سیاست دان بِکتے ہیں کہ سیاست

سیاست بکتی ہے کہ سیاست دان؟ یہ سوال میرے ذہن میں میرے ایک کالم نگار دوست جناب خالد محمود رسول کے ساتھ گفتگو کے دوران اٹھا، جو میرے پچھلے کالم’’یہاں پیدل چلنا منع ہے‘‘ کے بعد مجھ سے بات کر رہے تھے۔ میں اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں ، جس نے نچلے طبقے سے سیاسی عمل میں جنم لیا، کسی سیاسی خانوادے میں نہیں۔ میں سیاسی عمل میں اپنی بلوغت کے زمانے سے بھی پہلے داخل ہوا۔ میں نے سیاست، حکمرانی یا شہرت کے لئے نہیں کی اور نہ ہی یہ مطمع نظر تھا۔

سماج میں استحصالی طبقات کے خلاف سیاست کرنے کو اپنی زندگی کا عقیدہ بنایا اور پھر جو بیتا وہ مستقبل قریب میں کتابی شکل میں شائع ہو گا۔ داستانِ جدوجہد ۔ اس جدوجہد کے بعد نہ مایوسی ہوئی اورنہ ہی اسے ناکامی تصور کیا۔ ان حالات و واقعات میں جو مجھ پر بیتے، اسے سیاسی عمل کا جبر تصور کیا۔ اس سیاسی عمل میں جب کٹھن وقت آیا، وہ اب میری زندگی کا سرمایہ ہے۔ اس جبر نے میرے عملی سفر کو توانا کیا۔ میں نے جب پہلے سیاسی جلوس میں شرکت کی، اس وقت میری عمرصرف چھ سال تھی۔ یہ بات نہ کتابی ہے اور نہ ہی افسانوی۔ دس سال کی عمر میں، میں نے بڑے ہوش و حواس سے اس سیاسی سفر میں شرکت کی۔ آمرانہ دَور میں متعدد بار جان اپنے بدن کے شکنجے سے نکلتی نظر آئی۔ آمرانہ دور(1988-1977) تک شاید ہی کوئی رات پوری نیند کے ساتھ گزاری ہو۔ میں اُن لوگوں میں شامل تھا، چار پانچ خفیہ ادارے جن کی  نگرانی کرتے تھے۔ اُن کے اداروں کے ریٹائرڈ ہونے والے افسران اب میرے دوست ہیں، بلکہ مختلف ٹیلی ویژن ٹاک شو میں شریکِ گفتگو ہوتے ہیں۔

راقم کی سیاسی جدوجہد، زندگی، روزگار، تعلقات، افکار، نظریات پر مبنی درجنوں فائلیں ہیں جو مختلف خفیہ اداروں میں محفوظ ہیں۔ ایک ایسا سیاسی نوجوان اِن فائلوں میں موجود ہے جو ترقی پسند انقلابی نظریات، سامراج مخالف اور پاکستان کے حکمران طبقات کا مخالف ہے۔ امریکی سامراج پاکستان کے حکمرانوں کا سرپرست ہی نہیں بلکہ روزِاوّل سے کفر کے فتوے دینے والوں کا بھی سرپرست اتحادی ہے۔ اسی لیے مجھے اور میرے جیسوں کو کفر کی عینک لگا کر بھی دیکھا جا تا رہا ہے، کیوں کہ میں امریکی سامراج کا مخالف تھا اور ہوں۔ میرے بدن پر اس آمرانہ دور کے چھوڑے ہوئے نشان موجود ہیں جو مرتے دم تک میرے جسم پر نشانی کے طور پر زندہ رہیں گے۔ میں اُن قلم کاروں اور کالم نگاروں میں سے بھی نہیں ہوں جو آصف علی زرداری میں جمہوریت کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے اور اس کے سائے میں اس سے مستفید ہوئے اور نہ ہی اُن میں سے جن کو نواز شریف میں جمہوریت کا دیوتا مل گیا۔ اور وہ کبھی اِن دونوں میں سے کسی ایک جماعت کے رکن اور جدوجہد میں شامل نہیں رہے۔ مراعات، ایوارڈز اور ان حکومتوں کے سائے میں جو ان کو اپنی آغوش میں لیتی رہیں اور لے رہی ہیں۔

میں خود پیپلز پارٹی میں شامل رہا ہوں۔ میں اُن لوگوں میں شامل ہوں، جن کے سبب پی پی پی سڑکوں، گلیوں، محلوں، شہروں میں شناخت رکھتی تھی۔ اور میرے جیسے ہزاروں نہیں بلکہ ہزاروں سے زیادہ ہیں (1977ء سے1988ء تک)۔ اس کے باوجود میں نے کسی سیاسی سائے کے بغیر اپنے قلم اور عمل کا سفر جاری رکھاجس پر مجھے ناز ہے۔ معذرت کے ساتھ، اگر خود توصیفی نہ ہو، مجھے اُن لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کے خون میں سیاست ہے اور میں اُن میں سے بھی ہوں، جن کے بدن پر حکومت کے آمرانہ تشدد کے نشانات ہی نہیں بلکہ اپنی ہی جماعت کے اندرونی حکمرانوں کے کارندوں کے تشدد نے بھی نشانات چھوڑے اور دو بار اپنی جان کو بدن سے نکلتے دیکھنے کے قریب تھا۔

