کوئی ہے جو بچوں کی حفاظت کرے

آزادی کے 69 سال بعد بھی ہماری کارکردگی کا یہ حال ہے کہ اپنے ہی ملک میں  بچوں کی حفاظت  میں ناکام ہو رہے ہیں۔  یہ صورت حال  انتہائی بیڈ گورنس میں بھی شاید دیکھنمے میں نہ اآتی ہو۔  حکومت کے تمام تر  بلند بانگ دعوؤں کے باوجود بچوں کے اغوا اور ان کے قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی رد عمل اورغصے کا یہ عالم ہے کہ لوگوں نے قانون کو خود ہاتھ میں لینا شروع کردیا ہے۔ ملتان کی بستی ملوک میں ایک نیم پاگل عورت کو بچہ اغوا کرنے کے شک میں لوگوں نے اس قدر مارا کہ وہ ہلاک ہو گئی۔ اسی طرح دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جہاں شہری بچوں کے اغوا کے شبہ میں پکڑے جانے والوں پر بدترین تشدد کر رہے ہیں۔

کسی ملک میں یہ صورت حال اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے سے انصاف اٹھ جاتا ہے، وہاں کے ادارے ناکام ہو جاتے ہیں اور امیری و غریبی کی دیواریں بلند ہو جاتی ہیں۔ انسانی اقداریں دم توڑنے لگتی ہیں۔  پاکستان کی سوسائٹی ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ہر بڑا اور طاقتور چھوٹے اور کمزور کو ہڑپ کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتاہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت میں ہی  جب بچے غیر محفوظ ہو جائیں تو باقی شہروں کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ پنجاب سے شروع ہونے والا بچوں کے اغوا کا سلسلہ  اب ملک بھر میں پھیلتا جا رہا ہے۔ کراچی میں ایک تنظیم کی طرف سے سوشل میڈیا اور اخبارات میں ایک مہم چلائی گئی ہے کہ  جن کے بچے اغوا یا لا پتہ ہوچکے ہیں وہ بچوں کی تصاویر کے ساتھ احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوں۔  اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے پاکستان میں وطن دشمن عناصر کا ایک انتہائی منظم اور طاقتور نیٹ ورک موجود ہے جو بچوں کے اغوا میں ملوث ہے۔ تمام تر حکومتی بیانات اور وضاحتوں کے باوجود بچے اغوا بھی ہورہے ہیں اور قتل بھی۔ انہیں  بازیاب بھی کروایا جا رہا ہے۔

صورت حال کی سنگینی کی وجہ سے  وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک سٹیزنگ کمیٹی تشکیل دہ ہے جس کے اجلاس کی وہ خود صدارت کرتے ہیں۔ لیکن  اس میں پولیس کی ہی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کردیا جاتا ہے۔  بچوں کے اغوا میں ملوث افراد یا گروہوں بارے کاروائی  کے سوال پر ابھی تک خاموشی ہے۔  اس صورت حال سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ بعض عناصر کے خلاف سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے کارروائی  پر نہیں ہو سکتی۔

آرمی چیف کی طرف سے کوئٹہ میں دہشت گردی کے بعد ملک بھر میں جس کومبنگ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا،  اسی کے تحت اب پنجاب میں تمام سکولوں کے گر دو نواح کی آبادیوں میں فوری اپریشن شروع کیا گیا ہے۔ گھر گھر تلاشی لے کر  مکینوں کے کوائف چیک کئے جائیں گے۔ سکولوں کے گارڈز، ڈرائیورز اور ٹیچرز کے بائیو ڈیٹا کی پڑتال ہوگی۔  سکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بچوں کو چھٹی سے قبل سکولوں سے باہر نہ بھج جانے دیا جائے۔ اس کے ساتھ  ہی حکومت پنجاب کی طرف سے سکولوں کے باہر ہر قسم کی اشیا کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے نوٹیفیکشن جاری کیا گیا ہے کہ والدین کو سکولوں سے بچے لے جانے کے لئے اپنی شناخت کرانا ہو گی۔ لا پرواہی کرنے پر سکولوں کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔

