واسکوڈے گاما کے تعاقب میں
- تحریر سرور غزالی
- منگل 09 / اگست / 2016
- 15488
واسکوڈے گاما ایک مشہور سیاح تھا مگر اس کی شہرت بہت اچھی نہیں ہے۔ وہ ہندوستان کے کئی پھیرے لگاتا رہا اور وہاں کا نائب شہنشاہ بھی مقرر کر دیا گیا۔ اس نے پرتگال کے بادشاہ کے ساتھ کچھ ساز باز کر کے ہی خود کواس قابل بنایا کہ وہ ایسے اہم سرکاری مشن کے لیے چنا جائے۔ واسکو ڈے گاما کا نام ایشیا میں پہلی یورپی نو آبادی کی بنیاد رکھنے والوں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا جا سکتا ہے۔ اس کے نام کے ساتھ مکہ جانے والے ایک بحری جہاز، جس میں زائرین حج سوار تھے، کو لوٹنے اور مسافروں کو قتل کرنے کا مکروہ فعل ہمیشہ جڑا رہے گا۔ اس کی موت بھی ہندوستان کے علاقے کوچین میں ہوئی۔
وہ جولائی 1497 کو پر تگال کے ساحل لیسابون سے اپنے بحری بیڑے کے ساتھ روانہ ہؤا۔ اس کی ہمراہی میں اس وقت کے پرتگال کے بہترین جہازراں تھے اورجہاز بہترین آلات بادباں سے مرصع تھا۔ ان جہازرانوں کو جنوبی بحر اوقیانوس کی قیامت خیز لہروں اور سمندری ہواؤں کی سمت کا بخوبی علم تھا۔ سمندری ہواؤں کے بہاؤ پر اسے عام سمندری راستوں سے کافی ہٹ کر سفر کر نا پڑا اور یوں وہ جنوبی افریقہ کے مغربی ساحل پر پہنچ گیا۔ اس طرح آگے بڑھتے ہوئے وہ موسل بائی اور مشرقی افریقی ممباسہ پہنچ گیا۔ یہاں عربی تاجروں نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی طرح ہندوستان کے ان سمندری راستوں سے واقف ہو جائے جن سے صرف وہی آشنا تھے۔ لیکن واسکوڈے گاما کو ایسے ماہر مل گئے جنہوں نے اسے ہندوستان کے ساحل کالی کٹ تک پہنچنے میں مدد کی اور وہ بالآخر جنوبی ہندوستان پہنچ گیا۔
ابن انشاء، ابن بطوطہ کے تعاقب میں نکلے تھے، مگر مجھے واسکو ڈے گاما کے تعاقب میں اس لیے نکلنا پڑا کہ میں دیکھ سکوں کہ ایک اتنا چھوٹا سا ملک اور اس کا ایک لوٹ مار کے مزے کر نے والا سیاح کیونکر ہندوستان جیسی عظیم سلطنت کے ایک حصے کو تہہ تیغ کرکے کالونی میں بدل ڈالنے کا سیاہ کارنامہ انجام دینے کے قابل ہوا۔
واسکو ڈے گاما کا ملک پرتگال یورپ کے انتہائی جنوب میں واقع ہے۔ اور اس کے بعد صرف سمندر ہی بچتا ہے۔ یہاں دسمبر کے مہینے میں بھی موسم معتدل رہتا ہے اور کبھی کبھی درجہ حرارت 20 ڈگری سنٹی گریڈ سے اوپر بھی ہوجاتاہے۔ اس موسم میں جہاں یورپ برف سے ڈھکا رہتا ہے، وہاں پرتگال کی سمندری مرطوب آب وہوا سیاحت اور تفریح کا بہترین موقع فراہم کر تی ہے۔
پرتگا ل کے انتہائی جنوب میں واقع علاقہ الگاروے کا یہ نام عربی زبان کے لفظ غرب الاندلس سے نکلا ہے جو بعد میں صرف الغرب کہلاتا رہا اور پھر الگاروے بن گیا۔ جسے موسی بن نصیر، ایک امیہ سلطنت کے جنرل نے اپنے سپہ سالار طارق بن زیاد کی مدد سے، جن میں اکثریت موروں کی تھی ، سن711 میں فتح کیا تھا اور تیرھویں صدی تک یہاں مور عرب آباد رہے ۔ یہاں الگاروے کے مختلف شہروں کے سرکاری نشانات میں آج بھی عرب چہرے اور اس نسبت سے پرتگالیوں اور عربوں کا رابطہ اور ان پر عربوں کی حکومت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ہسپانہ میں سلطنت قرطبہ اور بعد میں خلافت قرطبہ قائم ہوئی تھی اور جس کا خاتمہ غرناطہ کی سلطنت کے زوال کے ساتھ ہوا۔ الگاروے اپنے معتدل موسم، اونچی نیچی پہاڑیوں اور طویل نہ ختم ہو نے والے سمندری ساحل کی و جہ سے یورپ میں بہت مقبول ہے۔ الگاروے ہی وہ ساحل ہے جس پر واسکو ڈے گاما فرانسیسیوں سے جنگ جیت کر پرتگال کے بادشاہ کا نور نظر بن گیا تھا۔