اس ساری تمہید و تعارف کا سبب، یہ سوال تھا کہ سیاست کیا ہے؟ اور کیا سیاست بکتی ہے کہ سیا ست دان؟
آج کوئی ٹی وی چینل کامیاب ہی نہیں، اگر وہ کرنٹ افئیرز اور نیوز چینل نہ ہو۔ کوئی ٹی وی پروگرام کامیاب ہی نہیں اگر وہ سیاسی نہ ہو۔ ٹاک شو سے لے کر مزاحیہ پروگراموں تک سب کے موضوعات سیاسی ہیں۔ مہمان اور میزبان سیاست پر گفتگو کے لیے پیش پیش ہیں۔ حتیٰ کہ متعدد ریٹائرڈ جرنیل گھروں میں سوٹ ٹائی کس کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ اُن کو کسی ٹی وی چینل سے فون کال آئے کہ جناب والا فلاں وقت سٹوڈیو پہنچ جائیں یا فون پر بیپردے دیں۔ ہر ٹاک شو سیاست کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ پر وڈیوسر اور اُن کے نام نہاد ریسرچرز Researchers سب سیاست پر کمندیں ڈالنے میں مصروف ہیں۔ ٹی وی سکرینیں سیاسی موضوعات سے سجائی جاتی ہیں ۔ جن لوگوں کوبڑے تھیٹروں سے دیس نکالا ملا، وہ ٹی وی سکرینوں پر سیاست کے موضوع پر پتنگیں اڑاتے نظر آتے ہیں۔ اداکار ، گلوکار جس کو دیکھو ٹی وی چینلز پر سیاست کے میدان میں چھلانگیں لگاتا نظر آرہا ہے۔

یہی حال اخبارات کا ہے۔ کالم نگارجو شاعری میں نام نہ بنا سکے، ادب میں فیل ہوئے، مزاح نہ لکھ سکے، ڈرامہ نہ لکھ سکے اور اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو کی تدریس میں کوئی جوہر نہ دکھا سکے، وہ اخباروں کے کالموں میں قومی اور عالمی سیاست کے موضوعات پر اتنے فیصلہ کن انداز میں لکھتے ہیں کہ مغربی دنیا کے پولیٹیکل سائنٹسٹ اُن کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں۔ بیرون ملک اپنے روزگار کے لیے وطن کو چھوڑنے والے بھی پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے وہاں کے نام نہاد اخباروں اور ٹی وی کیبلز پر سیاست کو موضوع بنایا ہواہے۔ سب میں ایک بات مشترک ہے کہ سب سیاست دانوں پر اپنے ’’علمی جوہروں‘‘ کے تیر برسا رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ اِن سب کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا سب سیاست(Politics)سے نا آشنا ہیں کیوں کہ ان کے موضوعات مختلف سیاسی شخصیات ہیں، سیاست نہیں ۔

سیاست تو علم ہے سماج کا، لوگوں کے معاملات کا، انسانوں کی ہمعصر زندگی کے روز و شب کا، تعلیم، صحت، سڑک، فٹ پاتھ، روزگار، رہن سہن، تمام سماجی معاملات کو سیاست کہتے ہیں۔ اِن کے موضوعات سیاسی نہیں، یہ تو صرف سیاست بیچنے میں مصروف ہیں ۔ اور وہ جو ’’طے شدہ سیا ست دانوں‘‘ کی سیاست ہے، کس لیڈر نے وِگ کیوں لگا رکھی ہے، وہ مرغے کتنے کھاتا ہے، اس نے با ل ٹرانسپلانٹ کیوں کر وائے ہیں، وہ اچھی انگریزی کیوں نہیں بولتا، وہ بوڑھا کیوں ہے، اس کے بچے کیا کرتے ہیں، اس کے ناشتے میں پائے دسترخوان پر Serve ہوتے ہیں کہ حلوہ پوری، پھر لسی پیتا ہے کہ مشروبِ ممنوع۔ اور سب سے بڑھ کر جس موضوع کو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں جگہ ملتی ہے، وہ ہے کرپشن۔ اس سے زیادہ نہ کسی کے پاس علم ہے اور نہ ہی معلومات۔ اُن کے نزدیک یہی سیاست ہے۔ کر پشن پر بولنا بلکہ شور مچانا اُن کی کامیابی کی انتہا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی اس معاملے میں انگلیاں صرف اِن سیاست دانوں پر ہی اٹھتی ہیں۔ بھلا کیوں؟ اس لیے کہ وہ اقتدار حکمرانی میں سب سے جونیئر پارٹنر ہیں۔ اور اُن کے پاس بندوق بھی نہیں۔ اور اگر آپ غور کریں تو در حقیقت وہ کرپشن میں بھی جو نیئر پارٹنر ہیں۔

