اگر فوج اقتدار میں آگئی
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 06 / ستمبر / 2016
- 7204
کیا حکمرانی کاحق عوام کے سوا کسی اور کو ہے؟ خلقِ خدا ہی اپنے فیصلوں اور عمل کی ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں چار فوجی آمریتوں کا سبق بھی یہی ہے۔ عوام کی حکمرانی کرنے کا حق، ایک جمہوری عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ البتہ یہ ضرور طے ہونا چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت کو استوار کرنے کا عمل خلقی ہے کہ نہیں۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ہمارے ہاں حکمرانی کا حق عوام کی بجائے کسی فوجی جرنیل کو دئیے جانے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔
فوجی ڈکٹیٹرلبرل ہو یا مذہبی، آمر کی تعریف نہیں بدلی جاسکتی۔ آج کل پاکستان میں جنرل راحیل شریف کی تعریف کرتے کرتے ہم اس حد تک جانے کو تیار ہیں کہ حکمرانی بھی اُن کو دے دو۔ انہوں نے مسلح افواج کی قیادت کرتے ہوئے دہشت گردی کے ملک دشمن فتنے کو ختم کرنے میں عسکری حوالے سے شاندار کر دار ادا کیاہے، جس پر وہ مبارک باد کے بھی مستحق ہیں۔ انہوں نے یہ فریضہ اپنے طے شدہ کردار کے عین مطابق ادا کیا ہے۔ میرے لیے یہ سوال بڑا حیرانی کا باعث ہے کہ اپوزیشن کے متحرک رہنما عمران خان نے حزبِ مخالف کا کردار ادا کرتے کرتے یہ کیسے کہہ دیا کہ فوج آجائے۔ یقیناً وہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ حکومت کرنے کے اہل نہیں، اس لیے اگر نواز شریف نہیں توفوج سہی۔ ایسا طرزِ سیاست نہ جمہوری ہے اور نہ ہی کسی دانش کا آئینہ دار ہے۔
البتہ مجھے اس بات پر بڑی خوشی ہے کہ پاکستان میں پولٹیکل اپوزیشن مردہ نہیں زندہ ہے، متحرک ہے۔ ہمارے ہاں لوگ خطابات والقابات دیتے ہوئے جس فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ سالا رِاعظم ، فخرِ ایشیا، امیرالمومنین، امہ کے قائد وغیرہ وغیرہ۔ ہم لوگوں کو اُن کے کردار وحدود سے بڑھ کر پیش کرنے یا دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ جنرل حمید گل مرحوم میرے دوست تھے۔ وہ ایک جرنیل تھے بس۔ نہ جانے اُن کو کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے۔ وہ ریاست پاکستان کے ایک جرنیل تھے بس۔ اور جرنیلی کے علاوہ اور بعد میں جو انہوں نے کیا، آپ اس پر تحقیق کروا لیں کہ وہ اس میں کامیاب ہوئے۔ وہ مجھے بڑے پیارے تھے اور اب بھی ہیں ۔ لیکن ہم ہیں کہ سرابوں، خوابوں، دعووں، القابوں ، خطابوں میں رہنے اور لوگوں کے اُن کے کردار سے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
جنرل راحیل شریف نے بحیثیت چیف آف آرمی سٹاف پاکستان کے مسائل کو حل کرنے میں مدد کی۔ اب آپ اُن کو مسائل میں کودنے اور اپنی حدود پارکرنے کی دعوت دے کر نہ تو پاکستان، نہ ہی مسلح افواج اور نہ ہی جنرل راحیل شریف سپورٹ کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے عمل سے مسلح افواج کو مزید قوم پرست نظریے کے تحت گامزن کیا، کہ سب سے اوّل وطن ، ملت اور ریاست ہے اور اس کے لیے مسلح افواج کے جوانوں نے شاندار قربانیاں دیں۔ اپنے خون سے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف مزاحمت کرکے اُس ناسور کو دفن کرنے کی کوشش کی جو ایک فوجی آمرنے ہی پیدا کیا تھا۔ انہوں نے اس گناہ کا ازالہ کیا جو اسی مسلح افواج کے ایک سربراہ نے کیا اور فوج کا وقار عوام میں بڑھایا۔
