یہاں پیدل چلنا منع ہے

یہاں پیدل چلنا منع ہے۔ کئی بار اپنی اِس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی کہ میں اپنے دفتر خوشگوار موسم میں خصوصاََ سردیوں میں گاڑی کی بجائے سائیکل پر جاؤں ۔ میرے گھر (لاہور کینٹ) سے دفتر (شاہراہِ ایوانِ تجارت) کا علاقہ شہر کے امیر علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ سڑکیں شاندار، پُل جدید اور ٹریفک کی ہڑبونگ بھی قابل برداشت ہے۔ سائیکل دو سال قبل میں نے اپنے گھر کے علاقے میں چلانے کے لیے لی کہ اس طرح ورزش بھی ہوتی رہے گی اور اپنے نظریے کے مطابق پاؤں بھی زمین  Down To Earth  پر رہیں گے۔

چھاؤنی میں سائیکل پر گھر کے اردگرد آنا جانا مشکل لگا، ناممکن نہیں۔ مشکل اس لیے کہ پیچھے اور سامنے کی سمت سے آتی جاتی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کا طرزِ ڈرائیونگ آمرانہ تھا لیکن جب میں چند ماہ قبل سنجیدہ ہو گیا کہ اس میں حرج ہی کیا ہے۔ لاہور چھاؤنی سے گورنر ہاؤس کے مین گیٹ کے سامنے واقع اپنے دفترتک جایا جائے تو میرے دوستوں نے اسے مہم جوئی قرار دیا اور کہا، سڑک پر دنددناتی گاڑیاں اور موٹر سائیکل کچل دیں گے۔ یقیناً یہ ایک مخلصانہ مشورہ تھا، سو اپنی خواہش پر عمل کرنے سے گریز کیا۔ بہت شور ہے، لاہور ترقی کر رہا ہے، میٹرو بسیں چل رہی ہیں، لائٹ ٹرین کا منصوبہ دھوم دھام سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سڑک کے اوپر سڑک بن رہی ہے، فلائی اوور مہینوں میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔ اور یہ کہ لاہور پیرس بن رہا ہے۔

پھر خواہش ہوئی کہ دفتر کے گرد مال روڈ تک گاڑی پر جانے کی بجائے پیدل چلا جائے۔ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے جب گورنر ہاؤس کے عین سامنے پیدل چلنے کا آغاز کیا تو چیئرنگ کراس تک تو خیریت سے سفر ہوا، جوں جوں آگے بڑھتا گیا تو علم ہواکہ لاہور کس قدر ترقی کررہا ہے۔ ہائی کورٹ پہنچنے تک مجھے اب پیدل چلنے کے لیے فٹ پاتھ کی تلاش تھی جہاں ہم اُس وقت چلا کرتے تھے جب لاہور پیرس تھا نہ استنبول، بلکہ لاہور صرف لاہور تھا۔ میرے جیسا شخص جس نے لاہو ر کو پیدل ، سائیکل اور لوکل ویگنوں کے ذریعے دریافت Explore کیا تھا، اب اس کے لیے لاہور ایک عجیب لاہور تھا ۔ فٹ پاتھ پر موٹر سائیکل سٹینڈ تھے یا پھر حفاظتی دیوار۔ یقین جانیں مجھے مال روڈ کے کنارے چلتے ہوئے اپنی دوآنکھوں سے آگے کی بجائے پیچھے دیکھنا تھا۔اس دن مجھے معلوم ہوا کہ اوسان خطا ہو جانا کسے کہتے ہیں۔

لاہور کی سڑکوں پر اپنے قدموں پیدل چلنا اب ایک خطرناک کھیل ہے۔ میرے کئی دوست سڑک پر پیدل چلتے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے جن میں ہمارے پیارے صحافی اختر حیات، زخمی ہونے والوں میں جناب شاہد ملک اور شہباز انور شامل ہیں۔ ان صحافی دوستوں کے علاوہ جب میں نے اپنے جاننے والوں کی فہرست بنائی تو پیدل چلتے ہوئے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی ایک طویل فہرست بنی۔ چند ماہ قبل میرے دوست معروف صحافی حامد میر میرے دفتر تشریف لائے تو ہم اس موضوع پر گفتگو کرنے لگے۔ انہوں نے کہا، آپ تو ڈاکٹر جاوید اکرم والی باتیں کر رہے ہیں کہ ایک دن انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ آپ سے ملنا چاہتا ہوں، ایک ضروری بات کر نی ہے، بہت اہم مسئلہ ہے ۔ آپ مجھے وقت دیں ۔حامد میر کے بقول، جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا، میر صاحب میرے ہسپتال میں زیادہ زخمی شہری شاہراہوں پر پیدل چلنے والے آتے ہیں، جن میں متعدد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سڑکیں قاتل بن چکی ہیں، پیدل چلنا لاہور میں ناممکن ہو گیا ہے۔ اس پر اپنا ٹاک شو کریں۔ حامد میر صاحب کو جب میں نے لاہور کی صورتِ حال بتائی کہ لاہور اب وہ نہیں جو آپ بیس سال پہلے چھوڑ گئے تھے، تو وہ حیران ہوئے۔ یہاں فٹ پاتھ نہیں، یہاں پیدل چلنا منع ہے۔

