جل پریوں کادیس ۔۔۔۔ بلو ٹوتھ کاموجد

جل پری یا بنت البحر ایک اساطیری و افسانوی کردار ہے، جس کا نچلا دھڑ مچھلی اور اوپری دھڑ انسانی عورت کا ہوتا ہے۔ دنیا کی بہت سے تہذیبوں اور ثقافتوں میں اس کے تذکرے ملتے ہیں۔ جس شدت و یقین کے ساتھ اس کے تذکرے دیو مالائی داستانوں میں ملتے ہیں، اُس سے گمان گزرتا ہے کہ شاید یہ حقیقت میں بھی موجود ہے لیکن در حقیقت یہ صرف ایک افسانوی کردار ہے۔ جل پریوں کے قصے اور کہانیاں ہمیں دنیا کی مختلف قدیم ثقافتوں میں ملتے ہیں۔ کسی بھی محقق کے لیے تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا کہ جل پری کا تصورکہاں سے شروع ہوا۔

جن، بھوت، پریوں اور دوسری حیرت انگیز حلیوں والی مخلوق کا تصور ہمیں دنیا کی تمام ثقافتوں میں ملتا ہے۔ مگر، جل پریوں کے بارے میں جو چیز توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف علاقے اور ثقافتوں کے لوگوں نے بالکل ایک ہی جیسی مخلوق کاذکر کیا ہے۔ بے انتہا حسین و جمیل عورت جو صرف کمر تک ہی انسان تھی اورباقی دھڑ مچھلی نما۔ بہت سی کہانیوں میں یہ انسانوں سے باتیں کرتی دکھائی جاتی ہیں اور بہت سی داستانوں میں یہ صرف گانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مگر تمام تاریخی تذکروں میں سب سے دلچسپ تذکرہ کرسٹوفر کولمبس کا تھا۔

ایسی ہی ایک کہانی ہم نے بھی بچپن میں پڑھی تھی کہ ملک ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن کا ایک شہزادہ ہرماہ چودھویں کی شب ساحل سمندر کے کنارے آتا اور ایک خوبصورت جل پری اس سے ملنے سمندر کی تہہ سے باہر آتی اور وہ دونوں گھنٹوں محو گفتگو رہتے۔ حتی کہ صبح ہو جاتی اور تب  شہزادے کی لاکھ منت و سماجت کے باوجود جل پری کو جانا ہو تا۔ ایک دن جذبات سے مغلوب ہوکر، جل پری کے منع کر نے باوجود جب شہزادے نے جل پری کوچھوا تو وہ پتھر کی بن گئی اور اسی حالت میں وہ آج تک کوپن ہیگن کے ساحل پر یوں ہی منجمد بیٹھی سیاحوں کا دل بہلانے کا سبب بنی ہوئی ہے۔

اس کہانی کو پڑھنے کے بعد ہی ہمارے دل میں تمنا مچلنا شروع ہوگئی تھی کہ ہم بھی کسی دن اس جل پری کی زیارت کریں گے۔ اور اسی خواہش کو سینے میں دبائے ہم نے کوپن ہیگن کا قصد کیا۔ برلن سے بذریعہ ٹرین ہم ڈنمارک کی طرف روانہ ہوئے۔ ہماری ٹرین صبح پانچ بجے برلن شہر کے ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہونی تھی۔ ہم نے سونے سے قبل ہی سامان سفر باندھ لیا کہ صبح اٹھ کر سامان اٹھا کر چل پڑیں گے۔ بروقت اسٹیشن پہنچ کر ہمیں احساس ہوا کہ وقت کی پابندی کبھی کبھی کتنی تکلیف دہ بھی ہو سکتی ہے۔ ٹرین تھی کہ اپنے مقررہ وقت پر آکے ہی نہ دیتی تھی۔ پھر گھبرا کر میں نے اپنے برادر خورد کو فون کر ڈالا۔ وہ نیند میں بڑبڑائے تم ضرور اپنے دھن میں مگن رہے ہوگے اور سفر کی تیاری میں مشغول آج کی کوئی خبرسننے کی زحمت نہ کی ہوگی ورنہ تمہیں پہلے سے ہی پتہ چل جاتا اور تم پوار ایک گھنٹہ ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں گزارنے پر مجبور نہ ہوتے۔ آج سے یورپ میں وقت تبدیل ہوگیا ہے۔ تم ذرا ریلوے کی گھڑی پر نگاہ ڈالو اس وقت پانچ نہیں چار بجے ہیں۔ وہ تو شکر کرو کہ تم سرما کے اوقات سے مارے گئے۔ یہی واقعہ اگر تمہیں گرما میں تبدیلی اوقات میں پیش آتا تو تمہاری ٹرین جاچکی ہوتی اور ٹکٹ کا نقصان الگ ہوتا۔ اب میری نیند مت خراب کرو اور انتظار کرکے وقت مقرہ پر روانہ ہو جاؤ۔

