مسئلہ کشمیر پرسفارتی کوششوں کے لئے ہوم ورک
- تحریر
- جمعرات 01 / ستمبر / 2016
- 4520
پاکستان میں یہ تاثر عمومی طور پر نظر آ تا ہے کہ آج سے پہلے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی اداروں اور ملکوں میں مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کی گئی اور اب اگر عالمی اداروں اور دنیا کے اہم ملکوں کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں عوام کے خلاف بھارتی مظالم کی صورتحال بیان کی جائے تو مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ عالمی اداروں میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف مسلسل انسانیت سوز مظالم کا معاملہ اٹھانا اور اہم ملکوں میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل سے بھارت کے انحراف کی صورتحال بیان کرناضروری ہے۔ تاہم یہ عمل مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے وزارت خارجہ کی دلچسپی اور کوششیں ناکافی اور محدود ہیں۔ پاکستانی سفارت خانوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر سے متعلق بے اعتنائی کی شکایت عشروں سے جاری ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر سے متعلق سرگرم سفارتی کوششوں کے اعلانات کے باوجود بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں مسئلہ کشمیر کو نمایاں طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ مانٹریال کینڈا میں مقیم کشمیر کاز کے حوالے سے سرگرم شخصیت راجہ حبیب جالب نے بتایا ہے کہ
"Today Paksiatni Foreign mission are avoiding to even talk about Kashmir brutality"
(پاکستانی فارن مشن نہ صرف نظر انداز بلکہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بات کرنے سے بھی گریزاں ہے)۔
وزیراعظم محمدنوازشریف نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے 22اراکین پارلیمینٹ کو اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔ یہ لوگ اقوام متحدہ، امریکہ یورپین یونین (برسلز) روس، چین، فرانس، برطانیہ، سعودی عرب، ترکی، جنیوا اور افریقہ کا دورہ کریں گے۔ ان ارکان پارلیمنٹ کا تعلق مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی سے ہے۔ اس کے علاوہ اتحادی جماعتوں جے یو آئی(ف) اور مسلم لیگ( ضیاء ) کے رکن بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ22ارکان پارلیمنٹ الگ الگ گروپوں میں غیر ملکی دورے کریں گے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و بربریت سے عالمی برادری کو آگاہ کریں گے۔
دریں اثنا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب سے پہلے چین سمیت تمام دوست ممالک سے قبل بات کی جائے کہ وہ بھی جنرل اسمبلی میں کشمیر پر بات کریں۔ قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو جنرل اسمبلی میں اعداد و شمار کی روشنی میں اٹھائیں۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت پر زور دیں اور اقوام متحدہ کو اس بات پر متوجہ اور آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنی قراردادوں کو عملی جامہ پہنائے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا کو پاکستان آنے کی دعوت دی جائے اور کیمپوں میں مظلوم کشمیریوں سے ملوایا جائے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کے اعداد و شمار کو ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے کہا کہ وزارت اطلاعات، پیمرا اور دیگر حکومتی ادارے پاکستانی میڈیا کو بھی اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ کشمیر کاز کو تسلسل کے ساتھ اجاگر کرتے رہیں۔
کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے پارلیمانی گروپ میں شامل بعض نمائندوں کی مسئلہ کشمیر سے متعلق آگاہی کے حوالے سے ان کی اہلیت پر کئی اعتراضات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ پچیس سال کے دوران مختلف پالیمانی وفود مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بیرون ملک دوروں پر جاتے رہے ہیں تاہم ایسے اکثر دورے کشمیر کاز کے بجائے ارکان پارلیمنٹ کی سیر و تفریح کے دورے ثابت ہوتے رہے ہیں۔ کشمیری حلقوں کا یہ مطالبہ بھی پرانا ہوچکا ہے کہ پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں اور ان میں سرکاری ملازمین کے بجائے حقیقی معنوں میں کشمیر کاز کے لئے سرگرم افراد کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ امریکہ و یورپ میں مقیم کشمیری اور آزاد کشمیر کے افراد کو کشمیر کاز کے حوالے سے متحرک کرنا بھی ایک اہم کا م ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ایسی کئی کشمیری شخصیات موجود ہیں جو ان ملکوں میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دنیا میں کشمیریوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی اہمیت و افادیت مسلمہ ہے۔
کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے تناظر میں آزاد کشمیر حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ’’ آن بورڈ ‘‘ لینا لازم ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کو کشمیر کاز کے حوالے سے سیاسی کردار دینے کی تجویز اور مطالبے کے تناظر میں آزاد حکومت کو بھی کشمیر کاز کے حوالے سے متحرک کرنا اہم ہو سکتا ہے۔ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو متحرک کرنے سے ان عناصر کی بھی اصلاح کی جانب مائل کیا جا سکتا ہے جو آزاد کشمیر کے حوالے سے پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں ملوث ہیں۔ دنیا کے اہم ملکوں میں قائم پاکستانی سفارت خانوں میں مستقل بنیادوں پر خصوصی کشمیر ڈیسک کا قیام مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل اقدام ہو گا۔ کشمیر ڈیسک کو فارن آفس کے روائتی انداز کے مطابق چلانے کی بجائے اس میں مقبوضہ کشمیراور آزاد کشمیرسے تعلق رکھنے والے ، کشمیر کاز کے لئے کام کرنے والے افراد و شخصیات کو متعین کرنے سے عالمی سطح کے بھارت کے پروپیگنڈے کا موثر توڑ کیا جا سکتا ہے۔
عالمی سطح کی ان کوششوں کے ساتھ یہ بات بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کی کشمیر پالیسی کو بہتر اور موثر بنایا جائے۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی کے بارے میں کشمیری حلقوں میں مختلف حوالوں سے تشویش پائی جاتی ہے۔ لیکن کشمیریوں کی اس تشویش کو دور کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی ۔ کشمیریوں سے رابطوں سمیت پاکستان کے کشمیریوں سے متعلق تمام امور غیر سیاسی خطوط پر استوار ہیں جس سے کشمیریوں کی جدوجہد، تحریک اور کشمیر کاز کو سنگین نقصان ہوتا ہے۔ کشمیریوں کو یہ یقین دلانا بھی وقت کا ایک اہم تقاضہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان کی عالمی، سفارتی و سیاسی مہم محض پاکستان پر بھارت کے دباؤ کو ’’ کاؤنٹر‘‘ کرنے کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق فیصلہ کن انداز اپنانے سے ہی سفارتی و سیاسی کوششیں کارگر ہو سکتی ہیں۔ اس کے لئے پاکستان کواپنی کشمیر پالیسی کو بہتر اور موثر بنانے کے لئے ہوم ورک مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