کچھ ابن خلدون کے بارے میں (1)

  • تحریر
  • بدھ 31 / اگست / 2016
  • 14214

ابن خلدون کے بارے میں ہمارے ہاں عام تعلیم یافتہ لوگ بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ مسلم دنیا کا ایک نام ور مؤرخ تھا۔ البتہ کچھ زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ، جو تعداد میں یقیناً کم ہے، اس بات سے آگاہ ہے کہ وہ صرف مؤرخ ہی نہیں تھا بلکہ فلسفۂ تاریخ کا مُوجد اور علومِ عُمرانی (Social Science) کا ایک پیش رَو مفکر بھی تھا۔ آج مشرق و مغرب میں اس کی جو شہرت ہے اورعالمی فکر کی دُنیا میں اسے جو اونچا مقام حاصل ہے وہ اس کی اسی دوسری حیثیت کی وجہ سے ہے۔

ابن خلدون نے ایک طویل عمر پانے کے بعد 1406 میں قاہرہ میں انتقال کیا۔ اس نے جو تاریخ لکھی اس کے شروع میں اس نے ایک ’’مقدمہ‘‘ لکھا جو پھیل کر اس کے فلسفہ و فکر کا ایک ایسا نادر مجموعہ ثابت ہوا جس کی مثال نہ اس سے پہلے مسلم فکر کی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ اس کے بعد کئی صدیوں تک دیکھنے میں آئی۔ اس ’’مقدمے‘‘ میں اس نے بتایا کہ مؤرخ کا کام گزرے ہوئے واقعات کو محض بیان کر دینا ہی نہیں ہے بلکہ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ ان واقعات کے پس پردہ عوامل کیا تھے، اور ان عوامل کے درمیان کس طرح کا منطقی ربط تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ان عوامل اور رجحانات کو سامنے رکھ کر ایک ذہین مؤرخ آنے والے واقعات کی بھی ایک حد تک پیش گوئی کر سکتا ہے۔ پھر اس نے اپنے اس فلسفۂ تاریخ کی روشنی میں اپنا فلسفۂ عمرانیات قائم کیا۔ اس نے اُن عوامل کی نشان دہی کی جو انسانی گروہوں یا قوموں کے نمود و ارتقا اور پھر ان کے انحطاط کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ اسی ضمن میں اس نے بتایا کہ افراد کی طرح قوموں کی بھی ایک طبعی عمر ہوتی ہے، جو شباب، کہولت اور بڑھاپے سے گزر کر بالآخر اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔

ابن خلدون کے ان افکار میں ایک نئی روح کی جو لہریں پائی گئیں انہیں نہ اس کے معاصرین نے اور نہ اس کے معاً بعد آنے والی نسلوں نے کوئی زیادہ محسوس کیا۔ اس کے ان افکار و تصورات نے البتہ اس کے بعض ذہین شاگردوں کو متاثر کیا، اور مقریزی اور سخاوی جیسے علما اور دانش ور پندرھویں صدی میں ابن خلدون کی تاریخی فکر سے فیض یاب ہوتے رہے۔ لیکن اس کے بعد ایک طویل عرصے تک اس ضمن میں خاموشی چھائی رہی۔

ابن خلدون کو پھر سے دریافت کرنے کا عمل سولھویں صدی میں کہیں جا کر شروع ہوا۔ سترھویں صدی میں اس میں کچھ حرکت اور زندگی کے آثار دیکھنے میں آئے۔ اس صدی کے آغازمیں شمالی افریقہ کے ایک سکالر مقّری نے ابن خلدون کے افکار سے خاصی رہ نمائی حاصل کی۔ لیکن اسے صحیح طور پر سمجھنے کے لیے کچھ اور لوگ درکار تھے، جو رومن لوگوں کی طرح سیاسیات میں دل چسپی رکھتے تھے۔ چناںچہ ان کی ذہنی و فکری دل چسپیوں کا مرکز تاریخ تھی۔ یہ لوگ عثمانی ترک تھے، جن کے دانش ور اور سیاسی مدّبر ابن خلدون کے افکار اور اس کی تصانیف میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر دل چسپی لینے لگے۔ اٹھارویں صدی کا پورا عرصہ متعدد ترک دانش وروں اور سکالروں کی دل چسپی سب سے زیادہ ابن خلدون میں رہی۔ ان میں سے بعض لوگوں نے یہ بھی کیا کہ اس کی تصانیف کے متعدد مخطوطے مختلف کتب خانوں سے ڈھونڈ کر ترکی میں لائے، اپنے استفادے کی خاطر انھیں ایڈٹ کیا اور ان کی نقلیں کروا کر دوسروں کو مہیّا کیں۔

