حرامخوروں کی عید قرباں
بڑی عید کی آمد آمد ہے اور بکروں کی ماؤں نے خیر سے اب الٹی گنتی شروع کر دی ہو گی۔
الٹی گنتی وہ سب حرامخور بھی کر رہے ہوں گے جنکی ملکی اور غیر ملکی تجوریاں اس دولت سے ابلی پڑتی ہیں جسے یہ ’’ فضل ربی ‘‘ قرار دیتے ہیں۔
ان میں امت کو صراط مستقیم پر ڈالنے کے دعویدار پارسا ؤں سے لے کر وہ لائسنس یافتہ صادق و امین بھی شامل ہوں گے جن کے نام کسی نہ کسی لیکس کے بعد تواتر سے سامنے آتے رہتے ہیں۔
اور اب ، جبکہ مملکت خداداد میں بسنے والے ہم سب کیڑے مکوڑوں کو بھی، کتوں ، مرداروں اور نجانے کن کن جانوروں کا گوشت کھلا کھلا کر حرامخور بنا ہی دیا گیا ہے، توآئیے ہم بھی اسی صف میں کھڑے ہو جائیں جس میں باقی سب کھڑے ہیں۔ قربانی کے جانور تو سبھی کو خریدنے ہیں نا۔
ارے !یہ تو بہت ہی طویل صف بن گئی ہے۔
دیکھئے اس جانب یہ جو تلوار مارکہ مونچھوں والے صاحب بڑے گھیرے کی شلوار پہنے کھڑے ہیں، یہ ملت ہائی سکول کے ٹیچر ہیں۔ ابھی ابھی اپنی تنخواہ وصول کر کے آئے ہیں اسی لیے اتنے خوش دکھائی دیتے ہیں۔ یہ گھوسٹ سکول ہے۔ یعنی ایسا سکول جس میں بد روحیں تعلیم پاتی ہیں۔
سکول وہ سامنے آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔
جی ہاں وہی جس میں دو بھینسیں اور ایک گدھا بندھا ہے۔ ہمیں تو اس گدھے کے آخری دن اب قریب ہی لگتے ہیں۔ شہر میں ٹکا ٹک کھانے کا رجحان ہے کہ بڑھتا ہی چلاجا تاہے۔
ان کے پہلو میں مس معصومہ کھڑی ہیں۔
آپ بھی ٹیچر ہیں اور نویں جماعت کی بچیوں کو مطالعہ پاکستان اور نصابی تاریخ پڑھاتی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں مملکت خدادا کے بارے میں سچی اور حقیقی باتیں جان سکیں۔
چونکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور وطن دشمن ہیں، اس لئے مطالعہ پاکستان اور نصابی تاریخ کی کتابوں میں درج سبھی حقیقی اور سچی باتیں بچیوں کو پڑھانا تو نہیں چاہتیں، پر کیا کریں، مجبوری ہے۔ گھر بھی تو چلانا ہے۔ لہٰذاہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ مجبوراٌ حرامخور بنی ہیں۔ آپ کی حیثیت صرف ایک چھوٹی سی بکری لینے کی ہے۔
ان کے ساتھ تیل سے چپڑے بالوں میں سیدھی مانگ نکالے لال دین پٹواری صاحب کھڑے ہیں۔
جی ہاں وہی جو ابھی ابھی اپنی نئی ہونڈا اکارڈ سے برآمد ہوئے ہیں۔ اپنے لئے تو قربانی کا جانور یہ بعد میں خریدیں گے اس وقت انہیں کمشنر صاحب کے لئے دنبے خریدنے ہیں۔ کمشنر صاحب لال دین پٹواری کی دیانت اور اچھے اور سستے دنبوں کی پہچان سے بخوبی واقف ہیں اور ہر سال یہ ٹاسک انہی کو دیتے ہیں۔ لال دین صاحب آج ایک لاکھ بیس ہزار کے دو جانور خریدیں گے اور کمشنر صاحب کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے ان کی قیمت صرف بیس ہزار بتائیں گے۔ کمشنر صاحب ان سے اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور اپنے ہیڈ کلرک کو ان کی قیمت فوراٌ ادا کرنے کا حکم دیں گے۔ لال دین پٹواری کمشنر آفس کے ہیڈ کلرک صاحب کو ایک طرف لےجا کر پہلے ان کا ہاتھ دبائیں گے پھر آنکھ مارتے ہوئے کہیں گے:
