کیا بات ہے بھائی ۔ 2
محترم بھا ئی !
آداب و تسلیمات کے بعد عرض ہے کہ ہم سب یہاں خیریت سے ہیں اور آپ کی خیریت نیک چاہتے ہیں۔
بھائی اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک گلہ تو اس ناچیز کا آپ سے بنتا ہے۔
فدوی نے ایک خط بہت پہلے آپ کو ارسال کیا تھا لیکن تا دم تحریرجواب سے محروم ہے۔ آپ کے دفتر والوں نے شاید اس خاکسار کا خط آپ تک پہنچنے ہی نہیں دیا۔
ارے بھائی اگر آپ کا گرامی نامہ موصول ہو جاتا تو ہم سب گھر والے اسے چومتے، چاٹتے آنکھوں سے لگاتے اور ساری کرانچی کو دکھاتے کہ دیکھو قائد نے ہمیں اس قابل جانا کہ چٹھی ہمارے نام بھیجی۔
پر بھائی ہم جانتے ہیں کہ آپ لالو کھیت کا آرام و آسائش چھوڑ کر صرف ہمارے لئے ہی پردیس کاٹنے پر مجبور ہیں اور ہماری فکر میں گھل گھل کر آپ نے اپنا یہ حال کر لیا ہے۔
توبہ توبہ ! کیسا چڑے کا سا منہ نکل آیا ہے۔
بھائی اب کیا بتاویں۔ جب سے ان اللہ مارے ٹی وی والو ں نے آپ کاچاند سا مکھڑا دکھانے سے انکار کیا ہے ، ہم تو آپ کی صورت دیکھنے کو ترس گئے ۔
اب نہ آپ کی مدھ بھری آواز میں گیت سننے کو ملتے ہیں نہ دیکھنے کو آپ کی راجہ کی آئے گی برات والی تھرک۔ مانئے وہی صورت ہے جو اپنے کسی اردو سپیکنگ والے شاعر نے بیان کر دی ہے:
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں
اوربھائی اپنی کرانچی کا حال اب آپ کو کیا سناویں۔
یہ جو آپ نے اردو سپیکنگ والوں کے لئے نئی تقریرکی ہے، کم بخت ٹی وی والوں نے تو دکھائی نہیں۔ ہم تو محروم ہی رہے آپ کی دھاڑ سننے سے۔
پر بھائی یہاں تو اک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔
کل وہ اپنی بوا نصیبن، بی مغلانی اور مچھر ٹنڈے کی اماں کو حاسد پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ کوئی بتاوے تھا کہ آپ کے حکم پر دو ایک ٹی وی سٹیشنوں پر دھاوا بول دیا تھا ان جھانسی کی رانیوں نے۔ خوب توڑ پھوڑ ہوئی۔ کچھ زخمی ہوئے ۔ ایک جان سے گیا۔ سبھی کہویں جو ہوا سوٹھیک ہوا۔ آپ کی شان میں گستاخی جو کر رہے تھے منحوس۔
لیکن بھائی صرف اسی پر بس نہیں۔
حاسد تو کچھ رابطے والوں کو مہمان بنانے بھی پہنچ گئے تھے۔ اب وہ لاکھ کہویں کہ ہم نہیں جانا چاہتے۔ ہمیں بھوک نہیں ہے ۔آپ کی میزبانی کا شکریہ۔ پر بھائی حاسد بھلا کہا مانتے تھے۔ وضعداری کی حد کر دی۔ آخر کو رابطہ والوں کو ان کے ساتھ جانا ہی پڑا۔
لیکن بھائی کچھ عجیب عجیب سی باتیں کری ہیں ان رابطے والوں نے۔ خود اپنے کانوں سے سنی ہیں ہم نے ۔
کیمرے والوں کو بتا رہے تھے کہ بھائی نے جوکچھ کہا ،وہ سب، وہ نہیں تھا جو آپ نے سنا۔ دراصل بھائی تو وہ کہنا چاہ رہے تھے جو آپ نے نہیں سنا۔
