شام تنازع ۔۔۔ کون جیتا کون ہارا
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 13 / اگست / 2016
- 4977
ایک ہفتہ پہلے جنیوا میں روسی وزیر خارجہ سرجی لاروف سے ملاقات کے بعد امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری نے اعلان کیا کہ دونوں اطراف نے النصرہ اور شام میں ISIL کے خلاف فضائی جنگ میں تعاون اور انٹیلی جینس شیئرنگ پر پیش رفت کی ہے۔ اس دوران امریکی صدر اوباما نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد اقتدار چھوڑ دیں۔ 2011ء سے امریکہ کی یہی پالیسی ہے جب ہیلری کلنٹن سیکرٹری آف سٹیٹ تھیں۔
وقت کے ساتھ یہ مطالبہ کمزور پڑ گیا کیوں کہ بشارالاسد کسی صورت اقتدار چھوڑنے کو تیار نہ تھےاور نیشنل آرمی جو زیادہ تر سنی العقیدہ ہے، نے امریکہ کی پشت پناہی والے مسلح باغیوں کے خلاف غیرمتوقع اچھی کارکردگی دکھائی اور پھر روس نے سیکولر سٹیٹ شام کی جانب سے مداخلت کی۔ شامی عرب فوج شام کے سب سے بڑے شہر حلب کے گرد گھیرا ڈال چکی ہے جس پر النصرہ اور اس کے حلیفوں کا قبضہ ہے۔ 9اگست کو شامی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ عام شہریوں کو محفوظ رستہ دے رہی ہے اور روس نے بھی شہر سے نکلنے کے خواہاں عام شہریوں اور ہتھیار ڈالنے پر مائل جنگجوؤں کو راستہ دینے کا اعلان کیا۔ لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا نے فوراً ہی اس منصوبے کو ’’بے رحم‘‘ کہہ دیا کیوں کہ ان کے مطابق عوام کو شہر چھوڑ کر اسی حکومت کے حوالے اپنی زندگیاں کرنے کا کہا گیا ہے جو اُن پر بم برسا کراور انہیں بھوکوں مار رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے ایک عرصے سے القاعدہ سے منسلک گروپ کی قریب الوقوع شکست، جسے امریکہ اور روس دونوں ہی دہشت گرد کہتے ہیں، کو اسد حکومت اور روس کو بدنام کرنے کا ایک موقع جانا ہے۔ اور لگتا ہے کہ انہیں یہ یاد نہیں کہ شہر خالی کرنے کا یہ منصوبہ وہی حکمت عملی ہے جو امریکہ نے فلوجا اور دوسری جگہوں پر اپنی بن بلائی فوجی مہم جوئیوں میں استعمال کیا تھا۔ امریکہ نے یہ امکان مسترد کردیا ہے کہ حلب میں جہاں تاریخی طور پر بعث پارٹی کے حامیوں کی اکثریت ہے، نیشنل افواج کا پُرجوش خیرمقدم کیا جائے گا۔ اس دوران جان کیری نے یہ بھی دھمکایا کہ یہ نئی پیش رفت شام میں النصرہ یا فتاح الشام اور ISIL کے خلاف تعاون کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔
جارج بش انتظامیہ میں نیوکنزرویٹو اہلکاروں نے اسد حکومت گرانے کا منصوبہ بنایا۔ دوسری طرف سیکرٹری سٹیٹ کولن پاول 2003ء میں بشارالاسد سے ملے اور 2006ء میں عرصے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوگئے۔ ہیلری کلنٹن 2009ء میں بشارالاسد کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’’ریفارمر‘‘ کہہ رہی تھیں، 2011ء میں ان کا مؤقف اس کے برعکس تھا۔ 2013ء میں اوباما ، بشارالاسد کو سزا دینے کے لیے کہ انہوں نے اپنے عوام پر Sarin گیس استعمال کی تھی، شام پر بڑا میزائل حملہ کرنے والے تھے۔ لیکن روسی وزیر خارجہ سرجی لاروف نے جان کیری کو بتایا کہ روس کا خیال تھا کہ اس کی ذمہ دار اپوزیشن طاقتیں تھیں۔ بعض رپورٹوں کے باعث اوباما قائل ہوگئے کہ ترک انٹیلی جینس نے اپوزیشن کے دھڑوں کے ساتھ مل کر ایک جھوٹا واقعہ گھڑا تھا تاکہ امریکہ بشارالاسد کی حکومت گرانے پر مائل ہوجائے۔