فوج سیاست کے لیے نہیں، دفاع کے لیے قائم کی جاتی ہے۔ ریاست کی سرحدوں پر بھی اور سرحدوں کے اندر بھی۔ پاکستان کی مسلح افواج ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یہ فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ اس کے پروفیشنل ازم میں اضافہ ہوا۔ مسلح افواج نے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فتنہ سمجھ کر اس کا قلع قمع کرنے کے سلسلے میں ایک تاریخ رقم کی ہے۔ کچھ لوگ ہیں کہ جنرل راحیل شریف اور اُن کی کمان میں مسلح افواج کو اپنے پروفیشنل کردار سے ہٹا کر حکومت کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ کسی طرح پاکستان کی خدمت نہیں۔ مسلح افواج کو تو اس دہشت گردی کے خلاف اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف اپنے آپریشن کی مزید وسعت دینا ہوگی۔
اگر عوام نے نواز حکومت سے نمٹنا ہے تو اس کے لیے جمہوری میدان کھلا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپوزیشن جماعتوں کو مقابلے پر اکسانا چاہیے نہ کہ فوج کو ۔ اوراگر سیاسی جماعتیں مصلحت کا شکار ہوں تو عوام ان سیاسی جماعتوں کو الٹانے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔ عوام کو سیاسی طاقت دینا ہی پاکستان اور جمہوریت کی خدمت ہے۔ اگر نواز حکومت نااہل اور کرپٹ ہے، تواس پر عوام کا حق ہے کہ وہ سیاسی عمل اور جدوجہد سے نمٹیں۔ حکومت بنانے اور گرانے کا حق صرف عوام کا ہوتا ہے۔ جنہوں نے 5جولائی 1977ء سے سبق نہیں سیکھا، حتیٰ کہ وکلاء کی تحریک سے کہ ان تحریکوں کی حقیقت کیا تھی تو اُن کو غور سے اِن حالات اور ان تحریکوں کے پس منظر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
میرے نزدیک مسلح افواج اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ اقتدار میں کودنا ، پاکستان کے لیے ہی تباہی نہیں بلکہ مسلح افواج کے لیے بھی بربادی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنے چار فوجی آمروں کے اقتدار پر قبضے کے سبب یہ سبق حاصل کر چکی ہیں کہ فوجی آمریتیں پاکستان کو نہ تو مضبوط کرنے اور نہ ہی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوئیں بلکہ فوجی آمریتوں نے مسلح افواج کے پروفیشنل ازم کو متاثر کیا۔ اب پاکستان کی مسلح افواج نے سرحدوں کے اندر اندھی جنگ میں جان دار مقابلہ کر کے جہاں اپنا فریضہ سر انجام دیا ہے، وہیں مسلح افواج نے اپنے پروفیشنل ازم کو بڑھایا Enhance ہے۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج ، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی نسبت زیادہ مضبوط ہوئی ہیں۔ اپنے کردار، ساکھ، پرفارمینس اور شناخت کے حوالے سے۔
جو لوگ فوجی آمریت کو سر عام اور دبے الفاظ میں دعوت دے رہے ہیں، وہ کسی طرح بھی وفاق پاکستان سے مخلص نہیں۔ ایک ایسا وفاق جو سیاسی طور پر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ کشمیر لیتے لیتے، بلوچستان کھونے کی طرف گامزن وفاق۔ ایسے وفاق میں فوجی آمریت پاکستان کی Balkanization کی حتمی کوشش ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسا وفاق جس کے سب سے بڑے صوبے میں بے چینی ہے، اُس سے آنکھیں چرانا کہاں کی قوم پرستی ہے۔ کشمیر کے دعوے داروں کو کشمیر کی آزادی کی محافظ ریاستِ پاکستان کو بھی بچانا چاہیے۔ لہٰذا اپنے ڈھیلے پڑتے وفاق کی لڑی اگر بکھرگئی تو خطہ خطرناک صورتِ حال اختیار کر جائے گا۔
