اولمپک گیمز کا تاریخی پس منظر

اولمپک گیمز دنیا کا سب سے اہم اور خوبصورت واقعہ کہا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کے کھلاڑی اپنی عمدہ صلاحیت اور قابلیت کی بنا پر حصہ لیتے ہیں۔ اپنی عمدہ کارکردگی سے دنیا کو بہترین کھیل کا نمونہ پیش کرتے ہیں جس سے دنیا بھر میں کھیل کے شائقین محظو ظ ہوتے ہیں۔ اولمپک گیمز میں حصہ لینا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے اور جس کے لئے اسے کئی برسوں تک مشق کرنا پڑتی ہے۔ تب جا کر اسے اولمپک میں حصہّ لینے کا موقع ملتا ہے۔ آج ہم آپ کو اولمپک گیمز کی تاریخ اور ان کی اہمت کے بارے میں بتاتے ہیں۔

اولمپک گیمز کھیلوں کا ایک تاریخی اہتمام ہے۔ اس کا آغاز یونان سے ہؤا تھا۔ ۔ کہا جا تا ہے کہ یونانی کھیل کو بہت پسند کرتے تھے اور قدیم کیلنڈر کے حوالے سے اولمپک گیمز کھیلوں کی سب سے بڑی اور مقبول تقریب ہوتی تھی۔ اولمپک گیمز لگ بھگ تین ہزار سال سے قبل اولمپیا میں شروع ہوئی تھیں۔ یہ یونان کا جنوب مغربی حصہ ہے ۔اس وقت ہر سال لگ بھگ 50,000لوگ پورے یونان سے اولمپیا میں کھیلوں کے مقابلے یکھنے آتے اور اس میں حصہ بھی لیتے تھے۔دراصل یہ قدیم موقع ایک مذہبی تہوار کے طور پر بھی منایا جاتا تھا جو کہ خداؤں کا بادشاہ (Zeus)زوز کے اعزاز میں منعقد ہوتا تھا۔ خداؤں کا بادشاہ زوز کھیل دیکھ کر محظوظ ہوتا تھا۔ اس موقعہ پر زائرین زوز کے مندر کو دیکھنے کے لئے بھی اکٹھا ہوتے تھے۔اس مندر کے اندر سونے اور ہاتھی کے دانت کا بنا ہوا زوز کا بت بھی ہوتا تھا اور لوگ اسے خداؤں کا بادشاہ مان کر اس کی پرستش کرتے تھے ۔

ان دنوں اولمپک میں حصہّ لینے والوں کو جیتنے پر انعام کے طور پر سونا، چاندی اور کانسی کے میڈل کی بجائے زیتون کے پتوں کا تا ج بنا کر سر پر رکھا جاتا تھا اور اس فاتح کھلاڑی کی واپسی پر اس کے شہر کے لوگ اس کا والہانہ استقبال کرتے تھے۔اس کے بعدلوگ اُن فاتح کھلاڑیوں کو اپنے شہر کا ایک روحانی اور خدا کا قریبی انسان ماننے لگتے تھے ۔ ان دنوں گیمز شروع ہونے سے قبل قاصدوں کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ مقدس جنگ بندی کا اعلان کریں اور لوگوں کو امن کا پیغام دیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہر طرح کی جنگیں بند ہوں تا کہ لوگ اولمپیا گیمز میں حصہّ لینے کے لئے حفاظت سے پہنچیں اور تقریبات کے دوران بھی خود کو محفوظ محسوس کریں۔

