بے سرو سامانی ایسی بھی تھی
- تحریر
- جمعہ 12 / اگست / 2016
- 5990
“ کامیاب کاروباری لوگوں کے پروفائل پھر کبھی لکھ لیں، یہ تو یہیں موجود ہیں۔ آپ ان بھولے بسرے لوگوں پر لکھیں جنہوں نے صنعتی ترقی سے تقریباٌ تہی دامن ایک نئے ملک میں صنعتوں کی داغ بیل ڈالی۔ ہم اپنی تاریخ کی بہت سی باتوں کی طرح ان محسنوں کو بھول چکے ہیں جن کی ہمت اور محنت کے سبب آج پاکستان میں ایک اچھا خاصا صنعتی ڈھانچہ کھڑا ہے۔“ چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے پاکستان کے مایہ ناز صنعت کار اور علم پرور شخصیت سید بابر علی نے ہمیں مشورہ دیا۔
ہم نے ہمت کرکے اپنے ارادے پر اصرار کیا تو کہنے لگے ، میرا مشورہ تو یہی ہے کہ ان عظیم لوگوں کو اور اس دور کی مشکلات کو قلمبند کریں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ آزادی کے وقت اس نئے ملک کا صنعتی اور تجارتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر تھاْ ۔ یہ ایک عجیب دور تھا، بے سروسامانی ایسی کہ وحشت طاری ہو جائے لیکن اسی عالم میں دھیرے دھیرے حکومت ، اس کے کئی باہمت بیورو کریٹس اور کاروباری لوگوں نے اس ملک میں صنعتی دور کا آغاز کیا۔ یہ کہانی سننے اور سنائے جانے کے قابل ہے۔ زیادہ تر لوگ ان ہستیوں کو بھول چکے ہیں جنہیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ اس سال مارچ کی ایک روشن صبح تھی۔ چند روز قبل ہی لاہور لٹریری فیسٹیول میں سید بابر علی نے اپنی تازہ تازہ شائع شدہ آپ بیتی Learning from others یعنی “ استفادہ زمانے سے “ پر ایک سیشن میں تفصیلی گفتگو کی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ نوجوان لڑکوں لڑکیوں سمیت ہر عمر کے لوگوں سے ہال کھچا کھچ بھر ہوا تھا۔ پینتالیس منٹ تک سب ہمہ تن گوش انہیں سنتے رہے۔ مکمل سکوت میں ان کی نرم گفتار کا سحر سب کو مسخر کیے ہوئے تھا۔ گفتگو کا اختتامیہ پاکستان کی محبت اور شکریے سے مامور تھا جس نے انہیں وہ مواقع عطا کیے کہ آج عمر کی اس دہلیز پر انہیں اپنی زندگی بامعنی اور بھرپور لگی۔ ان کی اپنی آپ بیتی میں ایک طرح سے پاکستان کی صنعتی اور تجارتی جگ بیتی کا ہی عکس تھا۔ مسائل کے انبار، وسائل کا فقدان لیکن نئی مملکت میں مواقع کا ایک پوشیدہ جہان۔ سیاسی جوار بھاٹے میں پالیسیوں میں عدم تسلسل لیکن اس کے باوجود آگے بڑھنے کی لگن۔ اسی محفل میں ان سے وقت طے کر کے ان کے ہاں پہنچا تھا کہ ان جیسے نامور اور با ہمت کاروباری افراد کے پروفائل پر مبنی کتاب لکھنے کا ارادہ ہے۔ اس کتاب کے لیے سب سے پہلا پر وفائل ان کا سوچ رکھا تھا۔ لیکن ہمیں حیرت ہوئی جب انہوں نے اپنے بارے میں بات کرنے کی بجائے اور ہی مشورہ دے ڈالا۔
