بدلتے موسموں کے تیوروں سے ناآشنا لوگ

ہالینڈ کے سائنسدانوں نے وارننگ دی ہے کہ دنیا بھر کو بے ہنگم ماحولیاتی آب و ہوا کی تبدیلیوں کے خطرہ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلیوں کا عمل ماہرین کے اندازوں سے بھی زیادہ تیزی سے جاری ہے۔

عالمی سطح پر سمندروں کے درجہ حرارت، پانی کی سطح کی بلندی، آب و ہوا کی شدید تبدیلیوں اور برف پگھلنے کے عمل میں تیزی جیسے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا عمل دو سال قبل لگائے گئے اندازوں اور اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔ بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے قبل از وقت برف پگھلنے کے باعث مغربی یورپ کے کئی دریاﺅں میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج سطح سمندر میں لگ بھگ چار میٹر اضافہ کر دے گا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا ماحولیات پر ایک ہزار سال تک اثرات ہونے کا امکان ہے اور 2999 تک مغربی انٹارکٹیکا میں برف کی چادر تباہ کن طور پر پھٹنے کا خطرہ ہے۔ جرمنی میں دریا موزل/موصل کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے اس کے کنارے آباد کئی چھوٹی آبادیاں زیر آب آ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سطح زمین کا مجموعی درجہ حرارت اس صدی کے اختتام تک لگ بھگ 4 سینٹی میٹر تک بڑھ جائے گا اور اس کی ایک اہم وجہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو سب سے بڑی گرین ہاﺅس گیس ہے اور جو تیزی سے فضا میں بڑھ رہی ہے اور ان سب آفتوں کے نتیجہ میں نہ صرف طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہو گا بلکہ کرہ ارض پر حرارت چار گنا زیادہ ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات 95 فیصد تک درست ہے کہ سطح زمین پر حدت میں اضافے کی وجہ قدرتی تغیرات کی بجائے انسانی سرگرمیوں کے نتیجہ میں خارج ہونے والی گرین ہاﺅسز گیس ہے۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا میں تباہ کن طوفانوں کا سبب بن رہا ہے اور سیلابوں، دریاﺅں اور سمندری طوفانوں و خشک سالی کے نتیجے میں کروڑوں افراد بے گھر ہو جائیں گے اور یہ کرہ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اس نے 65 ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈائناساروں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ آئندہ عشرہ کے دوران ماحولیاتی تبدیلیاں کرہ ارض کے جنوبی حصے کے 5 کروڑ انسانوں کو شمالی حصوں کی طرف ہجرت پر مجبور کر دیں گی۔اس بڑے پیمانے پر ہجرت کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور ان کے نتیجہ میں قدرتی آفات سے پیدا ہونے والی غذائی قلت ہے۔ اس وقت بھی افریقی ممالک سے لوگوں کی بڑی تعداد غذائی عدم تحفظ کے باعث مغربی یورپ کا رخ کر رہی ہے۔

ہالینڈ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر نقصان دہ گیسوں کے اخراج پر بھی کسی نہ کسی طرح قابو پا لیا جائے تو بھی دنیا کی قدرتی آفات کا امکان کم نہیں ہو گا کہ جنگلی حیات کی نصف سے زیادہ پناہ گاہیں اور اہم جنگلات تباہ ہونے سے چالیس کروڑ لوگ بھوک سے دوچار ہو جائیں گے کہ کرہ ارض کے شمالی علاقے میں درجہ حرارت میں جتنا اضافہ ہوا ہے گزشتہ پندرہ سو برس میں نہیں ہوا تھا۔ جنگلی حیات کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ ہاتھی، شیر اور گینڈے کے شکاریوں سے زیادہ بدلتے موسم سے خطرہ ہے۔ عالمی حدت میں اضافہ اور تیزی سے ختم ہوتے جنگلات سے جانوروں کی کئی نسلیں ختم ہو سکتی ہیں۔

جنگلی حیات کے ماہر ڈاکٹر رچرڈ لیکی جو کینیا میں وائلڈ لائف سروس کے سابق ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ جانوروں کو محفوظ کرنے کیلئے آئندہ پانچ برسوں میں کچھ کرنا ہو گا ورنہ اس عالمی حدت کے نتیجے میں پرندوں، ممالیہ، رینگنے والے جانوروں اور ابابیلوں کی نسلیں ختم ہو جائیں گی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنگلات کے خاتمے اور آبادی کے پھیلاﺅ کے باعث جانوروں کےلئے نقل مکانی کے امکانات بھی کم ہیں۔

یاد رہے یا یاد رکھا جائے کہ جن علاقوں میں جنگلات کی بدترین آتشزدگی کی پیشگوئی کی گئی ہے ان میں یوریشیا، چین، روس، کینیڈا اور ایمزون شامل ہے۔

دوسری جانب مختلف وجوہات کی بنا پر مغربی افریقہ، جنوبی یورپ اور امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں خشک سالی کا خدشہ ہے۔ علاوہ ازیں افریقہ کے علاقے جو خشک سالی کا شکار ہیں وہ آئندہ برسوں میں مزید خشک اور گرم ہو جائیں گے۔ یہاں یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ پانی زندگی کےلئے لازمی ہے اور اس کی مقدار میں کمی افریقہ پر تباہ کن اثرات ڈالے گی جہاں زیادہ تر آبادی دریاﺅں کے پانی پر انحصار کرتی ہے کہ درجہ حرارت میں تبدیلی کےلئے کارخانوں، گاڑیوں، گھروں، جہازوں اور فیکٹریوں میں جلنے والے ایندھن سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس لئے اس کے اخراج کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس زہریلی گیس کا سب سے زیادہ اخراج سعودی عرب اور سب سے کم سویڈن میں ہے۔ سویڈن میں گرین ہاﺅسز گیسوں سے نمٹنے کےلئے اقدامات سب سے زیادہ کئے گئے ہیں جس کے باعث وہ دنیا کا شفاف ترین آب و ہوا رکھنے والا ملک ہے۔ جبکہ ”صفائی نصف ایمان ہے“ کا اصول رکھنے والا سعودی عرب جس کی آب و ہوا دنیا میں سب سے زیادہ کثیف اور آلودہ ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے پرفارمنس انڈیکس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔

اسی طرح ایک دوسری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس (2015) دنیا بھر میں 950 قدرتی آفات ریکارڈ کی گئیں اس طرح سال 1980 سے لے کر اب تک کا بدترین سال ثابت ہوا۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آنے والی قدرتی آفات سے 2010 کے دوران 235 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور یہ نقصان 2002 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

آخر میں آپ سے گزارش ہے کہ مجھے ”نقاد“ مت سمجھیں، میں اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ عالمی ماحولیات اور آب و ہوا میں حقیقی تبدیلی اور سنگین حالات واقع ہو چکے ہیں اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس میں ہونے والے اضافے کو ابھی تک روک نہیں سکے۔ ایسا کیونکر ہوا؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔  اسی موضوع پر میرا ایک شعر حاضر خدمت ہے:

زمیں کو میں نے بچھایا بڑے سلیقے سے
اب اس کے ساتھ سمیٹنا مجھے قبول نہیں