خیر صاحب اس صبح صبح کی بد مزگی کے بعد ہم ٹرین میں بیٹھ گئے۔ ٹرین سابقہ مشرقی جرمنی کے شہر روسٹوک کی جانب گامزن ہو گئی۔ اس وقت چونکہ میرے پاس جرمن شہریت نہیں تھی لہذا مجھے سفر کے آغاز سے قبل ویزے کی شرائط مکمل کرنا پڑی تھیں اور ایک ہفتے کی مہلت اور کچھ فیس ادا کر نے کے بعد ہمیں ویزہ ملا تھا۔ جس کے بعد ہمیں سلطنت ڈنمارک میں داخلے کے سلسلے میں کوئی تشویش نہ رہی تھی۔ روسٹوک سے آگے چل کر ہماری ٹرین وارنمنڈے کے پورٹ میں داخل ہو گئی۔ آگے مشرقی سمندر ہے جس کے ساتھ جرمنی کی سرحدی حدود سمندر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ یہاں پر ٹرین پانی کے جہاز کے اندر داخل ہو کر رک گئی۔ اب ہمیں اس سمندری راستے سے ڈنمارک میں داخل ہو نا تھا۔ دورا ن سفر ہمیں آزادی تھی کہ یا تو ہم بدستور ٹرین کے ڈبے میں بیٹھے رہیں اور چاہیں تو اتر کر پانی کے جہاز پر چلے جائیں۔ جب ہم ٹرین کی بوگی سے اتر کر جہاز پر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جہاز کیا ہے ایک چلتی پھرتی سمندری تفریح گاہ ہے۔ یہاں خریداری کرنے کے لیے کیش اینڈ کیری شاپس ہیں۔ پینے پلانے کے بار بھی ہیں جس میں آپ چاہیں تو غیر الکوہلک مشروبات سے بھی دل بہلا سکتے ہیں۔ الغرض سفر کے دوران آپ کو کوئی بوریت نہ ہو اس کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔

جب جہاز ڈنمارک کے ساحل گیڈسر پر لنگر انداز ہو نے لگا توٹرین کے مسافر اپنی اپنی بوگیوں میں اپنی اپنی نشستوں پر، براجمان ہو گئے۔ جب گیڈسر کے پورٹ پر ٹرین جہاز سے باہرآئی اور پلیٹ فارم پر کھڑی آگے جانے کی منتظر تھی تو اس دوران ڈنمارک کا سرحدی عملہ دھڑا دھڑ ٹرین پر سوار ہو کر مستعدی سے مسافروں کے پاسپورٹ اور ویزے چیک کر نے لگا۔ چنانچہ سرحدی پولیس کا عملہ ہمارے پاس بھی آیا اور ہمارے پاسپورٹ الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا اور اشارے سے ہمارے سامان کا پوچھنے لگا۔ میں نے اسے انگریزی میں سمجھا نا چاہا کہ ہمارے ویزے لگے ہوئے ہیں اور ہمارا سامان اوپر رکھا ہؤا ہے۔  اس نے ہمیں جواب دیا آپ کو ہمارے ساتھ آنا ہو گا۔ اب اس کے ساتھ جانے کا تو صاف یہ مطلب  تھا کہ اسے ہمارے پاسپورٹ یا ویزے پر شک ہے ۔ اور وہ ہمیں ڈنمارک کی حدود میں یا تو داخل ہونے سے روکنا چاہتا ہے یا مزید  تشفی کرنا چاہتا ہے۔

مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق ہم نے اپنے اپنے بیگ اٹھائے اور سرحدی پولیس کے عملے کے پیچھے جو ہمارے پاسپورٹ ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا، چل پڑے۔ اسٹیشن کی حدود سے باہر ایک چھوٹی سی پولیس چوکی تھی ۔ پولیس والا ہمیں اندر لے گیا اور اپنے دوسرے افسر کو ہمارے پاسپورٹ دے کر، کسی طرف کو نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک شیشے لگے کاؤنٹر پر ایک اور افسر نے ہمیں یکے بعد دیگرے بلایا اور سوال کر نے لگا۔ ہم کہاں جارہے ہیں کیوں جارہے ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں نے اس افسر کو سمجھایا کہ ہمیں تو برلن میں ڈنمارک کے سفارت خانے نے کافی ساری ویزے کی فیس لینے اور ایک ہفتے کی معیاد کے بعد ویزہ جاری کر نے کے بعد یہی بتا یا تھا کہ ہم بلا کسی روک ٹوک آپ کی مملکت خداداد میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اورتین ماہ تک جس شہر میں چاہیں قیام کر سکتے ہیں۔ اب ہم اسے کیا بتا تے کہ دراصل ہم تو جل پریوں کے دیس میں اس جل پری کا مجسمہ دیکھنے کی آرزو لیے محو سفر  ہیں، جو پتھر کی بن گئی تھی۔ لیکن ایسا لگتا تھا کہ اب ہم انتظار کرتے کرتے پتھرا جائیں گے۔ چونکہ کوئی کچھ نہیں بولتا۔ یہ نہیں کہتا کہ ویزہ درست نہیں تم واپس جاؤ۔ یہ نہیں کہتا کہ ویزہ لگا ہے داخل ہوسکتے ہو۔ میں نے ٹرین کے اوقات، چوکی میں لگے ایک بورڈ پر پڑھ لئے تھے۔ ہماری ٹرین چھوٹنے کا مطلب یہ تھا کہ ساڑھے تین گھنٹے بعد ہی کسی دوسری ٹرین کا ملنا ممکن ہوتا۔ میں نے افسر سے درخواست کی کہ میری ٹرین نہ چھوٹے اس بات کا خیال رکھا جائے۔ مگر اس نے میری درخواست پر کان نہ دھرا۔

جب ٹرین روانہ ہوگئی تو میں چوکی سے باہر نکلا اور سامنے باغیچہ میں گھاس پر بیٹھ کر انتظار کر نے لگا کہ پولیس اپنی کاروائی کرکے ہمیں جواب دے تو پھر اس کی روشنی ہی میں کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے قیام کا بندوبست کوپن ہیگن میں تھا۔ اور اگر یہ لوگ ہمیں ڈنمارک میں داخل ہو نے سے روک دیتے تو ہمارے لئے  برلن واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ میرا واپسی کا ٹرین کا ٹکٹ اوپن تھا اورکوپن ہیگن جانے کا ٹکٹ اگلی ٹرین میں بھی چل سکتا تھا۔ سوائے انتظار کی کوفت کہ مجھے کچھ زیادہ پریشانی  نہ تھی۔ مگر غصہ ضرور آرہاتھا کہ ویزے کی فیس اور تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود یہاں پر خوار ہو نا پڑ رہا ہے۔ ہم دو گھنٹے تک وہاں بیٹھے دھوپ تاپتے رہے اور پھر ایک افسر چوکی سے نمودار ہوا اور ہمیں ہاتھ کے اشارے سے اندر بلایا۔ ایک بار پھر ہم کاؤنٹر پر جا کھڑے ہوئے۔ اس نے باری باری بغیر کچھ کہے ہمارے پاسپورٹ ہمارے حوالے کر دیئے۔ پاسپورٹ دوبارہ ہاتھ میں لیکر ایک طرح سے فرحت بھی محسوس ہوئی اور شکر ادا کیا کہ بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے میں اب ہم داخل ہو جائیں گے۔ ٹرین اپنے وقت پر ہی آئی اس سے یہ نہ ہوا کہ ہماری خستہ حالی کے سبب ایک دن وقت مقررہ سے پہلے ہی آجاتی۔ اب ہم کوپن ہیگن کی جانب رواں دواں تھے۔ کوپن ہیگن میں اسٹیشن سے بس پکڑ کر ہم اپنے مطلوبہ فارم ہاؤس پہنچ گئے۔