برلن سے ائر برلن کا طیارہ ہمیں لیکر فارو پہنچا اور ہم لوگ ایک بالکل مختلف آب وہوا کے ملک پرتگال کے انتہائی جنوب میں اتر گئے۔ نیکرمن ۔۔۔ تفریحی کمپنی کا نمائیندہ ہمیں بس کے ایک گھنٹے کے سفر کے بعد الگاروے لے آیا اور ہمیں’’ ہوٹل الگاروے‘‘ میں لا کر چھوڑ گیا۔ ساحل سمندر سے قریب یہ ایک ہوٹل ہی نہیں بلکہ ایک بستی تھی۔ جس میں عمارتوں کا سلسلہ اور ان میں بے شمار کمرے جن میں سیاحوں کے ٹھہرنے، کھانے پینے، تیراکی اور بے شمار کھیلوں اور دیگر ان گنت تفریح کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ساری دنیا سے طرح طرح کے سیاح وارد ہو رہے تھے اور جو پہلے سے یہاں مقیم تھے وہ اپنا سفر مکمل کر کے واپس جا رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ ساری دنیا کے انسان یہاں آکر اپنی دلی مراد پوری کر تے جا رہے ہیں۔ مگر دنیا بہت بڑی ہے اور اس میں پائے جانے والے انسانوں کا عشر عشیر بھی اس جم غفیر کی صورت یہاں ہر گز موجود نہ ہو گا۔
نہا دھو کر ناشتے سے فارغ ہو نے کے بعد پتہ چلا کہ ایک کانفرنس روم میں مہمانوں کو جمع ہو نے کی تاکید کی گئی ہے۔ سو ہم بھی سوئے حرم چلے، کانفرنس میں نیکرمن کے ایک اور نمائیندے نے ہماری خوب کلاس لی اور ہمیں گھنٹے بھر تک پرتگال کے اس خطے الگاروے کو سیاحت کی غرض سے چننے کے ہمارے عقلمندانہ فیصلے کی داد دینے اوراپنی کمپنی نیکرمن کی جانب سے سیاحت جیسی عظیم خدمات کو مہیا کر نے کی سعادت پر لیکچر دیکر ہمارے حوصلہ کو پچھاڑ دینے کی کوشش کر تا رہا۔ البتہ کچھ کام کی باتیں بھی یہ بندہ خدا ہمارے سوتے ذہن میں ڈالتا گیا، جسے ہم نے اس وقت کان کھڑا کر کے سن لیا۔ ان میں ان علاقوں کا تعارف بھی تھا جہاں جہاں ہمیں جانا چاہیئے تھا۔ اور وہ خدمات جو اس کی کمپنی ہمارے لیے مہیا کر نے کا کہہ رہی تھی۔ آس پاس کافی کچھ دیکھنے کو تھا۔ اور اس مقصد کے لیے کسی کار کمپنی کی ایک نمائیندہ بے لوث کا بھی ذکر تھا جو تھوڑی دیربعد نمودار ہو نے والی تھیں۔
اور واقعی تھوڑی دیربعد ایک کار کرائے پر مہیا کر نے والی کمپنی کی ایک خاتون نمائندہ نظر آئیں جو نہایت فراخد لی سے کرائے کی کاریں بانٹ رہی تھیں۔ میں بھی صف میں کھڑا ہو گیا۔ جب میری باری آئی تو انہوں نے میرا ڈرائیونگ لائیسنس طلب کیا۔ الٹ پلٹ کر لائیسنس دیکھا اور بولیں اتنا پرانا تو نہیں ہے آپ کو کیسے گاڑی دے دوں ۔۔۔۔ میں نے کہا بچے ساتھ ہیں اور بغیر گاڑی کے یہاں سے تو باہر بھی نکلنا مشکل ہے۔ خیر انہوں نے حامی بھر لی۔ ایک نقشہ بھی عنایت کیا۔۔۔ بالکل مفت اور بس پھر کیا تھا ہم الگاروے کے آس پاس گھومنے کے قابل ہو گئے۔ ساحل سمندر کے کنارے گاڑی چلاتے ہوئے، انتہائی دلکش منظر دیکھتےہوۓ ہم نقشے کی مدد سے ادھر ادھر چل پڑے۔ گھنٹہ بھر آس پاس کا بلا مقصد چکر کاٹنے کے بعد ہم نے سب سے پہلے قریب کی ایک بستی البوفیرہ دیکھنے کا قصد کیا۔ لیکچر کے دوران اس کی تعریف سوتے سوتے ہی سہی مگر سن چکے تھے۔
