کوئٹہ دہشت گردی۔۔۔ کچھ سیدھی باتیں
کوئی ایسا دن ہو کہ سورج کسی اور جانب سے طلوع ہو۔ دہلی، کابل، پنڈی، اسلام آباد دہشت گردی کے خلاف اکٹھے ہو جائیں، باقی دنیا اس اکٹھ کی حمایت میں کھڑی ہو جائے۔ تب بھی، یاد رکھیں تب بھی دہشت گردوں کو شکست دینا آسان نہیں ہو گا۔ یہ ایک دن، ایک ہفتے، ایک مہینے یا ایک سال میں ختم والے نہیں اور نہ آسانی سے شکست کھائیں گے۔
یہ لڑائی ایک نسل کو لڑنی ہے اگر ہم اکیلے ہیں تو ہماری ایک سے زیادہ نسلیں اس جنگ کا ایندھن بنیں گی۔ روس افغانستان میں آیا، اسے سبق سکھانا مقصود تھا۔ ایک بڑا عالمی اتحاد قائم ہوا۔ نان سٹیٹ ایکٹرز کی ایک ایسی فصل کاشت کی گئی جو تباہ کن تھی۔ سوویٹ یونین جو تب دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین تھا، ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا۔ روس کو اس حال تک پہنچانے والی لڑاکا فورس کو، سوچے سمجھے بغیر دنیا نے نظرانداز کرتے ہوئے اکیلا چھوڑ دیا۔
یہ ہم پاکستانی تھے جنہوں نے سعودیوں و امریکیوں کے ساتھ مل کر لڑنے والے بھی تیار کئےاور انہیں جہاد کا بھولا ہوا سبق بھی یاد کرایا۔ ہم نے انہیں مقدس حوالے دئیے تھے کہ جب افغانستان جیسی صورتحال پیدا ہوجائے تو کسی ریاستی فیصلے کی ضرورت نہیں۔ ایک فرد بھی اپنے طور پر لڑنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ قران و حدیث کا حوالہ یہاں نہیں دینا۔ بس اتنا کہنا ہے کہ جو احکامات ریاست کے لئے تھے، وہ ہم نے تبلیغ کے ذریعے فرد سے منسوب کر دئیے۔
جہادی اس نودریافت فکر پر یکسو ہو گئے۔ ریاستیں غیر متعلق ہو گئیں، جہادی تنظیمیں بار بار ٹوٹ کر بکھرتی رہیں۔ ان سے جہادی یہ کہہ کر الگ ہوتے رہے کہ ہمیں لڑنا ہے، ہماری تنظیم یا اس کا امیر غیرشرعی فکر پر چل نکلے ہیں۔ جہاد دنیا بھر میں برآمد ہونے لگا۔ چیچنیا، بوسنیا، فلپائین، تھائی لینڈ ہر جگہ جا پہنچا۔ ہم بھارت سے اپنا پرانا حساب برابر کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے کشمیر گرم کر لیا۔
کشمیر گرم کرنے کی بھی خوب کہانی ہے۔ جہادی جب وہاں جانے کو تیار نہ ہوئے کہ انہیں روس کے پیچھے جانا تھا، کشمیر میں ہم نے ان پر ہاتھ رکھا جو کشمیر کی پاکستان اور بھارت دونوں سے آزادی چاہتے تھے۔ جب کشمیر مناسب طور پر دہکا لیا گیا، تو کشمیر میں جنگ کا آغاز کرنے والے لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں کو چن چن کر مارا گیا۔ یہ کہانی کبھی یٰسین ملک سے سنیں اگر سننے کا یارا ہو تو۔ سامنے اگر صالحین کی جماعت کا کوئی بڑا بیٹھا ہو تو وہ بڑے ہی جذبے سے سناتے ہیں۔
افغان جہاد کے دوران پیر گیلانی اور پیر مجددی بھی جہادی تنظیمیں رکھتے تھے۔ ان دونوں پیروں کا مذاق گلبدین حکمت یار اڑایا کرتے تھے۔ آج سخت جان گلبدین پیروں جیسے نرم لگتے ہیں۔ ہمارا واسطہ اب داعش، ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار سے پڑ گیا ہے۔ دہشت کی دنیا کے یہ نئے نام بچوں کو مارنا جائز سمجھتے ہیں۔ خواتین کو لونڈی بنانا ان کا حق اور نہتے وکیلوں کو گھیر کر مارنا ان کا فخر ہے۔ وکیلوں کو کیوں مارا۔ وکیل بندوق نہیں اٹھاتے، آئین کی قانون کی بات کرتے ہیں۔ دلیل پر یقین رکھتے ہیں، وہ انہیں لاجواب کرتے ہیں۔
