الطاف حسین کی سیاسی خود کشی
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- اتوار 28 / اگست / 2016
- 9454
ریاستی اداروں کے پروردہ ‘فرینکن سٹائن مونسٹر‘ الطاف حسین نے بالآخر سیاسی خود کشی کر لی اور اپنے سیاسی اور غیر سیاسی ہتھیاروں کی کھیپ اسٹبلشمنٹ کے سپرد کر دی۔ فوجی آمروں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی حکومتوں کے دوران ریاستی اداروں کے کندھوں پر سوار ہو کر طاقت کا وحشیانہ مظارہ کرنے والا خونی مونسٹر، کیا اپنے منطقی انجام تک پہنچتا نظر آرہا ہے؟
حالات کا تقاضا اور ہوا کا رخ تو اسی جانب اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر اس کا انحصاراسٹبلشمنٹ کی آیندہ پالیسی اور سیاسی قیادت کے جرات مندانہ سیاسی فیصلوں سے پر ہوگا۔ اگر اسٹبلشمنٹ نے ماضی کی طرح بغل بچہ سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کی آبیاری کرنے اور اپنے تیئں ناپسندیدہ سیاسی قیادت اور جماعتوں کو راستے سے ہٹانے کی بدنام زمانہ پالیسی جاری رکھی اور سیاسی ضرورتوں کے تحت کسی نئے ‘عفریت‘ کو تخلیق کرنا شروع کر دیا تو ایک نئے بحران کے آغازکی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی کہ اسٹبلشمنٹ نے کبھی ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہو۔
سیاسی خود کشی کے بعد الطاف حسین کا دوبارہ اپنی قوتوں کو مجتمع کرنا، ماضی کی طرح بھرپورعوامی حمایت اورسیاسی طاقت حاصل کرنا دن بدن مشکل ہوتا جائے گا۔ ایم کیو ایم میں دراڑیں وسیع ہونے کے امکانات بڑھتے جائیں گے اور الطاف حیسن کے کراچی میں سیاسی اور عوامی روابط وقت گزرے کے ساتھ کمزور پڑتے جائیں گے۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل کراچی میں ایم کیو ایم کی قیادت میں شامل افراد کی اکثریت الطاف حسین سے نجات پانے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔ کراچی ایم کیو ایم کے راہنماؤں کے لئے الطاف حسین سے نجات پانے کا اس سے زیادہ سنہری موقعہ شاید پھر کبھی نہ ملتا۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کی یہ قیادت اس زریں موقع کو ہاتھ سے نیہں جانے دے گی۔
اسٹبلشنٹ کا پیغام بڑا واضح ہے کہ اب پاکستان کی سیاست میں الطاف حسین کا نام شجر ممنوعہ بنا دیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے کسی گروپ یا فرد نے سیاسی سرگرمیوں، تحریر یا تقریر میں ان کا نام یا تصویر کا استعمال کیا تو اس گروپ یا فرد کے خلاف کاروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ اور ہر قسم کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اسٹبلشمنٹ اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بت خود ہی پاش پاش کرنے پر مجبور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایم کیو ایم تو رہے گی مگر الطاف حسین کو قصہ پارینہ بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے گی۔
پاکستانی اسٹبلشمنت اس جادوئی کاروائی میں مہارت رکھتی ہے۔ اس کارگر ہتھیار کو پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی پر بلاخصوص اور مسلم لیگ، جماعت اسلامی، جے یو آئی، بلوچ اور سندھی قوم پرست جماعتوں پر بالعموم آزمایا جا چکا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں اپنے ناموں کےساتھ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں مگر ان جماعتوں کو ان کی اصل روح سے محروم کر کے ان کی سیاسی سرگرمیوں کے گرد دائرے کھینچ دئے گئے ہیں۔ طاقت کے بل بوتے پر اسٹبلشمنٹ نے سیاسی جماعتوں کے گرد دائروں کو تنگ کرکے ملکی سیاست پر اپنی گرفت کی مہر ثبت کر دی ہے۔ یہ پاکستان میں جمہوریت، جمہوری عمل اور جمہوری اداروں کے ارتقا، استحکام اور خودمختاری پر کاری وار سے کم نہیں ہے۔
کیا الطاف حسین، بائی پولر سنڈرم، پرسنیلٹی ڈس آرڈر یا پیراناڈ سنڈرم جیسی نفسیاتی بیماروں کا شکار ہو چکے ہیں۔ یا کسی سنگین جسمانی بیماری میں مبتلا ہیں۔ الطاف حسین سے بالمشافہ ملاقات کرنے والے اشخاص سے ان کے سنگین جسمانی اور نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہونے کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ مگر ایم کیو ایم اب تک ان اطلاعات کو پراپیگنڈہ سے تعبیر کرتی رہی ہے۔ الطاف حسین کے پاکستان مخالف حالیہ بیانات کے پیچھے کوئی گہرے سیاسی عزائم ہیں جن کی پشت پناہی خفیہ ہاتھ یعنی بین لااقوامی طاقتیں بشمول ہندوستان کر رہے ہیں۔ یا یہ بیانات الطاف حسین کی سنگین ذہنی، نفسیاتی یا جسمانی بیماری کا شاخسانہ ہیں۔ دونوں صورتوں میں الطاف حسین کا جرم نا قابل معافی ہے۔ جس سے الطاف حسین کی ملکی سیاست میں گنجائیش باقی نہیں رہتی۔ اور نہ اس کا امکان نظر آتا ہے۔
اب الطاف حسین کی سیاسی دوکان کا پکوان پھیکا پڑتا جا رہا ہے اور اس کے نام پر سیاست کی دوکان چمکانے کے راستے روز بروز مسدود ہوتے نظر آ رہے ہیں۔