دراصل اِن میڈیا ہاؤسز، اینکروں اور کالم نگاروں کے ہاں سیاست بکتی ہے۔ ان کا سودا اسی مروجہ سیاست کو فروخت کرتاہے۔ کسی ٹاک شو اور کالم کی کامیابی درج بالا موضوعات ہیں۔ درحقیقت وہ سیاست فروشی کر کے اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی سیاست، سیاست دان اور سیاسی جماعتیں ہی کسی قوم، سماج اور ملک کی قسمت بدلتی ہیں۔ ہمارے ہاں اسی کو گند قرار دیا رہا ہے۔ اس لیے حقیقی سیاست اور حقیقی سیاست دان ابھرEmerge ہی نہیں رہے۔ کبھی آپ اِن ٹاک شو کے اینکروں کے پروڈیوسروں سے ملیں، معذرت کے ساتھ اِ ن کوسیاست کا نام کو علم نہیں اور ان کا غرور میڈیا ہاؤسز کی چھت تلے دیکھنے والا ہوتا ہے۔ یہ میڈیا ہاؤسز اور کالم نگار سماج کو سیاسی نہیں بلکہ غیر سیاسی De-Politicize کر رہے ہیں۔ اسی لیے سماج سیاسی تحریکوں کی بجائے ہنگاموں کو جنم دے رہا ہے۔ افسوس، یہ لوگ پاکستان میں سیاست کو بدنام کرنے میں پیش پیش ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ سیاست دان تھے، کالم نگار یا ٹی وی اینکرنہیں۔ جدید دنیا میں، سیاسی لیڈر ہی قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں، سیاسی جماعتیں اور سیاسی عمل ہی تبدیلی کا سبب Instrument of Change ہوتا ہے۔ ٹاک شو اور کالمز نہیں۔ ہمارے جغادری ٹاک شوز کے میزبان اور مہمان اور اسی طرح کالم نگار، ان معاملات کو اپنا موضوع ہی نہیں بنا رہے جس سے سماج میں سیاست پنپتی ہے۔ آپ کبھی کسی ٹاک شو کے میزبان کو کسی محفل میں ملیں، اُس کا سر غرور سے ایسے تنا ہوتا ہے کہ جیسے اس نے ملک و قوم کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ راقم کو جب بھی ان میں کسی ایک سے بات کرنے کا موقع ملا، اُن کی چرب زبانی اور مکاری  Cunningness کو ہی غالب پایا۔ اُن کا علاقائی اور عالمی وژن، اللہ اللہ۔

میرے ایک پروگرام کے بعد پاکستان کے ایک معروف ٹی وی میزبان کے بارے میں سینیٹر مشاہد حسین مجھے کہنے لگے، ’’گوئندی صاحب! وہ صاحب مجھ سے مشرقِ وسطیٰ پر بات کررہے تھے اور اُن کی بنیادی معلومات مشرقِ وسطیٰ کے بارے حیران کن مزاح کی حد تک تھیں۔‘‘ ہمارے بیشتر کالم نگار کی تحریریں، میچ کا آنکھوں دیکھا حال یا میرا کالج جیسے مضامین سے آگے نہیں۔ بہت ہوا تو اپنے گھر والوں کا ذکر اور لفاظی کی مار۔ جدید دنیا میں کالم نگاری میں معلومات، تحقیق، معاملات کے پس و پیش منظر پر تجزیہ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں خواہشات یا زیادہ سے زیادہ اپنی ’’سیاسی وابستگی‘‘ کا ذکر، کہ اُن کا قرار دیا گیا سیاست دان ٹھیک باقی سب غلط۔

افسوس، سیاست دان اتنے نہیں بکتے جتنی سیاست بک رہی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں منڈی کا مال بنا کر پیش کی جا رہی ہے۔ مارننگ شو سے لے کر رات گئے تک، ہر کسی نے لنگوٹ کس لیا ہے۔ اور سب ہی درحقیقت سماج کو سیاسی Politicized نہیں بلکہ غیر سیاسی De-politicized کررہے ہیں۔ اسی لیے سماج میں بونے حکمران اور بونے سیاست دان جنم لے رہے ہیں اور بونی سیاسی جماعتیں۔ دلچسپ تضاد یہ ہے کہ یہ بونے سیاست دان، بونی سیاست اور سیاسی جماعتیں ہی اِن کی ضرورت ہیں کیوں کہ وہ اسی مال کو فروخت کرکے نام پر کما رہے ہیں۔