کچھ ابن خلدون کے بارے میں (2)

  • تحریر
  • جمعہ 02 / ستمبر / 2016
  • 10461

ابن خلدون کا تعلق عرب کے کس علاقے سے تھا؟ اور اس کا شجرۂ نسب کہاں تک پہنچتا ہے؟ اس بارے میں ابن خلدون نے ہمیں جو معلومات بہم پہنچائی ہیں ان کے مطابق اس کے خاندان کا تعلق جنوبی عرب کے علاقے حضرموت کے ایک یمنی قبیلے سے تھا۔ اس قبیلے کے سلسلۂ نسب کی کڑیاں اوپر جا کر ملوکِ کندہ سے ملتی تھیں، جو اسلام سے پہلے پورے حضرموت پر برسراقتدار تھے۔

اس خاندان کا مورثِ اعلیٰ خالد وہ پہلا شخص تھا جو یمن سے ہجرت کرکے ہسپانیہ پر مسلمانوں کی فتح کے ابتدائی برسوں میں اندلس چلا گیا، اور آٹھویں صدی عیسوی میں وہ پہلے قرمونہ میں جا بسا جو قرطبہ، اشبیلیہ اور غرناطہ کی تکون کے اندر کہیں واقع تھا۔ ہسپانیہ میں ایک رواج کے مطابق اس کا نام خالد سے خلدون ہوگیا (جیسے زید سے زیدون، بدر سے بدرون وغیرہ) اور آگے پورا خاندان اسی نام سے موسوم ہوا۔ کچھ عرصہ گزرنے پر بعد کی نسلوں کے لوگ اشبیلیہ چلے گئے۔ تاریخی اعتبار سے اس خاندان میں ایک نمایاں نام کریب کا ملتا ہے، جس نے اموی خاندان کے خلاف بغاوت کی اور اشبیلیہ میں نیم آزاد حکومت قائم کر لی۔ گیارھویں صدی کے وسط میں بنو خلدون اشبیلیہ کے فکری اور سیاسی رہ نما تسلیم کیے جاتے تھے۔

تیرھویں صدی کے آغاز میں ہسپانیہ کے الموحّدون کی مملکت کا شیرازہ بکھر گیا اور عیسائی طاقتیں قرطبہ، اشبیلیہ اور غرناطہ کی تکون کے اندر مداخلت کرنے لگیں۔ بنوخلدون نے جب شہر کی پُرخطر صورتِ حال دیکھی تو 1248 میں اشبیلیہ کے فتح ہونے سے پہلے ہی اسے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور سمندر عبور کر کے شمال مغربی افریقہ کے محفوظ اور پرامن ماحول میں جا بسے۔ یہاں بنو حفص کا خاندان حکمران تھا۔ انہوں نے بعض رشتہ داریوں کی وجہ سے ہسپانیہ سے آنے والے بنوخلدون کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔

ابن خلدون شمال مغربی افریقہ کے ملک تیونس میں 1332 عیسوی میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی تعلیم اس وقت کے دستور کے مطابق ہوئی اور اس نے اپنے زمانے کے مجوّزہ نصاب پر پورا عبور حاصل کر لیا۔ اس نے پہلے قرآن کریم حفظ کیا اور اس کو ساتوں قرأتوں کے ساتھ پڑھا۔ احادیث میں اس نے مُوطّا امام مالک اور صحیح مسلم کی تو تکمیل کی، لیکن صحیح بخاری کے چند اجزا تک ہی اس کی رسائی ہو سکی۔ لغت اور نحو کے علوم میں اس نے دست رس حاصل کی، اور ادبیات کے سلسلے میں اس کا اپنا بیان ہے کہ عربی ادب و شعر کے کلاسیکی مجموعے کتاب الاغانی کا بڑا حصہ اس کو ازبَر تھا۔ اس بیان پر البتہ لوگوں نے زیادہ اعتبار نہیں کیا کہ کتاب الاغانی بہت ضخیم کتاب ہے (آج کے زمانے میں یہ بیس جلدوں میں آتی ہے)۔