اور ہاں ! ساتھ میں وہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ بھائی دن ڈھلے کوئی ایسی دوا پیتے ہیں جس کا اثر باقی جسم پر تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن یہ سر کو جا لگتی ہے اورتب بھائی کوئی ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو حاسدوں کو ناگوار گزرتی ہے۔
پر ان حاسدوں کی منطق بھی عجیب ہے بھائی۔ کہتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی دوا نیچے کے بڑے گھیر کے لئے تو فائدہ مند ہو لیکن اوپر کا سیدھے انڈے کی طرح کھڑا چھوٹا حصہ بگڑ جائے۔ لیکن بھائی اگر میری مانیں تو ایسی بیکار کی باتوں کا جواب ہی مت دیں۔ حاسد کچھ دن چینخ چلا کر خود ہی چپ ہو جائیں گے۔ آپ اپنی دوا باقاعدگی سے لیتے رہیں۔ بلکہ ہو سکے تو ایک دو خوراکیں اور بڑھا دیں۔
ویسے بھائی اگر آپ ان کی باتوں کا جواب دینا چاہیں تو ضرور دیں۔ پر مجھے شک ہے کہ حاسد ٹھہرے اکھڑ گنوار۔ اب اردو سپیکنگ والوں کی کوثرو تسنیم میں دھلی زبان یہ لغت کے بغیر کہاں سمجھتے ہیں۔ اور وہ بھی ایسی جس میں آپ کی گائیکی بھی شامل ہو۔
ارے ہائے ہائے ! کیا بات منہ سے نکل گئی۔ پردے میں ہی رہنے دیا ہوتا۔ بھائی واللہ میری توبہ ۔ سچ پوچھیں تو جب آپ انگرکھا اور ریشم کے کمر بند والا آڑھا پاجامہ زیب تن وتوش کیے چاندنی پر بیٹھے ہوں، اور ازار بند سے میرزا ظاہر دار بیگ کی چابیوں کا گچھا چھنچھناتا ہو ، اورکاندھے پر سفید شال اور آنکھوں پر سیاہ چشمہ چڑھاہو، تو یوں لگے ہے جیسے کسی بڑے گھرانے کا کوئی نامورگویا اپنا ایک ہاتھ کان پر دھرے سُر تال کے ساگر میں بس اتراہی چاہتا ہے۔ سامنے طبلہ سارنگی کی کمی البتہ ضرور محسوس ہوتی ہے۔ ہائے ہائے مارڈالا۔ اپنی وہ ریشم جان یاد آ گئیں۔۔۔ کاٹے ناہیں رین موری، بھیاتورے کارن کارن۔۔ارے بھائی واہ !
بھائی زبان کے حوالے سے ایک اور بات بھی کرنا تھی آپ سے۔
اور وہ یہ کہ ہم اردو والوں کو اچھا نہیں لگتا کہ اہل زبان ہوتے ہوئے بھی اپنا تعارف ہم انگریزی میں کروائیں ۔ یعنی اردو سپیکنگ والے ۔۔ کہہ کر ۔
ہائے کیا دن تھے جب اپنے نام کے ساتھ ہم، دہلوی، لکھنوی، امروہوی، مرادآبادی اور سہارنپوری وغیرہ لکھا کرتے تھے۔
کیوں !
اس لئے کہ جسے دیکھو شاعر۔ جسے ملو بیاض ہاتھ میں لئے ’’ حضور عرض کیا ہے۔۔‘‘ کہتا سنائی دیوے تھا۔
پر میں کہوں ابھی ستر برس ہی تو گزرے ہیں۔ کیوں نہ ہم پھر سے وہی تراکیب استعمال کرنے لگیں۔ بھائی آپ تو بار بار یہ سب کچھ یاد بھی دلاتے رہتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہ ۔۔ پاکستانوی ۔۔ یا ۔۔ اردو سپیکنگوی ۔۔ کہنا کچھ غیر ادبی،غیر شائستہ سا لگے ہے۔ جیسے کسی نے سر پر ہتھوڑا دے مارا ہو۔ اب گنواروں کے ساتھ گنوار تو نہیں بنا جا سکتا نا۔
بھائی! جی تو نہیں چاہتا پر بتاتا چلوں کہ کرانچی کی مختلف چورنگیوں سے کچھ تشویش والی خبریں بھی آنے لگی ہیں۔
سنا ہے حاسدوں نے مکا چوک کا مک مکا کر دیا ہے ۔