انیسویں صدی کے آغاز سے ابن خلدون کے مطالعے میں ترکوں کے ساتھ یورپ کے سکالر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ ابن خلدون کے زمانے کے کئی صدیوں بعد یورپی مغرب میں جب کچھ نئے افکار و نظریات بحث مباحثے کا موضوع بنے تو انھیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ افکار و نظریات کوئی نئے نہیں تھے بل کہ بہت پہلے، چودھویں صدی میں، شمال مغربی افریقہ کے ایک عرب باشندے نے ان کا ذکر اذکار کیا تھا اور ان کی بنیاد پر اپنی تاریخ کے ’’مقدمے‘‘ میں ایک نئی سائنس کی بنیاد رکھی تھی۔ ابن خلدون کی یہ ایک دوسری دریافت تھی جس کا سہرا اہل یورپ کے سَر ہے۔ انھوں نے ایک صدی سے زیادہ عرصہ اس کی تاریخ کے اس عظیم الشان ’’مقدمے‘‘ کے مطالعے اور تجزیہ میں صرف کیا، اور اس میں پیش کئے جانے والے فلسفے کو اپنی بحث کا موضوع بنائے رکھا۔

مغرب میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا، اور اس کے اپنے وطن مشرق میں اس بارے میں بالکل خاموشی تھی۔ البتہ 1932 میں جب ابن خلدون کی پیدائش کے چھہ سو سال پورے ہونے کو آئے تو عرب لوگ جاگ پڑے، اور مغرب میں اس پر جو کام ہو رہا تھا اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ابن خلدون کی شایان شان طریقے پر یاد منائی جائے اور اس کی تصانیف کو شائع کرکے عرب دنیا میں پھیلایا جائے۔ چناںچہ اس غرض سے انہوں نے اس کے وطن تیونس، اور پھر اس کے آخری زمانے کے مسکن مصر میں جلسے اور کانفرنسیں منعقد کیں۔ ان میں اس کے چھوڑے ہوئے علمی و فکری ورثے کو بحث مباحثے کا موضوع بنایا، اور پھر ان سارے مباحث کو جمع کرکے شائع کیا۔ اس طرح ابن خلدون ترکی سے یورپ اور یورپ سے ہوتا ہوا بالآخر اپنے وطن عرب میں پہنچ گیا۔

یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ ہم مشرق والوں کے علم و فن کا کوئی خزینہ یا کوئی شخصیت پہلے اہلِ مغرب نے دریافت کی۔ انہوں نے اس کی قدروقیمت پہچانی اور اس کے بارے میں اپنے جائزے اور مطالعے پیش کیے۔ پھر وہ معلومات ہم اہل مشرق تک پہنچیں اور ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہمارے ہاں علم و فن کا یہ خزانہ موجود تھا اور ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔ اس کی بڑی مثال عربی کے داستانی ادب کا عظیم شاہ کار ’’الف لیلہ‘‘ ہے جسے فرانس کے موسیوگلان نے دریافت کیا اور اس کے مختلف اجزا مشرق کے کتب خانوں سے بہم پہنچا کر اٹھارویں صدی کے اوائل میں اس کا ایک نسخہ تیار کیا۔ پھر فرانسیسی میں اس کا ایک خوب صورت ترجمہ کرکے اسے پورے یورپ میں پھیلا دیا۔ لیکن اٹھارویں صدی تک مشرق میں ’’الف لیلہ‘‘ بدستور حالتِ گم نامی میں تھی۔ مشرق میں الف لیلہ کی باقاعدہ دریافت اہل مغرب ہی کے ذریعے عمل میں آئی جو مصر پر نپولین کے حملے کے بعد مشرق کے ملکوں میں آنے جانے لگے تھے۔ ان کی زبانی عرب دنیا یہ سُن کر حیران رہ گئی کہ ان کے پاس عربی لوک داستانوں کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود تھا جسے مغرب والوں نے ڈھونڈ نکالا اور مشرق کو اس کی خبر ہی نہیں تھی۔

اسی طرح صحابہؓ کے حالات میں ایک ضخیم کتاب ’’طبقات ابن سعد‘‘ ہے جس کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی اپنے مقالے میں بتاتے ہیں کہ اس کتاب کے نسخوں کو بہم پہنچانے میں، جس کا پورا نسخہ قسطنطنیہ اور قاہرہ کے کتب خانوں میں بھی نہیں پایا جاتا تھا، جرمنی کے ایک مشہور فاضل پروفیسر ساخو نے حد درجہ مشقت جھیلی۔ اس کے اس کام کے مصارف کے لیے شہنشاہ جرمنی نے (اُس زمانے کے) پورے ایک لاکھ روپے شاہی خزانہ سے عطا کیے۔ یہ کتاب جو بارہ ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی، اس کی پہلی جلد علامہ شبلی نے دیکھی تھی۔ جب کہ باقی جلدیں اس وقت بھی زیرطبع تھیں۔

ابن خلدون سے جب بالآخر اہلِ عرب آشنا ہوئے تو اس پر علمی کاموں کا آغاز ہوگیا۔ اس ضمن میں مصر کے ڈاکٹر طہٰ حسین نے پیرس کی سوربون یونی ورسٹی میں اس کے عمرانی فلسفے پر اپنا تھیسس پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اسی طرح ایک دوسرے فاضل محمد عبداللہ عثمان نے’’ابن خلدون... اس کی حیات اور تصانیف‘‘ کے موضوع پر ایک عمدہ کتاب انگریزی زبان میں لکھی، اور اس طرح یہ سلسلہ چل پڑا۔ (جاری)