جان کیری نے ایک پریس کانفرنس میں تذکرہ کیا تھا کہ اگر شام بڑے پیمانے پر تباہی کے تمام ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے تو امریکہ حملہ روک دے گا۔ اس کے بعد فوراً ہی روسی وزیر خارجہ لاروف نے شام کے لیے انتظامات کیے کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیار اقوامِ متحدہ کے حوالے کردے اور آخری لمحے میں امریکہ نے اپنا طے شدہ حملہ منسوخ کر دیا۔ لیکن امریکی صدر اوباما نے ایک تقریر میں الزام لگایا کہ شامی حکومت اس واقعے کی ذمہ دار تھی اور دہرایا کہ وہ امریکہ کے Exceptionalism پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں سے دستبرداری کے شامی فیصلے نے صورتِ حال کو تبدیل کردیا۔ وہ اب بھی شامی حکومت کی تبدیلی پر مصر تھے۔
ذرا پیچھے جائیں تو 2011ء میں جب اوباما اور ہیلری کلنٹن دونوں بشارالاسد کی رخصتی کا مطالبہ اور دمشق میں امریکی سفارت خانہ بند کررہے تھے، شام میں اسد کی مخالف قوتیں زیادہ تر پُرامن تھیں۔ لیکن امریکی حوصلہ افزائی سے مسلح دھڑے سر اٹھانا شروع ہوگئے۔ ان کا نام تھا ’’سیرین فری آرمی تھا ‘‘۔ ان میں القاعدہ کے حامی عناصر بھی شامل تھے جنہوں نے جنوری 2012ء میں النصرہ محاذ بنایا۔ ہوتا یہی ہے کہ جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی سیکولر رہنما کا تختہ الٹتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے تو اس سے اقتدار یا طاقت کا خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس سے مسلح جہادیوں کو مواقع ملتے ہیں جن کی ظالمانہ کارروائیوں سے امریکہ کو پھر اُس ملک میں اپنی افواج بھیجنے کا جواز مل جاتا ہے۔ تا کہ وہ ’’علاقائی استحکام کو بچا سکے‘‘۔ یوں لگتا ہے کہ واشنگٹن دنیا میں حکومتوں کی تبدیلی کی مہم جوئیوں سے نہ صرف دنیا بھر میں مسلمانوں کو بلکہ ہرکسی کو سرگرمی سے مشتعل کررہا ہے ۔
النصرہ کی 2012ء میں شام میں مسلح باغیوں نے حمایت کی۔ امریکی پریس نے اس حقیقت پر کم ہی توجہ دی کہ ’’فری سیرین آرمی‘‘ نے کھلے عام القاعدہ کے اس گروپ سے اتحاد پر اصرار کیا اور اسے باجواز قرار دیا۔ حال میں فری سیرین آرمی کے سینکڑوں گروہوں میں سے بیشتر (ایک اندازے کے مطابق 80فیصد) النصرہ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ تمباکو نوشی اور ظاہری حلیے کی وجہ سے ان کے کٹرپن کو ناپسند کرتے ہیں مگر ان کے تجربے کی قدر کرتے ہیں۔ امریکی اہلکار ایک عرصے سے سمجھ چکے ہیں کہ اسد حکومت گرانے کے لیے انہیں چاہے النصرہ سے براہ راست تعلقات نہ بھی استوار کرنا ہوں تو کم سے کم براہ راست کچھ معاونت کرنی ہی ہوگی (یاد رہے کہ النصرہ ابھی کل تک باقاعدہ القاعدہ کا دھڑا تھی)۔ 2014ء تک بشارالاسد حکومت النصرہ ’’اپوزیشن‘‘ پر حاوی تھی۔ اس وقت اوباما نے کانگرس کو اردن میں 15ہزار مسلح باغیوں کو نشانہ بازی، نیوی گیشن اور دیگر شعبوں میں تربیت دینے کے لیے امریکی عملہ بھیجنے کے پروگرام کی فنڈنگ کا کہا تھا۔ لیکن ستمبر 2015ء میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لائیڈ آسٹن نے کانگرس کو بتایاکہ اصل میں صرف چار یا پانچ فائٹرز کو تربیت دی گئی تھی۔
اسی مہینے اعلان کیا گیا کہ ڈویژن 30 کے تقریباً 70 فائٹرز نے شام میں داخل ہوتے ہی اپنے ہتھیار النصرہ کے حوالے کر دئیے تھے، ڈویژن 30 وہ شامی تھے جن کی سیرین ٹریڈ اینڈ ایکوپ پروگرام کے تحت ترکی میں تربیت کی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو ایسے شامی بھرتی کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوتے۔ اپنی خصوصیت Exceptionalism کے اندھے پن میں امریکی پالیسی ساز یہ بات نہ سمجھ پائے کہ افغانستان، عراق، یمن اور لیبیا میں امریکی اقدامات کے باعث ان ممالک کے عوام امریکہ کو پسند نہیں کرتے۔
