تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کاکردار
- تحریر علامہ ابو طیب رفاقت علی حقانی
- جمعہ 12 / اگست / 2016
- 14819
تحریک پاکستان کے آخری سالوں میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے تحریک میں نئی روح پھونکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کمرے کی سیاست سے نکل کر یہ تحریک پورے پاک و ہندکے مسلم عوام کی سیاست ملی کا مرکز و محور بن گئی۔ سواد اعظم کی دینی رہنمائی کرنے والے علماء ومشائخ اعظم مسلم لیگ کے نقیب اور تحریک پاکستان کے سرگرم مبلغ بن گئے ۔
تحریک پاکستان اور مسلم قومیت کے نظریے کی حمایت و اشاعت کے سلسلے میں علماء ومشائخ کا کر دار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک اس موضوع پر مربوط اور جامع کام نہیں کیا جا سکا۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ؒ کے خلیفہ مولانا سلیمان اشرف بہاریؒ میرداد ضلع پھٹنہ کے رہنے والے تھے جو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ دینیات کے پروفیسر تھے۔ وہ رضائے مصطفی کے ممبر تھے ۔ یہ تحریک احمد رضا خان ؒ نے نیشلسٹ علماء کے مقابلے کے لیے تیار کررکھی تھی۔ مولانا سلیمان اشرف کے علاوہ مولانا شاہ حامد رضا خانؒ ، مولانا امجد علیؒ اور علامہ نعیم الدین مراد آبادیؒ اس جماعت کے ارکان تھے۔
مولانا سلیمان اشرف ؒ نے اپنے ملی و سیاسی افکار میں اعلی حضرت ؒ سے ذہنی رہنمائی حاصل کی اور ان کی تالیفات سے استفادہ حاصل کیا تھا۔ مذکورہ دور میں جس طرح بریلی سے مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے کلمہ حق بلند ہورہا تھااسی طرح شمال مغربی ہند(موجودہ مغربی پاکستان و کشمیر وغیرہ)میں قطب العارفین حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ قدس سرہ اور امیر ملت حضرت محدث علی پوریؒ ملت اسلامیہ کو دشمنوں کی سازشوں سے آگاہ کر رہے تھے ۔ پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مولاناعبد الباری فرنگی کے ا ستفسارکے جواب میں ہندو مسلم اتحاد اور کانگریس میں مسلمانوں کی شمولیت کو ممنوع قرار دیا تھا۔ پیر صاحب گولڑویؒ کے ایک سوانح نگا ر لکھتے ہیں جب اہل ہند نے ہندو مسلم اتحاد کانعرہ بلند کیا تو اس بے معنی اتحاد کے مخالفین میں پیر مہرعلی شاہؒ پیش پیش تھے۔چنانچہ تحریک کانگریس میں شمولیت کے متعلق آپ کافتویٰ مکتوبات میں اب تک موجود ہے ۔ اس میں آپ نے تصریح فرمائی ہے کہ مسلمانوں کے لئے کانگریس میں شمولیت ہر گز درست نہیں ہے۔پیر صاحب گولڑہ شریف ؒ کی رائے محض ایک شخص کی رائے نہ تھی بلکہ اس عظیم شخصیت کی رائے جواپنے دور میں ملت اسلامیہ کے عقیدت و احترام کا مرکز تھے بلکہ تصوف کے دقیق مسائل خصوصا مسئلہ و حدت الوجود کی تفہیم کے سلسلے میں حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے خط و کتابت کے ذریعے آ پ سے رجوع کیا تھا۔
