’نئے اجالے ہیں خواب میرے‘

’ نئے اجالے ہیں خواب میرے ‘ کے عنوان سے اکرم سہیل کی انقلابی شاعری پر مبنی تازہ تصنیف مارکیٹ میں آ چکی ہے۔ اکرم سہیل آزاد کشمیر کی بیوروکریسی میں مختلف محکموں کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دینے کے بعد حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ اگرچہ وہ ساٹھ سال عمر پوری کر کے ریٹائر ہو ئے ہیں لیکن ان کی عمر ساٹھ سال لگتی ہے نہ سوچ۔

دوران ملازمت بھی وہ اتنے ہی آزاد خیال رہے جتنے دوران تعلیم۔ اب ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنا تخلیقی و تحقیقی سفر جار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان تمام سرکاری ملازمین کی سوچ کو غلط ثابت کیا ہے جو کہتے ہیں کہ نظریہ تو وہ بھی رکھتے ہیں لیکن کیا کریں آخر ملازم ہیں۔ ایسے بہانے تراشنے والوں کے لیے مجھے ایک پہاڑی کہاوت یاد آ رہی ہے: ’ دل بے ایمان تے حجتاں ناں ڈھیر‘۔ جب کوئی کام کرنے کی ہمت و جرات نہ ہو تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیا جاتا ہے۔ لیکن جذبے سچے اور نیت صاف ہو تو بڑی بڑی رکاوٹین دور ہو جاتی ہیں۔ اکرم سہیل نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ملازم انسان بھی ہوتا ہے اور اﷲ تعالی حاکم وقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، جو اس پر بھروسہ کرتا ہے اﷲ تعالی اس کی رہنمائی، نگہبانی اور حفاظت کرتا ہے۔

دوران ملازمت نظم و نثر جیسا تخلیقی کام جاری رکھ کر انہوں نے غیر معمولی صلاحیتوں اورایک ا یسا مضبوط انسان ہونے کا ثبوت دیاہے جو سرکاری اداروں کے رنگ میں رنگنے کے بجائے ان پر اپنی شخصیت کا رنگ چڑھاتا ہے۔ ایسے ہی لوگ حقیقت میں اداروں کے اندر اصلاحات لانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہی ہمیشہ زندہ بھی رہتے ہیں ، ورنہ کتنے ملازم آئے اورنوکری کر کے چلے گئے۔ کسی کو خبر نہیں کہاں ہیں کیا کر رہے ہیں۔ اکرم سہیل نے بیوروکریسی کی بے ذوق دنیا کا باذوق انسان ہونے کا ثبوت دے کر سرکاری ملازمین کے لیے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ ان کو پیغام دیا ہے کہ ریاستی ملازموں کا کام تنخواہ کی خاطر اپنے دل و دماغ کو تالے لگانا نہیں۔ بلکہ جن کے دلوں و دماغوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ان کو کھولنے کے لیے رہنمائی کرنا ہے۔ اکرم سہیل یہ فریضہ وہ اپنی شاعری کے ذریعے سر انجام دے رہے ہیں۔

’نئے اجالے ہیں خواب میرے‘ میں اکرم سہیل نے اپنے مخصوص شاعرانہ انداز میں پاکستان کی ساری تاریخ اور ستر سالوں سے لٹکے ہوئے مسلہ کشمیر کے اسباب اور ذمہ داداران کے چہروں سے نقاب اتا را ہے۔ انہوں نے صرف تنقید ہی نہیں کی بلکہ بے زبانوں کو زبان، بے سہاروں کو سہارا، بے حسوں کو جذبہ، بے شعوروں کو شعور دینے اورخواب غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے کی بہترین کوشش کی ہے۔ ظالم کو للکارا ہے اور مظلوم کو اپنا حق مانگنے کا درس دیا ہے۔ اقبال کی طرح کسی کی ذات کو نہیں بلکہ معاشرے کی خرابیوں اور قوم کی تقدیر کو موضوع سخن بنایا ہے۔

یہ کتاب سب کے بارے میں سب کے لیے ہے۔ لیکن ان سرکاری ملازمین کو لازمی پڑھنی چائیے جنہوں نے تنخواہ کی خاطر اپنے دل و دماغ پر تالے لگا رکھے ہیں۔
قیمت 750 روپے، ناشر جمہوری پبلیکیشنز لاہور: 04236314140