محب الوطن کون ہے؟
- تحریر منور علی شاہد
- جمعرات 25 / اگست / 2016
- 6108
پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ میں کراچی کے عوام کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے25 سال کا بوجھ اتار پھینکا ہے۔ اب کراچی کو کوئی یرغمال نہیں کر سکے گا۔ ایم کیو ایم دو ہونگی کہ تین ، کچھ دنوں میں واضع ہو جائے گا۔ چوہدری نثار علی خاں نے یہ باتیں گورنر ہاؤس کراچی میں ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے الطاف حسین کے خلاف تمام شواہد برطانیہ کو دے دیئے ہیں۔ امید ہے کہ برطانوی حکومت جلد پیش رفت کرے گی۔ انہوں نے کراچی میں میڈیا ہاؤ سز پر حملوں کی مذمت بھی کی اور اور ان کی سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
وفاقی وزیر داخلہ کی اس پریس کانفرنس سے پہلے ہی بہت کچھ رونما ہو چکا تھا اور کراچی کی سیاست کے حوالے سے حال و مستقبل کے سیاسی مناظر کی کچھ دھندلی دھندلی تصویر سامنے بھی آئی تھی۔ یہ تاحال واضع تو نہیں ہیں لیکن بہت جلد سب کچھ سامنے آئے گا۔ 22 اگست کو الطاف حسین کی تقریر میں جو کچھ کہا گیا اور پھر اس کے ردعمل میں جو کچھ ہوا اس کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان مخالف بیان بازی کسی جماعت کے لیڈر کی طرف سے کی گئی ہو، بہت ہی شرمناک اور تشویشناک بات ہے ۔ پاکستان کے خلاف اس قسم کی ہرزہ سرائی کی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور اس قسم کی سوچ اور زبان کو قابو کرنا اداروں کا کام ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان مخالفین میں یہ تمیز نہیں ہونی چاہیئے کہ وہ اچھا پاکستان مخالف ہے یا برا پاکستان مخالف ہے۔ مخصوص مفادات کے لئے مخالفین کو پسند اور نا پسند کی نظر سے دیکھنا کسی بھی طور پر پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔ جو جماعتیں یا افراد پاکستان کے خلاف بولتے ہیں ان کے خلاف فوری کاروائی ضروری ہے، خواہ اس کا تعلق سیاست سے ہو یا مذہب سے یا کسی ادارے سے ۔ ہر کامیاب ریاست کی بنیاد قانون کی بالادستی پر ہوتی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار ایسا ہی ہوچکا ہے۔ اس قسم کی پاکستان مخالف تقریر پر حسب معمول رد عمل ہوتا رہا ہے اور حکومت کے مذمتی بیانات بھی اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ پھر معافی مانگنے پر مٹی ڈال دی گئی۔ اس بار ردعمل کچھ نئی تبدیلیوں اور اضافے کے ساتھ سامنے آیا ہے ۔ اب تک ہونے والی تبدیلیوں اور سیاسی بیانات سے یہ بات تو سامنے آئی ہے کہ ہمارے اداروں کی نظر میں ایم کیو ایم کی پوری جماعت پاکستان مخالف نہیں ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو پھر بہت پہلے ہی اس جماعت پر پابندی لگ چکی ہوتی۔ جس طرح ماضی میں جماعت اسلامی پر لگی تھی۔ پچھلے دو تین دنوں میں جو کچھ پریس کانفرنسوں میں کہا گیا ہے اس سے تو یہی پتہ چل رہا ہے کہ مسئلہ صرف الطاف حسین کا ہے اور اس کی ذات ہی وبال جان بنی ہوئی ہے۔