میاں شہباز شریف اقتدار کُل اور عقل کُل کے مالک ہیں۔ اُن سے زیادہ کسی کے پاس اس ملک میں اقتدار نہیں اور عقل تو اب اُن کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے کہ اُن کامیڈیا سیل ہمیں بتاتا ہے، چین، ترکی اور پتہ نہیں کس کس ملک میں لوگ اُن کی حکمرانی کے مداح ہورہے ہیں۔ میاں صاحب آپ اس شہر میں پیدا ہوئے، یقیناآپ اس شہر میں تانگے، سائیکل، پیدل، ویسپا ہر طرح سے سفر کیا ہوگا۔ شاہ عالمی، برانڈرتھ روڈ، ریلوے روڈ، موہنی روڈ کی گلیاں تو آپ کو اپنی انگلیوں پر یاد ہوں گی۔ دل محمد روڈ ، دالگراں چوک، سرائے سلطان، شادباغ، شاہدرہ، سمن آباد ، باغبانپورہ شاید ہی کوئی علاقہ ہو جوآپ نے نہ دیکھا ہو۔ پیدل چلتے ہوئے یا عام سواری کے ذریعے۔ آپ سے میری درخواست ہے کہ آپ اب ان سڑکوں پراور علاقوں میں اپنا حلیہ بدل کر پیدل چل کر دیکھئے ۔ آپ اسلامی دَور کے شاندار کرداروں کے مداح ہیں۔ کسی دن اپنی مل کے مزدور کے حلیے میں پیدل یا موٹر سائیکل پر اپنے شہر کا چکر لگائیں، پھر دیکھیں لاہور کتنا ترقی کر گیا ہے۔ جس شہر میں فٹ پاتھ شہری ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ نہ رہیں، خاک ترقی ہو گی اس شہر میں۔

آپ  استنبول کیمثالیں دیتے ہیں۔ چھوڑیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں۔ دنیا کا کوئی ترقی یافتہ شہر پیرس ہو یا استنبول، کوپن ہیگن ہو میڈرڈ، نیویارک ہو یا تہران، وہاں پر سڑک کا تصور فٹ پاتھ کے بغیر ناممکن ہے۔ جدید شہروں میں چلنے کا پہلا حق پیدل چلنے والوں کا ہے۔ ہمارے ہاں ساراحق گاڑی اور موٹر سائیکل پر بیٹھے شخص کا ہے۔ پیدل چلنا اب جرم ہے جب کہ جدید دنیا میں پیدل چلنے والا شاہراہ پر جاری ٹریفک کو روک کر سڑک عبور کر سکتا ہے۔

