غدار اور محب وطن ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں
- تحریر سلطان حسین
- سوموار 29 / اگست / 2016
- 4694
بات شروع کرنے سے پہلے ہم آپ کو ایک خطاب سناتے ہیں یہ خطاب الطاف حسین نام کے ایک شخص کا ہے اور اس نام کو شاہد ہی کوئی محب وطن فرد بھول سکتا ہو۔ آج کل ایم کیوایم کے امریکہ اور کینیڈا کے کارکنوں سے کانفرنس کال کے ذریعہ کی گئی گفتگو کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ لندن سے نیویارک، شکاگو اور کینیڈا میں کال کے ذریعے پاکستان کے خلاف نعرے لگانے اور پاکستان توڑنے کے حوالے سے ان کا کارکنوں کو ''فرمان'' تھا کہ اسرائیل ، امریکہ ، بھارت سے رابطے قائم کرو اور انہیں بتاؤ کہ پاکستان قائم رہنے کے لائق نہیں۔ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاؤ ۔ اس نعرے کو اپنا سلوگن بنا ؤ ۔
اس اجتماع میں موجود را کے ایجنٹوں کا کہنا تھا بھائی میں شکاگو سے آرش بول رہا ہوں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ٹویٹر پر پاکستان مردہ باد کا سلوگن لگاؤں گا۔ کوئی مائی کا لال مجھے روک نہیں سکتا۔ جواب میں الطاف حسین اسے شاباش دیتے ہوئے کہتا ہے شاباش میرے بیٹے ۔ بھائی آپ بے فکر ہو جائیں ۔ پاکستان مردہ باد کے سب سے پہلے نعرے کینیڈا سے لگیں گے۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے بھائی آپ جو پیغام دیں گے ہم اس کو لےکر چلیں گے۔ ہم کینیڈا میں آفس کھولنے کو تیار ہیں۔ ہم یہاں سے پاکستان کے خلاف تحریک چلائیں گے۔
نیویارک سے بھی کہا گیا انشا اللہ بھائی آپ کی دعائیں حاصل ہیں ، جیسا کہیں گے ویسا ہو گا۔ الطاف حسین کہتا ہے خدا اس ملک کو تباہ و برباد کر دے ۔ پھر سب مل کر کہتے ہیں آمین آمین ۔ غدار کہتا ہے اسرائیل، امریکہ بھارت سے رابطے کرو، اس ملک کو تبا ہ برباد کر دیا جائے۔ اس ملک میں جو وردی پہن کر عیش کر رہے ہیں، انہیں تباہ کر دیا جائے۔ آمین کے بعد پھر سب نے کہا بھائی تقسیم در تقسیم مقدر ہے اس پاکستان کا ۔ بھائی جو نظر آرہا ہے، یہ ملک مزید تقسیم ہو گا۔ بھائی ہم پہلے بھی آپ کے ساتھ تھے، آج بھی آپ کے ساتھ ہیں اور انشا اللہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔ بھائی ہم تو آپ کو اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی ایک آواز سے پورے پاکستان میں اوپر سے نیچے تک ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بھائی یہ ملک نہیں رہے گا بھائی ۔۔۔
آج کی دنیا دس بیس سال پہلے کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ دس بیس سال پہلے کوئی بات بہت بعد میں پتہ چلتی تھی۔ آج دنیا اس قدر تیز رفتار ہوچکی ہے کہ منٹوں سیکنڈوں میں ہر بات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اپنی اصل حالت میں پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھائی کے '' فرمان'' سے لوگ جلد باخبر ہوجاتے ہیں اور ان کی معافیوں سے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ لیکن ''بھائی'' نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ ہر معافی کے بعد پھر اپنی اصلیت ضرورظاہر کرنی ہے۔ ان کا ہر '' فرمان'' جلتی پر تیل کا نہیں بلکہ پانی میں آگ لگانے کا کام کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ آگ لگتی نہیں اور ہم صرف تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ ''بھائی'' نے اپنے حالیہ ''زرین '' خیالات سے ایک بار پھر کوشش کی ہے، جس پر ہر کوئی رائے دے رہا ہے اور حکومت ہے کہ بڑے'' ٹھنڈے دل و دماغ '' سے کام لے رہی ہے۔
سیاستدان ''بردباری'' کا مظاہرہ کررہے ہیں، کیونکہ یہ ملک کا معاملہ ہے۔ ان کی ذات کا نہیں۔ عام پاکستانی اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کر رہا ہے، جبکہ سیاستدان اور حکمران ''میانہ روی'' کا درس دے رہے ہیں۔ کون صحیح ہے اور کون غلط ۔۔۔ اس کا فیصلہ ہم کرنے والے کون ہوتے ہیں، جنہوں نے کرنا ہے وہی اس کا بھی فیصلہ کریں گے۔ عام آدمی ملک بچانے کی فکر میں ہے۔ انہیں جمہورت کی فکر ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک زیادہ اہم نہیں جمہوریت زیادہ اہم ہے۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ سوشل میڈیا میں ایک طوفان آیا ہوا ہے۔ لیکن اس کی طرف کون دھیان دے۔ فاروق ستار پارٹی کوبچانے کے لیے لندن سے علیحدگی کا ڈرامہ کررہے ہیں۔
لندن والے کے کراچی والے بھائی نے ایم کیو ایم کا کاروبارِ سیاست تو سنبھال لِیا ہے اور اپنے بھائی کے اڑھائی سو عقیدت مندوں کے ‘پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے لگانے سے لا تعلقی کا اعلان توکردِیا لیکن اپنے بھائی کے ''فرمان'' کی مذمت نہیں کی۔ وہ ایسا کر بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ یہ سب کچھ لندن کے مشورے سے ہی کررہے ہیں۔ ان کے بقول ذہنی دباؤ اور پریشانی کے باعث الطاف بھائی نے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے اور لگوائے۔ انہوں نے جو کچھ کہا ہمارے ''سادہ لوح '' سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ان پر یقین کر لیا اور ان کی حامی بن گئے۔
ایک پاک فوج ہی ہے جو تن تنہا لڑ رہی ہے۔ لیکن آخر کب تک۔ کیونکہ اسے بھی حکمران دبانے اور خاموش کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ لوگ بڑے پرامید ہیں کہ گوروں کے دیس میں کارروائی ہوگی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو گوروں کے مفاد میں ہوگا وہی ہوگا، وہ نپیں جس میں ہمارا مفاد ہو۔ لگتا ہے کہ نہ یہاں کچھ ہوگا نہ وہاں کچھ ہوگا۔ کچھ عرصے بعد یہ معاملہ بھی دیگر معاملات کی طرح ٹھنڈا پڑ جائے گا۔
شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں غدار اور محب وطن دونوں ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