ایسا خطہ جو مسلح گروہوں کے رحم وکرم پر ہے۔ مذہبی قوم پرست مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ مسلح گروہوں کے زیراثر بکھرا سماج، اِس ریاست کے ٹوٹنے سے جنم لینے میں دیر نہیں لگائے گا۔ یقیناًجنرل راحیل شریف اور پاکستان کی ملٹری بیوروکر یسی یہ ادراک کر چکی ہیں۔ اس لیے اقتدار میں فوج کی آمد بکھرتے دفاق اور بکھرتی ریاست کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔ روس کو فتح کرنے کے دعوؤں نے پاکستان کو آج جس نہج پر پہنچایا ہے، اس سے ہی سبق سیکھنا چاہیے۔ ایسے خوابوں سے نکلنا ہوگا۔ خوابوں سے نہ ریاستیں بنتی ہیں اور نہ ہی چلتی ہیں۔ چند کالم نگاروں اور نام نہار تجزیہ نگاروں کو آوازِ خلق قرار نہیں دیاجاسکتا۔ اگر ریاست کو مضبوط کرنا ہے تو عوام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اور ان کو اس اہل بنا دو کہ اُن کے سوا کوئی حکومت بنانے اور گرانے کی طاقت نہ رکھ سکے۔ مضبوط عوام ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں۔ پاکستان کو لفاظی یعنی خوب صورت لفظوں کے ذریعے کھیلنے والوں سے نجات دلانا ہوگی۔ پاکستان، پاکستانیوں کا ہے، وہ خلق جو اس کے اندر رہتی ہے۔ ایک خوش حال قوم کی ترقی ہی اس کو کامیاب ریاست کا اعزاز دلا سکتی ہے۔ تعلیم اور ترقی یافتہ ثقافت، معیشت، ٹیکنالوجی اور جدت ہی اس قوم کو آگے لے جا سکتی ہے، آمریت نہیں۔
پاکستان میں ایک اور فوجی آمریت اب اس ریاست کی چولیں ہی نہیں ہلا دے گی بلکہ اس کے بکھر جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ جنرل راحیل شریف اور مسلح افواج کی لیڈر شپ یقیناً اسی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں۔ اسی لیے وہ اُن خواہشوں کو خود کشی تصور کر کے عملی طور پر مسترد کررہے ہیں جو اُن کوسالارِ اعظم ، سالارِاسلام، سالارِ اُمہ کے القاب دیتے ہوئے پاکستان کے اقتدار پر بٹھانے کے لیے بے چین ہیں۔ ایسے’’جذباتی اور بونے مفکروں‘‘ نے ہی اس قوم و ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔
اگر نواز حکومت کرپٹ اور نااہل ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام کو کھڑے ہونے کا حق ہے۔ سڑکوں پر احتجاج کا بھی حق ہے، تحریک چلانے کا بھی حق ہے۔ سیاسی حساب کتاب کرنے کا حق صرف اور صرف عوام کے پاس ہوتا ہے۔ عوام کو ایسی تحریک جو حکومت پلٹ دے، اس کا بھی حق ہے اور حکومت پلٹنے کا بھی طریقہ کار طے ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ‘‘طریقہ کار‘‘ پاکستان کو مضبوط نہیں کرسکتا۔ اور یہ بھی عوام کو ہی حق ہے کہ وہ کیسی حکومت چاہتے ہیں۔ فوجی آمریتیں فوج کو بھی کمزور کرتی ہیں اور خلق کو بھی۔
عوام کو تحریک تو کجا انقلاب برپا کرنے کا بھی حق ہے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت ، اپوزیشن اور پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں نااہل ہیں، وہ انقلاب کے ذریعے سیاسی جدوجہد کے بطن سے نیا سیاسی اتحاد، یعنی نئی سیاسی قوت بنا کر جمہوری انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ مروّجہ آئین اس کی بھی اجازت دیتا ہے کہ سب کو مسترد کر کے نئی سیاسی قوت کے ذریعے مکمل تبدیلی لائی جائے۔ اس کے لیے بھرپور عوامی شعور، عوامی اتحاد درکا رہے۔ لوگوں کو، عوام کو، پاؤں پر کھڑا کرنے کا راستہ دکھانا چاہیے نہ آمریتوں کا راستہ۔