کوئٹہ سانحہ: گناہ گار کون
- تحریر منور علی شاہد
- جمعرات 11 / اگست / 2016
- 6833
کوئٹہ ایک بار پھر لہو لہان ہے۔ اس بار دشمن نے پوری منصوبہ بندی کےساتھ خون کی کامیاب ہولی کھیلی ہے۔ پہلے وکلاء برادری کے ایک سرکردہ راہنما کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اورجب اس کی نعش ہسپتال میں پہنچائی گئی اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد ہسپتال پہنچی تو وہاں خود کش حملہ کردیا گیا۔ گویا دشمن مسلسل تعاقب میں تھا اور اپنے ٹارگٹ کے مطابق کاروائی کرنے میں کامیاب ہوا۔
ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملہ کی بیک وقت اس کاروائی نے اس بار جو تباہی مچائی، اس سے پورے پاکستان کی فضا سوگوار ہے۔ کوئٹہ کو نجانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ وہاں امن قائم ہونے کی بجائے انسانی خون کی ندیاں بہنے لگیں ہیں۔ وقفے وقفے سے وہاں منظم کاروائیاں ہو رہی ہیں۔ دشمن کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ کاری ضرب لگاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سال رواں میں اب تک دہشت گردی کے منظم 120 واقعات میں 365 افراشہید ہو چکے ہیں ان میں باچا خاں یونیوسٹی اور لاہور کے گلشن اقبال پارک کے واقعات بھی شامل ہیں۔ لاہور میں مسیحی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دہشت گردی کی آگ میں پاکستان کے شہر جل رہے ہیں اور لوگ مر رہے ہیں ۔
المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے غریب عوام کے ووٹوں سے بر سراقتدار آنے والے ابھی تک یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ حملے عوام پر ہو رہے ہیں۔ کبھی یہ حملے ملکی سالمیت پر ہوتے ہیں اور کبھی اسلام پر اور اب یہ سننے میں آیا ہے کہ یہ حملہ پاک چین اقتصادی راہداری پر کیا گیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو نہ تو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر دھماکے کا الزام کسی نہ کسی پر لگا کر اپنی آئینی اور قومی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ کسی سکول پر حملہ ہو جائے تو بھی بیرونی سازش، کوئی یونیورسٹی خون میں نہا جائے تو بھی بیرونی ہاتھ ملوث بتایا جاتا ہے۔ اور اقلیتیوں کی عبادت گاہ یا کسی چرچ پر حملہ ہو تو وہ بیرونی ایجنسی کی کاروائی قرار دے دی جاتی ہے۔ تو جناب بتایا جائے کہ پھر حکومت کہاں اور حکومتی رٹ کہاں ہے اور گھر کے اندر آکر تباہی بربادی کرنے والے کہاں غائب ہو جاتے ہیں۔ ان کو زمیں نگل جاتی ہے یا آسماں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ میں را کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کروں گا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ عوام کی ضرورت ہے یا ان کا مطالبہ کہ ان کو ثبوت مہیا کئے جائیں۔ خدا کے بندو اگرسب کچھ تمہارے علم میں ہے توپھر ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے، کیوں ان کو گلے سے نہیں دبوچتے اور کیوں ان کو کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ اصل بات یہی لگتی ہے کہ ان خود کش حملوں کو عوام پر حملے تصور ہی نہیں کیا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر پہلے حملے کے بعد دوسرا حملہ نہ ہوتا۔ کیونکہ حکمرانوں کو کامل یقین ہے کہ لوگ ہمارے انتخابی جلسوں پر کرسیاں، دریاں بچھانے اور کامیابی پر بھنگڑے ڈالنے والے ہیں اور ان کی اتنی ہی اوقات ہے۔ سیاست دان کہتے ہیں کہ دشمن کے ہر حملہ کے بعد قوم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہی ہے اگر واقعی ایسا ہے تو پھر تسلیم کر لیا جائے کہ وہ دشمن تو نہ ہوئے نا۔ کیونکہ دشمن تو مخالفین کو کمزور کرتا ہے ۔
حسب سابق حکومتی اعلیٰ شخصیات نے بھارتی ایجنسی پر الزام عائد کیا ہے جبکہ دوسری طرف قومی اسمبلی میں ملکی آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا ہے وہ ناقابل یقین ہے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے بیان کے مطابق مولانا محمد خان شیرانی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کوئی را یا موساد ملوث نہیں ، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا میں اپنی فورسز ملوث ہیں۔ ہمارے ادارے مختلف فرقوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور اپنے ہی ادارے لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔ یہ مسلح تنظیمیں کس نے بنائی ہیں۔۔ ریاستی اداروں پر قومی اسمبلی کے اندر ایک ممبر قومی اسمبلی کی طرف سے اس طرح کا الزام آئین اور اپنے حلف سے کھلم کھلا انحراف کے مترادف ہے۔ جس جماعت سے مولانا کا تعلق ہے اسی جماعت کے سربراہ نے بھی را کی طرف داری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد الزام را پر آ جاتا ہے اور اس کے بعد بات ختم ہو جاتی ہے۔
ان دونوں ممبران قومی اسمبلی کا تعلق جے یو آئی فضل الراحمن گروپ سے ہے ۔ کسی نے ان بیانات کا نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی اسپیکر صاحب صاحب نے پوچھا کہ مولانا یہ آپ کیا اور کس ثبوت کی بنا پر کہہ رہے ہیں۔ اور ہی کسی اور جماعت کے رکن نے اعتراض کیا۔ کیا اس سے بڑی ملک دشمنی اور کوئی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں جب یہی جماعت اس وقت کے صوبہ سرحد میں برسر اقتدار تھی تو پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ ایک اوراہم قومی راہنما اور ممبر قومی اسمبلی شیخ رشید نے محمود اچکزئی پر الزام لگایا کہ وہ را کے ایجنٹ ہیں اور نواز شریف کے خاص دوست ہیں۔
گزشتہ سال ہی پاکستان کی قومی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوتی رہی ہیں کہ ایک شوگر ملز سے را کے ایجنٹ پکڑے گئے ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ کیا واقعی دشمن اس حد تک ملکی سیاست میں داخل ہو چکا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اندر قومی اداروں پر الزام لگاتا پھرے اور آئینی اداروں پر قبضہ کر لے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادارے اور حکومتی رٹ کہاں ہے ۔ مولانا کا الزام اور بیان پھینکنے والا نہیں ہے۔ اس کی مکمل چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر مولانا نے اندر کے دشمن کا خود اپنی طرف اشارہ کیا ہے تو پھر ان کے خلاف اب تک کاروائی کیوں نہیں کی گئی۔ آخر یہ دیدہ دلیری دکھانے کا کیا مقصد ہے ۔
قوم تین دہائیوں سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اندر کی صفائی کریں۔ لیکن کوئی دھیان ہی نہیں دیتا۔ منظم اور کامیاب کاروائیاں سہولت کار کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتیں ۔ کیا ماضی کے ہر سانحہ کی طرح اس سانحہ کا غم و دکھ بھی اسی وقت تک باقی رہے گا جب تک کوئی نیا سانحہ قبرستانوں میں نئی قبریں کو نہ بھر دے۔ اور انہیں گلاب کے پھولوں سے نہ سجا دیا جائے۔ زندگی بھر کا ماتم تو ان کے لئے ہے جن کے گھروں سے پیاروں کے جنازے اٹھے ہیں۔