یوم آزادی: جشن مناؤں یا نوحہ سناؤں
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- بدھ 10 / اگست / 2016
- 5710
گھر کی بالائی منزل پر میرا کمرہ ہے۔ گھڑی رات کے 2بجا رہی تھی میرے ملک کے تین تہائی سے زائد عوام نیند کے مزے لوٹ رہے تھے ، موسم اس پہر بھی دلکش تھا میں اپنے کمرے میں تاریخ کی کتابیں کھنگال رہا تھا۔ مجھے تلاش تھی کسی بھی ایسے سال، مہینے ، دن کی ، جو عوام کےلئے خوشیاں لایا ہو۔ ہم اس سال اپنا 70واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس بار بھی 14اگست کو جشن منایا جائے یا نوحہ سنایا جائے۔
بس ۔۔۔ اس پریشانی سے نکلنے کےلئے میں تاریخ کی کتاب کے اوراق ایک ایک کرکے دہرا تا رہا ۔ ہر صفحہ پلٹنے سے پہلے نئی امید کو دل میں جگہ دیتا کہ شاید اس صفحے پر ہی کسی ایسے لیڈر کا نام مل جائے جو واقعی ہی پاکستان اور پاکستانیوں کےلئے سوچتا تھا۔ اس کےلئے میں نے ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کو پڑھنا شروع کیا جو واقعی قوم کےلئے سوچتے تھے اور ملک کو آگے لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن سازشوں کا شکار ہوکر خون پینے والے درندوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ہم آج تک ان کے قاتلوں کو نہیں ڈھونڈ سکے ۔
پھر میں نے خواجہ ناظم الدین کے دور اقتدار سے لے کر محمد علی بوگرہ ، چودھری محمد علی ، حسین شہید سہروردی ، ابراہیم اسمعیل چند ریگر ، ملک فیروز خان نون، نور الامین ، ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو، غلام مرتضی جتوئی ، میاں نوازشریف ، میر بلح شیر مزاری ، معین احمد قریشی ، ملک معراج خالد ، میر ظفر اللہ جمالی ، چودھری شجاعت حسین، شوکت عزیز، میاں محمد سومرو ، یوسف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف ، میر ہزار خان کھوسہ سے موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف تک ایک ایک لفظ کو رات کی اس تنہائی میں پوری توجہ سے پڑھا ۔
تاریخ کا ہر اگلا صفحہ مجھے پچھلے صفحہ سے زیادہ پریشان کرتا رہا ۔ ان تمام وزرائے اعظم کے ادوار کے صفحات میں جنرل سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ ، جنرل ضیاء کے مارشل لاؤں سمیت مشرف کی ایمرجنسی کے سیاہ اوراق بھی شامل تھے۔ معاف کیجئے! ان سیاہ اوراق میں 65ء ، 71ء کی جنگیں ، اے آرڈی کی تحریک، سقوط ڈھاکہ ، بھٹو کی پھانسی ، سانحہ کارگل اور اٹیمی دھماکے بھی شامل تھے۔ ان واقعات کا ذکر کرنا یقیناََ اس قوم سے بھی زیادتی ہوگی۔ فیض نے ٹھیک ہی کہا تھا:
کوئے ستم کی خامشی آباد کچھ تو ہو
کچھ تو کہو ستم کشو ، فریاد کچھ تو ہو
بیداد گر سے شکوہ بیداد کچھ تو ہو
بولو، کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو
مجھے جو اپنی محدود عقل کے مطابق ان صفحات سے جو درس ملا یا میں ان سے جو اخذ کر پایا وہ یہ تھا کہ غداریوں اور ذاتی مفادات کے جراثیم ہر دور میں مسلمانوں میں وافر مقدار میں موجود رہے ہیں ۔ 1957میں بھی اسمبلی اجلاسوں میں کرسیاں ، جوتیاں چلتیں اور گالیاں دی جاتی تھیں۔ آج صرف یہ تبدیلی آئی ہے کہ آج کرسیاں ، جوتیاں نہیں چلتیں ، القاب نے ان کے جگہ لے لی ہے ۔ اب پارلیمنٹ میں ’’میسنا‘‘ ’’آنٹی‘‘ اور ’’ٹریکٹر ٹرالی‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ گالیوں کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔ لہٰذا جس نے بھڑاس نکالنی وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے۔ پاکستانی حکومت پہلے دن سے اب تک پتلی تماشے کا کھیل بنی ہوئی ہے۔
قوم ہے کہ ہر دور میں نعرے لگاتی رہی پھول آیا، تلوار آئی ، کتاب آئی ، بائیسکل آئی ، تیر آیا ، شیر آیا ، نہیں آیا تو ہم بد قسمت قوم کو شعور نہیں آیا۔ ہر دور اقتدار میں خود کو عوامی نمائندے کہنے والوں کے ذاتی مفادات کے لئے راتوں رات وزارتیں ٹوٹتی اور بنتی رہی ہیں، جس کی مشق آج تک جاری ہے۔ رعایا کے مسائل سے نہ کل کسی کو سروکار تھا نہ آج ہے۔ سانحہ پشاور ہو، کوئٹہ ہو ، لاہور ، حیدر آباد، کراچی ، اسلام آباد ہو ہم اسی طرح بارودی مواد کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ سیکھنا ہے تو ترکوں سے سیکھ لو جنہوں نے بتا دیا کہ مقدر بدلنا ہو تو فیصلے بھی خود ہی کرنا پڑتے ہیں۔ کیا حکمرانوں کی طفل تسلیاں، مذمتی بیان اور امداد کے نام پر چند روپے ہی ہمارا مقدر رہیں گے۔
ایسے میں آپ ہی مجھے بتا دیں کہ 70ویں یوم آزادی پر جشن مناؤں یا نوحہ سناؤں ۔۔۔