’’ چھوڑو سر ! اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ میری طرف سے بچوں کے لئے عید پر کچھ مٹھائی وٹھائی خرید لینا۔‘‘
ڈی ۔ پی۔ او صاحب نے یہی ٹاسک مارکیٹ کمیٹی کے سیکریٹری صاحب کو دے رکھا ہے کیونکہ آپ بھی ان کی دیانت سے بہت متاثر ہیں۔
لال دین پٹواری کے پہلو میں عدالت کے رجسٹرار اور زیر حراست ملزموں کے چند عزیز کھڑے ہیں۔
ان سے آگے سگریٹ پھونکتے کچھ صحافی اور قلمکار ہیں جن کے لمبے اوور کوٹوں اور شیروانیوں کی جیبوں سے موٹے موٹے پیلے لفافے جھانکتے ہیں۔
ان میں سے دو ایک نے تو ’’ اعلیٰ عہدیدار یا سفیر وزیر ‘‘ کی نمبر پلیٹیں بھی اپنے گلے میں لٹکتے اعزازی پٹوں پر چپکا رکھی ہیں۔ یہ سب اپنے موٹے موٹے لفافوں سے موٹے موٹے جانور خریدیں گے۔ اعزازی پٹے، قربانی کے جانوروں کو باندھ کر گھر لیجانے کے کام آئیں گے۔
جو صاحب جیبوں میں ہاتھ ڈالے ۔۔۔ توری ترچھی نجریا نے مارا ۔۔۔ کی دھن پر سیٹی بجارہے ہیں، ڈاکٹر لقمان ہیں۔
سرکاری اسپتال میں ملازم ہیں لیکن دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے اپنا نجی اسپتال بھی آپ نے بنا رکھا ہے۔ زیادہ وقت یہیں گزارتے ہیں۔ خدمت خلق کا جذبہ اتنا ہے کہ سرکاری اسپتال میں آنے والے مریضوں کو بھی نجی اسپتال میں دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنی فیملی کے ہر فرد کے لیے الگ الگ دنبہ خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ آپ پانچ دنبے خریدیں گے۔
ڈاکٹر صاحب کی بغل میں کچھ بیوپاری، بین الاقوامی معیار کی اعلیٰ تعلیم دینے والے مدرسوں کے مہتمم، پاک صاف دودھ نما بیچنے والے، ٹیکے لگا کر پھلوں کی لذت اورگوشت کا وزن بڑھانے والے، چوزے کو چند ہی دنوں میں عاقل بالغ مرغا بنانے والے، پانی سے کاریں چلاکر ملک کا نام روشن کرنے والے ، اور ایسے ہی کچھ اور سائنسدان کھڑے ہیں جو اپنی حق حلال کی کمائی سے آج قربانی کے جانور خریدنے اتنی گرمی میں یہاں آئے ہیں۔
اللہ ان سب کی قربانی قبول فرمائے۔
رہ گئے بیچارے نچلی سطح کے سفید پوش حرامخور جو بڑے حرامخوروں کی حکمرانی میں نہ چاہتے اور نہ جانتے ہوئے بھی حرام کھانے پر مجبور ہیں ۔ قربانی تو انہیں بھی دینا ہو گی۔
