الطاف حسین ملک دشمن اتحاد بنا سکتے ہیں

کیا الطاف حسین کے لئے کراچی کی سیاست کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔ کیا ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ہمنوا ایم کیو ایم کے راہنما اور کارکن حقیقتا الطاف حسین سے قطع تعلق کر چکے ہیں یا کہ یہ ان کی ملی بھگت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ لندن میں براجمان الطاف حسین اب کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔

ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کراچی کے بدلتے سیاسی منظرنامے میں دیگر سیاسی اورمذہبی جماعتیں کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ اور کیا ان حالات میں کراچی میں زیر زمین سرگرم دہشت گرد گروہ خاموش بیٹھے رہیں گے۔ اور مودی سرکار خاموش تماشائی بنی رہے گی۔ ایک ارب ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا مقتدر ریاستی ادارے اور حکومت وقت، سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کر سکے گی۔ یا طاقت کے بے دریغ اور اندھے استعمال سےسیاسی مسائل کو حل کرنے کا ناکام طریقہ بروئے کار لایا جاتا رہے گا۔

حالات کے تسلسل کا جائزہ لینے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ فاروق ستار ایم کیو ایم پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔  اورانہوں نے مصطفی کمال اور عامر لیاقت کے ایم کیو ایم پر شب خون کو بری طرح ناکام بنا دیا ہے۔ جہاں تک الطاف حسین اور فاروق ستار کے مابین ملی بھگت کا الزام ہے تو تیزی سے بدلتے حالات میں اسکی اہمیت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ اس سلسلہ میں اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ حالات نے جو رخ اختیار کر لیا ہے اگر ان کے مابین کوئی خفیہ ربط ہے بھی تو یہ وقت کے جبراورسیاسی  ضروتوں کے ساتھ اپنی موت آپ مر جائےگا۔

الطاف حسین کی 22 اگست کی پاکستان کے خلاف کھلےعام تقریر کے بعد جو تبدیلی کراچی اورپورے ملک کے عوام کے ذہنوں میں آئی ہے اور جس شدت سے ریاستی اداروں نے ردعمل کا اظہار کیا ہے، اس نے کراچی میں ایم کیو ایم کی قیادت کو اپنے بانی قاید سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اب ایم کیوایم پاکستان کی قیادت کے پاس ان فیصلوں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ باقی نیہں رہا۔ 22 اگست کے بعد الطاف حسین کے نام پر سیاست کرنے والوں کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ باقی نہیں رہ گئی۔ یہ بات کہنے میں کوئی حرج نیہں کہ الطاف حسین اور اس کے حواریوں کے لئے پاکستان میں جمہوری سیاست کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو چکے ہیں۔ اس نام پر سیاست کرنے کے لئے نئی دوکان نہیں کھلنے دی جائے گی اور الطاف حسین خود پاکستان لوٹ کر اپنی سیاسی دوکان کھولنے کی جرات نہیں کر پائیں گے۔ 

اہم سوال یہ ہے کہ الطاف حسین کے براہ راست کنٹرول زیرزمین انتہا پسند  مسلح دستے کتنے طاقتور اور منظم ہیں۔ اور ان کو کب اور کیسے استعمال میں لایا جائے گا۔ سیاسی پسپائی اورشکست خوردگی کےعالم میں الطاف حسین پاکستان دشمنی میں کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ یہ قرین قیاس ہے کہ الطاف حسین ان حالات میں مذہبی دہشت گردوں اوربلوچ علیحدگی پسندوں سے خفیہ اتحاد کرکے کراچی میں دہشت گردی، لاقانونیت اور بدامنی کی ایک نئی لہر شروع کرنے کی کوششیں کریں۔ جبکہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کےلئے الطاف حسین کو مودی سرکار سے ہر قسم کا تعاون اور مدد حاصل ہو سکتی ہے۔ الطاف حسین، مذہبی دہشت گردوں، بلوچ علیحدگی پسندوں اور مودی سرکار کے ناپاک عزائم اور اتحاد، پاکستان کی ریاست، حکومت اور جمہوری سیاسی جماعتوں کے لئے ایک بڑے چیلنج کی صورت سامنے آسکتا ہے۔ ریاستی اداروں کو اب یہ باور کرانے کی ضرورت نہیں کہ کراچی میں نئے ابھرنے والے چیلنجز کا سامنا کرنا سیاسی اور عوامی تائید کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

اب سیاسی جماعتوں خصوصا پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کو کراچی کے عوام تک رسائی حاصل کرنے کا سنہری موقع مل رہا ہے۔ جس سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے یہ جماعتیں اپنی سیاست کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔ اور ساتھ ہی کراچی کے عوام کو ملکی سیاست سے جوڑنے کا کارنامہ انجام دے سکتی ہیں۔ حکومت اور ریاستی اداروں کو جمہوری سیاسی سرگرمیوں، بشمول ایم کیو ایم پاکستان کی جمہوری سرگرمیوں کے، کسی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز اختیار کرنا ہوگا۔ فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کو سیاسی عمل سے روکنے یا پابندی لگانے سے کراچی میں ایک ایسا سیاسی خلا پیدا ہو سکتا ہے جس کو ریاستی ادارے طاقت یا مصنوعی طور سے پیدا کردہ سیاسی قیادت سے پر نہیں کر سکتے۔

ریاستی اداروں کے جمہوری اصولوں، آئین اور قانون کی پاسداری کرنے سے کراچی کےعوام کو ملکی سیاسی دھارے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے گو کہ یہ عمل سست رو ہو سکتا ہے۔ مگر صرف یہی واحد راستہ ہے جس سے کراچی کےعوام کوعمومی ملکی سیاسی عمل میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اورعوام کا جمہوری سیاسی عمل، منتخب جمہوری اداروں، آئین اور قانون پر اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