زمانہ قدیم میں اولمپک گیمز صرف کھیل کے مقصد سے منعقد نہیں ہوتی تھیں بلکہ اس دوران جانوروں کی قربانی کا جذبہ بھی پیش کیاجا تا تھا۔ اولمپک گیمز کے تیسرے روز ایک سو بیلوں کی قربانی دی جاتی تھی اور ان کا گوشت شراب اور روٹیوں کے ساتھ کھایا جاتا تھا۔جس میز پر لوگ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ، انہیں قربان کئے گئے بیلوں کی ہڈیوں سے بنایا جاتا تھا۔ ان دنوں اولمپک گیمز میں صرف مرد ،کم عمر لڑکے اور غیر شادی شدہ لڑکیاں حصہ لے سکتی تھیں۔ شادی شدہ عورتوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کوئی شادی شدہ لڑکی چوری چھپے اولمپک گیم میں شامل ہوتی تو اس کی سزا یہ ہوتی تھی کہ اسے پہاڑ پر لے جا کر دھکیل دیا جاتا تھا۔تاہم شادی شدہ عورتیں اولمپیا میں اپنا الگ تہوار مناتی تھی جسے (Heraia)ہیریا کہا جاتا تھا۔ اور یہ خداؤں کے بادشاہ زوز کی بیوی کے اعزاز میں منعقد ہوتا تھا۔ 1896 میں سب سے پہلے جدید اولمپک گیمز یونان کے دارالحکومت ایتھنز (Aethens) میں منعقد ہوئے تھے۔ ان میں دنیا کے تیرہ ممالک سے لگ بھگ 280 کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔یہاں یہ بات بھی بتانا دلچسپ ہے کہ اولمپک کی پہلا میراتھن دوڑ کیسے شروع ہوئی۔ یونانی سپاہیوں نے ایرانیوں پر فتح حاصل کی تو انہوں نے شہر ماراتھون سے ایتھنز شہر تک پچیس میل کا سفر طے کر کے اس خوش خبری کو اپنے بادشاہ تک پہنچایا تھا۔ 1924 میں میراتھن کی دوری کو بڑھا کر ہمیشہ کے لئے 26میل کر دیا گیا تھا ۔ آج بھی اولمپک گیمزمیں آج بھی یہی فاصلہ میراتھن دوڑ کے لئے مقرر ہوتا ہے۔

رومن نے جب یونان کو فتح کر کے اپنی حکومت قائم کی تو انہوں نے اولمپک گیمز کی اہمیت کو بہت حد تک کم کر دیاتھا۔ زیادہ تر رومن ان کھیلوں میں حصہّ لیتے تھے اور غلط طریقے سے مقابلے میں کامیابی حاصل کر کے اس کا معیار گرا دیا تھا۔اس کے بعد 393  میں شہنشاہ (Theodosius)تھیو ڈوسیوس نے اولمپک کی روایاتی چیزوں پر پابندی لگا دی تھی جس سے اس کے جوش و خروش میں کمی آنے لگی۔

لیکن اس کے 1,500 سال بعد اولمپک گیمز ایک بار پھر سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔ فرانس کا ایک نوجوان بارون پیئیر دی کوبرٹین (1863-1937)قدیم اولمپیا دیکھنے کے لئے گیا اور اس نے واپس آکر پیرس میں ایک میٹنگ بلائی۔ 1892 میں پیرس میں یونین دی اسپورٹس اتھیلیٹس کی میٹنگ میں بارون نے اولمپک گیمز کو ہر چار سال پر عالمی سطح پر کروانے کی تجویز پیش کی۔ اس طرح 1896 میں اولمپک گیمز کا باقاعدہ آغاز ہؤا۔ان ہی دنوں میں اولمپک کا جھنڈا بھی تیار کیا گیا جس میں پانچ رنگوں کے گول نشان چنے گئے جو پانچبر اعظموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ نشان ایک سفید جھنڈے پر بنے ہوتے ہیں ۔ یہ جھنڈا 1920 سے استعمال میں لایا گیا۔