اب یہ کم نصیب کیا کریں۔ بچے جب محلے میں ہر دوسرے گھر کے باہر سانڈ یا موٹے موٹے بکرے بندھے دیکھتے ہیں تو ضد تو کرتے ہی ہیں کہ ۔۔۔ ابا ہمارا بکرا کب آئے گا۔ باقی سب کے تو آ گئے۔ ہم بھی اسے مہندی لگا کر ٹہلانے لے جائیں گے۔
اب اگر ابا بکرا نہ لائیں تو بچے شدید احساس کمتری کا شکار اور محلے کے باقی بچوں کی تضحیک کا نشانہ بنیں۔ خود ان سے بھی محلے کے مخیر حرامخور طنزاٌ پوچھتے رہتے ہیں کہ ۔۔۔ بھائی صاحب جانور کب لیں گے۔ ہم تو لے آئے۔ کیا کرتے جناب۔ قیمت ہے کہ چڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ کیا بتائیں۔ دو سے زیادہ لینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ پورے اسی ہزار میں پڑے ہیں۔
ہمارے دوست پنکی مستانہ بھی ایسے ہی ایک سفید پوش ہیں۔
شاعر ہیں۔ ایک پرائیویٹ سکول میں معمولی تنخواہ پر ملازم ہیں۔ تنخواہ اکثر تاخیر سے اور طرح طرح کی کٹوتیوں کے بعد ملتی ہے۔ کچھ آمدن ملک صاحب کلچہ فروش کے بگڑے اور نالائق بچوں کو ٹیوشن پڑھانے سے ہو جاتی ہے۔ بیگم سلائی کڑھائی سے کچھ پیسے لے آتی ہیں۔ بس جیسے تیسے گزارہ ہو ہی رہا ہے۔ اپنا کلام چھپوانے کا شوق ہے ۔ تھوڑی بہت بچت کر بھی لیں تو کتاب چھپوانے میں نکل جاتی ہے۔ بکتی ایک نہیں۔ سو اکثر مقروض رہتے ہیں۔
پچھلی عید پر جب سیانے ہوتے بچوں کی ضد، اور قربانی کے فضائل بیان کرتے صاحب حیثیت محلے والوں کے طنز و تشنع سے زچ ہو گئے تو کھینچ تان کر کہیں سے کچھ رقم نکالی اور بچوں کے ساتھ جا کر فٹ پاتھ پر لگی بکر منڈی سے ایک جانور خرید ہی لائے۔
ریوڑ والا تو پورے بیس ہزار مانگتا تھا لیکن بالآخر سولہ ہزار پر سودا ہو ہی گیا۔ ڈھونڈ کر سفید بکرا لیا کہ اس پر اپنی خوش نویسی کے جوہر دکھاتے ہوئے۔۔عید مبارک ۔۔۔ لکھیں گے۔
قربانی تو عزیز چیز کی ہی دینا ہوتی ہے۔ سو گھر لوٹتے ہوئے کوئی سیر بھر دلیہ اور تھوڑا سا چارہ بھی خرید لیا تاکہ کھلا پلا کر اپنے عزیز جانور سے محبت کا اظہار کر سکیں۔
دونوں بچوں اور بکرے کے ساتھ جب ایک خاندان کی صورت محلے میں داخل ہوئے تو سامنے ہی نکڑ پر امام مسجد مولوی قربان علی اور ملک صاحب کلچہ فروش کو باتیں کرتے پایا۔
مولوی صاحب نے چھوٹتے ہی پوچھا:
’’ خرید لیا جانور ! بھئی مبارک ہو۔ کھال تو ظاہر ہے آپ مدرسے کو ہی دیں گے۔‘‘
پنکی مستانہ فاتحانہ مسکراہٹ سے بولے:
’’جی مولوی صاحب ! خرید لیا۔ یقین جانیے اس مہنگائی نے تو کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ بزرگ تو بیل کاٹا کرتے تھے۔ آج ایک بکرا خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔‘‘
’’ کتنے میں لیا۔‘‘ ملک صاحب کلچہ فروش نے پوچھا۔
پنکی ذرا مبالغے سے کام لیتے ہوئے بولے:
’’ مانگتا تو اٹھائیس تھا ۔ بڑی مشکل سے پچیس پر مانا ہے۔‘‘