ستمبر 2015ء میں روس پوری سنجیدگی سے شام کے معاملے میں ملوث ہوگیا۔ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں انتشار اور افراتفری پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ یہ کچھ عرصہ بعد کی بات ہے جب پیوٹن نے نومبر 2015ء میں UNGA میں امریکہ اور اس کے حلیفوں سے پوچھا کہ ’’ہمیں ادراک بھی ہے کہ ہم کیا کرچکے ہیں؟‘‘ روس کا 1980ء سے شام سے فوجی معاہدہ ہے اور 1971ء سے طرطوس Tartus میں وہ اس کی نیول بیس سنبھالتا ہے (اس کے مقابلے میں امریکہ کی 9 نیول بیسز ہیں)۔ روس نے اب شامی حکومت کی افواج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں پر بمباری کا اعلان کیا۔ روس اب اس شامی صدر کی حمایت کررہا تھا جسے امریکہ نے اقتدار سے ہٹنے کا حکم دیا تھا۔ حیران پریشان امریکہ بس یہی شکایت کرسکا کہ روس دہشت گردوں کو نہیں بلکہ ’’اعتدال پسند حزبِ مخالف‘‘ کو نشانہ بنا رہا تھا۔ روسیوں کا ردِعمل نرم تھا ، روسی وزیرخارجہ لاروف نے تجویز دی کہ امریکہ اور روس ’’دہشت گرد‘‘ سمجھے جانے والے گروپوں کی فہرست پر اتفاق کریں۔ امریکہ نے تسلیم کیا کہ کئی گروپ جن کی وہ پشت پناہی کرتا ہے ، النصرہ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ امریکی حمایت یافتہ گروپوں میں سے ایک حرکت نورالدین الزنکی نے گزشتہ مہینے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں قہقہے لگاتے لوگ ایک بارہ سالہ فلسطینی لڑکے کی گردن کاٹ رہے تھے جس پر اسد نواز گروپ کا ممبر ہونے کا الزام تھا۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے گروپ سے تفتیش کا کہا اور اس نے باضابطہ بیان جاری کیا کہ سرقلم کرنا ’’غلطی‘‘ تھی۔
روسیوں نے اقوامِ متحدہ میں مطالبہ کیا ہے کہ احرارالشام تنظیم جسے ترکی اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے اور جس کے النصرہ سے قریبی روابط ہیں، اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔ ان کوششوں کی راہ میں اس گروپ کے حامی حائل ہیں۔ امریکہ، احرارالشام کو ’’اعتدال پسند حزبِ مخالف‘‘ کا حصہ سمجھتا ہے۔ امریکہ سے یہ اختلاف کرتے ہوئے کہ ’’دہشت گرد‘‘ کون ہے اور ’’اعتدال پسند حزبِ مخالف‘‘ کے لیے کون لڑ رہا ہے، روس نے شمال مغربی شام کو ہدف بنا کر امریکہ اور اتحادیوں کے دسمبر 2014ء میں تشکیل پانے والے اتحاد کی ISIL کا زیادہ نقصان کیا۔ امریکی پریس نے امریکی ’’اتحاد‘‘ کی ISIL کے خلاف کامیابی کو غلط طور پربڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ خصوصاً روسی جنگی جہازوں نے ہزاروں ترکی آئل ٹینکرز کو تباہ کیا۔ روس نے دستاویزی ثبوت فراہم کیے کہ اردوآن اس ٹریفک سے منافع کما رہے تھے۔ مئی 2016ء میں شامی فوج نے روسی مدد سے پالمیرا کو ISIL کے قبضے سے واپس لے لیا۔ یوں جان کیری کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اپنی حکمت عملیاں بدلنے پر مجبور ہوگیا۔ روس کا موقف تھا کہ وہ اسد حکومت نہیں بلکہ شامی ریاست کا ساتھ دے رہا تھا جس کی نمائندہ فوج دہشت گردوں سے زندگی موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اور یہ کہ امریکہ سے زیادہ یہ روس کا مسئلہ ہے۔ کیوں کہ حلب کا روس سے فاصلہ 720میل ہے اور واشنگٹن سے 5775میل۔ روس کو اپنی کوششوں پر عالمی حمایت ملی۔ جان کیری ، سرجی لاروف کی اس تجویز پر مثبت ردِعمل دینے پر مجبور تھے کہ گزشتہ سال یورپ میں ملٹی پارٹی مذاکرات کیے جائیں تاکہ نان ٹیررسٹ گروپوں میں سیاسی حل نکالا جائے۔