دو دہائیاں ہونے کو آئیں جب اچھے طالبان سے بات ہوئی تھی۔ کسی بھی ریاست سے اپنی رٹ منوانے کے لئے وہ اپنا ایک منصوبہ رکھتے تھے۔ جس کے حرف حرف پر بعد میں عمل ہوا۔ سیدھا سادہ لائحہ عمل بیان کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا اہل حکم کو ٹارگٹ کرو۔ جو نہیں مانتے، انہیں مٹا دو۔ صرف اسے چھوڑو جو مان جائے۔ اہل حکم سے مراد فیصلہ کرنے والے لوگ۔
پولیس کو ٹارگٹ کیا گیا۔ عدالتیں بے توقیر ہوئیں۔ سیاستدانوں کو مارا اور ڈرایا گیا۔ تاجروں کا وہ حال کیا گیا کہ چندوں کی کوئی کمی نہ رہی۔ اسمگلروں کے مافیا پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔ بلیک مارکیٹ پر قابو پایا گیا ۔ سیاست پر اثرانداز ہونے کے لئے مہرے کھڑے کئے گئے۔ نیول بیس پر تو حملہ ہوتے سب نے دیکھا۔ جی ایچ کیو پر حملے کا مطلب آرمی چیف کو ٹارگٹ کرنے کے علاوہ کیا تھا؟ کوئی بتلائے۔ اس سے کیا جتانا مقصود تھا۔
سول ادارے ڈھیر ہوئے تو اب فوج چوکیداری فرما رہی ہے۔ اپنی فوج ہے، اپنا ملک اور اپنے لوگ ہیں۔ پھر بھی سوال ہے کہ سول ادارے کیا ہوئے۔ اس اعتراض کے ساتھ ایک اعتراف بھی کرنا ہے۔ یہ پاک فوج ہی تھی جس نے دہشت گردوں کے بڑھتے ہاتھ مروڑ کر توڑے۔ لیکن وہ ابھی موجود ہیں، ختم نہیں ہوئے۔
ہمیں اپنی پالیسیوں پر بھی غور کرنا ہے۔ بہت سوچ کر بہت زرخیز دماغوں نے تزویراتی گہرائی کی پالیسی بنائی تھی۔ ہمیں جو گہرائی نصیب ہوئی اس کا تو پتہ نہیں۔ افغان طالبان پاکستان میں بہت اندر گہرائی تک جوانیاں مان رہے ہیں، کھلے پھر رہےہیں۔ ان کے پہلے امیر بھی یہیں فوت ہوئے۔ دوسرے بھی یہیں کھیت رہے۔
طالبان کے پیار میں ساری دنیا کو ناراض کرنے کے بعد ہم انہیں بھی اپنا بنانے میں مکمل ناکام ہی ہیں۔ وہ ہماری کوئی بات نہیں سنتے۔ اپنے دوسرے امیر کے پاکستان میں ڈرون دئیے جانے کے بعد وہ ہم سے ذہنی طور پر اب فاصلے پر چلے گئے ہیں۔
ہماری منتخب قیادت کا شدت پسندی سے متعلق تمام امور پر ریاست کے سب سے مضبوط ادارے کے ساتھ سنگین ذہنی اختلاف ہے۔ مسائل کو حل کرنے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے۔ اس اختلاف کے ساتھ ہم کامیابیوں کی کتنی امید رکھ سکتے ہیں۔ یہ اختلاف نہ تو وزیر اعظم بدلنے سے حل ہونا ہے نہ ہی آرمی چیف کے تبدیل ہونے سے۔ یہ تب حل ہو گا جب یہ طے ہو جائے کہ فیصلے کرنے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ کس کا کردار مشاورت اور عملدرآمد کرنے تک محدود ہے۔
کوئٹہ دھماکے کے بعد اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ بھارتی ایجنسی را کو ملزم وزیر اعلی بلوچستان نے ٹھہرایا ہے۔ الزام درست ہے جناب، مان لیا ۔