ہسپانیہ کی طرف سے جو مہاجر آ آ کر شمال مغربی افریقہ میں بس رہے تھے ان کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ یہ لو گ مقامی باشندوں کے مقابلے میں ایک مختلف قسم کا گروہ تھے۔ بہت مہذّب اور بہتر ذہنی سطح کے حامل! ان ہسپانوی مہاجروں نے شمال مغربی افریقہ کی ثقافتی زندگی پر جو اثرات مرتب کیے ان کا ابن خلدون اپنے ’’مقدمے‘‘ میں بار بار ذکر کرتا ہے اور ہسپانیہ کی برتری اور اس کی تہذیب کے خالص اور بے مَیل ہونے پر زور دیتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اپنے خاندان کے ہسپانیہ چھوڑنے کے تقریباً ایک سو سال بعد بھی ابن خلدون اپنے آپ کو ذہنی طور پر اُس شان دار تہذیب کا ایک بچھڑا ہوا فرد سمجھتا تھا۔

شمال مغربی افریقہ میں اُس وقت تین مملکتیں نمایاں اور اپنی اپنی جگہ طاقت کے مراکز تھیں۔ تیونس میں بنوحفص کا خاندان، جن کے زیرسایہ بنوخلدون رہ رہے تھے۔ آگے الجزائر (وسطی افریقہ) میں بنوعبدالودود! تلمسان اور بجایہ ان کے بڑے شہر تھے۔ اس سے اور آگے مراکش (مغربی افریقہ) جہاں مرینی خاندان کی حکم رانی تھی اور فاس (Fez) ان کا بڑا شہر تھا۔ ابن خلدون مختلف اوقات میں ان تمام حکومتوں کے درباروں کے ساتھ وابستہ رہا اور ان کے ہاں اس نے مختلف عہدوں پر کام کیا۔ چناںچہ وہ کاتبِ علامات (Stamp Master) کے معمولی عہدے سے ترقی کرتے کرتے حاجب، خطیب، کاتب السّر (سیکرٹری)، سفیر، وزیر اور قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کے اونچے مناصب تک پہنچا۔ شمال مغربی افریقہ کے یہ حکمران ایک دوسرے کے ساتھ عموماً برسرِپیکار رہتے تھے۔ جہاں کسی حکمران نے دوسرے کو کم زور سمجھا اسی پر چڑھائی کر دی اور اس کے ملک پر قابض ہوگئے۔

اپنی زندگی کے حالات کے بارے میں ابن خلدون نے اپنے سوانح نگاروں کی مشکل یوں آسان کر دی کہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس نے ایک ایسی خود نوشت لکھ چھوڑی ہے جو اس کی زندگی کے حالات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے اور ان کے تاریخی پس نظر کو بھی اُجاگر کرتی جاتی ہے۔ اپنی بعض خامیوں کے باوجود (مثلاً یہ کہ اس میں ابن خلدون کے بچپن کے حالات کا کوئی ذکر نہیں ہے) یہ سوانح بہت جامع اور وسیع الاطراف ہے۔ یہ اس کی ’’تاریخ‘‘ کا آخری حصہ ہے، جس طرح ’’مقدمہ‘‘ اس کی ’’تاریخ‘‘ کا پہلا حصہ ہے۔
جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے ابن خلدون کی زندگی کے دو نمایاں ادوار ہمارے سامنے آتے ہیں۔

