شہبازشریف: پنجاب کی قیادت یا گمان

پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پنجاب کو وفاق پر حکمران طبقات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے کہ پاکستان کے وفاق میں سول و ملٹری لیڈرشپ اور اقتدار پر پنجابی حکمران طبقات کا اثرورسوخ گہرا ہے۔ یہ نقطۂ نظر غلط نہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچھے بھی بنگالیوں کا مغربی پاکستان کے بارے میں یہی تاثر تھا۔

یہ تو ہم اپنا دامن چھڑانے کے لیے کسی شخص پر الزام لگا دیتے ہیں کہ وہ اگر ایسے کرتا، ویسے کرتا، یوں نہ کہتا، یہ کہتا تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔  مکمل حقیقت یہی ہے کہ مشرقی پاکستان میں احساسِ محرومی ہی تھا جس نے اس کو بنگلہ دیش میں بدل دیا۔ یہ معاشی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی بالادستی کا ردِعمل ہے۔ پنجاب کا المیہ کیا ہے؟ اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ پنجاب کے لوگ میدانی علاقے کے لوگ ہیں۔ ان کا دل بڑا وسیع ہے۔ اپنی اِسی وسعت قلبی کے حوالے سے انہوں نے اپنا لیڈر چنتے ہوئے کبھی کوئی عار نہیں برتی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ ، ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو، پنجاب کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہوئے ہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ پنجاب کا لیڈر وفاق کے دوسرے حصوں میں اِن رہنماؤں کی طرح مقبول ہوا ہو۔ پنجاب نے پچھلے ایک سو سال میں کتنے ہی رہنماؤں کو جنم دیا جن کا بغور مطالعہ کریں تو ان کے تدبر، قابلیت، لیڈرشپ اور فراست پر داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ ان میں سر فضل حسین، چھوٹو رام، ملک معراج خالد، بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید، مصطفی کھر، حنیف رامے، نوابزادہ نصراللہ خان، محمود علی قصوری، اعتزاز احسن اور غلام حیدر وائیں سمیت متعدد رہنما شامل ہیں، جنہوں نے اپنی قیادت کے جوہر دکھائے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت کرنے کا موقع حاصل نہ کر پائے۔ میاں نوازشریف اور شہبازشریف کا دعویٰ اور ان کا احساس یہی ہے کہ وہ پاکستان کے مقبول رہنما ہیں، لیکن عملی حقیقت یہ نہیں۔

میاں نوازشریف ، پنجاب میں ہر ذرائع سے متعارف ہوئے، یعنی ’’سرپرستی میں قیادت کا جنم‘‘ بھی اور اپنے پاؤں پر بھی لیکن وہ بھی پنجاب کے باہر مقبول رہنما نہ بن پائے۔ یہ تو اُن کی انتظامی صلاحیت  Management ہے قیادت Leadership نہیں جو وہ وزارتِ عظمیٰ کے تخت تک جا پہنچتے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف کی قیادت کی کہانی اپنے بھائی کے سیاسی سائے تلے ہے۔ گو اُن کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک ولولہ انگیز، جوش وجذبے والا اور کرشماتی لیڈر سمجھتے ہیں۔ یہ اُن کا گمان ہے، حقیقت نہیں۔

پچھلے تیس سالوں میں پنجاب میں اُن کی سیاست اُن کو بنگال کا جیوتی باسو بھی نہ بناسکی۔ اُن کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے اُن کے بارے میں یہ رائے قائم کرنا مشکل نہیں کہ وہ اپنے بڑے گمانوں کے سحر میں مبتلا ہیں۔ گو وہ ذوالفقار علی بھٹو کے روزِاوّل سے ناقد ہیں اور اب اپنی اس نفرت کو ظاہر نہیں کرتے لیکن اُن کا مطالعہ کریں تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی وہ اصل نہیں۔ حبیب جالب کی نظمیں پڑھنا اور سٹیج پر تقریر کے بعد مائیکس توڑ پھوڑ دینا، حقیقت نہیں صرف دکھاوا Management ہے۔ لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو بننا چاہتے ہیں۔ افسوس کہ وہ حیات کی چھ دہائیاں گزارنے کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو نہ بن سکے۔