ڈنمارک کی تاریخ خاصی دلچسپ ہے۔ اس کا نام تاریخ میں چھٹی صدی میں پہلی بار سامنے آیا۔ یہ دور وائی کنگ دور کہلاتا ہے۔ جب ڈینش اپنے نارویجن اور سویڈش ساتھیوں کے ساتھ دوردراز سفر پر جایا کر تے تھے اور تجارت اور لوٹ مار کیا کر تے تھے۔

آپ سب ’بلو ٹوتھ‘ استعمال کر تے ہوں گے مگر میں آج آپ کو بتاؤں گا کہ ’ہارالڈ بلو ٹوتھ‘ نامی ایک بشخص ڈنمارک کا بادشاہ گزرا ہے جس کے نام سے یہ بلو ٹوتھ لیا گیا ہے۔ اور اس کا مخصوص نشان اسکنڈے نیویا کے پتھروں پر کندہ تحریروں کے حروف تہجی ایچ اور بی سے بنا ہوا ہے جو اس بادشاہ کے پہلے اور دوسرے نام کا پتہ دیتا ہے۔ اس بادشاہ اور اس کے پوتے نے گیارہویں صدی میں ڈنمارک کو وسعت دی۔ اور ناروے، سویڈن اور انگلستان کے بہت سارے حصوں کو یکجا کر دیا تھا۔

اس کی حکومت تو ختم ہوگئی تھی مگر سن 1357 میں درحقیقت ان تینوں ملکوں نے مل کر ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی اس طرح  چودھویں صدی میں کالمار سلطنت کی بنیاد پڑی۔ ڈنمارک کی سلطنت نے چرچ اور ایک ہنساایٹک لیگ نامی تنظیم کی مد د سے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو برقرار رکھا ۔ ایک جانب ان کے پاس طاقتور بحری بیڑا تھا تو دوسری جانب  فنی مہارت اورکیربین میں قلعہ بند کالونیوں کا قیام ۔۔۔ جو آگے چل کر افریقہ اور ہندوستان تک پہنچا۔ عالمی غلاموں ، چینی اور مصالحہ جات کی تجارت میں ڈنمارک  دو سو سال تک شریک رہا۔ پھر اٹھارویں صدی میں برطانوی سامراج اس میدان میں اتر آیا۔

نیپولین کے جنگی دور کے بعد سے ڈنمارک میں تہذیبی اور تمدنی ترقی کا ایک نیا دور جنم لینے لگا۔ جس میں بیرٹل تھوروالڈسن، نیکولائی گرنڈوک اور ہنس کرسچن اینڈرسن جیسے عظیم فنکار وں نے ڈنمارک کو دنیا میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بنیاد پر متعارف کرایا۔ ہنس کرسچن اینڈرسن وہ عظیم مصنف تھا جس کی کہانیوں میں سے ایک کہانی کا کردار شہر کوپن ہیگن کی پہچان بن گئی۔ اور یہی وہ جل پری ہے جس کی تلاش میں ہم کوپن ہیگن کو عازم ہوئے تھے۔ ڈینش زبان میں ’للی ساحل کی دوشیزہ‘ انگریزی زبان میں لٹل میر میڈ‘ کو اردو میں جل پری کہا گیا ہے اور ڈنمارک کو کئی ایک مصنفوں نے جل پریوں کے دیس کا خطاب دیا ہے۔ ہنس کرسچن اینڈرسن کے اس کردار کو ایڈورڈ ایرکسن نے کانسی کے مجسمے میں ڈھال کر تیار کیا ہے۔ جسے ایک وزنی چٹان پر رکھ کر سیاحوں اور فنکارانہ صلاحیتوں کے دلدادہ افراد کی سیر نظر کا سامان کیا گیا ہے۔  اسے کوپن ہیگن کے لانگ لائن ساحلی تفریح گاہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی اونچائی ایک اعشاریہ 25 میٹر ہے اور اس کا وزن ایک سو پچھتر کلو گرام ہے۔ جس طرح نیویارک کا امتیازی نشان آزادی کا مجسمہ ہے بالکل اسی طرح کوپن ہیگن کا امتیازی نشان جل پری کا یہ مجسمہ ہے جسے ہر سال ہزاروں سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ ہم جل پری کے مجسمے سے بہت مرعوب ہوئے۔ اسے قریب سے دیکھا ، چھوا مگر خدا کا شکر ہے  ہم پتھر کہ نہ بنے۔

