جمہوریت کی طوطا مینا
جب بھی اس مملکت خداداد میں خون کی نئی ہولی کھیلی جاتی ہے، یہاں جمہوریت کے نام سے اقتدار پر قابض خرگوش دماغ حکمران وہی گھسا پٹا بیان داغ دیتے ہیں کہ ’’ یہاں کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘ گویا امن کے دشمن حکومت کی اجازت کے تابع ہیں۔
حیرت ہے !
بجائے اس کے کہ لوگوں کی جان و مال، عزت آبرو کی حفاظت کا حلف اٹھا کر اقتدار کے مزے لوٹنے والے اپنی پے در پے ناکامیوں پر عوام سے گڑ گرا کر معافی کے طلبگار ہوں، یہ تیس مار خاں سینے پھلا پھلا کر جیتے جاگتے لوگوں کی دھجیاں بکھیر دینے والوں کو ایسا کرنے سے پہلے اجازت حاصل کرنے کا پابند بنانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
تو آئیے سیدھی اور دو ٹوک بات کریں۔
ہم تسلیم کرتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ عہد حاضر میں جمہوریت ہی سب سے بہتر نظام حکومت ہے۔ لیکن ہر نظام کی طرح اس کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں جن کی تکمیل کے بغیر یہ نظام کبھی چل نہیں سکتا۔
اس کا سب سے اہم تقاضہ تو سوجھ بوجھ رکھنے والے ایسے افراد کی دستیابی ہے جو نہ صرف کوئی سیاسی وژن رکھتے ہوں بلکہ اس سے مخلص بھی ہوں۔ جن کی آنکھوں میں ایسے خواب سجے ہوں جن میں وہ اپنی قوم، اپنے ملک کو اقوام عالم میں ایک باعزت اور معتبر مقام پر دیکھنا چاہتے ہوں۔ جن کے سامنے کوئی مقصد ہو۔ جو اپنے جانے کے بعد آنے والی نسلوں کو آسانیاں دے کر جانا چاہتے ہوں۔ جو چاہتے ہوں کہ تاریخ میں ان کا ذکر اچھے الفاظ میں کیا جائے گا۔ اور ایسا ہی اور بہت کچھ۔
ایسے لیڈر دعائے قنوت سنانے کا ٹیسٹ پاس کر کے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ لے کر نہیں آتے۔
دیکھئے کتنا بڑا دھوکہ ہے اور وہ بھی عقیدے کے نام پر۔ اسلام کا جب ایسا نمائیشی غلغلہ ہو گا تو پھر دیانت کا معیار بھی یہی ہو گا۔
یوں لگتا ہے جیسے پورا ملک جنگ میں ہاتھ لگنے والا مال غنیمت بن چکا ہے جسے وقت کے غزنوی، غوری، حجاجی، لودھی ۔۔۔ بس لوٹے چلے جاتے ہیں۔
اور جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو وہ ان فاتحین کے بے وقعت لونڈی، غلام۔
اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے۔ آپ کیا دیکھتے ہیں!