ذوالفقار علی بھٹو اپنی زندگی کی تیسری دہائی میں پاکستان کے مقبول ترین لیڈر اور چوتھی دہائی کے خاتمے پر سیاست کا میدان جیتنے کے بعد دار کے منتظر تھے۔ میاں شہباز شریف  اپنی ذات کے گمان کے سحر میں مبتلا ہیں۔ پچھلے سات آٹھ سالوں میں اسی لیے اُن کے پوسٹرزپر شلوار قمیص کی بجائے سوٹ بوٹ والی تصاویر نظر آتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسا لیڈر بنا کر پیش کرنے کی تگ ودو کررہے ہیں جسے ترقی کا رہنما  Leader of Developments کہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک سراب ہے جو انہوں نے اپنے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے سجایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود بھی اسی سراب کے اسیر ہوچکے ہیں۔ اگر وہ Leader of Developments ہوتے تو آج پنجاب یقیناًایک ترقی یافتہ صوبہ ہوتا۔ چین، ملائیشیا، ترکی کی مثالوں کی کیا ضرورت ہے، واہگہ بارڈر کے پار اِسی پنجاب کے دوسرے ٹکڑے کو دیکھ لیں، فرق صاف ظاہر ہے۔ اُن کی موجودہ حکمرانی آٹھ سالوں پر محیط ہے۔ 1985ء سے اب تک اقتدار کے پچھلے ادوار اور اپنے بڑے بھائی کے پیچھے بیٹھ کر اقتدار کو دیکھیں تو تین دہائیوں کا اقتدار ہے۔ آٹھ سالوں کی حکمرانی کا تسلسل قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ چند بڑے شہروں میں شاہراہوں کی وسعت، فلائی اوورز، دوتین روٹوں پر محدود سطح تک ٹرانسپورٹ چلا دینے پر کسی قوم کی تقدیر بدل دینا کا دعویٰ سراسر فریب ہے۔

شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی قیادت کے سائے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ قدرت نے اُن کو موقع دیا۔ لیکن اگر بے لاگ تبصرہ کیا جائے تو وہ نرگسیت کا شکار ہیں۔ وہ اپنے عشق میں اس قدر مبتلا ہیں کہ وہ اپنے سیاسی اقتدار میں اپنے ساتھیوں کو بھی شامل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اسی لیے اُن کی پارٹی میں اُن کے بعد کوئی لیڈرشپ نظر نہیں آتی اور نہ ہی کوئی دعوے دار ہے۔ اُن کی لیڈرشپ کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اُن کے مقابلے میں دوسری جماعتوں میں بھی بونے لیڈرز ہیں۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی بھی پنجاب میں متبادل لیڈرشپ کو جنم دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

شہباز شریف ایک ایسے خطے کے حکمران ہیں جو زرعی خطہ ہے، جس کی تاریخ وتہذیب، زرعی سماج میں رچی بسی ہے۔ اُن کا طبقاتی پس منظر، مرکنٹائل کلاس سے ہے۔ گو وہ ایک صنعتی ایمپائر کے روحِ رواں ہیں لیکن اُن کی شخصیت میں صنعتی قائد Industrial Leadership کا فقدان ہے۔ اپنے معاملاتِ زندگی وسیاست ہر طرح مرکنٹائل (تاجرانہ) انداز میں نمٹاتے ہیں۔ ایک دکان دار کی نشانی ہے کہ وہ دکان کی گدّی پر کسی اور کو بیٹھنے نہیں دیتا جبکہ ایک انڈسٹریلسٹ اپنی انڈسٹری کو اپنے سٹاف کے ذریعے چلاتا ہے۔ سیاست میں اُن کا سیاسی انداز اُن کے اسی مرکنٹال پس منظر میں رچا بسا نظر آتا ہے۔ اور ایک ایسے خطے (پنجاب) کی حکمرانی جو زرعی ہے، وہ اس خطے کے حکمران ہیں، اسی لیے ان کا وژن بڑے شہروں کی چند شاہراوں سے آگے نہیں۔

پنجاب صدیوں سے دانش کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ پنجاب کے کامیاب سیاسی حکمران ، سر فضل حسین ، سکندر حیات، میاں ممتاز دولتانہ، مصطفی کھر، حنیف رامے ،غلام حیدر وائیں اور دوسرے رہنماؤں کو دیکھیں تو وہ اپنے ارد گرد دانشوروں کو اکٹھا کر کے ، اُن کی محفلیں برپا کر کے اپنے سے زیادہ علم و فکر والوں کو اپنی محفلوں میں دعوت دے کر فخر محسوس کرتے تھے۔ میاں شہباز شریف ایسی محفلوں سے خوف زدہ ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ پنجاب یا دوسرے صوبوں کے دانشوروں کے درمیان پائے جائیں ۔ چند اخبارات کے رپورٹرز اور اور ٹی وی چینلز کے اینکر ز کو دانشور سمجھنا ایک مذاق ہے۔ وہ حکمرانی کی ضرورت ہیں۔ ویسے بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے جن لوگوں کو میاں شہباز شریف کے قریب دیکھا یا پایا جاتا ہے، وہ اپنے شعبے میں بہت نچلی سطح پر ہیں ۔ یقیناًان کی تمام تر لیڈر شپ کی خوش نصیبی ان کے بڑے بھائی کا سایہ ہے۔