امیر ملت حضرت پیر جماعت علی شاہ علی پوری ؒ نصف صدی سے زائد عرصے تک سیاست ملی اور اصلاح وارشاد کے میدان میں مسلسل سرگرم عمل رہے آپ جلالی اور تحریکی طبیعت کے مالک تھے1919-20سے لیکر 1925-26 تک کا زمانہ فتنوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس و قت بھی اعلیٰ حضرتؒ کے متعلقین نے اپنا وزن دو قومی نظریے کے پلڑے میں ڈالا اس طرح انہوں نے کمال بصیرت سے کام لیتے ہوے تحریک پاکستان کے لئے راستہ صاف کیا۔1930 میں ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے خطبہ الہ آباد سے مسلمانوں کی تحریک ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔ قرادد پاکستان کے لئے 1940 کے تاریخی اجلاس میں ، لاہور کے سٹیج پر جو دینی رہنما موجود تھے ان میں مولانا عبد الحامدبدایوانیؒ اور مولانا عبدالغفورہزارویؒ شامل تھے۔مولانا بد ایونیؒ نے قراد اد کی تائد میں تقریر بھی کی تھی۔ 1940میں انوار صوفیہ شمارہ اپریل پیر جماعت علی شاہ ؒ کا یہ اعلان شائع ہوا ’’یہی ایک اصولی جماعت ہے مسلمانو۔ اس میں شامل ہو جاؤ کانگرس سے یہ توقع کرناکہ مسلمانوں کی حمایت کرے گی فضول ہے‘‘
1946کا سال تحریک پاکستان کا فیصلہ کن سال تھا۔ اسی برس میں آل انڈیا سنی کانفرس بنا رس میں ہوئی۔ اس کانفرنس میں مولانا صدرلافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادیؒ بعض مخلص احباب اور امیر ملت پیر جماعت علی شاہ ؒ اور پیر صاحب کچھوچھوی کے اکثر معتقدین کی ایک ایسی مخیرجماعت موجودتھی جس نے اس عظیم تاریخی کانفرس میں بھرپور تعاون کیا ۔ بلا مبالغہ پاک و ہند کے گوشے گوشے سے سنی علما ء اور عوام مندوبین کی شکل میں اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ اس کانفرنس میں علماء و مشائخ نے پاکستان کے حق میں قرارداد پیش کی کہ آل انڈیا کانفرنس کا یہ اجلاس مطالبہ پاکستان کی پرزور حمایت کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ علماء و مشائخ اہلسنت اسلامی حکومت کے قیام کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے ہر امکانی قربانی کے واسطے تیار ہیں۔ اوریہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت قائم کریں جو قرآن کریم اور حدیث نبویﷺ کی روشنی میں فقہی اصول کے مطا بق ہو۔
آل انڈیاسنی کانفرنس کے علاوہ بھی اہلسنت حنفی کی قائم کردہ دیگربہت سی دینی تبلیغی و تعلیمی تنظیمیں اور انجمنیں ایسی تھی جوتحریک خلافت کے وجود سے لے کر تحریک پاکستان کے آخری سالوں تک خدمات دیتی رہیں۔ اسی طرح مشائخ اہلسنت احناف میں کچھوچھہ شریف اور مارہرہ کے بعد پنجاب، سندھ اور سرحد کے کثیر تعداد میں مشائخ عظام پیر تونسہ شریف، سیال شریف ،چورہ شریف ،بام خیل شریف،بھرچونڈی شریف، مانکی شریف، مکھڈ شریف ،زکوڑی شریف اور پیر صاحب گولڑہ شریف جیسے اکابر کا تحریک پاکستان میں نمایاں کردار رہا۔ یوں 14اگست 1947 ستائیس رمضان کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔لیکن افسوس کہ نظام مصطفیﷺ کا نفاذ ابھی تک نہ ہو سکا ۔ امام نورانی ؒ و دیگر جید علماء کی جدوجہد سے1973 کے آئین میں بہت کام ہوا ،پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔
اس وقت پاکستان متعدد مسائل میں گھراہوا ہے ۔دہشت گرد دن دیہاڑے مساجد ومدارس ،امام بارگاہ، تعلیمی اداروں،تھانے ،کچہری ،ہسپتال بلکہ بہت ہی حساس مقامات پر خون کی ہولی کھیل رہے ہیں ۔ 8اگست کو سانحہ کوئٹہ میں وکلاء اور صحافی حضرات و دیگر بے گناہ مسلمانوں پر ظلم کی انتہا ہو گئی۔پاکستان بنانے والے امن چاہتے تھے۔ اب بھی 14 اگست کو سادگی کے ساتھ منائیں گے ۔ اور ملت و دین اسلام وپاکستان کے لیے قربانیاں پیش کر نے والے اکابرین و شہداء کیلئے دعا کریں گے۔ اس روز 2رکعت نفل ادا کریں کہ رب حبیب ﷺکا شکر ہے جس نے عظیم قربانیوں کے بعد پیارا وطن ہمیں عطاء فرمایا تھا۔