ستر سال بیت گئے۔ غربت ، افلاس، بیروزگاری، نامیدی اور اب نادرشاہی قتل عام سے ایڑیاں رگڑتی قوم مسلسل ایسے چارہ گروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اقتدار میں لاتی رہی ہے جو دوا کے نام پر اسے زہر پلاتے رہے ہیں۔ اور نجانے کب تک پلاتے رہیں گے۔
تو بھائی ! پھر ان کی جمہوریت تو ایسی ہی ہو گی۔
اور جمہوریت ہے کیا۔ یہی نا کہ ملکی وسائل اور آمدن کو حتی المقدور عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ امانت کا یہ بار ان نمائندوں کو سونپا جاتا ہے جن کے پارٹی پروگرام کو عوام کی اکثریت اپنے لئے بہتر سمجھتی ہے۔ جنہیں اکثریت حاصل نہیں ہوتی وہ حکومت کے کاموں پر نظر رکھتے ہوئے اسے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کا پابند بنائے رکھتے ہیں۔
جن ملکوں میں جمہوریت کامیابی سے چل رہی ہے ، کم از کم وہاں تو یہی ہوتا ہے۔
ہم سادہ اور کم علم لوگ ہیں۔ جمہوریت کی جن سائنسی اور فلسفیانہ توجیحات سے آپ دفتر پہ دفتر سیاہ کیے دیتے ہیں ، یہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ براہ کرم ہمیں تو یہ بتائیے کہ کل ہمارے بچے سکول سے گھر لوٹیں گے یا نہیں۔ شہروں بازاروں میں روزمرہ معمولات انجام دینے والے معصوم شہری کل تک آپ کے کھوکھلے بیانات سننے کے لئے زندہ بھی ہوں گے یا ان وحشیوں کے ہاتھوں بے موت مارے جا چکے ہوں گے جنہیں آپ ایسے کسی اقدام سے قبل سرکار سے اجازت نامہ حاصل کرنے کا پابند بنانا چاہتے ہیں۔
ہماری نظر میں تو عوام کے لئے نظام کی بحث اب لایعنی ہو چکی۔ جب سانس لینے کی مہلت ملے گی اس پر بھی غور ہو جائے گا۔
اولیں مسئلہ تو اب بقا کا ہے۔ اپنی اور اس ملک کی بقا۔
تو پھر اس کی ضمانت کون دے گا۔ کون یہ بار اٹھائے گا!
وہ اٹھائیں گے ، جو دوسروں کی جنگیں لڑنے کے لئے آستینوں میں سانپ پالتے رہے ہیں۔
یاوہ سانپ ، جو ان آستینوں سے نکل کر اب لوگوں کی گردنوں سے لپٹ گئے ہیں۔
یا پھرغیر ملکی وظیفوں پر پلنے والے مولاناؤں کی فوج ظفر موج جن کا مقصد حیات صرف اور صرف فی سبیل اللہ فساد ہی ٹھہرا۔ جو ابھی تک دوربینوں سے چاند دیکھنے پر بضد ہیں۔ عورتوں کو زدوکوب کرنے کی سفارشات پر ملکی خزانے سے کروڑوں روپیہ اڑا دیتے ہیں۔ معاف کیجئے گا یہی ان کے علم ودانش کی معراج ہے۔ زیادہ کی توقع عبث ہو گی۔ یہ اس ملک کو کیا سنبھالیں گے۔ ان سے تو اسلام نہیں سنبھل سکا جسے یہ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی لاکھو ں مساجد میں منتشر کر چکے ہیں۔
یا پھر ہر طرح کی کامن سینس اور عصری تقاضوں سے نابلد مداری جویہاں عرف عام میں سیاستدان کہلاتے ہیں۔
کیایہ اس ملک کو سنبھالیں گے!
پروٹوکول کے مارے ان نا اہلوں سے تو انگریز کی دی ہوئی ریلوے نہیں سنبھل سکی۔ تعلم، بیوروکریسی، جوڈیشری، نہیں سنبھل سکی۔ ہر وہ ادارہ جو برا بھلا کام کر رہا تھا ، ان کا ہاتھ لگتے ہی برباد ہو گیا۔
تو مان لیجئے کہ ان سے جمہوریت بھی نہیں سنبھل سکے گی۔
کامیابی قیادت سے مشروط ہوتی ہے۔ تانگہ چلانے والے کو اگر جہاز کے کاک پٹ میں بٹھا دیں تو پھر جہاز اللہ کے سہارے پر ہی اڑے گا، بشرطیکہ پہلے وہ زمین سے بلند ہو جائے۔ اور یہ جہاز پچھلے ستر سال میں کتنا بلند ہوا ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔ دیہاڑی البتہ ان ٹانگہ پائلٹوں کی خوب بنتی رہی ہے۔ اور وہ بھی ایسی کہ قارون بھی شرما جائے۔
تو عزیز ہم وطنو !
خاطر جمع رکھو۔ جمہوریت کا جہاز یونہی رن وے پر ہی کھڑا رہے گا۔ یا پھر ہوا میں اٹھ کر بار بار کریش ہوتا رہے گا۔
آپ چاہیں تو اس میں پرواز کریں۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