دعوؤں کی برسات
- تحریر
- ہفتہ 03 / ستمبر / 2016
- 5050
اسلام آباد میں برسات کے اس موسم میں دعوؤں کی بھی چھما چھم رہی۔ گذشتہ چند روز کے دوارن ایک کے بعد ایک دعویٰ سننے کو ملا۔ برسات کے پانی سے تو جو سرشاری ہوئی سو ہوئی، ان وعدوں کا خمار بھی کچھ کم نہ تھا۔ اسلام آباد میں گذشتہ ہفتے سارک کے وزرائے خزانہ کا دو سالہ خصوصی اجلاس تھا۔ رواں ہفتے میں سی پیک سمٹ اور ایکسپو تھی۔ ‘شب بھر رہا چرچا ترا‘ والا معاملہ رہا لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ‘ہم چپ رہے ہم ہنس دیے مقصود تھا پردہ ترا‘ والا معاملہ بالکل نہ تھا۔ بلکہ ہر ایک نے پردہ اٹھا اٹھا کر بتایا کہ جنوبی ایشیا میں اب اکنامک یونین بنی کہ بنی اور یہ کہ سی پیک فقط گیم چینجر نہیں بلکہ مقدر چینجر ہے۔
سارک کے قیام پر بڑے بلند بانگ دعوے کیے گئے۔ خطے میں تعاون کے ایک نئے دور کی نوید سنائی گئی ۔ دنیا بھر کے علاقائی حوالے دیے گئے کہ ایسی علاقائی تبظیمیں کس قدر کامیاب اور مفید ہیں۔ اب سارک کے قیام سے جنوبی ایشیا کے علاقے میں تعاون، عوامی رابطوں اور معاشی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ لیکن جو ہوا ، وہ وعدوں کے الٹ ہوا۔ سارک تنظیم باہمی سیاسی معاملات کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ بھارت کا حجم اور اپنے اکثر پڑوسیوں کے ساتھ اس کے مسائل نے اس تنظیم کے پاؤں مظبوطی سے جمنے نہ دئے۔ سیاسی اور علاقائی تعاون کے لگاتار روایتی اعلامیوں کے بعد ایک تجارتی معاہدے سافٹا پر اتفاق کیا گیا لیکن وہ بھی باہمی رقابت کی نذر ہو گیا۔ بھارت نے اب بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا لی ہیں۔ اب بھارت اور پاکستان کے باہمی مسائل کم و بیش ہر کانفرنس پر حاوی رہتے ہیں۔ اگست کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں وزرا ئے داخلہ کی کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کی آمد، شعلہ بیان تقریر ، پاکستانی وزیر داخلہ کا دھواں دار خطاب اور اس کے ساتھ ہی راج ناتھ کا واک آؤٹ ہی اس کانفرنس کا حاصل ٹھہرے۔
تین ہفتے کے وقفے کے بعد یہ دوسری وزارتی کانفرنس تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری کشیدگی ، آزادی کی نئی لہر اور پچاس روز سے زائد کرفیو کے پس منظر میں اس کانفرنس میں بھی وزرا ئے داخلہ کی کانفرنس جیسی صورتحال کا احتمال تھا۔ اسی وجہ سے بھارت کے وزیر خزانہ نے بروقت ہی فیصلہ کر لیا اور میزبان کو مطلع کر دیا کہ کہ موصوف آنے جانے کے قابل نہیں ہیں لہٰذا ان کی شما نوٹ کر لی جائے۔ بنگلہ دیش نے بھی اپنا وزیر خزانہ نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ممالک نے افسران کے لیول کے وفد بھجوا کر علامتی شرکت کی۔ ‘گرم جوشی‘ کے اس ماحول میں جو اعلامیہ جاری ہوا وہ ایک بار پھر دعوؤں سے بھر پور تھا۔ ہم ان کانفرنسوں کے اعلامیے لکھنے والوں کی قابلیت کے معترف ہیں، بے جان ہوتے ہوئے بھی اعلامیے کی حد تک کانفرنس میں جان ڈال دیتے ہیں۔
اس بار کہیں کانفرنس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ جنوبی ایشیا کو اکنامک یونین بنایا جائے۔ اکنامک یونین سے مراد ایک ایسا معاشی بلاک جس میں درآمدات پر یکساں ڈیوٹیاں اور درآمدی سہولیات نافذ ہوں۔ اس دعوے پر تا دیر ہنسی آئی کہ پہلے سے تجویز کردہ تجارتی اقدامات تو سر انجام ہو نہیں پائے لیکن ایک اور دعویٰ داغ دیا گیا۔ اسی اعلامیے میں یہ رونا بھی قرینے سے رو دیا گیا کہ ٹیرف اور نان ٹیرف تجارتی رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ اب ایسے میں اکنامک یونین بنانے کے دعوے پر چپ ہی بھلی۔
اس ہفتے کے آغاز میں اسلام آباد میں سی پیک پر ایک انتہائی اعلیٰ سطحی کانفرنس اور ایکسپو منعقد ہوئی۔ وزیر اعظم نے خصوصی خطاب کیا۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے۔ چین اور پاکستان سے سرمایہ کار بھی حاضر تھے۔ سی پیک کی چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی تفصیلات اور اپ ڈیٹ کا ذکر رہا۔ وزیر اعظم نے ارشاد فرمایا کہ سی پیک کو فقط گیم چینجر یعنی معاشی کایا پلٹ منصوبہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ مقدرپلٹ منصوبہ ہے۔ کیسے ؟ اس کی تفصیلات کے لیے انہوں نے فلور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے حوالے کر دیا۔ ان کے بقول چھیالیس ارب ڈالرز میں سے اٹھارہ ارب ڈالرز کے منصوبے تعمیر و تشکیل کے مرحلے میں ہیں۔ ان کا نین نقشہ اب سب کے سامنے ہوگا۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، لازم ہے کہ جلد ہی سب دیکھیں گے۔ اٹھارہ ارب ڈالر کے مزید منصوبے ابتدائی تیاریوں میں ہیں۔ ظاہر ہے پاک چین دوستی کی بار بار بات بھی ہوئی۔ ہم ایسے طالب علم جن کے دل گزشتہ مالی سال میں پاکستان میں کل براہ راست سرمایہ کاری کا حجم فقد سوا ارب ڈالر جان کر مسوس گیا تھا، ان کے لیے احسن اقبال کا یہ دعویٰ ہی اتنا خوش کن تھا کہ مزید کچھ جاننا ہی نہ چاہا۔ بعض اوقات تصورِ جاناں ہی جاناں کو پا لینے کے برابر مزہ دیتا ہے۔ ادھر ادھر سے کچھ تنقیدی باتیں بھی تھیں لیکن ہم نے تو ان دعوؤں پر ہی تکیہ کیا کہ ‘مقدر بدلنے مع بدلنے کے بعد کیا ہو گا‘ کا تصور ہی اتنا حسین تھا کہ کچھ اور سوچا ہی نہ گیا۔
اسی کانفرنس میں وزیر خزانہ نے بھی دعوؤں کی اس برسات میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ اب پاکستان کے معاشی مسائل ختم یعنی Over ہو چکے۔ انہوں نے چین کی معاملہ فہمی کی بھی تعریف کی کہ اس نے عین اس وقت پاکستان میں چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا سوچا جب پاکستان اپنے معاشی مسائل پر قابو پا چکا ہے۔ سرشاری کے اس ماحول میں ہمیں ایک پنجانی لوک گیت بہت یاد آیا، ِ اک میں ہوواں ِ اک توں ہوویں، ُ مئے ناں ساڈی گل بات۔ سی پیک پر گل بات کا سلسلہ تو چل رہا ہے لیکن وزیر خزانہ کے اس دعوے پر کہ پاکستان کے معاشی مسائل پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے، کئی ماہرین معیشت انگشت بدنداں ہیں۔ ہم تو خیر کسی بھی کھیت کی مولی نہیں لیکن جن ماہرین کے معاشی مہارت کے اپنے اپنے کھیت ہیں، ان میں سے اکثریت کو اس دعوے پر اعتبار نہیں آرہا۔
جن چند معاشی معاملات اور مالیاتی اشاریوں یعنی انڈیکیٹرز پر وزیر خزانہ کے اس دعوے کی بنیاد ہے، ان کے بارے میں متضاد آرا ہیں۔ تسلیم کہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کامیابی سے ہمکنار ہو رہا ہے لیکن معاشی میدان میں تیز رفتار گروتھ کے آثار ابھی تک نمایاں نہیں ہو سکے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر ضرور ہیں لیکن یہ مالیاتی خزانہ جن سہاروں پر کھڑا ہے وہ ریت کی طرح ہیں۔ برآمدات میں اضافے کی بجائے کمی کا رجحان جان نہیں چھوڑ رہا۔ اربوں ڈالرز کے منصوبوں کا شہرہ ہے لیکن عملاٌ گزشتہ سال براہ راست سرمایہ کاری فقط ایک ارب ڈالر سے کچھ ہی زائد تھی۔ زرمبادلہ کی ترسیلات میں جولائی کے مہینے میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال منافع اور رائیلٹی کی مد میں دو ارب ڈالر کی ادائیگیاں ہوئیں۔ سی پیک کی سرمایہ کاری کے منافع اور قرض کی واپسی کا سلسلہ جب شروع ہوا تو ان ان ادائیگیوں کا بوجھ ہمارے نحیف بیرونی ذخائر پر خاصا بھاری ہو گا۔
زر مبادلہ کے ذخائر کے بارے میں بھی کچھ ماہرین مصر ہیں کہ ان میں بیرونی قرضوں کا کمال بھی شامل ہے۔ اسٹیٹ بنک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں اور ذمہ داریوں یعنی Liabilities کا حجم بڑھ کر تہتر ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ بجلی کی قلت میں کمی ضرورہوئی ہے ، زیر تکمیل منصوبوں کی تکمیل کے بعد بقول حکومت 2018 کے اواخر تک لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی لیکن کس قیمت پر؟ بجلی کے نئے منصوبوں کو دئے جانے والے ٹیرف جب نافذالعمل ہو ئے تو پاکستان میں بجلی کے نرخ خطے میں سب سے ذیادہ ہو سکتے ہیں جس سے صنعت و تجارت کی علاقائی مسابقت کو گہرا گھاؤ لگے گا۔ پہلے سے ڈگمگاتی برآمدات اِن اونچے نرخوں کے ساتھ اپنی برآمدی مسابقت برقرار رکھ سکیں گی؟
یہ اور اِن جیسے اور بہت سے سوال ماہرین اٹھا رہے ہیں۔ ان سوالوں کی اپنی اپنی ٹھوس بنیادیں بھی ہیں۔ ان سوالوں پر جائیں تو طبیعت بد مزہ ہونے کا ڈر رہتا ہے۔ لہٰذا ہم فی الحال ان دعوؤں پر ہی تکیہ کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اسے ہماری تن آسانی کہیے یا حقائق سے چشم پوشی، ان سوالات کے لیے ہمارا وہی پیغام ہے جو ایک مشہور فلمی گانے کے مطابق کچھ یوں ہے ۔۔۔ دنیا سے کہو آواز نہ دے۔