ہنوئی ایک شہرِ بے مثال
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 27 / اگست / 2016
- 5737
ہنوئی ائیر پورٹ پر لینڈ کرتے وقت اندازہ نہیں تھا کہ اس شہر کے دن اور رات کو کیسے ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے وہ شہر جو کبھی افسانوی شناخت رکھتے تھے، آبادی کے غیر معمولی دباؤ اور باسیوں کے گھناؤنے رہن سہن سے مسخ ہو چکے ہیں۔ اب اُن افسانوی شہروں میں گھومتے ہوئے آپ اُس دہلی اور لاہور کو تلاش کرتے ہیں جو کبھی کہانیوں کی بنیاد تھے ۔ اب آپ ان شہروں کی سڑکوں پر لوگوں کے ہجوم کو ایک دوسرے سے اُلجھا ہؤا دیکھتے ہیں۔
جہاز لینڈ ہونے تک میرا تصور ہنوئی کے بارے میں یہی تھا کہ یہ جنوب مشرقی ایشیا کا ایک ایسا شہر تھا جس میں آپ زندگی کا حُسن تو شاید ہی دیکھ پائیں سوائے قدرتی نظاروں کے۔ جہاز کے پہیوں نے ہنوئی کے نوئی بائی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو چھوا تو سرسبز منظر نے آنکھوں کو نرم اور معطر احساس دیا جو چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ یہ ائیرپورٹ پھومنھ کمیون کے علاقے میں ہے۔ نہایت جدید، نفیس اور صاف ستھرا ائیر پورٹ۔ کھلیانوں میں چھوٹے اور جدید مکانوں کا خاص ویتنامی طرزِتعمیر، سرخ کھپریل کی پگوڈا نما چھتیں۔
ائیرپورٹ پر ایک میزبان لڑکی ہماری منتظر تھی جسے بعد میں فن لینڈ سے ایک اور مندوب کا بھی استقبال کرنا تھا۔ جب گاڑی شہر ہنوئی کی طرف گامزن ہوئی تو اندازہ ہو گیا کہ ویتنامی جہاں اپنی آزادی کی جنگ لڑنا جانتے ہیں، وہیں ذوق بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ ہوچی منہ اور کارل مارکس کے بڑے بڑے قدر آور نیون سائن اور کمیونسٹ پارٹی کے جھنڈوں کے علاوہ صفائی ستھرائی کا نظام، ان کے ذوقِ زندگی کا عکاس تھا۔ بحیثیت سیاسی جہاں گرد کسی بھی ملک اور قوم کا مزاج اس کے ٹریفک کے نظام ہی نہیں، اس ملک کے ہوائی اڈوں، ریلوے سٹیشن اور بسوں کے اڈوں سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس کی تصدیق شہر کی طرف گامزن سڑکوں سے ہوتی ہے۔ میرے ناسٹلجیا نے میری بے چینی کو انتہا پر پہنچایا ہواتھا۔ شاندار ہائی وے پر گاڑی دوڑی تو معلوم ہو گیا کہ ملک صرف ماضی کے غرور میں ہی نہیں الجھا ہوا بلکہ آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کچھ دیر بعد ہنوئی سے باہر دریا پر ایک نہایت جدید وسیع پُل نے اس ترقی کے قدموں کی تصدیق کردی۔ یہ پل ہنوئی کے اردگرد گھومتے دریا پر ہے۔ ہم نے گاڑی کے ڈرائیور سے درخواست کی کہ گاڑی پل پر روک لے، کچھ قدرت کے نظارے کو اپنی آنکھوں کے ذریعے دماغ میں اتار کرلوں۔ دریا کا نام پوچھا تو جواب تھا، سرخ دریا۔ اپنی کم علمی کی بنیاد پر بڑی خوشی کا احساس ہوا کہ واہ کیا بات ہے، سرخ ملک کا سرخ دریا۔ انقلابی دریا۔ بعد میں معلوم ہوا، اس دریا کے نام کا سبب اس کی سرخ مٹی ہے۔ اس نام کا ویتنام کے انقلاب سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن پھر بھی خوشی تھی کہ چلو جو بھی ہے، ہے تو سرخ دریا۔ سرخ دریا چین کے جنوب مغرب سے یونان نامی صوبے سے نکلتا ہے۔ اس کو سرخ دریا اور ویتنامی ماں دریا (Mother River) بھی کہتے ہیں۔ سرخ دریا، ہنوئی کا سرخ نیکلس ہے۔ شہر کے گلے پر سجا یہ خوب صورت منظر جب میں نے شہر کی تعمیر شدہ سب سے اونچی عمارت لوٹی سینٹر ہنوئی کی 65 ویں منزل سے دیکھا تو پتہ چلا سرخ دریا کیسے اس شہر کے حسن کو دوبالا کرتا ہے۔ 65 منزلہ لوٹی سینٹر 876 فٹ بلند عمارت ہے۔ اس سے اونچی عمارت، لینڈ مارک ہے جس کی بلندی 1102فٹ ہے۔
ہنوئی شہر میں داخل ہوتے ہوئے اندازہ ہوگیا کہ یہاں زیادہ تر چھوٹی ملکیت ہر بنے گھر ہیں مگر نہایت ہی خوب صورت، کسی فیکٹری کے شوکیسوں میں سجی ہوئی پیسٹریوں کی طرح۔ ٹھیک ٹھاک آبادی، مگر ہجوم نہیں۔ ٹریفک مگر ہڑ بونگ نہیں۔ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں مگر رفتار کی حد میں اور ٹریفک میں چھوٹی سکوٹیز اور موٹر سائیکل کو چلاتی صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس خواتین، ایسے جیسے کسی پارٹی میں شرکت کے لیے جارہی ہیں۔ نہایت منظم۔ تمام موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ہوئے اور نہایت مناسب رفتار۔ جوں جوں گاڑی شہر میں داخل ہوتی گئی، ہنوئی کا نیا تصور ابھرتا گیا۔ خوش کن حیرانی ویتنام کے ماضی میں پھنسی قوم نہیں ماضی کی بنیاد پر حال میں رہنے والی اور مستقبل کی طرف بڑھتی ہوئی قوم ہے۔ شہر میں قدیم اور جدید عمارتوں کا امتزاج شہر کی ترقی کا بھی غمازی تھا اور ذوق کا بھی۔
ہوٹل پہنچنے کے بعد پہلے دن اور ہر روز دوپہر کے بعد ہنوئی کی دریافت کا جنون سر پر سوار ہوتا تھا۔ جوں جوں شہر دیکھا، سارا تصور ہی بدل گیا۔ ہم نے دنیا کے معروف حسین شہروں کی بھی سیاحت کی ہے اور غیر معروف حسین شہروں کی بھی۔ ہمارا ’’عشقِ استنبول‘‘ احباب میں جانا جاتا ہے اور جب بھی استنبول سے واپسی ہوتی ہے تو ایک ہی دعا دل میں موجزن ہوتی ہے، زندگی رہی تو دوبارہ استنبول کو دیکھیں گے۔ ’’جیوندے رہے تے آن ملاں گے‘‘۔ مگر ہنوئی جتنا دریافت کیا، اس کے حسن کا سحر بڑھتا گیا۔ مکینوں اور مکانوں دونوں کا۔ اگر مکینوں کا ذوق خوب صورت نہ ہو تو بستیاں کبھی خوب صورت نہیں ہو سکتیں۔