ایک وہ جو (1332 سے 1382 تک ) شمال مغربی افریقہ کی مذکورہ بالا ریاستوں میں گزرا اور دوسرا وہ جو 1382 سے 1406 میں اس کی وفات تک) مصر میں گزرا۔ زندگی کے ان دونوں ادوار میں اس کو دو دو سانحے پیش آئے۔ پہلے دور میں سال  1348 میں جب وہ سولہ سال کا تھا، اس علاقے میں طاعون کی ایک بڑی وبا پھوٹی، جس میں اس کے متعدد اساتذہ اور شیوخ، اور اس کے ماں باپ لقمۂ اجل ہوگئے۔ دوسرا سانحہ اس کے ادیب اور شاعر دوست لسان الدین الخطیب کے سیاسی قتل کا تھا۔ دوسرے دور میں، جب مصر میں آئے ہوئے اسے کچھ عرصہ ہوا تھا اس کے اہل خانہ (بیوی اور پانچ بیٹیاں) جو تیونس سے ایک جہاز میں قاہرہ کی طرف آ رہے تھے اسکندریہ کے قریب ایک حادثے میں جہاز کے ساتھ ہی غرق ہوگئے اور گھر کا سارا اثاثہ بھی ان کے ساتھ ہی ڈوب گیا۔ دوسرا سانحہ تو نہیں البتہ اہم واقعہ اس زمانے میں تاتاری فاتح تیمورلنگ سے ابن خلدون کی ملاقات کا ہے۔ امیر تیمور نے ان دنوں دمشق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور اس محاصرے کے دوران میں ابن خلدون کو اس کے ہاں بھیجا گیا۔ وہ اس کے ہاں رہا اور تاتاری امیر نے اِس عالم اور دانش ور کے ساتھ کافی باتیں کیں، جن کا ذکر آگے آئے گا۔

ابن خلدون کی زندگی کے حالات ایسی بھول بھلیاں (Labyrinth) ہیں کہ اگر آپ ایک دفعہ ان کی تفصیلات میں چلے جائیں تو واپسی کا راستہ مشکل سے ہی ملے گا۔ یہ حالات کوئی زیادہ دل چسپ اور جاذبِ توجہ بھی نہیں ہیں۔ انھیں پڑھتے ہوئے ایک ایسا شخص ہمارے سامنے آتا ہے جس کا مطمحِ نظر پوری زندگی میں افریقہ اور مصر کے درباروں میں اونچے مناصب پر پہنچنا اور طاقت اور اختیار کے لیے تگ و دو کرنا ہے۔ اس میں ذمہ داری اور وفاشعاری کی سخت کمی ہے۔ چناںچہ اس کی وابستگی اور مدح و ستائش کے محور وقت اور موقع کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ آج اگر اس کے مراسم ابن اسحاق حنفی اور حسن بن عمر کے ساتھ ہیں تو کل ان کا حریف اور دشمن اس کا ممدوح ٹھہرے گا۔ اس لیے کہ ایک تو وہ طاقت ور ہے، دوسرے اس کے ہاں اسے اونچی عمدہ اور بہتر پوزیشن ملنے کی امید ہے۔ درباروں میں رہتے ہوئے وہ دھڑے بندیاں بھی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اکثر حاسدوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے اس رویے کی پاداش میں وہ دو مرتبہ جیل کی ہوا بھی کھا آتا ہے لیکن یہ حوادث اس کے حوصلے کو پست نہیں کر سکتے اور وہ ہر دفعہ اپنی قابلیت اور علمی تفوّق کی بہ دولت پھر سے سرکار دربار میں اثرورسوخ حاصل کر لیتا ہے۔

ابن خلدون ابھی بنوحفص کے ہاں تیونس میں تھا جب مراکش کے مرینی سلطان ابو عنان نے تیونس پر چڑھائی کر دی۔ اس مہم میں وہ کچھ علما اور دانش ور بھی اپنے ساتھ لایا۔ ابن خلدون نے اس موقع سے فائد اٹھاتے ہوئے ان علما اور دانش وروں کے ساتھ روابط قائم کیے اور ان کی راہ نمائی میں اپنی تعلیم کا معیار بلند کیا۔ اس کے بعد بعض سیاسی حالات کی وجہ سے ابن خلدون تیونس کو چھوڑ کر ایک عرصے تک ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک چپ چاپ سفر کرتا رہا۔ تا آں کہ وہ امیر مراکش ابوعنان کے ہاں جا نکلا۔ ابوعنان نے پہلے تو اسے اپنے درباری علما کے گروہ میں شامل کیا، پھر کچھ عرصے بعد 1355 میں اپنے کاتب (سیکرٹری) کے عہدے پر مامور کر دیا۔ مراکش کی مرینی سلطنت میں ابن خلدون نے اپنی زندگی کے آٹھ اہم سال گزارے۔ اس عرصے میں اس نے جہاں سرکاری امور سرانجام دیے وہاں علما اور شیوخ کی ایک بڑی جماعت کے علم و دانش سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا، جو قیروان، غرناطہ اور تلمسان کی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل تھے۔ اس طرح اس نے فقہی اور دینی نیز تاریخی، ادبی اور فلسفیانہ علوم میں اپنے علم کو ٹھوس بنیادوں پر قائم کر دیا۔