وقتی خفت کے بعد اپنی سوچی ہوئی بات کے برعکس ان کے مشورے پرغور کیا تو محسوس ہوا کہ ان لوگوں میں ہم بھی شامل ہیں جن کا ذکر سید بابر علی نے کیا تھا، جنہیں آزادی کے فوری بعد کے دنوں کی بے سروسامانی کی تفصیلات یاد نہیں۔ بعد میں کچھ تحقیق کی تو علم ہوا کہ آزادی کے وقت متحدہ ہندوستان میں موجود 921 صنعتی یونٹس میں سے پاکستان کے حصے میں صرف 34 آئے۔ یہ صنعتی ادارے نہایت بنیادی نوعیت کے تھے مثلاٌ کاٹن ٹیکسٹائیلز، سگریٹ، چینی، چاول چھڑائی، کاٹن جننگ، فلور ملز، اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ تھی وہ صنعتی بنیاد جس کے ساتھ ایک نیا ملک چودہ اگست 1947 کو وجود میں آیا۔ تجارت کا یہ عالم کہ مشرقی سے مغربی پاکستان کے درمیان تجارت کا حجم فقط دو کروڑ روپے تھا۔ مغربی سے مشرقی پاکستان تجارت کا حجم چودہ کروڑ روپے تھا۔ دونوں حصوں کے درمیان کل تجارت کا حجم فقط سولہ کروڑ روپے تھا۔
دنیا سے تجارت کا نقشہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہ تھا۔ 8۔1947 میں برآمدات کا حجم چوالیس کروڑ اور درآمدات کا سائز بتیس کروڑ روپے تھا، یوں بارہ کروڑ روپے کا فاضل تجارتی بیلنس تھا۔ 9۔1948 میں برآمدات کا حجم بڑھ کر چون کروڑ جبکہ نوزائیدہ ملک کی قسم ہا قسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات 117 کروڑ روپے تک بڑھ گئیں۔ یوں آزادی کے دوسرے سال تجارتی خسارہ تریسٹھ کروڑ تک جا پہنچا۔ ایک نئے ملک کے لیے یہ صورت حال اچھا شگون نہ تھی۔ حکومت نے درآمدات کا بوجھ کم کرنے کے لیے درآمدت کی متبادل اشیاء کی پیداوار بڑھانے پر توجہ کا فیصلہ کیا۔ صنعتوں کے قیام کے لیے سرمایہ فراہم کرنے لیے 1948 میں دو سرمایہ کاری ادارے قائم کیے گئے۔ PIFC اور PICIC ۔ بعد ازاں 1950 میں پاکستان انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی۔ مشہور بیوروکریٹ این ایم عقیلی اس کے بانی چیرمین مقرر ہوئے۔
بنیادی مقصد دو تھے۔ اول : ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے جن کی ملک کو اشد ضرورت ہے لیکن سرمایہ کار یا تو موجود نہیں یا ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ دوم: ان علاقوں میں بھی صنعتیں لگائی جائیں جو پسماندہ ہیں تاکہ وہاں ملازمتیں پیدا ہوں ، کاروبار کو فروغ ملے اور یوں علاقائی تفاوت کم کیا جاسکے۔ طریقہ کار یہ طے ہوا کہ PIDC صنعتیں لگائے، انہیں کچھ عرصہ کامیابی سے چلا کر نجی شعبے کے حوالے کر دے اور پھر سے نئی صنعتیں لگائے۔ نیا نیا ملک، سرکاری اور نجی افراد جذبے سے معمور، لگن میں سرشار۔ اس کے باوجود کہ ابتدائی گیارہ سالوں میں آٹھ وزیر اعظم تبدیل ہوئے، دیکھتے دیکھتے پاکستان کے ابتدائی دس سالوں میں یعنی 1952 سے 62 تک PIDC نے مغربی پاکستان میں چھیالیس اور مشرقی پاکستان میں اکیس صنعتی ادارے قائم کیے۔ اس سے اگلے بارہ سالوں میں یعنی 1962 سے74 کے دوران صرف مغربی پاکستان میں پی آئی ڈی سی نے پچیس صنعتی ادارے قائم کیے۔ اسی دوران پرائیویٹ سیکٹر نے ساٹھ کے عشرے میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتے ہی صنعتوں کا جال پھیلا دیا۔
