حملے اور علاقے میں تنہا رہ جانے والی ریاست۔ ناکام بغاوت سے قبل ترکی، روس، اسرائیل اور شام کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے پر عمل پیرا ہوچکا تھا۔ یہ وہی سبق تھا جو ترکی نے جنگوں کے شوقین انور پاشا کی ناکامی اور اپنی ملت کی تعمیروترقی اور صرف دفاع (Defence) کرنے والے مصطفی کمال پاشا کی پالیسیوں کے فرق سے سیکھا۔ انور پاشا جنگوں میں ترکی کی وسعت کے خواب میں آدھی سے زیادہ سلطنت ہار بیٹھے اور مصطفی کمال پاشا اپنی قوم کا دفاع کرکے ایک نئی ریاست بچانے اور ترکوں کو بحیرۂ روم و مرمرا میں غرق کرنے کے مغربی خواب کو چکناچور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی لیے ترکی کے ہر شہر، دیہہ اور قصبہ میں اتاترک کا یہ قول لکھا ہے، ’’گھر میں صلح، دنیا میں صلح۔‘‘

ترکی نے پچھلے نوے برسوں میں اسی اصول پر عمل کرکے اپنی ریاست کا وجود قائم رکھا اور قومی ترقی کی منزل پائی۔ اسی پالیسی کے تحت ترکی نے دوسری عراق جنگ میں اربوں ڈالر کی امریکی پیشکش مسترد کردی کہ امریکی افواج کو ترک سرزمین سے عراق میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ لیکن اقتدار میں آتے  ہی اے کے پارٹی AKP کے اندر سلطنت عثمانیہ کی بحالی کا خواب لیے خارجہ پالیسی بنانے والوں نے عراق، شام، مصر، یمن اور لیبیا میں اس کے مخالف پالیسی پر عمل کرنا شروع کردیا جو ناکام ثابت ہوئی۔ پچھلی ایک دہائی سے اس خارجہ پالیسی کی ناکامی کے بعد ترکی نے ایک بار پھر سبق سیکھا کہ سائنسی ٹیکنالوجی اور معیشت کی اس دنیا میں بڑی ریاستوں کا تصور صدیوں پرانا تصور ہے اور اب زمانہ معیشت اور سائنس کے مطابق آپ کی ترقی کی پیمائش کرتا ہے، سرحدوں کو وسعت دینے سے نہیں۔

صدر طیب اردوآن اس تحریر کی اشاعت کے وقت یعنی آج روس کا دورہ شروع کررہے ہیں۔ یہ دورہ ترکی میں 15جولائی کی ناکام فوجی بغاوت سے پہلے سے طے  تھا۔ راقم پچھلے اڑھائی ماہ سے ترکی میں ہے۔ افسوس ہمارے وطن عزیز میں ہمارے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ترکی پر جو تجزیے پیش کیے گئے، اُن کا حقائق سے رتی بھر تعلق بھی نہیں۔ بشمول ناکام بغاوت، جمہوریت، اردوآن کی سیاست۔ حتیٰ کہ یہاں سیکولرازم اور اسلام کی بحث ہی نہیں اور نہ ہی اتاترک کوئی ایشو ہے۔ یہ مسائل اس ملک سے برآمد ہوئے جہاں سلطنت برطانیہ کے جاسوس لارنس آف عریبیہ نے ایک خاندان کی بادشاہت قائم کی۔ اردوآن نے 7اگست کو استنبول میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کیا جہاں اپوزیشن کی دونوں جماعتوں جمہور خلق پارٹی اور ملی حرکت پارٹی کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اتاترک کی واحد آسمان کو چھوتی تصویر کے سائے میں تینوں رہنماؤں نے ترکی کو مضبوط جمہوریت اور سیکولر ریاست کو تقویت دینے کے عہد کی تجدید کی۔ روس کے دورے پر جانے سے قبل صدر طیب اردوآن نے کہا، ’’میں اپنے دوست ولادی میر پیوٹن سے ملنے ماسکو جا رہا ہوں، ایک نئے دور کا آغاز کرنے۔ ایک نئے روس ترکی تعلقات کے دور کے لیے۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’ایک تازہ دم آغاز، تاریخی آغاز، اپنے دوست کے ساتھ۔ ترکوں اور روسیوں کی دوستی کا نیا دور۔‘‘

