ماہ ذوالحج کے خاص اعمال

الحمد الللہ عید الاضحی کا چاند طلوع ہو چکا ہے اس حوالے سے چند اعمال نہائیت ضروری ہیں ۔ 1۔ نو ذوالحج کی نماز فجر سے تکبیرات تشریک شروع ہوں گی اور 13 ذوالحج کی نماز عصر تک پڑھی جائیں گی ۔ یہ کل 23 نمازیں بنتی ہیں ۔ تکبیرات تشریق کا پڑھنا واجب ہے اسے ایک دفعہ پڑھیں یا پھر تین دفعہ پڑھیں دو دفعہ یا تین سے زیادہ مرتبہ پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ہے ۔ تکبیرات تشریق عید الاضحی کی نماز کے بعد بھی پڑھنا بعض محققین کی تحقیق کے مطابق واجب ہے۔ تکبیرات تشریق یہ ہیں۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ للّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْوَلِلّٰہِ الْحَمْدَ۔ نماز باجماعت میں امام صاحب سلام پھیرتے ہی تکبیرات تشریق کہیں اگر امام صاحب کہنا بھول جائیں تو مقتدی حضرات بغیر کسی انتظار کے مناسب بلند آواز سے تکبیرات تشریق پڑھنا شروع کر دیں۔

تکبیرات تشریق مرد عورت مقیم مسافر امام اور مقتدی حضرات سب پر واجب ہے ۔ 9 ذوالحج سے 13 ذوالحج کی عصر تک 23 نمازوں میں اگر کسی کی نماز قضاء ہو جائے اور پورے سال میں جب بھی اس نماز کی قضاء پڑھے اس کے بعد بھی تکبیرات تشریق پڑھنا واجب ہے ۔

2۔ دس ذوالحج کو عید الاضحی کی دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اور اس کے بعد دو خطبوں کو سننا سنت موکدہ ہے ۔
3۔ عید کے روز مسواک کرنا غسل کرنا عمدہ سے عمدہ لباس پہننا خوشبو لگانا عید گاہ کی طرف جلدی جانا جاتے ہوئے جس راستے سے گیا واپسی پر راستہ بدل کر آ نا اور راستے میں  اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ للّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْوَلِلّٰہِ الْحَمْدَ پڑھتے ہوئے جانا عید الاضحی کے روز نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا پینا ۔ اور نماز کے بعد قربانی کے گوشت سے کھانے کا آ غاذ کرنا ۔ کھلے میدان میں نماز عید کا پڑھنا یہ سب مسنون اعمال ہیں ۔
4۔ عید کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے مصلے پر کھڑے ہو کر نیت کرنا کہ میں دو رکعت نمازعید الاضحی واجب ساتھ چھ تکبیروں کے منہ قبلہ کی طرف اقتداء اس امام کی جو نماز پڑھانے والا ہے ۔ نماز خالصتا اپنے اللہ تعالی کے لیے پڑھ رہا ہوں کہہ کر امام کی تکبیر کے بعد خود بھی پہلی تکبیر کہہ کر دونوں ہا تھ کانوں تک لے جا کر پھرناف کے متصل نیچے باندھ لینا پھر ثناء پڑھنا، ثناء کے بعد پھر تین تکبیرات پڑھنا۔ دو تکبیرات کے بعد ہا تھ چھوڑ دینا تیسری تکبیر کے بعد ہا تھ باندھ لینا پھر اعوذ باللہ بسم اللہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور اس کے سا تھ کوئی دوسری سورت ملانا پھر رکوع اور سجدہ کر کے کھڑے ہو جانا اور دوسری رکعت میں رکوع میں جانے سے پہلے تین دفعہ تین تکبیرات پڑھنا ہر دفعہ ہا تھ چھوڑ دینا اور چوتھی تکبیر کے بعد رکوع میں جانا اور بقیہ نماز کا حصہ مکمل کرنا۔

قربانی کے چند مسائل جو نہائیت ضروری ہیں، تحریر کیے جا رہے ہیں ۔
قربانی کرنے کا بہت ثواب ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ قیامت کے روز قربانی کے جانور کو اسی طرح میزان میں تول دیا جائے گا اور جانور کے ہر ہر بال کے عوض ایک ایک نیکی نامہ اعمال میں لکھ دی جا تی ہے ۔

ہر بالغ مسلمان مرد و زن جو صاحب نصاب ہو یعنی جس پر زکوۃ فرض ہے یا صدقہ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے ۔ قربانی فی گھر نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد جو صاحب نصاب ہوں سب پر واجب ہوتی ہے ۔ قربانی متوفیان کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے ۔ بالخصوص فخر کون و مکاں پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کی طرف سے قربانی کرنا بہت بڑا اجر و ثواب ہے ۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں ہے ۔ مسافر اسے کہتے ہیں جو 48 میل یعنی 72 کلومیٹر گھر سے دور جا چکا ہے ۔

