نفرتوں کا دیوتا۔۔۔ انجم چودھری

یوں تو نفرت کی ہار ہر زمانے میں ہوئی ہے خواہ وہ براہ راست ہو یا بالواسطہ طور پر۔ کیونکہ نفرت ایک ایسا فعل ہے جس کی زیادتی اور ہٹ دھرمی کہیں نہ کہیں ایک مقام پر آکر دم توڑ دیتی ہے۔دنیا جب سے قائم ہوئی ہے تب سے نفرت کا آغاز ہوا اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ نفرت کا پیغام دینے والوں نے اپنی ہی آگ میں جل کر اپنی شخصیت اور پہچان کو مٹا دیا ۔

دنیا میں نفرت کے اظہار کے کئی طریقے ہیں۔ ان کا شکار ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو امن اور شانتی کے پجاری ہوتے ہیں۔ اس میں کئی نام ایسے ہیں جس کو رہتی دنیا تک بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ مثلاً جرمنی کا ہٹلر، روس کااسٹالن، والچیا کا شہزادہ ولا ڈروکولا، ہنگری کی الیزیبتھ بتھوری، ہینرچ ہیملر ،فرانس کے میکسملن و بیسپیر، روم کا نیرو، شمالی کوریا کا کم سنگ، روس کے زار اور یوگانڈاکے عیدی امین وغیرہ ایسے نام ہیں جنہوں نے اپنی نفرت اور ہوس سے لاکھوں معصوم لوگوں کا قتل عام کیا اور دنیا میں امن پسندوں کا جینا بھی دو بھر کر دیاتھا۔

ان نظریات کے حامل لوگوں کا نفرت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے خواہ وہ کسی جماعت کی سربراہی کرتے ہوں یا انفرادی طور پر اپنی نام نمود و طاقت کے سہارے کمزور لوگوں کو پریشان کرتے ہوں۔ایسے لوگ اب بھی نفرتوں کے ترشول سے امن کا سینہ چاک کررہے ہیں اور دنیا کے امن پسندوں کا جینا دو بھر کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص نے برطانیہ میں پچھلے بیس برسوں سے اپنی نفرت بھری تقریروں سے عام آدمی کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ آئے دن میڈیا اس کی باتیں لوگوں تک پہنچا کر برطانیہ کا ماحول خراب کر تاہے۔

اس شخص کا نام انجم چودھری ہے جو پچھلے کئی سالوں سے نفرت بھری باتوں سے برطانیہ کے شہریوں کو ہراساں کرتا رہا ہے۔ انجم چودھری کئی نوجوانوں کو بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی بنیاد پر گمراہ کرتا رہا ہے اور اسلام کی تعلیم کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا رہا ہے۔ایک سو دس نوجوان اس کی باتوں میں آکر اسلام کے نام پر یا تو اپنی جان گنوا چکے ہیں یا پھر وہ خطرناک انتہا پسند بن گئے ہیں۔اس کے علاوہ انجم چودھری پر پولیس کا یہ بھی الزام ہے کہ اس نے آٹھ سو پچاس نوجوانوں کو اپنی گمراہ کن باتوں سے انہیں شام میں جا کر لڑنے پر اکسایا تھا۔لیکن انجم چودھری پولیس کی جال میں تب پھنسا جب اس کے ایک آن لائن لیکچر سے اس بات کا پتہ چلا کہ وہ کس طرح لوگوں کو اکسا رہاتھا۔ بالآخر انجم چودھری پر(ISIS) یا داعش سے ساز باز کرنے کا الزام ثابت ہو گیا ۔

انجم چودھری کی نفرت بھری اور اشتعال انگیز تقریر کے علاوہ یہ بات بھی ناقابل قبول تھی کہ وہ برطانوی فوجیوں پر انتہا پسندی کا الزام لگاتا تھا اور ان کے بارے میں ایسے بیان جاری کرتا کہ ہر شہری شدید تکلیف محسوس کرتا۔ اس موقع پر انجم چودھری کے پیروکاروں کو برطانوی جھنڈے کو جلاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس نے مرنے والے فوجیوں کے جسدِ خاکی کی برطانیہ آمد پر بے حرمتی کرنے کا بھی اہتمام کیا۔ اس کے علاوہ انجم چودھری کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ بکنگھم پیلیس کو ایک دن مسجد میں تبدیل کر دے گا۔انجم چودھری کی قائم کردہ جماعت کا نام المہاجرون تھا جس کے بینر تلے وہ اپنی نفرت کا پرچار کرتا تھا۔
چودھری اور اس کے نائب مجاز رحمن کو دہشت گردی کی دفعات (Terrorism Act 2000)کے تحت مجرم پایا گیا ہے اور اس مقدمہ میں ان دونوں بدنام زمانہ مجرموں کو لگ بھگ دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ حالانکہ جسٹس ہولی رائڈ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان دونوں کو اس سے زیادہ سخت سزا سنانے کے لئے ان کے پاس اختیار نہیں ہے ۔ان دونوں کو 6؍ستمبر کو سزا سنا ئی جائے گی۔انجم چودھری کے والدین کا تعلق پاکستان سے تھا۔ اس کے والدین دیگر لوگوں کی طرح ہجرت کر کے برطانیہ آئے اور لندن کے وولچ علاقے میں بس گئے۔ ابتدائی دور میں انجم چودھری کے والد مقامی مارکیٹ میں تجارت کرتے تھے۔ انجم چودھری نے اسکول سے فارغ ہوکر ڈاکٹر بننے کا سپنا لے کر ساؤتھیمٹن یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ لیکن پہلے ہی سال خراب نتیجہ کی وجہ سے انجم چودھری کو میڈیسن چھوڑ کر قانون کی ڈگری کے لئے داخلہ لینا پڑا۔ انجم چودھری اپنے کالج کے دنوں میں شراب پینے کے عادی تھے اور لڑکیوں سے دوستی کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔

ہنری جیکسن تھنک ٹینک کی ریسرچ کے مطابق برطانیہ میں 1999کے بعد جتنے بھی لوگ دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ہیں ان کا براہ راست تعلق انجم چودھری کے المہاجرون گروپ سے تھا۔لیکن انجم چودھری قانونی معلومات ہونے کی وجہ سے، وہ ہمیشہ پولیس کو چکمہ دے جاتا تھا۔انجم چودھری کو مجرم ثابت کرنے میں حکومت کو کئی ملین پونڈ اس پورے معاملے کی جانچ کرنے پر صرف کرنا پڑے۔ لیکن بہت سے لوگ حکومت پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ حکومت اتنے دنوں تک جان بوجھ کر انجم چودھری کو گرفتار کرنے سے گریز کرتی رہی۔ کیوں کہ وہ چاہتی تھی کہ انجم چودھری کے نفرت انگیز بیانات سے اسلام بدنام ہو۔ تاہم 2014میں اسلامک اسٹیٹ کو جب غیر قانونی گروہ قرار دیا گیا تب انجم چودھری نے ایک اہم غلطی کی۔ اس نے اسی سال اپنے نائب کے ہمراہ اپنے دستخط کے ساتھ اسلامک اسٹیٹ کی حمایت میں حلف اور بیعت کرملی۔ یہ انٹر نیٹ پر بھی جاری کی گئی ۔اس کے دو ماہ بعد انجم چودھری کو گرفتار کر لیا گیا اور اس پرہائی کورٹ میں مقدمہ چلا یا گیا۔

مانچسٹر سنٹرل مسجد کے امام عرفان چشتی نے کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ’ برطانوی مسلمان کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور مسلم کمیونٹی انجم چودھری کی نفرت بھری باتوں کو ہمیشہ مسترد کرتی رہی ہے اور یہ ایک بہترین خبر ہے‘۔ کمانڈر ڈین ہیڈن کا کہنا ہے کہ انجم چودھری اور اس کے پیروکاروں نے برطانیہ میں اپنی دہشت گردی کی مہم سے نوجوانوں میں بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا زہر گھول دیا تھا۔ اس کی باتوں سے متا ثر ہو کر ہزاروں نوجوان اپنی جان گنوا رہے تھے اور برطانیہ کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے تھے۔

انجم چودھری کی مقبولیت اس وقت بڑھی تھی جب ان کے استاد لبنان کے باکری کے برطانیہ داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ باکری نے لندن انڈر گراؤنڈ کے بم دھماکے میں خود کش حملہ آوروں کی ستائش کی تھی۔ اور انہیں اسلامکے نام پر دہشت گردی کرنے پر اکسا یا تھا۔اس کے بعد باکری کی غیر موجودگی میں انجم چودھری نے المہا جرون کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے پیروکاروں کے ساتھ میڈیا کی سرخیوں میں نظر آنے لگے۔ انجم چودھری کے جلسے میں ان کی تقریر سے لوگوں مشتعل ہوجاتے تھے۔ ان کے پیروکاروں کو ایسے نعرہ لگاتے ہوئے سنا گیا: ’برطانوی فوجیوں کو جہنم کی آگ نصیب ہو‘ یا ’ افغانستان برطانوی شہنشاہیت کا مقبرہ بنے‘۔
انجم چودھری کے کئی متنازعہ بیان ہیں جو لوگوں پر اثر کرتے تھے۔ ۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ ’ہمارا جہاد برطانوی لوگوں کے خلاف ہے جو کافر ہیں اور اللہ کا نام سب سے اونچا ہے‘۔ ’اگلی دفعہ آپ کا بچہ اسکول جائے اور استاد یہ پوچھے کہ تمہاری کیا خواہش ہے تو جواب یہ ہو نا چاہئے کہ برطانیہ سمیت پوری دنیا میں اسلام کا راج ہو ۔‘ انجم چودھری نے ہمیشہ اپنی دفاع میں اس بات پر زور دیا کہ اگر ایک انسان کو اپنی بات کہنے کی آزادی نہیں ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے اور اگرآپ کو اس ملک میں اپنے بارے میں اظہار کرنے کا حق بھی نہیں ہے تو یہ اس ملک کے لئے شرمناک بات ہے۔

اب بات چاہے کچھ بھی ہو 49 سالہ انجم چودھری پر نفرت پھیلانے کا جرم ثابت ہونے سے برطانیہ کے لوگراحت محسوس کررہے ہیں۔ اور راحت کیوں نہ ہو جب انجم چودھری آئے دن اپنے انوکھے انداز میں مذہب کی آڑ میں لوگوں کو اکسا تے تھے اور برطانیہ کے لاکھوں مسلمانوں شرمندگی محسوس کرتے تھے۔ انجم چودھری شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مقصد مذہب کی آڑ میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ دکھانا تھالیکن اس کی غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز باتوں سے اس نے صرف ایک خاص مذہب اور قوم کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ اس نے اسلام کے ماننے والے امن پسند لوگوں کو بھی تکلیف پہنچائی۔ یہاں یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ آپ مذہب کی آڑ میں لوگوں کو گمراہ تو کر سکتے ہیں لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔

مسلمان نوجوانوں کو انجم چودھری جیسے سر پھرے انسان کی باتوں سے اثر قبول نہیں کرنا چاہئے ۔ وہ اسلام کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پوری نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ اس کی باتوں پر نہ تو دھیان دیں اور نہ ہی اس کی باتوں سے کوئی سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ کیونکہ انجم چودھری اپنے بُنے ہوئے جال میں خود ہی پھنس گیا ہے۔