وہاں سے آپ کی ساری تصویریں اور پوسٹر اتار کراپنے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ تبھی تو ہم آپ سے کہویں تھے کے کوئی پکا کام کر لیں۔ پر رابطے والوں نے کراہی نہیں۔
اب دیکھیں نا شہر میں کہیں تین تلواریں گڑی ہیں تو کہیں دو۔ کہیں غوری میزائل کھڑے ہیں تو کہیں بابر۔ آپ کا مجسمہ کہیں نہیں۔ ہوتا تو اکھاڑنے میں کچھ دقت تو ہوتی۔
بھائی آپ رابطے والوں کو حکم دیں کہ وہ شہر کی کسی بڑی چورنگی میں آپ کا کوئی قد آور مجسمہ کھڑا کر دیں جس میں تلواریں بھی ہوں اور میزائل بھی۔
اس مجسمے کا ایک تین پتی یعنی تھری ان ون ڈیزائن تصور میں آتا تو ہے بھائی۔
ڈیزائن کچھ یوں ہے بھائی کہ پتھر کے سیاہ چبوترے پر ایک بڑاسا میزائل کھڑا ہے جسکی نوک پر آپ آلتی پالتی مارے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں ترشول پکڑے بیٹھے ہیں اور مسکراتے ہوئے امن و آشتی کا درس دے رہے ہیں۔ ہاں سیاہ چشمہ اگر نہ ہو تو بہتر ہے۔ امن آشتی کا درس دیتے ہوئے آنکھیں تو دکھانی ہی پڑتی ہیں نا۔
پر بھائی ہمیں شک ہے کہ ایسا کوئی مجسمہ کھڑا ہوتے ہی حاسد اس پر بوری چڑھا دیویں گے۔
بھائی ایک مشورہ اور بھی دینا تھاآپ کو۔ کل کوئی بتا رہا تھا کہ آپ کو اپنی جنم بھومی بہت یاد آتی ہے۔
اب ولایت کی شہریت تو آپ کو مل ہی چکی ہو گی۔ تو کیوں نہ ایسا کریں کہ الٹی ہجرت کرتے ہوئے آپ اپنی جنم بھومی کو لوٹ جانویں۔
یہ بات تو طے ہے کہ اپنوں میں زیادہ خوش رہیں گے آپ۔ اور پھر یہ مہاجر والا ٹنٹا بھی ختم ہو جائے گا۔
اس کام میں کوئی مشکل تو نہیں ہونی چاہیئے بھائی۔ ہما را کیا ہے ۔ آپ کی خوشی کے لیے ہم یہ دوری بھی برداشت کرہی لیویں گے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو آپ الٹا قریب آ جاویں گے۔
بھائی ابھی ابھی آپ کا قریبی عزیز، مچھرٹنڈا آپ کے نئے خطاب کا ویڈیو لے کر آیا ہے۔ اس میں آپ کو تھرکتے، دھاڑتے ، غراتے، بلبلاتے دیکھنے کے تصور سے ہی دل باغ باغ ہوا جاتا ہے۔
اب اجازت دیجئے۔ ویڈیو میں آپ کا دیدار کرتے ہیں۔
خیر اندیش
کرخندار گولیماروی
کرانچی
نوٹ:
ابے او ڈھکوسلے۔
تیرا ویڈیو دیکھا۔ یہ توزخمی سانڈ کی طرح ڈکارتا ہوا کیا ’’ مردہ باد۔ مردہ باد ‘‘ کے نعرے لگوا رہا ہے۔ تیری تو۔۔۔ جس ہاتھ سے کھاتا ہے اسی کو کاٹتا ہے۔
اپنی ہی دھرتی کو تاراج کرنے کے لئے غیروں کو آواز دے کر بلا رہا ہے تو ۔
چل بلا لے جسے بلا سکتا ہے۔ ہم بیس کروڑ ہیں۔ سب کو دیکھ لیویں گے بھتہ خور بہروپئے۔
اور دیکھ۔ تجھے بتائے دے ریا ہوں۔ ادھر کرانچی لوٹ کر کبھی مت آئیو۔ بیچ چوراہے کے اتنے جوتے پڑیں گے کہ جنم بھومی تو کیا ، تجھے وہ کھولی بھی یاد آ جائے گی جہاں تو پیدا ہوا تھا۔
بڑا بھائی بنا پھرتا ہے برادر یوسف۔
دھت تیرے کی!
کرخندار پاکستانی
بقلم خود