بھارت کا فرسودہ بغاوت قانون

پچھلے کئی مہینے سے ہندوستان میں فرسودہ بغاوت قانون اور اس کے غلط استعمال پر بحث اور احتجاج ہورہا ہے۔ اس مسئلے پر برطانیہ میں بھی چرچا رہا اور انسانی حقوق کے حامیوں نے اس فرسودہ قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔  تاہم کچھ لوگوں نے اس قانون کو قائم رکھنے کی حمایت بھی کی ہے۔  اس قانون کے ذریعہ ایک خاص نظریے اور مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے۔ سوال یہ ہے کہ اس فرسودہ قانون کی ہندوستان میں کیوں ضرورت ہے؟ اس قانون کو بدل کر کیوں نہ اس سے بہتر اور کارآمد قانون کو آئین میں شامل کیا جائے؟ کیا واقعی اس قانون کے ذریعہ ہندوستان کے اقلیتی طبقہ کو نشانہ بنایا جارہاہے؟ ایسے کئی سوال ذہن میں آرہے ہیں جس کو جاننا اور جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔  آج اسی مسئلے کے کچھ اہم پہلو پر روشنی بھی ڈالتے ہیں۔

ہندوستان میں اگر آپ فیس بُک کی مخصوص پوسٹ کو پسند کرتے ہیں یا کسی گرُو پر تنقید کرتے ہیں یا کسی مخالف کرکٹ ٹیم کی حمایت میں جشن مناتے ہیں یا کسی قسم کا کارٹون بناتے ہیں یا یونیورسٹی کے امتحان میں اشتعال انگیز سوال پوچھتے ہیں یا سنیما میں جب قومی ترانہ بجایا گیا ہو اور آپ کھڑے نہ ہوں ، تو آپ کو بغاوت کے قانون کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں ایسا ہی ایک واقعہ دیکھنے میں آیا جب اداکارہ اور سیاستدان دیویا اسپاندانا جن کو لوگ رامیا کے نام سے بھی جانتے ہیں، کی طرف سے پاکستان کی حمایت میں چند تعریفی جملے کہنے پر ایک وکیل نے مقامی عدالت میں اس کے خلاف بغاوت قانون کے تحت مقدمہ کر دیا۔ اس وکیل نے ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے پاکستان جیسے ملک جو کہ ہندوستان کا حریف اور پڑوسی ملک ہے، اس کے لوگوں کی تعریف کی ہے۔ حالانکہ ان تمام باتوں سے پہلے رامیا پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد سے واپس لوٹی تھیں اور انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان جہنم نہیں ہے۔ تاہم رامیا کا جواب اور اشارہ ہندوستان کے دفاعی وزیر منوہر پاریکر کی طرف تھا جنہوں نے چند دن قبل یہ کہا تھا کہ پاکستان جانے کا مطلب جہنم جانا ہے۔ لیکن وکیل کے وٹّل گوڈا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لوگ اچھے ہیں کہنے کامطلب ہی یہی ہے کہ آپ نے اپنے ملک سے بغاوت کی ہے۔ یہ ایک اینٹی نیشنل بیان ہے جسے ہم قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ ویسے بھی ہندوستان کا انفو ٹیکنالوجی کے مرکز بنگلور میں ایسا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ کچھ دن قبل پولیس نے ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کے خلاف بغاوت کے قانون کے تحت الزام لگایا کہ ان کے لوگ ہندوستان کے خلاف نعرہ لگا رہے تھے۔

برسوں سے ہندوستان میں تمام حکومتیں انگریزوں کا نافذ کیا ہوا بغاوت قانون غلط طور استعمال کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہ خطرناک قانون جسے 124aجو کہ انڈین پینل کوڈ کا فرسودہ قانون مانا جاتا ہے آج بھی طالب علموں، صحافیوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور  حکومت کے خلاف اپنی تنقیدی رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔ 124a انڈین پینل کوڈ کا ایک ایسا فرسودہ قانون ہے جس کا مطلب کوئی لفظ چاہے وہ بولا جائے یا لکھا جائے یا اشاروں کے ذریعے بتا یا یا دکھایا جائے، جس میں حکومت کی توہین ہو تو اس شخص یا تنظیم کو بغاوت قانون کے تحت جرمانہ اور عمر قید کی سزا مل سکتی ہے۔

1870میں تھامس ماکولے Thomas Macaulay نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا تھا۔ انگریزی حکومت 1863  سے  1870 کے دوران وہابی سرگرمیوں سے پریشان تھی۔ بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کے اوائل میں بغاوت قانون کو انگریزوں نے زیادہ تر ہندوستان کی آزادی لڑنے والوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔ آپ کو جان کر شاید حیرانی ہو کہ  مہاتما گاندھی کو خلاف بغاوت قانون کے تحت ہی  گرفتار کیا گیا تھا جس پر مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ اس قانون کو بنانے کا مقصد عام شہریوں کی آزادی کو دبانا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ آزادی کے بعد  حکمراں کانگریسی حکومت اس قانون کے تحت اُن لوگوں کو گرفتار کرتی رہی تھی جو حکومت کے ظلم اور دھا ندلی کے خلاف  آواز اٹھاتے تھے۔ اس کے علاوہ اُن مارکسی لیڈروں کے خلاف بھی اس قانون کا غلط استعمال ہوتا تھا جن پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ لوگوں کو  حکومت اور سرمایہ دارانہ نظام  کے خلاف اکساتے تھے۔