وہ حجاج کرام جن کو سات ذوالحج کو مکہ مکرمہ میں قیام کیے ہوئے پندرہ دن گذرگئے ہوں وہ حج تمتع یا قران کر رہے ہوں تو وہ دو قربانیاں کریں گے ایک حج کی قربانی ایک عید کی قربانی ۔ ایسے حجاج کرام جن کو سات ذوالحج کو مکہ مکرمہ میں پندرہ روز نہ گذرے ہوں تو وہ صرف حج کی ایک قربانی کریں گے ان پر عید الاضحی کی قربانی بوجہ مسافر ہونے واجب نہیں۔ یہ حجاج کرام حج کی قربانی تو منی میں کریں گے۔ عید کی قربانی اپنے وطن میں بھی کسی کو کہ کر کرواسکتے ہیں۔

قربانی صرف پالتو جانور وں کی کی جاتی ہے ۔ جنگلی جانور کی قربانی مثلا ہرن ، نیل گائے وغیرہ کی جائز نہیں ہے ۔ قربانی کے جانور اور ان کی عمریں یہ ہوں گی اونٹ کی عمر پانچ سال، گائے بھینس کی عمر دو سال۔ بکرا بکری کی عمر ایک سال۔ مینڈھا دنبہ نر مادہ کی عمر ایک سال سے کم بھی ہو مگر موٹا تازہ ہوتو بھی جائز ہے ۔ قربانی کے جانوروں کا صحیح سالم تندرست ہو نا شرط ہے ۔ اگر کوئی جانور اتنا دبلاپتلا ہو کہ قربان گاہ کی طرف اپنے قدموں پر چل کر بھی نہجاسکے تو اس کی قربانی درست نہیں ۔ جو جانور اندھا یا کانا ہویا ایک آنکھ کی تہائی یا اس سے زیادہ بینائی جاتی رہی ہو ایک کان یا دونوں کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گئے ہوں۔ دم تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہو ۔ سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں ایسے جانور جس کے منہ کے دانت تمام کے تمام نکل گئے ہوں ایسا جانور جس کے پیدائش سے ہی کان نہ ہوں تو ان سب جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ۔

سینگ ٹوٹ چکے ہیں اندر کچھ نشان باقی ہیں کان پیدائشی طور پر بالکل چھوٹے چھوٹے ہیں، سینگ پیدائشی طور پر ہی اگے ہوئے نہیں ہیں، جانورخصی کیا ہوا ہے، منہ میں دانت اکثر ٹوٹ گئے مگر کچھ باقی ہیں تو ان سب جانور وں کی قربانی جائزہے ۔ جنگلی و پالتو جانور کے ملاپ سے کوئی بچہ پیدا ہوا ہو تو قربانی کرنے کے لیے نر جانور کی طرف اس کی نسبت ہو گی ۔ گابھن جانور کی قربانی بھی جائز ہے ۔ بچہ زندہ نکل آیا تو اسے بھی ذبح کرنا پڑے گا۔ مناسب یہ ہے کہ جانور خریدتے وقت خیال کریں کہ گابھن نہ ہو ۔

قربانی کا وقت عیدالاضحی کی نماز پڑھ کر شروع ہوتا ہے ۔ اور بارہ ذوالحج کے غروب آفتاب کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے دن ہو یا رات قربانی کی جاسکتی ہے۔

قربانی کے جانوراونٹ گائے بیل بھینس بھینسا میں سات حصے دار شامل ہو سکتے ہیں۔ کچھ حصہ دار ان کا ارادہ قربانی کا ہے کچھ کا عقیقے کا، قربانی درست ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسری نیت سے شمولیت درست نہیں ۔ قربانی کے جانور میں سات حصے دار شریک ہوں تو گوشت تول کر وزن کر کے پورا پورا بانٹا جائے گا۔

قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصے کیے جا تے ہیں ایک گھر میں ایک قریبی احباب میں اورایک دور کے احباب میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ایک تہائی حصے سے زیادہ بھی گھر میں استعمال کر لے تو غیر مستحب ہے گناہ نہیں۔ قربانی کے جانوروں کی کھال اس کی رسی جھول جھانجھریں وغیرہ سب کی سب خیرات کرنا واجب ہے ۔ قربانی کی کھال سے مصلی ڈول بنا لیا جائے تو جائز ہے اگر کھال فروخت کر دی تو قیمت صدقہ کرنا واجب ہے ۔ قربانی کے جانور کا گوشت غیر مسلم کو بھی دیا جا سکتا ہے ۔

قصاب کو ذبح کے عوض کھال دینا یا گوشت دینا جائز نہیں ہے، تمام قربانی ضائع ہو جائے گی ۔ کسی فوت شدہ کی وصیت پر یا منت مان کر قربانی کی گئی ہو تو اس جانور کا گوشت گھر میں استعمال کرنا جائز نہیں تمام تر خیرات کرنا پڑے گا۔

قربانی کے دنوں میں جانور ذبح نہیں کر سکا تو اسی قسم کا جانور لے کر دوسرے دنوں میں خیرات کرنا واجب ہے۔ قربانی کا جانور خود ذبح کرنا زیادہ ثواب ہے یا کم از کم پاس کھڑا ہو اجازت دینا ضروری ہے، چاہے کسی وقت بھی دے ڈالے۔ قربانی کی کھالیں فقراء مساکین بالخصوص دینی مدارس کے طلباء کا حق ہے ان کی قیمت تعمیرمساجدپر لگانا بالکل ناجائز ہے۔