پاکستان ہی کیوں
- تحریر سید شاہد عباس
- منگل 30 / اگست / 2016
- 5037
2013 کے اوائل میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور ایک ویب ٹی وی کا آغاز کیا۔ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ تو پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا لیکن زندگی کے تجربات میں ایک اچھا اضافہ ضرور ہوا۔ کاشف منہاس نے ایک دن اچانک کال کی کہ ہم پہلی رپورٹ بنانے کے لئے جا رہے ہیں۔ پاک ترک انٹرنیشنل سکول میں ایک تقریب تھی اس میں شرکت کا دعوت نامہ تھا۔ یہ ہمارے تجربے کی ابتدا تھی۔
پاک ترک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز ایسا مربوط نظام ہے جو ملک کے دس سے زائد شہروں میں کامیابی سے تعلیمی ادارے چلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس سکول سسٹم کے زیر انتظام ہی اسمو (ISMO) کا کامیابی سے انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان بھر کے سرکاری ، نیم سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے ہونہار طالبعلموں کے درمیان ہونے والا ریاضی کا ایک مقابلہ ہے جس کے فاتح کو "الخوارزمی آف پاکستان" کا ٹائٹل دیا جاتا ہے اور انعام سے نوازا جاتا ہے۔
1995 میں اس منصوبہ کا آغاز ہؤا۔ پھر یہ ادارہ 1999 میں پاک ترک انٹرنیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر سایہ آگیا۔ اس دوران یہ نظامِ سکول نہ صرف تعلیم کے میدان میں ایک واضح معیار قائم کر چکا ہے بلکہ سماجی ذمہ داری کے حوالے سے بھی اپنا مقام بنا رہا ہے۔ 2005 کے زلزلے کے دوران تباہ ہونے والے سکولوں کی تعمیر نو ہو یا اسکالر شپس کی تقسیم یہ ادارہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہا ہے۔ اس نظام کے تحت کم و بیش 10ہزار طالبعلم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بہترین خدمات کی وجہ سے ہی اس ادارے کو جون 2006 میں صدرِ پاکستان کی جانب سے ستارہ ایثار سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ 1995 میں وزارت تعلیم پاکستان و وزارت خارجہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور 1999 میں اکنامک افیئرز ڈویژن کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی یادداشت اس بات کا مظہر ہیں کہ یہ ادارہ پاکستان کے مروجہ قوانین و ضوابط کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کا تمام تر دارومدار پاکستان اور ترکی کے مخیر حضرات کی طرف سے دی جانے والی امداد پر ہے۔
15جولائی 2016 کو جب ترکی میں ناکام فوجی بغاوت ہوئی تو اس کے اثرات اس تعلیمی ادارے پر بھی پڑے ۔ باجود اس کے کہ اس ادارے نے باقاعدہ اس بات کا اعلان کیا کہ ان کا کسی طرح بھی کسی ایسے عنصر سے تعلق نہیں جو ترکی میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار ہے، پھر بھی اس ادارے کے دروازے پر ہمارے حکمران تالے لیے کھڑے ہیں۔ حتیٰ کے برادر ملک کے وزیر خارجہ خصوصاً یہ ادارہ بند کروانے کے لیے آن وارد ہوئے۔ اور ہم نے اس ادارے کو بند کرنے کی راہ بھی ڈھونڈنا شروع کر دی ۔
ذرا ملاحظہ کیجیے ایٹمی طاقت کا حامل ملک ایک دوست ملک کے کہنے پر ایک مربوط تعلیمی ادارے کو بند کرنا چاہتا ہے۔ ہم اتنا کہنے کی جرات نہیں کر سکے کہ گولن ذمہ دار ہے تو آپ اسے سزا دیجئے ۔ جو لوگ بغاوت کے ذمہ دار ہیں تو ان کی شناخت کریں۔ ہم آپ کے کہنے پر ایک ایسے ادارے کو کیوں بند کریں جو پاکستان میں تعلیم کی فراہمی میں اتنا اچھا کام کر رہا ہے اور سماجی ذمہ داریاں بھی اتنے احسن طریقے سے سر انجام دے رہا ہے۔ ہم نے تو اسے ستارہ ایثار تک سے نوازا ہے۔ لیکن ہم ایسا نہیں کہہ سکے۔ کیوں کہ ہم دوستیاں نبھانے کے ماہر ہیں۔ ملک چلانے کے نہیں۔ ہم اتنا بھی نہ کہہ پائے کہ حضور پاکستان کے علاوہ بھی کم و بیش چھ ممالک میں یہ ادارے چل رہے ہیں کیا وہاں بھی آپ کے وزیر خارجہ نے دورہ کیا؟
ترکی میں گولن اردوان لڑائی میں پاکستان کیوں ملوث ہو۔ پاکستان میں پاکستانی قوانین کے تحت چلنے والے ادارے کو جس کی 26شاخیں پاکستان کے 10بڑے شہروں میں قائم ہیں، کیوں اس کی سزا دی جائے۔ اس ادارے نے اپنے حاصل کردہ 274میڈل ترکی نہیں بلکہ پاکستان کے نام پہ حاصل کیے ۔ یہ ادارہ ترکی نہیں پاکستان کی شناخت ہے۔
ترکی کی ناکام بغاوت کے بعد 60 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ جن میں جرنیل، فوجی جوان، انجینیرز، ڈاکٹرز، معلم، علما، طالبعلم، یونیورسٹیوں کے چانسلرز، تعلیمی شعبہ جات کی ڈین، سماجی، معاشی، خدمات سے وابستہ سینکڑوں افراد شامل ہیں۔ ترکی کو جمہوریت کی فتح مبارک ہو لیکن خدارا اس فتح کے تکبر کا نشانہ دوسرے ممالک میں چلنے والے بے ضرر ادروں کو نہ بنائیں۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو چاہئے کہ میٹرو کو سپانسر کوئی اور ملک بھی کر سکتا تھا۔ اپنے ذاتی مراسم سے زیادہ اہمیت پاکستان کو دیجئے۔
کبھی ایران اپنی سرحد پہ ہمیں اپنی آنکھیں دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی افغانستان جیسا ملک ہم کو غصیلی نگاہ سے گھورتا ہے۔ بھارت پہلے ہی مشرقی بارڈر کو غیر محفوظ بنا چکا ہے۔ اب رہی سہی کسر ترک حکام نے پوری کر دی۔ کیا صرف پاکستان ہی احکامات ماننے کے لیے رہ گیا ہے۔ کیا ہم ایٹمی قوت دوسروں کے اشاروں پہ ناچنے کے لیے بنے تھے۔ سمجھ سے بالا ہے کہ ۔۔۔ آخر پاکستان ہی کیوں؟