1951  میں پنڈت نہرو نے بغاوت قانون کے خلاف کہا تھا کہ یہ قانون قابلِ اعتراض اور قابلِ نفرت ہے۔ تاہم 1961  میں بغاوت قانون کے حوالے سے سپریم کورٹ نے اس کے استعمال کو کم کر نے کا مشورہ دیا تھا۔ مگرتشدد کے لئے اکسانے پر اس قانون کے استعمال کو جاری رکھنے کا بھی مشورہ دیا۔ زمانہ بیت جانے کے بعد آج بھی حکا م سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ 2014 نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تحت لگ بھگ 47 بغاوت کے کیس صرف نو صوبوں میں درج کئے گئے تھے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان تمام معاملات میں اس بات کاثبوت نہیں پایا گیا کہ یہ لوگ تشدد یا تشدد کے لئے اکسانے میں شامل تھے۔ ان مقدمات  میں 58 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں صرف ایک شخص کو قصوروار پایا گیا۔

چند اُن لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہیں بغاوت قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں کارٹون بنانے والے اسیم تریویدی کو ستمبر 2001 میں اس لئے گرفتار کیا گیا تھا کہ اس نے ہندوستانی آئین اور قومی نشان کا مذاق اڑا یا تھا۔ لیکن ایک مہینے بعد اسیم تریویدی کی گرفتاری کے خلاف لوگوں نے شدید مظاہرہ کیا اور کافی تنقید ہوئی جس کے بعداس کے خلاف چارج کو واپس لے لیا گیا ۔ مارچ 2014 میں ساٹھ کشمیری طالب علموں کو اتر پردیش میں اس بات کے لئے بغاوت قانون کے تحت گرفتار کیا گیا کہ وہ سب ہندوستان کے خلاف کرکٹ میچ میں پاکستان کی حمایت میں جشن منا رہے تھے۔ بعد میں قانونی صلاح و مشورہ کے بعد حکام نے چارج کو ڈراپ کر دیا۔ اگست 2014میں کیرالا کے سات طالب علموں کو اس لئے بغاوت قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا کہ ایک سنیما میں یہ لوگ  قومی ترانہ کو سنتے وقت احترام کے طور پرکھڑے نہیں ہوئے تھے۔ اکتوبر 2015 میں لوک گیت گانے والے ایس کون کو تامل ناڈو حکومت نے اس لئے گرفتار کر لیا تھا کہ انہوں نے اپنے دو گانوں میں حکومت کے خلاف شراب کی آمدنی اور منافع کے غلط استعمال  کا الزام لگایا تھا۔ فروری 2016 میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیڈر کنہیا کمار کو بغاوت قانون کے تحت اس لئے گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پرہندوستان کے خلاف نعرہ لگایا تھا جب کہ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ تامل ناڈو میں جب 23,000لوگوں نے نیوکلیر پاورپلانٹ لگانے کی مخالفت میں احتجاج کیا تو ان میں سے 9,000 مردوں اور عورتوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف بغاوت قانون کے تحت  کیس کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس فرسودہ قانون کو حکام کیسے  غلط استعمال کر تے ہیں۔ ان باتوں کے علاوہ ہندوستانی عدلیہ کی سست رفتاری سے زیادہ تر مقدمات کی سماعت وقت پر نہیں ہو پاتی۔ لوگ بلا وجہ جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا جن لوگوں کو بغاوت قانون کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے انہیں اپنے پاسپورٹ کورٹ میں جمع کروانے پڑتے ہیں ۔ وہ کسی سرکاری نوکری کے اہل نہیں رہتے۔ انہیں عدالت کے حُکم پر حاضری دینا پڑتی ہے اور ان لوگوں کو وکیل کی فیس بھی  خود دینا  پڑتی ہے۔ حالانکہ زیادہ تر لوگوں پر ملک کے خلاف بغاوت کا الزام ثابت نہیں ہو پاتا لیکن عدلیہ کی سست رفتاری ہی لوگوں کے لئے ایک تکلیف دہ سزا ہوتی ہے۔

انسانی حقوق واچ رپورٹ کے مشترکہ مصنف بجوریا کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایک تنظیم نے بغاوت قانون کے غلط استعمال کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ بغاوت قانون کو ختم کردینا چاہئے کیونکہ اس قانون کو انگریزوں نے اپنے دورِ حکومت میں غلط استعمال کے لئے نافذ کیا تھا اور اس کا مقصد صرف آزادی کے پروانوں کی آواز کو دبانا تھا۔

ہندستانی آئین میں آرٹیکل 19(1)(a) کہتا ہے کہ ہندوستان کے ہر شہری کو اپنی بات  کہنے اور اظہار کرنے کا بنیادی حق ہے۔ تو پھر سوال ہے کہ کیا نیوکلیر پاور پلانٹ کے خلاف احتجاج کرنا وطن سے غداری ہے؟ کیا سنیما میں قومی ترانہ سننے کے دوران کھڑے نہ ہونا دیش ورودھ ہے؟ کیا ہندوستان کے خلاف کسی ملک کی حمایت کرنا دیش اپنے ملک سے دشمنی ہے؟ کیا پاکستان کے لوگوں کی تعریف کرنا غداری ہے؟ اور اگر ہے تو پھر ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنی بات کہنے اور اظہار کرنے کا حق کیوں دیتا ہے۔

گاندھی جی کی یہ بات  سو فی صد درست ہے  کہ اس قانون کو بنانے کا مقصد عام شہریوں کی آزادی کو دبانا تھا۔ ان حقائق سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ جمہوری ہندوستان کا فرسودہ بغاوت قانون عام شہریوں کی آزادی اور انسانی حقوق کو دبانے کا ایک غلط اوربزدلانہ طریقہ ہے ۔ یہ ہر شہری کے انسانی حقوق کا گلا گھونٹ دیتا ہے بلکہ یہ حکمراں جماعت کی آمرانہ پالیسی کا پردہ بھی فاش کرتا ہے۔