اولمپک گیمز کی ترقی اور فروغ کے لئے (International Olympic Committee)انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ یہ کمیٹی 1894 میں پیرس میں بنی اور اس کا ہیڈ کواٹر Lausanne, Switzerland)) میں واقع ہے۔ابتدائی طور پر اس کے 14 رکن تھے جب کہ اب ان ممبروں کی تعداد بڑھ کر 70 ہو گئی ہے۔تقریباً ہر ممالک سے IOCکا ایک نمائیندہ ہوتا ہے جو اپنے ملک میں اسپورٹس کا سفیر ہوتا ہے۔ IOCکے صدر کی معیاد آٹھ سال ہوتی ہے اور وہ مزید چار سال کے لئے یہ مدت بڑھا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لئے انتخاب کروانا ضروری ہے۔

ہر ملک میں کی اپنا ایک قومی اولمپک کمیٹی ہوتی ہے ۔ 1988 تک دنیا بھر میں لگ بھگ 167کمیٹیاں تھیں جو اپنے ملک میں کھیلوں کے فروغ اور قومی ٹیموں کو اولمپک گیمز میں حصہّ لینے کے لئے تیار کرتی ہیں۔ ۔ اس کے علاوہ اولمپک میں کوالیفائی کرنے کے لئے ہر ملک کے کھلاڑیوں کو ایک خاص ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بعد ہی وہ کھلاڑی اولمپک گیمز میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اس سال اولمپک گیمز برازیل کے شہر (Rio) ریو میں ہورہی ہیں۔ اس کے آغاز سے پہلے لوگ اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ برازیل اولمپک گیمز کو ایک منفرد اور انوکھے انداز میں پیش کرے گا۔ جدید اولمپک میں آ ج کل لوگ کھیل کے علاوہ یہ دیکھنا پسند کرتے ہیں کہ کونسا ملک کتنی عمدہ اور مختلف افتتاحی تقریب منعقد کرتا ہے۔ پچھلا اولمپک لندن میں ہوا تھا۔ اس کی تیاری اور وقت پر شروع اور ختم کرنے کے انتظام سے لوگ بہت محظوظ اور متاثر ہوئے تھے۔اس دوران سیکوریٹی کا بھی عمدہ انتطام تھا۔ ان تمام سہولیات کے ذریعے لندن نے دنیا سے آئے ہوئے لوگوں کے دل جیت لئے تھے۔تاہم برازیل میں اولمپک سے قبل کئی ایسی باتیں سامنے آئی تھیں جن کی وجہ سے اولمپک گیمز ملتوی ہونے کا اندیشہ بھی تھا۔ ان میں ایک وجہ زیکو وائرس بھی تھا۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے جس کی وجہ سے برازیل کے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جا تا تھا۔اس کے علاوہ برازیل میں بیروزگاری اور جرائم کے اضافے سے بھی حکومت کی نیند اڑی ہوئی تھی۔ مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہورہی تھیں۔ مہنگائی اور پریشانی سے مقامی لوگوں کی اولمپک گیمز سے دلچسپی بھی کم ہو رہی تھی۔ ان تمام باتوں کے باوجود اولمپک گیمز جاری ہیں۔ افتتاحی تقریب سے لے کر اب تک اولمپک جھنڈا شان سے لہرا رہا ہے۔ دنیا کے بہترین کھلاڑی اپنی برسوں کی محنت سے ان تاریخی گیمز میں اپنا لوہا منوانے میں لگے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ٹیلی ویژن پر بھی دن رات اپنی پسند کے مقابلے دیکھتے ہیں۔ اور اپنے اپنے ملک کے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

برازیل کی ریو اولمپک چند دنوں میں ختم ہوجائیں گی۔ ہزاروں کھلاڑیوں نے کئی برسوں کی محنت سے تمغے جیتے ہیں۔ بہت سے کھلاڑی اپنی ہار سے مایوس بھی ہورہے ہیں۔ لیکن ان ہی کھلاڑیوں میں کچھ کھلاڑی ایسے بھی ہیں جو صرف اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے اولمپک گیمز میں شرکت کرکے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