کئی شامی گروپوں، جن میں ترکی کے اصرار پر کُرد شامل نہ تھے، امریکہ، روس (ایران نہیں) نے مل کر 27فروری 2016ء کو سیزفائر معاہدہ کیا۔ لیکن اس میں ISIL اور النصرہ شامل نہیں۔ سیز فائر ’’اعتدال پسند حزبِ مخالف‘‘ اور فوج کے درمیان ہے۔ اس اثنا میں النصرہ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے روابط بڑھائے اور رسد جمع کی اور ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنی ساکھ بدلنے کے لئے اپنا نام بھی بدل لیا۔ اسے معلوم ہے کہ امریکی پاور سٹرکچر میں ISIL کے خلاف النصرہ کے ’’کچھ عناصر‘‘کے استعمال کی بات کی جارہی ہے۔ جیساکہ گزشتہ سال جنرل پٹریاس نے بھی کہا۔ وہ جنگ ہار رہا ہے اور اسد مخالف طاقتوں سے معاہدے ختم کرنے پر آمادہ نظر آرہا ہے۔
شامی حکومت اور اس کے روسی سرپرستوں نے اب مشرقی حلب میں النصرہ کے خلاف شدت سے کارروائی اور شہر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہوگا، اگرچہ اس سے ابھی شامی تنازعہ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ اوباما کی طرح جان کیری بھی الجھن میں ہیں کہ شام میں کیا کیا جائے۔ وہ اسد حکومت گرانا چاہتے ہیں کیوں کہ امریکی حکومت اعلان کرچکی ہے کہ اسد کو جانا ہوگا اور امریکہ ایک بار ایسا اعلان کرنے کے بعد واپس نہیں لے سکتا۔ عراق میں امریکہ کے ہاتھوں تباہی کے نتیجے کا معاملہ اچانک اٹھنے پر بھی جان کیری شاک میں ہیں۔ یہ شرمناک ہوگا اگر ISIL دمشق پر قبضہ کرکے قدیم عیسائی مقدس مقامات کو تباہ کر دے۔ خاص طور پر جب پیوٹن اور لاکھوں روسی آرتھوڈوکس، شامی آرتھوڈوکس عیسائیوں کا درد محسوس کرتے ہوں۔ اس لیے امریکی رہنماؤں کو مذمت کرنی ہوگی اور کسی حد تک ISIL اور النصرہ کے خلاف جنگ چھیڑنی ہوگی۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ موقف برقرار رکھتے ہوئے کہ بشارالاسد ہی مسئلہ ہے اور اس کا حکومت میں رہنا ہی دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط کررہا ہے، اس مقصد کے لیے کام کیا جائے ۔ 2011ء سے امریکی سرپرستی میں شامی مرکزی ریاستی طاقت کے کمزور ہونے ہی سے ان گروپوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے وہ حصے جو کبھی سبق نہیں سیکھتے اب شدت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ شام میں حکومت تبدیل ہونی چاہئے۔ اطلاعات کے مطابق سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مخالفین کی طرف سے شائع منشور میں کہا گیا کہ ISIL کے مقابلے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی گئی ہے، اصل میں اسد حکومت کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی دوران سینٹر فار نیو سیکیورٹی کے سربراہ اور ہیلری کلنٹن کے حامی، مستقبل کے متوقع ڈیفنس سیکرٹری مائیکل فلورنے کی جانب سے بھی شام میں حکومت کی تبدیلی کی بات کی گئی ہے۔
29جولائی کو ہیلری کلنٹن نے اپنی ڈیموکریٹک نامزدگی کے روز کہا کہ وہ امریکہ کی شام پر پالیسی پر نظر ثانی کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں گی، جس میں اسد حکومت گرانے پر فوکس کیا جائے گا۔ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ شام میں ذی ہوش سیکولر طاقتیں جنوری سے پہلے معاملات کو سنبھال لیں۔ اس سے پہلے کہ جنگ اور مزید انتشار کا بگل بجے۔ کیوں کہ اگر انہیں موقع مل گیا تو وہ دمشق پر بمباری کے لیے بہانے ہی تلاش کریں گے۔