جب ہمارے پالیسی ساز اور حکمران انسانی ترقی  Human Development کی بجائے دکھنے والی ترقی  Visible Development پرعمل پیرا ہو ں گے تو پھر ایسے ہی شہری پیدا ہوں گے جو سڑکوں پر دنددناتے اپنی سواریوں پر آمرانہ اندازمیں لوگوں کو کچلتے، قتل کرتے، آگے بڑھنے کے جنون کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہ لاہور کی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی صورتِ حال ہے۔  اب ہمارا یہ ایجنڈا نہیں کہ ہم نے کیسا انسان پیدا کرنا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے ایجنڈے پر یہ موضوعات ہی نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ اہل علم وفکر اور دانشوروں کے بھی یہ موضوعات نہیں۔ ہمارے موضوعات تو عالمی سطح تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمیں کا شغر سے نیل تک کی فکر ہے، اگر فکر نہیں تو اپنی نہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو تعلیم یافتہ بنانا ہے کہ نہیں، یہ ہمارا موضوع نہیں بلکہ ہم نے اسلامی اُمہ کی قیادت فرمانی ہے، بس یہی یہ فکر ہے۔ جس شخص نے اس قوم کو ایٹمی طاقت بنایا، ایک دن راقم اُن (محترم جناب ڈاکٹر قدیر خان) کے ساتھ ایک تقریب میں سٹیج پر بیٹھا تھا۔ ایک جوشیلا عالمی سطح پر اُمہ کی قیادت کی خواہش پر مبنی تقریر کررہا تھا اور اس میں بار بار ایٹمی طاقت، ایٹمی طاقت کا ذکر کررہا تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان میرے کان میں گویا ہوئے، ہم نے ایٹم بم تو بنا لیا لیکن سوئی نہ بنا سکے۔ انہوں نے تو اپنا کام کردکھلایا، جنہوں نے سوئی یا فٹ پاتھ بنانے تھے یا جنہوں نے ایسا انسان بنانا تھا (Human Developement) جو پیدل چلنے کے حق پر بھی یقین رکھے، وہ ایسا انسان نہ بنا پائے۔ نہ فٹ پاتھ رہے اور نہ ہی ایسے انسان جو اس حق پر یقین رکھیں۔ تو پھر کاہے کی ترقی۔

فرانس کے صدر متراں کو میں نے اپنی آنکھوں سے پیدل گھر جاتے دیکھا۔ دنیا کی چوتھی بڑی طاقت کا منتخب جمہوری حکمران، یقیناًاس کی جمہوریت، میاں شہباز شریف کی جمہوریت سے صدیوں آگے اور جدید ہے۔ اس کی ترقی اور ہمارا زوال، رفتار میں برابر ہیں۔

جس معاشرے میں سکولوں اور کالجوں میں چھوڑنے والی سواریاں میسر نہ ہوں، کیا ہم وہاں دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم نے لاہور کو استنبول یا پیرس بنا دیا ہے۔ کالجوں اور سکولوں کے باہر ایک بچے کو لینے کے لیے ایک گاڑی، یہ ہم نے مملکت خداداد میں ہی دیکھا، لندن، فرینکفرٹ یا تہران میں نہیں۔ جس ملک کے شہروں میں فٹ پاتھ ناپید ہو جائیں اور بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے دوران فٹ پاتھوں کی تعمیر سرے سے منصوبے میں رکھی ہی نہ جائے، اس قوم کی اکثریت (98 فیصد) کے بارے میں وہاں کے حکمران، دانشور، سیاست دان اور اہل علم کتنی فکر رکھتے ہیں۔ اس سے اس قوم کی ترقی کے سفر کی سمت اور سنجیدگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یعنی ہمیں ابھی یہ ہی معلوم نہیں کہ ترقی کا روٹ Route کیا ہے۔ فٹ پاتھوں کا ناپید ہونا اور اُن کی تعمیر کو جھٹلا دینا، اس وژن کا عکاس ہے جو ہمارے حکمران اور اہل فکر کے ہاں موجود ہے۔

غربت اور پسماندگی کے سمندروں میں ترقی کے جزیروں میں ابھرنے والے سماج میں اگر فٹ پاتھ ناپید ہوجائیں تو آپ یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں میرٹ پر مبنی ثقافت مسترد کر دی گئی ہے۔ اسی لیے تو اب ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں نااہل لوگ بھرپور انداز میں نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاست میں بھی۔ جہاں کبھی فٹ پاتھ پر چلنے والا انتخابات جیت کر وزارت تک پہنچ سکتا تھا اور بحیثیت وزیر بھی فٹ پاتھ پر چلتا تھا، اب ایسا تصور کرنا ایک خواب ہی ہے۔ کیوںکہ اب معاشرہ فٹ پاتھ پر چلنے والوں کو کچل دیتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں فٹ پاتھ ختم کردئیے گئے ہیں۔ اب اپنے قدموں پر چلنے والے نہیں چاہئیں، اب دوسروں کے کندھوں پر چڑھنے والے چاہئیں۔

اپنے قدموں پر چلنے والے اس خوف کے مارے چلنا ہی چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے قدموں پر چلنے والے اپنی عقل کی مدد سے چلتے ہیں، کندھوں پر آنے والوں کو عقل درکار نہیں۔ اب اس سماج کی شاہراہ پر لکھ دیا جائے: ’’یہاں پیدل چلنا منع ہے۔‘‘