اگال دان، قلم دان سے انسان تک
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 27 / اگست / 2016
- 9443
دان دراصل ہندی زبان میں بان کا متبادل لفظ ہے یعنی بان اور دان ہم معانی الفاظ ہیں۔ یہ وہی دان ہے جو اعلی ظرف ہو تو دیِن (عطا) ہوتی ہے اور کم ظرف ہو تو بھیک بن کر کاسہ سوال میں میں اترتی ہے۔ اس کے اخلاقی مضمرات کیا ہیں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن جواب دینا آج کل بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔ دان کا ہوس کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔
ہماری تہذیبی و تمدنی اعلی دور کی باقیات میں سے تو اب صرف دو ہی ’دان‘ یعنی پاندان اور اگالدان بچ رہے ہیں۔ پان کی کڑواہٹ اور اگالدان کی غلاظت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے۔ لیکن پان کی پیک اور زبان سے نکلی بات میں اس وقت کوئی فرق نہیں رہ جاتا جب بات اخلاق سے گری ہوئی ہو۔ ایسی بے شرمی کی بات جس سے ملک وملت کے ہر فرد کی د ل شکنی ہو، کو آپ پان کی پیک کی طرح غلیظ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی اپنا بیان دوسرے دن یہ کہہ کر واپس لینا چاہے کہ میں اپنا بیان واپس لیتا ہوں۔ یہ ایسے ہی جیسے وہ اگالدان کی پیک کو واپس۔۔۔۔ اپنے منہ۔۔۔
وہ تو شکر ہے کہ اس دان کے ساتھ جڑے الفاظ کی تلاش میں مجھے کہیں کسی کونے میں سہما ہؤا قلمدان بھی نظر آگیا جو کبھی خود بھی، ہماری تہذیبی و تمدنی اعلی اقدار کی باقیات میں سے ایک ہے ورنہ جب سے سیاسی عہدوں، میرا مطلب ہے وزارتوں کو قلمدان کا نام دیا گیا ہے قلمدان کی اپنی بھی عزت جاتی رہی ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ قلم کی سیاہی ابھی مکمل خشک نہیں ہوئی ہے۔ اور چند جواں ہمت لکھاری باقی ہیں جو اس کی آبیاری میں لگے ہوئے ہیں۔
اردو کے نامور افسانہ نگار اور محقق اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ ’’طوطا‘‘ کو درست طریقے سے ’’ تو تا‘‘ لکھا جانا چاہئیے۔ اشفاق صاحب کے اسی اصول کے پیش نظر میں یہاں ایک مرکب لفظ تالی بان ایجاد کررہا ہوں۔ حالانکہ اس حوالے سے مجھے اور بھی خدشات ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ تالی بان کس بلا کا نام ہے۔ تو اس کا جواب یہ کہ آپ کا اتنا ہی جاننا کافی ہے کہ یہ ایک بلا کا نام ہے۔ اور اس سے زیادہ جان پہچان نہ ہی ہو تو اچھا ہے اور اس میں آپ کی اور ہم سب کی خیر ہے۔
ہم نے اپنے بچپن میں کہانیاں پڑھیں تھیں جن میں ایک کہانی ایسی بھی تھی جس میں کسی شہر میں ایک سمندری بلا ہر سال نازل ہوا کر تی تھی اور اپنے بچاؤ کے لئے، قرب و جوار میں بسنے والے لوگ سب سے کمزور فرد جو عام طورپر کو ئی بچی ہی ہو تی تھی، کا دان دے کراپنی جان بچاتے تھے۔ اور بلا سے خیر و امان طلب کرتے۔ اس زمانے میں بھی ’طلب ‘اور ’دان‘ کا چولی دامن کا ساتھ تھا اور آج بھی ’طلب‘ اور’ بان‘ کا ساتھ ہے۔