ایم کیو ایم کو الطاف حسین کے سحر سے نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسی لئے تو کراچی کے سابق مئیرمصطفی کمال کو بیرون ملک سے لایا گیا تھا۔ لیکن تاحال وہ حسب توقع کارگردگی نہیں دکھا سکے۔ الطاف کی تقریر کے بعد جس تیزی کے ساتھ فاروق ستار کو قابو کرکے پریس کانفرنس میں جو کچھ کہلایا گیا، اس سے بھی یہ بخوبی واضع ہوتا ہے کہ ابھی تک الطاف مائنس ایم کیو ایم سامنے لانے کی کوشش جاری ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اب ایک ایسی ایم کیو ایم قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جو الطاف کے بغیر ہو اورکراچی اور سندھ کی سیاست میں طے شدہ معاملات کے مطابق کردار ادا کر سکے۔ وزیر داخلہ نے تو اب خود اس بات کا پریس کانفرنس میں اقرار کر لیا ہے کہ ایم کیو ایم دو ہونگی یا تین، کچھ دنوں میں واضع ہو جائے گا۔ پھر تو کہانی ختم ہو گئی اور سب کچھ واضع ہوگیا۔
بہت عجب بات ہے کہ وزیر داخلہ برطانوی حکومت سے اسی جماعت کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا گورنر ان کے پہلو میں بیٹھا ہواتھا۔ اگر ایم کیو ایم پاکستان مخالف جماعت ہے تو ڈاکٹر عشرت العباد نے اسی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے گورنری کی مدت کے سارے ریکارڈ کیسے توڑ دئے۔ وزیر داخلہ نے خود ہی پریس کانفرنس میں حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ الطاف حسین کو یہ مشورہ کس نے دیا؟ کیا انہوں نے ازخود یہ فیصلہ کیا یا کسی کے کہنے پر ایسا کیا گیا؟۔ کوئی جناب سے پوچھے کہ اگر آپ کو شک ہے تو پھر باقی کیا رہ گیا۔ شک کا فائدہ تو ہمیشہ ملزم کو ہی پہنچتا ہے ۔
عام آدمی کی مت مار دی گئی ہے وہ کس کو حب الوطن سمجھے اور کس کو پاکستان دشمن۔ پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھا کر پارلیمنٹ میں پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، لیکن کبھی کسی کو کچھ نہیں کہا گیا۔ لیکن بیرون ملک ایک بندے کی تقریر پر وزیر اخلہ سکاٹ لینڈ یارڈ سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں سے نہ صرف کنفیوژن پیدا ہو رہا ہے بلکہ صوبوں کے مابین نفرت بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ نفرت دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔ پاکستان کے اندر کے دشمن کسی کو نظر نہیں آرہے، خاص طور پر پنجاب میں۔ پنجاب سے ہزاروں بچے اغوا ہو گئے۔ کیا یہ دہشت گردی سے کم سانحہ ہے ؟ اگر ادارے طے کر لیں کہ کسی پاکستان مخالف کو نہیں چھوڑنا تو پھرپولیس کا ایک ایس ایچ او ہی کافی ہے۔ وطن سے وفاداری کا تقاضا یہی ہے کہ بلا امتیاز فرقہ و جماعت کارروائی ہو۔
سنجیدہ اور امن پسند طبقوں کو یہی شکایت اور شکوہ ہے کہ کارروائیوں میں سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر تفریق کی جا رہی ہے۔ ایک کامیاب اور سیاسی طور پر مستحکم ریاست میں قانون کی بالا دستی ہوتی ہے۔ اس کی نظر میں سب ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ 22 اگست کی تقریر کے بعد25 اگست تک تین دنوں میں کراچی کا سیاسی منظر بہت بدل چکا ہے۔ فارق ستار اب ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ بن چکے ہیں اور بلدیاتی انتخابات کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کے انتخابات کے انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان نے میدان مار لیا ہے۔ حیدرآباد میں بھی ایم کیو ایم پاکستان کو کامیابی ملی ہے۔ کراچی کے نومنتخب مئیر وسیم اختر نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کراچی میں امن چاہتے ہیں۔ ہم میجر جنرل ہلال اکبر کے ساتھ ہیں۔ مجھے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کی راہنمائی چاہیئے۔ ان تبدیلیوں اور بیان کے بعد کے بعد کراچی کے شہری امن کی بانسری سننے کو بے تاب ہیں۔