’’ چوری کا ہوگا۔‘‘ مولوی صاحب نے خندہ فرماتے ہوئے لقمہ دیا۔’’ خیر بڑی بطخ کے برابر تو گوشت نکل ہی آئے گا اور کھال سے بھی شاید ایک آدھ دستانہ ہی بن پائے۔ بھئی کھال تو ملک صاحب کی ہے۔ جیسے مخمل پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ اور کیوں نہ ہو ۔ سوا لاکھ کا جانور ہے۔ ‘‘
پنکی صاحب ذرا تنک مزاج ہیں۔ بلاسفیمی کی لٹکتی تلوار کی پرواہ کیے بغیر اکثر مولویوں سے الجھ پڑتے ہیں۔ چڑ کر بولے:
’’ جی مولوی صاحب ! جب یہ دستانہ بن جائے گا تو آپ کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔ ‘‘
معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے ملک صاحب کلچہ فروش نے سمجھاتے ہوئے کہا:
’’ بھئی کھال سے اب دستانہ بنے یا ٹوپی۔ بہرحال مدرسے کو دینے کا ثواب تو ملے گا ہی۔‘‘
گھر میں وارد ہوتے ہی بچوں نے بکرے کی خاطریں شروع کر دی تھیں۔ کبھی اسے گھاس کھلاتے۔ کبھی پانی پلاتے۔ پنکی صاحب نے اپنی کتابت کے جوہر دکھاتے ہوئے مہندی سے اس پر ’’ عید مبارک ‘‘ لکھ دیا تھا اور اب رات گئے اس کی کمر پر پیار اور تفاخر سے ہاتھ پھیر رہے تھے۔
خشک دلیے پر نظر پڑی تو بچوں کو ڈانٹا کہ دلیہ کھلانا تو اسے بھول ہی گئے۔ تھیلا کھول کر سامنے رکھا تو بکرا رغبت سے اسے کھانے لگا۔ کھا چکا تو مٹی کی کنالی میں پانی بھر کر سامنے رکھ دیا کہ رات میں پیاس لگے تو کسی کو اٹھ کر نہ پلانا پڑے۔ یہ سب انتظامات مکمل کرنے کے بعد پنکی مستانہ آنکھوں میں قربانی کے خواب سجائے بستر پر دراز ہو گئے۔
کوئی وقت رات کا ہو گا کہ بکرے کے چلانے سے پورا محلہ گونجنے لگا۔ ہڑ بڑا کر اٹھے۔ دیکھا تو بکرا جان کنی کی حالت میں زمین پر لوٹیں لگا رہا تھا اور اسکا پیٹ پھول کر گویا پھٹنے کو تھا۔ ایسے میں محلے والے زور زور سے دروازہ پیٹنے لگے۔ کھولا تو گھر کے سامنے ایک ہجوم اکٹھا ہو چکا تھا۔ ملک صاحب سب سے آگے آگے تھے۔
ساتھ میں بھولا قصائی بھی ہاتھوں میں چھریاں اور نیند سے بوجھل آنکھیں لیے کھڑا تھا۔
پنکی صاحب ابھی کچھ سمجھنے بھی نہ پائے تھے کہ ملک صاحب چلائے :
’’ جلدی سے ہاتھ رکھوا دیں اس پر۔ یہ حرام موت مرنے کو ہے۔ حد ہو گئی ماشٹر صاحب۔ اتنے سمجھدار ہو کر بکرے کو دلیے پر پانی پلا دیا۔‘‘
صبح جب پنکی صاحب کھال کا تھیلا اپنی موٹر سائیکل سے باندھ رہے تھے تو مولوی صاحب گلی کے نکڑ پر ہی کھڑے تھے۔ ہمدردی جتاتے ہوئے بولے:
’’ بھئی اللہ کی مرضی ہے۔ قربانی تو نہ ہو سکی آپ کی۔ پر کھال کا ثواب تو مل ہی جائے گا۔ مدرسے کا چوکیدار باہر ہی بیٹھا ہے۔ بس اسی کے حوالے کر دیں۔ جزاک اللہ۔‘‘
پنکی صاحب نے کوئی جواب دئے بغیر موٹر سائیکل کو کک لگائی اور ایدھی ٹرسٹ کی جانب ہو لیے۔
عید مبارک !