قوم کب آزاد ہوگی !
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- جمعہ 19 / اگست / 2016
- 5492
یوم آزادی کے دن سوشل میڈیا پر ہجرت کے وقت کی ایک نایاب تصویر نظر آئی ، تصویر کیا تھی اپنے اندر پاکستان کی پوری کتھا سموئے ہوئے تھی۔ میں تصویر کو کافی دیر تک دیکھتا رہا اور اس میں چھپی کہانی تلاش کرتا رہا ۔ تصویر کا احوال کچھ اس طرح سے تھا کہ اس میں ایک معمر جوڑا ہے۔ اماں نے ہاتھ میں گٹھری اٹھا رکھی ہے جبکہ بزرگ کے سر پر صندوق ہے۔ بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے اس نے عینک بھی لگائی ہوئی ہے۔ وہ دایاں ہاتھ ماتھے پر رکھ کر آنکھ پر سایہ کرکے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تصویر کے پس منظر میں ریلوے لائن بھی نمایاں ہے، جبکہ تصویر پوسٹ کرنے والے نے ایک جانب اس بزرگ کے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بزرگ کہہ رہے ہیں کہ 69 سال پیدل چلتے بیت گئے لیکن پاکستان نہیں آیا۔ ٹھیک ہی تو کہا ہے اس بزرگ نے پاکستان جس کلمہ لاالہ الااللہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، کیا یہ وہی پاکستان ہے۔ قیام پاکستان کے وقت یہاں 20 مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری تھی۔ ان لوگوں میں انگریز کے نوازے ہوئے لوگ اور خاندان شامل تھے۔
قیام پاکستان سے قبل بھی یہ لوگ انگریزوں کے خوشامدی اور زر خرید غلام تھے اور قیام پاکستان کے بعد بھی پکی پکائی دیگ پر آ بیٹھے اور مزے لوٹنے لگے۔ ان عناصر نے اقتدار، جاگیروں ، الاٹمنٹوں ، لائسنسوں اور تجارت پر قبضہ کے ذریعے حاصل کرلیا۔ بھیس بدل کر ملک و قوم سے کھلواڑ کرتے رہے۔ قائداعظم شاید اسی لئے کہتے تھی کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ یوں بھی کشمیر کے بغیر چوہدری رحمت الہیٰ کا پاکستان مکمل نہیں ہو سکتا۔
یہاں کبھی روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا گیا، کبھی نظام مصطفیٰ کی تحریک کی صورت میں بے گناہ شہریوں کو اپنے مقاصد کےلئے قربان کیا گیا۔ یہاں کے نام نہاد مولوی ایک طرف بھٹو کے خلاف جلسے جلوس اور ریلیاں نکالتے اور دوسری جانب مذاکرات کی میز پر وزارتیں مانگتے تھے۔ یہ وہی نوسرباز ہیں جنہوں نے آئی ایم ایف کے تسلط سے گردن چھڑانے کے جھوٹے خواب دکھا کر عوام کی جیبوں سے ان کی جمع پونجی نکلوائی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ نہ ہی آج تک عوام کو سکھ سے روٹی کپڑا مکان ملا، نہ ملک میں صحیح معنوں میں نظام مصطفیٰ رائج ہوا۔ اور نہ قوم آئی ایم ایف کے چنگل سے خلاصی پا سکی ہے۔
یہ تو ایسے ظالم ہیں کہ انہیں ویلنٹائن ڈے تو منانا یاد رہتا ہے لیکن تحریک پاکستان کے ہیروز کا دن اکثر بھول جاتا ہے۔ ہماری تو نئی نسل ملکی تاریخ سے نا آشنا ہے۔ ہمارا اردو اور انگلش میڈیم کا تعلیمی نظام ایسا بنا دیا گیا ہے کہ یہاں ویلیم ورڈز ورتھ ، ایلمی بورتھ، چرچل، نپولین ، ابراہم لنکن تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن ہمارے قومی رہنماؤں ، ہمارے شہدا کی تاریخ کا مختصر خلاصہ بھی نہیں بتایا جاتا۔ ملک میں ایک بار بھی قصاص، نجات اور احتساب کے نام سے تحریکوں کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ لیکن ماضی گواہ ہے کہ یہی لوگ پہلے بھی عوام کو اپنی خواہشات کا ایندھن بنا چکے ہیں۔ یہ تحریکیں اپنے سیاسی مقاصد کےلئے چلاتے رہے ہیں۔ آج بھی یہ خالص سیاسی مقاصد سےتحریکیں چلا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی دوغلی سیاست اور ن لیگ کے بے مقصد دعوؤں کے مقاصد کیا ہمیں اب بھی نظر نہیں آ تے۔ آئی ایم ایف کے بعد چین اور ترکی سے قرض لے ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے تو ابھی تک عوام کو بجلی و گیس کے بحران سے نہ نکال سکے۔ رہی سہی کسر صحت ، صاف پانی کی کمی اور علاج کی بنیادی سہولیات چھین کر پوری کردی گئی ہے۔
ایسی صورتحال میں عوام یہ پوچھنے میں تو حق بجانب ہیں کہ رواں سال ہم نے 70واں یوم آزادی تو منا یا، کیا ہمارے کرپٹ ، کمیشن خور سیاستدان بتائیں گے کہ قوم ان زر خرید غلاموں سے کب آزاد ہوگی۔