کوپن ہیگن کے پورٹ سے ایک چھوٹا جہاز سویڈن کی بندگاہ مالمو کو ہر گھنٹے بعد روانہ ہو رہا تھا۔ ہم کوپن ہیگن کے ساحل پر خوب گھوم پھر چکے تو جہاز پر گئے اور اس کے کپتان سے اپنے مالمو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ ہمارے پاس سویڈن کا ویزہ نہیں ہے۔ اس نے ہمیں قریبی سرحدی پولیس کے دفتر کا راستہ دکھا دیا۔ میں نے سوچا جرمنی اور ڈنمارک کی سرحد پر ہمارے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی تھی۔ ہمارے پاس ایک کارمد ویزے کی موجودگی کے باوجود ہمیں روکا گیا تھا۔ اب یہ ڈنمارک سویڈن کا سرحدی عملہ اس زیادتی کا ازالہ ہمیں سویڈن کے دن بھر کی سیر کی اجازت کی صورت میں دےکر کر سکتا ہے۔ میں نے اپنا پاسپورٹ پیش کیا اور کہا کہ میں جرمنی میں رہتا ہوں اور میرے پاس ڈنمارک کی سیاحت کا بھی ویزہ ہے اگر آپ مجھے اس جہاز سے سویڈن کے شہر مالمو کی سیر کی اجازت دے دیں تو میں آپ کا بہت مشکو ر ہوں گا۔ اور میں وعدہ کر تا ہو ں کہ اسی جہاز سے شام کو واپس لوٹ آؤں گا۔ جہاز کے کپتان نے بھی دور سے عندیہ دیا کہ وہ تیار ہے۔ سرحدی پولیس افسر نے ہمارے پاسپورٹ اپنے پاس جمع کرکے ہمیں ایک رسید بنادی اور کہا کہ آج رات بارہ بجے کے بعد یہ پاسپورٹ ضبط تصور کیا جائے گا۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ تم کوئی ہزیمت اٹھانے کی بجائے اس سے پہلے پہلے لوٹ آنا۔ اور سویڈن اور ڈنمارک دونوں ملک کی سیر سے لطف اندوز ہونا۔ شکریہ کہہ کر اس نے ہمیں چلتا کر دیا۔

جہاز پر ہم لوگ تھوڑی دیر میں ہی مالمو پہنچ گئے۔ سویڈن کا یہ چھوٹا سا ساحلی شہر خاصا دلچسپ ہے۔ شام کو ہم لوگ اسی جہاز سے واپس کوپن ہیگن لوٹ آئے۔ کوپن ہیگن میں ایک ہفتے کے قیام کے دوران ہم نے دیکھا کہ اسے سائیکلوں کا شہر کہنا غلط نہ ہوگا۔ سیاحوں کی دلچسی کے یہاں بہت سامان ہیں اور دیکھنے کی بے شمار جگہیں ہیں۔ آمالین بورگ کا محل جہاں ہم نے شاہی  گارڈ کے مستعد عملے کی تبدیلی کا نظارہ کیا۔ گول مینار کا آبزرورتوریم ، ٹریوولی گارڈن، اسٹرو گیٹ کا شاپنگ مال سب کچھ دیکھنے اور لطف اندوز ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