بحیثیت حکمران انہوں نے جہاں ترقیاتی لیڈر شپ کا سراب پھیلایا ہے، وہیں اُن کی لیڈر شپ میں پنجاب کی سیاست اور سیاسی حلقوں میں دانش اور دانشورنا پید ہیں۔ اُن کا وژن کس قدر ہے، ذرا غور کریں چند سال قبل وہ ترکی کے خود ساختہ جلا وطن مذہبی دانشور فتح اللہ گلین کے مختلف پروجیکٹس کے اسیر ہوئے تو انہوں نے ترک حکومت، تب طیب اردوآن ترکی کے وزیر اعظم تھے ان کو خوش کرنے کے لیے یعنی ترک حکومت اور ترکوں کے ساتھ تعلقات میں وسعت دینے کے لیے کسی اعلیٰ ترک شخصیت کو اعزازی پی ایچ ڈی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں مجھ سے ہنگامی طور پر رابطہ کیا گیا تو میں نے تجویز کیا کہ فتح اللہ گلین کو آپ پی ایچ ڈی کی ڈگری دے کر ترک حکومت اور وزیراعظم کو خوش نہیں بلکہ دلی طور پر ٹھیس پہنچائیں گے۔ اس لیے کہ ان دونوں کے درمیان اختلافات ہیں جو جلد ہی پھوٹ پڑیں گے۔ راقم کی تجویز کے برعکس، انہوں نے فتح اللہ گلین کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی اور اس سلسلے میں ایک خصوصی تقریب کا بھی انتظام کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا علاقائی معاملات پر کیا وژن ہے۔

شہباز شریف پنجاب کے حکمران ہیں اور وہ ہر وقت اس کو شش میں بھی سرگرداں ہوتے ہیں کہ دوسرے صوبوں میں بھی ان کی لیڈرشپ کو فروغ  Building  ملے۔ میرے مطالعے کے مطابق جو لیڈر مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ان کو میڈیا مینجمنٹ اور امیج بلڈنگ کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔ بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھ لیں کہ ان کی شخصیات کا سحر تباہ کرنے کے لیے کس طرح میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ کفر کے فتوے اور کردار پر تہمتیں۔ لیکن وہ اس کے باوجود مقبول لیڈر بننے میں کامیاب ہوئے۔ گو  شہباز شریف کو یہ گمان ہے کہ وہ پنجاب کے ہی لیڈر نہیں بلکہ کامیاب لیڈر ہیں ، لیکن یہ صرف ایک گمان ہے۔ اُن کی حقیقت تو صرف ایک سائے کی سی ہے۔ اپنے بڑے بھائی کے سائے میں چلنے، پھلنے پھولنے والے خوش نصیب میاں شہباز شریف۔

اُن کو یہ بھی گمان ہے کہ اُن کے اقدامات اور ترقیاتی سیاست کے بل پر مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف بھی مستفید ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک گمان ہے۔ سیاست میتھمیٹکس نہیں ، 2+2=4 بلکہ سیاست میں 2+2 کبھی 4 بھی ہوتا ہے، کبھی 5 اور کبھی 3 بھی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت Following کا سبب بھی درحقیقت میاں نواز شریف ہیں۔ پنجاب کو میاں شہباز شریف نے لیڈر شپ مہیا نہیں کی بلکہ لیڈرشپ سے محروم رکھا۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پنجاب قیادت سے محروم Leaderless ہے۔ پنجاب کا لیڈر یا تو دیہات سے جنم لیتا ہے یا دانش سے۔ اس کا تعلق پنجاب سے ہو یا پنجاب کے باہر سے، لیکن اس کا وژن زرعی سماج کے بطن اور علم وفکر کے چشموں سے پھوٹتا ہے اور ایسا لیڈر ہی پنجاب کے لیے کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