ہنوئی شہر میں ایک سو کے قریب جھیلیں ہیں۔ میرے سوال پر ہماری ایک ویتنامی میزبان نے کہا، نہیں، ہنوئی جھیلوں کے اندر تھے۔ آہ کیا خوب صورت بیان ہے اپنے شہر کا! ان میں چھ بڑی جھیلیں ہیں۔ اس شہر پر چینی اور فرانسیسی تہذیب و ثقافت کے اثرات نے اس کے حسن میں یقیناً اضافہ کیا اور اس شہر کے باسیوں کے طرزِ زندگی اور تعمیر پراثر ڈالا ہے۔ ہنوئی ویتنام کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ تقریباََ ساڑھے سات لاکھ آبادی پر مشتمل ہنوئی ایک ہزار سال سے آباد ہے۔ اس شہر کا حسن اس کی فرانسیسی، چینی اور ویتنامی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے ، جس نے ہنوئی کو تہذیبوں کے ملاپ کا ایک لاجواب شاہکار بنا دیا ہے۔ سڑکوں کا خوب صورت نظام اور فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ تناور درخت، ہر طرف پھیلے پارک اور پارکوں میں کھلے پھول۔
اشتراکی شہروں کی سب سے بڑی انفرادیت سڑکیں اور پارک ہوتے ہیں جو اس شہر میں اس کے حُسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ بیشتر عمارتوں کا رنگ فرانسیسی طرز پرہے۔ ہنوئی کا حسن اس کی عمارات اور پارکوں تک محدود نہیں۔ اُس کا اصل حسن ہنوئی کے شہری ہیں۔ بہ حیثیت سیاسی جہاں گرد میرے تجربے میں ویتنامی عوام نہایت ہی ملنسار ہیں اور غیرویتنامیوں کا احترام کرتے ہیں۔ یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ احترامِ آدمیت اُن کی قدروں میں شامل ہے۔ اگر کوئی آپ کو عرب، ایرانی اور ترک دنیا میں مسلمان جان کر گرم جوشی دکھاتا ہے تو ہم اس پر پھولے نہیں سماتے۔ لیکن ویتنام میں آپ کا عقیدہ، نسل اور قوم سے تعلق نکالے بغیر آپ کو محبت اور احترام کا تجربہ ملے تو اسے احترامِ آدمیت ہی کہیں گے۔ ہنوئی میں ویتنامیوں کا یہ کردار ایک شہری روایت کے طور پر پایا۔ ہوٹل کی انتظامیہ، ٹیکسی ڈرائیور، دکان کا سیلز مین ہی نہیں بلکہ راہگیر بھی۔ ایک سیاح کی نظر غیر جانبدار ہوتی ہے۔ ایسا سیاح جس نے دنیا کی پچاس کے قریب قوموں کے مزاج کا سیاحت کے دوران تجربہ کیا ہو، اس کے مشاہدے کی آنکھ کا تیز ہوجانا ایک لازمی بات ہے۔ ہنوئی کی خوب صورتی، اس کے شہریوں کا مزاج ہے اور سونے پہ سہاگہ کہ ویتنامی خوب صورت قوم ہے۔ توند تو شاید ہی کسی مرد وزن کی دیکھی اور خوش لباسی بھی بے مثال۔ سڑک پر ٹوکری میں لڈو بیچنے والی خاتون بھی جس طرح خوش لباس پائی، اس سے اندازہ ہوتا ہے قومی کردار کا۔ خوش اخلاقی، خوش گفتاری، تنگ نظری ندارد اور وسعت قلب موجود۔
ہم پاکستان کی جھیلوں پر بڑا فخر کرتے ہیں لیکن ان جھیلوں کا ہم نے کیا حشر کیا؟ اس کا ذکر نہیں کرتے۔ ہم تاریخ کے غرور اور حال کے مغالطوں میں پھنس گئے ہیں۔ صرف سیاست تک نہیں بلکہ قدرت کے حسن و جمال کے حوالے سے بھی۔ ہنوئی شہر کی جھیلیں اس کا حُسن ہیں تو ہنوئی کے باشندوں نے ان جھیلوں کے گرد ان کے حُسن کو دوبالا کر رکھا ہے۔ ان جھیلوں کے گرد، دن ہو یا رات ایک زندگی برپا ہوتی ہے۔ لوگ یہاں یوں اکٹھے ہوتے ہیں جیسے کسی کی بارات جا رہی ہو۔ ویک اینڈ پر تو عجب سماں ہوتا ہے۔ شاید سارا شہر ہی ان جھیلوں کے گرد جمع ہوجاتا ہے۔ پیرس اور پراگ کے کیفے مشہور ہیں لیکن ہنوئی کے کیفے پیرس اور پراگ سے کہیں آگے ہیں۔ جھیلوں کے گرد کیفے، ہر گلی میں پھیلے کیفے، ہنوئی کی کافی دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں قسم قسم کی کافی ملتی ہے۔