البوفیرہ کی تاریخ دو ہزار سال پرا نی ہے۔ اور عربوں کا دیا گیا نام البحیرہ ، بگڑ کر البوفیرہ بن گیا ہے۔ سمندری راستے اور مشکل پہاڑیوں پر قائم شہر البحیرہ اس لئے کہلایا کہ یہ زمانہ قدیم میں آسانی سے فتح نہیں کیا جا سکتا تھا۔ موروں نے بھی بڑی مشکل سے اس شہر پر اپنا قبضہ جمایا تھا، جبکہ وہ آلفونسو دوم کو بھگانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن کبھی زلزلے اور کبھی سمندری طوفانوں نے اس شہر کو تباہ کیا۔ پھر کبھی گوریلا جنگ میں پورے شہر کو آگ بھی لگا دی گئی۔ جب نیکرمن کمپنی کا وہ تاریخ داں یہ رٹی رٹائی تاریخ ہمیں سنا رہا تھا تو میں سوچ رہا تھا جس شہر پر اتنے آلام و مصائب اترے اس میں اب پھر دیکھنے کو کیا رہ گیا ہو گا۔ شہر قدیم کا صرف کھنڈر ہی بچ رہا ہے سو وہی ہم دیکھتے رہے۔عربوں کا بنایا ہوا قلعے کا کھنڈر ان میں شامل ہے۔ شہر کو ایک سرنگ کے ذریعہ اس کے ساحل سمندر پرایئے ڈو پینکو سے ملا دیا گیا ہے۔ ساحل سمندر۔۔۔۔ دور تک اور اس کے کناروں پر اونچی اونچی سنگلاخ چٹانیں۔ قریب قریب سارے ہی الگاروے میں ہمارے اردگرد نظر آتی رہیں۔ البوفیرہ شہر کی تنگ گلیاں اور راستے، چھوٹی دوکانیں ، بوتیک، اور کیفے سب کچھ دیکھنے کے قابل ہیں۔ البوفیرہ کی انہی گلیوں میں بل فائیٹنگ کا کھیل بھی ہوا کر تا ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں۔
دوسرے روز ہمارا پروگرام الگاروے میں قریبی بندرگاہ دیکھنے کا تھا۔ یہاں چھوٹے چھوٹے جہاز فارو پورٹ کی سیر کرانے کو موجود تھے۔ جن سے نہ صرف پورٹ بلکہ آس پاس کے خوبصورت ساحل کا بھی نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک خاص قسم کا اسٹیمر ہمیں لےکر چلا۔ راستے میں سمندر پر رک کر جہاز کے اندرونی نچلے حصے میں سمندر کے اندر کا بھی نظارہ کیا گیا۔ سبز پانی میں یوں سمندر کے اندر کا احوال دیکھنے کا پہلی بار موقع ملا۔ یو ں تو سمندری جہاز پر سفر کر کے یا ساحل پر لہروں سے نہانے کا شوق اکثر رہا ہے مگر اس طرح سے سمندر کے اندر کا احوال پہلی بار دیکھا۔ اسٹیمر اونچی اونچی سنگلاخ چٹانوں کے بیچوں بیچ سے بھی گذرا ۔ اگرچہ یہ چٹانیں ساحل کے قریب ہی ہیں مگر ان تک تیر کر پہنچنا ناممکن ہے۔ یو ں سمجھئے کہ چھوٹی چھٹوی پہاڑیاں سمندر کے اندر کھڑی ہیں۔ سرخ اور پیلے رنگ کی یہ چٹانیں الگاروے کو نہایت حسین بنا دیتی ہیں۔
تیسرے روز ہمیں پراییا ڈے بناگل میں ایک چھوٹی کشتی میں سوار ہوکر سمندر سے قریبی پہاڑ کی کھائی میں جانا تھا۔ اس زمین دوز کھائی کے نہایت تنگ آبی راستے ہیں اور ان کی اونچائی بھی بہت کم ہے۔ کشتی کھینے والا کسی ماہر کی طرح کشتی کے ساتھ ہمیں ان بل کھاتی نہر میں دھیرے دھیرے آگے بڑھاتارہا۔ تصویر کھینچنے کی مکمل ممانعت تھی اوربالکل اندھیرے میں ہلکی روشنی کے مدقوق سے جلتے بلب ماحول کو اور بھی خوابناک بنا رہے تھے۔ فلیش کے بغیر تصویر لینا نا ممکن تھا۔ اور اگر کبھی کسی نے فلیش کے ذریعہ کوشش بھی کی ایک آدھ تصویر بنا نے کی تو گارڈ پوری قوت سے چلاتا۔ پھر کشتی ایک جگہ پر جا کر ٹھہر گئی اور ہم لوگوں کو اتر کر گائیڈ کے پیچھے پیچھے چلنے کا حکم صادر ہوا۔ اور ساتھ میں ایک بار پھر تصویر اتارنے کی ممانعت کے احکامات اور حکم عدولی کی صورت میں جرمانے کی دھمکی کا مژدہ سنا گیا۔ الگاروے کی پہاڑی کھائی کو یورپ کے خوبصورت ترین سمندری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