اگر یہ تعلقات اسی شدت سے استوار ہوتے ہیں ، جس کا اظہار پیوٹن اور اردوآن کررہے ہیں، تو یہ اس دنیا کو چکنا چور کرسکتا ہے جس میں امریکہ عالمی اجارہ دار بنا ہوا ہے۔ راقم کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق جو میں نے پچھلے اڑھائی ماہ میں یہاں اہم سیاسی اور صحافتی حلقوں میں گفتگو کے دوران حاصل کیں، ترکی اور روس تعلقات میں بحالی کے لیے بیک ڈور ڈپلومیسی Backdoor Diplomacy میں ترکی کے اہم سابق جرنیلوں، سیاست دانوں، دانشوروں نے کردار ادا کیاہے، جو ترکی کو اپنے بانی کے فلسفے کے مطابق تنازعات میں الجھنے کی بجائے اپنی ملت کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ معاملات 15جولائی کی ناکام فوجی بغاوت سے پہلے طے ہوگئے تھے۔ اسی لیے ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک سیاسی جماعتوں میں ایک شاندار نیشنلسٹ اتحاد نظر آرہا ہے۔ جہاں وہ ترکی میں آئینی حکمرانی (نہ کہ خلافت)، جمہوریت اور ملت کے تصور پر اکٹھے نظر آرہے ہیں، وہیں پر اُن کا یہ جذبہ دیکھا جا رہا ہے کہ ترکی کو اپنی خارجہ پالیسی کو فوراً بدلنا ہوگا۔ لیکن یہ کام احتیاط سے کیا جائے کیوں کہ یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ یک دم تعلقات میں خرابی بھی ترکی کے لیے متعدد مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ راقم  پچھلی تین دہائیوں سے ترک تاریخ، سیاست، سماج اور ریاست کو سمجھنے میں سرگرداں ہے۔ میں  اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ترک ریاست کا وجود اور ترقی کا راز اس کی خارجہ پالیسی ہے۔ خارجہ پالیسی میں ذرا سا جھول اس ریاست کے وجود کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
 

ISIS کے ظہور کے بعد جس طرح ترک ریاست کے وجود کو خطرہ ہے، اس کا احساس ہمارے وطن عزیز کے بڑے مفکر کر ہی نہیں سکتے۔ ISIS کے خلاف عالمی طاقتوں اور شام کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ سب سے بڑی مزاحمت شام کے کُردوں کی ہے جو نظریاتی طور پر سوشلسٹ ہیں۔ یہ ایک ایسا بڑا سیاہ گڑھا Black Hole ہے جو ترک ریاست کو نگل سکتا ہے۔ امریکہ جہاں اسلامی مسلح گروہوں کو اسلحہ دے رہا ہے وہیں کُرد جنگجو؎ں کو بھی مسلح کررہا ہے۔  راقم نے بہت پہلے یہ نشاندہی بھی کی تھی کہ تصور کریں ان کُردوں کو اگر روسی بھی اسلحہ اور سیاسی مدد دینا شروع کردیں جس کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں تو پھر ایک کُرد ریاست کا وجود ترک ریاست کو گھائل کیے بغیر ممکن ہی نہیں۔ لیکن روس ترک تعلقات کا نیا دور اس محور Axis کو توڑنے میں مکمل طور پر کامیاب ثابت ہوگا۔

عام ترک سیاسی جماعتوں کا ترک قوم پرستانہ رویہ ہی وہ طاقت ہے جس نے حکمران جماعت سے لے کر اپوزیشن تک کو اپنی علاقائی اور خارجہ پالیسی یک دم بدلنے پر مجبور کیا ہے۔ ترک نیشنلزم ترک قوم کی حتمی طاقت ہے۔ 9اگست کو ترک صدر طیب اردوآن اور روسی صدر پیوٹن کی ملاقات کے بعد جہاں امریکہ کے اتحادی اور نیٹو کے اہم رکن ترکی کی خارجہ پالیسی بدلنے کی طرف گامزن ہوگی، وہیں یہ خطے کا منظرنامہ بدلنے کا آغاز کردے گی۔ مشرقِ وسطیٰ سے مشرقی یورپ، بحیرۂ روم کے ان دونوں خطوں، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں یہ بدلتی صورتِ حال یورو ایشین  Euroasianسیاست کے مرکز کو مضبوط کرے گی۔ یقیناًاس میں سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا Beneficiary روس ہوگا۔ اگر مشرقِ وسطیٰ، یورپ میں طاقت کا یہ نیا توازن بدلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سیاست اور اس کے اجارہ داروں پر بھی پڑیں گے۔

یہ ایک ایسا سبق ہے جسے کاش پاکستان کے پالیسی ساز، سیاسی مفکرین، دانشور، صحافی، سیاست دان اور وہ جذباتی گروہ بھی سمجھیں جو پچھلی چھ دہائیوں سے طفیلی ریاست اور طفیلی قوم بن کر عالمی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کہ خواب یہ ہے کہ ہم امتِ مسلمہ کی قیادت کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