اسی عرصے میں اس کی ملاقات غرناطہ سے بھاگ کر آئے ہوئے سلطان محمد الخامس اور اس کے شاعر اور ادیب وزیر لسان الدین الخطیب سے ہوئی۔ ابن خلدون نے سلطان کی بحالی کے لیے کام یاب جدوجہد کی اور ان دونوں کے ساتھ اس کی دوستی کی بنیاد پڑگئی۔

یہاں مراکش میں ابومنان نے بجایہ کے امیر ابوعبداللہ کو فاس میں قید کر رکھا تھا۔ ابن خلدون نے اس سے راہ و رسم پیدا کی اور چوری چھپے اس کی رہائی اور مخلصی کا منصوبہ تیار کیا۔ اس شرط پر کہ اگر یہ کام یاب ہوگیا تو امیر بجایہ برسراقتدار آکر اس کو وزارت کا عہدہ سونپ دے گا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سازش کام یاب نہ ہو سکی اور اس کی پاداش میں ابن خلدون کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ ابوعنان کے انتقال تک اکیس ماہ قید رہا۔

اس کے بعد حالات نے کروٹ لی اور ابن خلدون 1362 میں زندگی میں پہلی بار اپنے آبا و اجداد کے وطن اور اپنے خوابوں کی سرزمین ہسپانیہ میں جا نکلا۔ یہاں غرناطہ میں اس وقت اس کے دوست سلطان محمد الخامس کی حکومت بہ حال ہو چکی تھی چناںچہ سلطان نے اس کا پُرتپاک خیرمقدم کیا اور وزارت کا منصب اس کے سپرد کیا۔ یہاں ابن خلدون کی شاعر اور ادیب لسان الدین الخطیب کے ساتھ دوستی اور زیادہ گہری ہوگئی۔ دوسرے ہی سال سلطان محمد نے ابن خلدون کو قشتالیہ کے حکم ران سفّاک پیدرو (Pedro the Tyrant) کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا۔ پیدرو ابن خلدون کی غیرمعمولی شخصیت اور قابلیت سے بہت متاثر ہوا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس کے ہاں اشبیلیہ میں رہ جائے۔ اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے اس نے اسے یہ لالچ دیا کہ اگر وہ یہاں رہنے کا فیصلہ کر لے تو پیدرو اس کی تمام جائداد جس پر کبھی اس کے آبا و اجداد کا قبضہ تھا اسے واپس کر دے گا۔ لیکن ابن خلدون نے بلطائف الحِیل اس کی یہ پیش کش قبول کرنے سے معذرت کر لی۔

ابن خلدون کا یہ فیصلہ بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب زندگی میں اس کا مطمحِ نظر سرکار دربار میں اثرورسوخ اور اعلیٰ مناصب کا حصول تھا تو ایسی دعوت کو اس نے کیوں ٹھکرا دیا جس سے اسے پیدرو کے دربار میں اونچی پوزیشن ملنے کے علاوہ آبائی جائداد بھی اپنی مالی منفعتوں کے ساتھ، ہاتھ آنی تھی۔ یہاں اصل میں معاملہ ایک عیسائی حکمران کے دیے ہوئے لالچ کو قبول کرنے کا تھا، جب کہ ان دنوں عیسائی اور مسلمان حکومتیں ہسپانیہ میں ایک دوسرے کی حریف تھیں۔ یہاں ابن خلدون کی دینی حمیت آڑے آئی اور اس نے ایک عیسائی بادشاہ کی دی ہوئی ترغیب قبول کرنا گوارا نہ کیا۔