ہمیں اب ایک سچ کا سامنا بھی کرنا ہے۔ ہم بھارت اور افغانستان کے ساتھ دوستی چاہتے رہے ہیں یا دشمنی نبھا رہے ہیں۔ جب کابل میں خود کش دھماکہ ہوتا ہے تو کابل اس کا الزام پاکستان کے دوست اچھے طالبان پر دھرتا ہے۔ جب پٹھان کوٹ یا ممبئی کے واقعات ہوتے ہیں تو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے۔ اگر ہماری دشمنی چل رہی ہے تو دشمن ہمیں پھول تھوڑی بھیجے گا۔ اس دشمنی کی جڑیں گہری ہیں۔ بھارت کے ساتھ کشمیر افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کا مسلہ حل کریں گے تو ہی امن سے جی سکیں گے۔ یاد رہے کہ افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن عالمی قوانین اور معاہدوں کی رو سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن افغانوں کے لئے یہ ایک حساس معاملہ ہے۔
یہ سب تو سرکار اور ریاست کے امور ہیں۔ ہمارے بڑوں کے اختلافات ہیں۔ ہمسایوں سے لڑائی کی باتیں ہیں۔ آئیں اپنی بات کرتے ہیں۔ ہم خود کیسے ہیں۔ ہمارا کیا حال ہے۔ جینو سائیڈ واچ ایک ادارہ ہے جس نے نسل کشی کے مرحلے Stages بیان کئے ہیں۔ آٹھ سٹیجز ہیں کسی بیمار معاشرے کا پتہ بتاتی ہیں، جہاں نوبت نسل کشی تک پہنچ سکتی ہے۔
لوگ ہم اور وہ میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ جنہیں نفرت کی علامت بنایا جائے ان کے حامی بھی ان سے ہمدردی نہیں کر پاتے۔ اکثریتی گروہ قانون، رواج اور سیاسی طاقت کے ذریعے کمزور اوراقلیتی گروہوں کو دبابا شروع کر دیتے ہیں۔ نسل کشی کے لئے مسلح تنظیمیں وجود میں آتی ہیں۔ نفرت کا کھلم کھلا پرچار شروع ہو جاتا ہے۔ مارے جانے والوں کی شناخت ان کے رنگ و نسل اور فرقے سے کی جاتی ہے۔ مارنے والے مرنے والوں کو انسان سمجھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ آخری سٹیج یہ ہے کہ متشدد گروہ اس سے انکار کرنے لگتے ہیں کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہے۔
ہمارا سارا معاشرہ بیمار نہیں ہے۔ لیکن اس کے ایک حصے میں بیماری کی ساری علامتیں ضرور موجود ہیں۔ یہ سب سٹیج پڑھ لیں۔ جان لیں کہ ہم کہاں پہنچ چکے ہیں اور ہمارا کن لوگوں سے واسطہ ہے۔ نسل کشی کے جو مرحلے بتائے گئے ہیں، ایسی سوچ رکھنے والے کئی گروہ ہمیں اپنے معاشرے میں عام دکھائی دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کوئی لڑائی اس سوچ کو ہرائے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ ہمیں اب ان سب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔
ہمیں بس اب اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اپنا ملک ہے، اپنی فوج ہے اور اپنے سیاستدان ہیں۔ ہمیں تو صرف درست سائیڈ پر کھڑے ہونا ہے۔ اس پر یکسو ہونا ہے کہ ہمارے فیصلے وہ کریں جو ہمیں جوابدہ ہیں۔ فیصلوں کی جواب دہی ہو گی تو درست فیصلوں کی ضمانت بھی دی جا سکے گی۔
(بشکریہ ہم سب ، لاہور)