ہنوئی کی ایک جھیل ہوآن کیم تو شہر کا جھومر ہے۔ ہفتے کے سات دن اور رات یہاں شہریوں کی باراتیں آتی ہیں زندگی کا جشن منانے۔ جو قومیں اپنے آج کو منانے میں پیش پیش پائیں، ان میں ویتنامی کسی سے پیچھے نہیں ۔ ہوآن کیم جھیل کے اندر ایک چھوٹے سے جزیرے پر ٹرٹل ٹاور واقع ہے اور جھیل کے چہار اطراف خوب صورت سڑک۔ ساتھ ساتھ پارک اور پیدل چلنے کا ٹریک اور ہنوئی کے شہریوں کا اکٹھ۔ کیا حُسن ہے اس نظارے میں۔ ویتنامی زبان میں ہوآن کیم کا مطلب ہے، بازیافت تلوار کی جھیل۔ اس جھیل کے اندر ایک کنارے کنفیوشس ٹیمپل اور جنت کا سماں ہے۔ چہرے ہشاش بشاش، سائیکل سوار ہو یا موٹر سائیکل سوار یا گاڑی والا، سب کے چہروں پر خوشی۔ یہ بھی قومی کردار کا ایک پہلو ہے۔ جھیل ہوآن کیم، ہنوئی شہر کا مرکز ہے۔ اس کے اردگرد گلیاں اور بازار ہی بازار ہیں۔ یہاں آکر لگتا ہے کہ شاید ویتنامی عوام نے کبھی مصائب نہیں دیکھے۔ لیکن میرا تجربہ ہے جن قوموں نے جنگوں کا عذاب سہا ہو، زندہ رہنے کا فن بھی وہی قومیں جانتی ہیں۔
قبرصی، لبنانی، بوسنین اور ویتنامیوں کو میں نے زندگی کا جشن مناتے ہوئے پایا۔ ہو آن جھیل، ہنوئی کی طرزِزندگی کی علامت ہے۔ ہو آن جھیل کے گرد زندگی کا نظارہ کرنے میں صرف شام ڈھلے ہی نہیں گیا بلکہ رات گئے ، دوپہر، صبح دن کے آغاز کے وقت بھی ہنوئی کے رہنے والوں کو یہاں زندگی کا جشن مناتے ہوئے پایا۔
ایک شام میں کامریڈرا کھی کے ہمراہ جھیل کنارے بیٹھا اس جشن کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیے لطف اندوز ہو رہاتھا۔ ہمارے اردگرد بیٹھے ویتنامی نوجوان لڑکے لڑکیوں نے ہمیں اپنی خوشی میں شریک کرنے کے لیے گفتگو میں شامل کر لیا۔ ایک سیاح کے حوالے سے اس سے کسی قوم کی تنگ نظری(نسل پرستی) کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ نوجوان جوڑے اجنبیوں کے ساتھ جیسے گھل مل جانے کا اشتیاق رکھتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ویتنامی تعصبات اور کسی قوم پرستی کے غرور کا شکار نہیں۔ اجنبیوں کے ساتھ یہ محفل دوستی کا سبب بنی۔ جب بھی ہمیں ہنوئی میں لوگوں کے ساتھ ملنے کا موقع ملا ، ایسا ہی تجربہ ہر بار ہوا۔ تصاویر کھنچوانے کی فرمائشیں اور گفتگو کی جستجو۔
ہنوئی کے حُسن نے ہماری تین دہائیوں کی جہاں گردی میں غیر متوقع تجربے میں اضافہ کیا۔ ہنوئی اور اس بستی کے باسی ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ جتنا حسن قدرت نے اس سر زمین کو دیا، اتنا ہی اس کے باسیوں نے بھی عطا کیا۔ اِسی خوبی نے اس بستی کو ہمارے سفرِشوق میں سر فہرست کر دیا۔