حالانکہ ہماری دانست میں’ طلب ‘کے ساتھ جڑ ا بہترین لفظ’ علم ‘ ہوا کرتا تھا جیسے’ طالبِ علم‘ اور گھوڑے یا ہاتھی کے ساتھ بان کا لفظ ملا یا جا تا تھا جیسے فیل بان۔ مگر المیہ یہ ہے کہ میری اختراع کو ضد ہے کہ طلب کے ساتھ بان لگا دیا جائے۔ جب طلب ہوس بن جائے تو اسے ’ تلب‘ کا نام دیا جا نا چاہیئے اور اس طرح لفظ تالی بان بھی ایجاد کیا جا سکتا ہے۔
دان کا ہم قافیہ ایک اور لفظ جو ہمیں اس وقت یاد آرہا ہے ۔۔۔ وہ ہے گری بان(گریبان) ارے بھئی یہ وہی گریبان ہے جس کے متعلق غالب نے کہا تھا:
حیف! اس چارگرہ کپڑے کی قسمت غا لب ؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہو نا
کچھ من چلوں کا خیال ہے کہ یہ اس گریبان کا ہر گز ذکر نہیں جو آج کل ہمارے یہاں کے نو جوانوں کے گلے کو بند کر نے سے زیا دہ ان کے سینے کے بالوں کو دکھا نے کے اور یورپی خواتین کی آزادی کا ثمرہ سنانے کے کام آتا ہے ۔ بلکہ غالب جیسا ذہین شخص جس’’ گری بان ‘‘ پر شعر باندھ رہا ہے، وہ گرا پڑا نہیں بلکہ بہت اعلی قسم کا گریبان ہے جس تک عام فہم انسان کی سوچ نہیں پہنچ سکتی۔ غالب یوں ہی اسد سے غالب نہیں بن گئے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اسد جنگل میں غالب رہتا ہے۔ تو تان اب یوں ٹوٹی ہے کہ غالب نے جہاں اور بہت کچھ کہا وہیں ساتھ میں جان چھڑانے کو یہ بھی کہہ دیا کی بک رہا ہوں جنوں میں جانے کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کر ے کوئی۔
لیکن ان کی ایک بات بہت زیادہ سمجھنے کی ہے کہ آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا۔ تو سوال ذہن میں یہ اٹھتا ہے کہ آخر آدمی انسان کیسے بن سکتا ہے۔ کیا واقعی ایک آدمی انسان بن سکتا ہے۔ بن تو سکتا ہوگا مگر اس کی شرط بڑی کڑی ہے۔
بان سے دان اور گریبان سے ، بات دست و گریباں تک پہنچتی ہے۔ حالانکہ اگر آپ اخبار بین ہیں اور سیاسی خبریں پڑھتے رہتے ہیں تو اسمبلی کی کارروائی بھی پڑھتے ہوں گے۔ اس کارروائی میں سب سے اہم کام یہی دست وگریباں ہونا ہی تو ہو نا قرار پایا ہے۔ اسمبلی تو خیر سے اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی بدنام ہو گئی ہے، ورنہ سیاست، مذہب ،ادب اور تعلیم جس شعبے پر نظر ڈالیں گریباں چاک ہی نظر آتے ہیں۔ کسی کا گریباں چاک کر کے اس پر تالی بجا نا ہی تو اصل میں تالی اور بان کا شیوہ ہے۔
دیکھئے بات نکلتی ہے تو تلک چلی جاتی ہے۔ لیکن تالی بان سے بان، دان، گریبان، اگالدان اور قلمدان پر ہی ٹک گئی ہے۔ آخر اس گلدان نے کیا قصور کیا ہے جو اس کا ذکر نہیں آرہا۔ گلدان پھول لگا نے کے علاوہ سر پھاڑنے کے بھی کام آتا ہے۔
ہم نے اپنے بچپن میں مداری کا تماشہ بہت دیکھا اور بہت ہی شوق سے دیکھا۔ مگر آج کل ایسے مداری کے تماشے کو سیاست کر نا کہتے ہیں۔ مداری کے تماشے میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح جادوئی زور سے مداری کسی انسانی بچے کو چادر سے ڈھانپ کر قتل کر دیا کر تا تھا۔ خون بھی بہتا اور پھر چند لمحوں میں وہ بچہ جیتا جاگتا کھڑا ہو جاتا اور بھاگنے دوڑ نے لگتا۔ مداری کے اس مصنوعی قتل اور سیاسی شعبدے میں فرق اتنا ہے کہ ان کے فساد میں بہنے ولا خون لال رنگ کا سیا ل نہیں اصلی ہو تا ہے۔