یہ تمام اقدامات حفاظتی نوعیت کے ہیں جن سے نہ صرف خوف و ہراس پھیلے گا بلکہ والدین کے لئے گھروں اور دفاتر میں کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کی توجہ ہر وقت  اپنے بچوں کی ہی طرف رہے گی۔ خود بچوں کی تعلیمی استعداد اور قابلیت بھی متاثر ہو گی۔ جس بچے کے ذہن میں ہر وقت اغوا کا خدشہ رہے گا وہ کیسے یکسوئی کے ساتھ پڑھ سکے گا۔ پوری قوم چیخ رہی ہے کہ بچوں کی حفاظت کرو اور مجرموں کو پکڑو لیکن سارے ادارے طفل تسلیاں دینے پر لگے ہوئے ہیں۔ حکومت نے دفاعی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

بچے کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور ان کی حفاظت میں ہی کسی قوم کی ترقی اور بقا پوشیدہ ہوتی ہے۔ لیکن ہمارا ملک شاید واحد ملک ہے جہاں کی ساری سیکورٹی اعلیٰ عہدیداروں اور شخصیات کی حفاظت پر مامور ہے۔ موجودہ سسٹم میں سارے حکومتی ادارے ناکارہ ثابت ہو رہے ہی۔  اخبارات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے شور مچانے پر سپریم کورٹ کو بادل ناخواستہ نوٹس لینا پڑا  ہے۔  مہینوں بعد وفاقی محتسب نے بھی نوٹس لیا ہے۔ اور بچوں کے اغوا، زیادتی اور تشدد کے واقعات پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

یہ تمام صورتحال نہ صرف شرمناک ہے بلکہ باعث تشویش ہے۔ ہمارے اداروں کی نااہلی کی قلعی کھل رہی ہے۔ جس ملک کا چیف جسٹس ، حکومتی سربراہ اور اداروں کے چیفس خود بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کریں، پولیس کے افسران خود سیکورٹی اہلکاروں کی فوج کے نرغے میں گھروں سے باہر نکلیں تو وہاں عام پاکستانی اور اس کے بچوں کے تحفظ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی۔ غریبوں کے بچوں کے قتل یا اغوا کا درد کوئی حکومتی ، سیاسی یا مذہبی یا عدلیہ کی کوئی شخصیت نہیں کر سکتی۔ یہ صرف گمشدہ بچوں کے والدین سمجھ سکتے ہیں۔  اشرافیہ کے نزدیک غریبوں کے بچے کیڑے مکوڑوں کی مانند ہیں، جو گندے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان کی لاشیں گندے پانی کے جوہڑوں اور کھیتوں سے ملتی ہیں۔

وہ سابق وزیراعظم ، گورنر پنجاب اور سندھ کے چیف جسٹس کے بچے تھے جن کی بازیابی کے لئے حقیقت میں ریاست بیدار ہوئی تھی اور ادارے حرکت میں آئے تھے ۔ جس قومی اسمبلی کا اسپیکر خوش رنگ ٹائی باندھ کر اور تکبر سے یہ کہے کہ بچوں کا اغوا کوئی بڑی بات نہیں تو پھر ایسی جمہوریت اور اسمبلی کی کیا حیثیت اور عزت باقی رہ سکتی ہے۔ صوبائی وزرا اور پولیس کا ایک ہی موقف ہے کہ بچے گھروں میں والدین کے سخت رویے اور مارپیٹ کی وجہ سے بھاگتے ہیں اور پھر واپس بھی لوٹ آتے ہیں۔ گویا ان کی نظر میں بچوں کے اغوا اور ان کی گمشدگی کے ذمہ دار والدین ہیں ۔ لیکن یہ اس بات کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں کہ جن بچوں کی لاشیں مل رہی ہیں ، جن کے ساتھ جنسی زیادتی ہو رہی ہے،  اس کا کون ذمہ دار ہے۔

ایک عوامی سروے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچے اغوا کرنے والوں کو دہشت گردی کے تحت مقدمات درج کر کے سزائے موت دی جانی چاہیئے۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ عوام کو مطالبہ کرنا چاہیئے کہ حکومت صوبائی و قومی اسمبلی کے ممبران اور پولیس کے اندر ان کالی بھیڑوں کو پکڑے جو جرائم پیشہ افراد کے سرپرست  ہیں۔ پشاور میں ایک سابق ڈی ایس پی کی بیوی پکڑی گئی ہے جو بچوں کے اغوا میں ملوث تھی اور پھر ان کو بیرون ملک اسمگل کرتی تھی۔ پاکستانی سوسائٹی کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے سیاست، عدلیہ اور پولیس کے اندر صفائی کرنے کی ضرورت ہے۔