ستر کی دہائی میں کئی شعبوں کی صنعتوں کو قومیانے کے فیصلے نے نجی سرمایہ کاروں کی نہ صرف کمر توڑ دی بلکہ سیاسی بیانیے اور انتظامی و پالیسی اقدامات کی حد تک انہیں سفاک اور حرص سے بھرپور کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو اپنی جان کے لالے بھی پڑے اور اپنے کاروبارکے بھی۔ سرمائے کی افزودگی کا عمل رک سا گیا۔ اسّی کی دہائی میں سیاسی بے یقینی اور نئے سیاسی تجربات کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔ صنعتوں کے لیے بھی کئی اقدامات ہوئے لیکن ساٹھ کے عشرے کا سا زور شور پھر پیدا نہ ہو سکا۔ نوّے کی دہائی میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ نے پالیسی تسلسل بار بار درہم برہم کیا۔ اس پر مستزاد پریسلر ترمیم نے معاشی حالات کو کئی سال دباؤ میں رکھا۔ ایٹمی دھماکوں نے حالات مزید مشکل بنا دیے۔ سن دو ہزار کے بعد والے عشرے میں درمیان کے چار سال بہتر نمو کے تھے لیکن پھر 2013 تک کے آٹھ سال جی ڈی پی کی سالانہ شرح تین ساڑھے تین فی صد تک رہی۔ نوّے اور دو ہزار کی دہائی میں چین اور بھارت نے دوہرے ہندسے میں معاشی ترقی کی لیکن ہم دوسرے مسائل میں ایسے الجھے کہ کئی یاد کیے ہوئے سبق بھول بیٹھے۔
آزادی کے ابتدائی سالوں میں علاقائی تفاوت دور کرنے پر زور تھا جو نوّے کی دہائی میں متروک ہو گیا۔ پاکستان کے چاروں صو بوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کافی مقامی وسائل ہیں لیکن معاشی اور صنعتی امکانات چند شہروں میں محدود ہونے سے ان علاقوں کا ٹیلنٹ بھی ہجرت پر مجبور ہے۔ آج آزادی کے انہتر سال بعد صنعتی اور تجارتی ترقی میں علاقائی توازن مفقود ہو چکا ہے۔ عدم مساوات میں دو قدم آگے اٹھانے کے بعد ہم چار قدم پیچھے اٹھا چکے ہیں۔
آج کی نسل کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ ان حالات میں کیسے آگے بڑھا جائے؟ اپنی آپ بیتی میں سید بابرعلی اپنے عمر بھر کے تجربات کا نچوڑ یوں پیش کرتے ہیں: “زندگی میں کوئی بھی اعلیٰ معیار حتمی نہیں ہوتا۔ زندگی ایک مسلسل اور جاری و ساری چیلنج ہے۔ آپ کو ہمیشہ اپنے آپ کو چیلنج کرتے رہنا اور بہتری پر کمر بستہ رہنا چاہیے۔ اپنے آپ میں اتنی ہمت پیدا کریں کہ مسلسل اپنے آپ کو مزید بہتری کے لیے چیلنج کریں، خود کو سمجھائیں کہ نہیں، جو حاصل کیا یہ اتنا بھی اطمینان بخش نہیں کہ میں آرام سے بیٹھ جاؤں۔ مجھے ابھی اور بھی بہتر کرنا ہے۔“
یوم آزادی کا استقبال کرتے ہوئے یہی سپرٹ ہمیں بھی درکار ہے جس پر پاکستان بننے کے بعد ہمارے کئی قابلِ فخر زعما ایک بے سروسامان ملک میں تجارتی اور صنعتی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لیے عمل پیرا رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم آزادی مبارک۔