مسائل حج و عمرہ

حج کرنے کے تین طریقے ہیں ۔

ایک طریقہ تو یہ ہے کہ صرف حج کے ارادے سے جائے اور احرام صرف حج کی نیت کا کر کے باندھے اسے حج افراد کہتے ہیں۔ دوسری قسم ہے کہ عمرہ اور حج دو نوں کی نیت کر کے جائے اور احرام باندھتے وقت عمرہ اور حج کا اکٹھے احرام باندھ لے اس کو حج قران کہتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں آدمی جب احرام باندھ لے گا تو اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک حج مکمل نہیں ہو جاتا ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ نیت ارادہ تو حج اور عمرہ دونوں کا ہی ہے مگر جب احرام با ندھنے لگے تو صرف عمرہ کی نیت کر کے احرام باندھے۔ دل میں یہ بات اچھی طرح رکھ لے کہ آج میں صرف عمرہ کا احرام باندھ رہا ہوں انشاء اللہ العزیز حرمین شریفین پہنچ کر آٹھ ذوالحج سے حج کا احرام باندھوں گا۔ اس کو حج تمتع کہتے ہیں۔ عموما حجاج کرام حج تمتع ہی کرتے ہیں۔

عمرہ کی تیاری : یاد رکھیں کہ عمرہ میں دوچیزیں فرض ہیں  1۔ احرام باندھنا نمبر 2۔ طواف کرنا ۔ دوچیزیں واجب ہیں  1۔ صفا اور مروا کے درمیان سعی کرنا  2۔ سر کے بال منڈوانا یا کم ازکم چوتھائی حصہ بالوں کا ترشوانا ۔ عمرہ کااحرام باندھنے سے پہلے حجامت کی ضرور ت ہوتوکرالیں ۔
احرام باندھنے کاطریقہ : احرام میں دو چادریں سفید بغیر سلی ہوئی استعمال کی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے غسل کریں۔ اگروقت نہ ہواوراپنے ہر طرح سے پاک ہونے کا یقین بھی ہوتو صرف وضوکرلیں۔ ایک چادرناف تک نچلے دھڑپرباندھ لیں اورایک چادراوپرکے دھڑ پرلپیٹ لیں۔ سر ڈھانپ کر عمرہ کے نفلوں کی نیت کر کے دو رکعت نماز نفل پڑھیں۔ جب سلام پھیریں اسی وقت سر کو ننگا کر لیں۔ اور بلند آواز سے تلبیہ پڑھیں۔ لَبَّیک اَلّٰھُمَّ لَبَّیک لَبَّیک لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِ یکَ لَکَ۔ اس تلبیہ کو سفر عمرہ کے دوران بار بار پڑھتے رہنا ہے ۔ جب طواف شروع کرنے لگے توپڑھنا بند کردے۔

احرام باندھنے کے بعد پابندیاں: احرام باندھنے کے بعد زبان سے کسی قسم کی فسق و فجورکی بات گالی گلو چ نہیں نکال سکتا۔ جنگ وجدل نہیں کرسکتا۔ کسی جانورکا شکارنہیں کرسکتا۔ مکھی مچھر چیونٹی یا کوئی بھی ذی روح چیز کو نہیں مار سکتا ۔ سر کا ننگا رکھنا ضروری ہے۔ اور پاؤں میں ہوائی چپل پہنے یا ایساجوتا جوصرف انگلیوں کوڈھانپے ابھری ہوئی ہڈی ننگی رہے۔ ہرقسم کی خوشبو لگا نا  منع ہے۔ جسم کے کسی بھی حصے سے بال نا خن کٹانا اکھاڑنا منع ہے۔
بال منڈوانے سے نا خن ترشوانے سے ایک دم یعنی بکرا یا دنبہ صدقہ کرنا پڑے گا۔

طواف کا طریقہ : بیت اللہ شریف اورسا تھ چھٹی ہوئی خالی جگہ حطیم کواندرلے کراردگرد سات چکرلگانے کو ایک طواف کہتے ہیں۔ طواف کا طریقہ یہ ہے کہ اگر آسانی سے ممکن ہو تو حجرے اسود کے پاس جا کر دونوں ہا تھ حجر اسود پر رکھ کر دونوں ہونٹوں سے حجر اسود کو بوسہ دے ۔ اگر دھکم پیل کا خطرہ ہو تو قطعا ایسا نہ کرے حجر اسود چومنے کے لیے دھینگا مشتی کرنا سخت گناہ ہے۔ بس حج اسود کا رخ کر کے کھڑے ہو کر تلبیہ پڑھنا بند کر دے ۔ مرد حضرات احرام والی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیں۔ اس کو اضطباع کہتے ہیں۔ یعنی دائیں کندھے کو ننگا رکھنا ۔ اب رخ حجر اسود کی طرف کر کے یعنی سینہ اور منہ حجر اسود کی طرف موڑ کر حجر اسود کا استقبال کریں ۔ اور یہ دعا مناسب اونچی آواز سے پڑھیں ۔ بِسْمِ اللّٰہِ
اَ اللّٰہُ اَ کْبَرْ وَ لِلّٰہِ الْحَمْد یہ کہتے ہوئے دونوں ہا تھ کانوں تک اٹھا کرنیچے کرے پھر حجر اسود کا استلام کرے ۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ حجر اسود کی طرف دونوں ہا تھوں کی ہتھیلیاں کر کے اسے چوم لے اوردائیں طرف رخ بدل کر طواف شروع کر دے پہلے تین چکروں میں مردوں کو رمل کرنا ضروری ہے۔ رمل کہتے ہیں کہ سینہ نکال کر اکڑتے ہوئے دونوں شانوں کو ہلاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم بھرتے ہوئے طواف کرے۔ یہ رمل صرف پہلے تین چکروں میں کیا جاتا ہے۔ دوسرے چار چکر عام طریقے سے چل کر لگائے جاتے ہیں۔ جب بیت اللہ شریف کا ایک چکر پورا ہو جائے اور دوبارہ حجر اسود سامنے آ جائے تو سینہ اور منہ پھر حجر اسود کی طرف کریں ۔ اور استلام کریں اب ہا تھ کانوں تک نہ لے جائیں بلکہ صرف ہتیھلیاں حجر اسود کی طرف کر کے انہیں چوم لیں اور پھر دائیں طرف مڑ کر دوسرا چکر شروع کر دیں ۔

اس طرح جب سات چکر پورے ہو جائیں تو آخری بار استلام کر کے گویا کہ ایک طواف میں استلام آٹھ دفعہ ہو جائے گا ۔ اب حج اسود کے سامنے سے ہٹ کر دو نوں کندھوں کو دوبارہ ڈھانپ لیں۔ اور ملتزم پرآکر (یہ حجر اسود اور دروازہ بیت اللہ شریف کی درمیانی دیوار کو کہتے ہیں)  خشوع خصوع سے دعا مانگے پھر پیچھے ہٹ کر، جگہ مل جائے تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز نفل واجب الطواف پڑھیں۔ مقام ابراہیم کے پاس جگہ نہ ہو تو مسجد الحرام میں حہاں جگہ ملے وہیں پڑھ لیں۔ نفلوں سے فارغ ہو کر حسب ضرورت آب زم زم جو پورے حرم پاک میں ہر جگہ دستیاب ہے وہ پئیں۔ بہتر ہے کہ ٹھنڈے زم زم کی بجائے جسے وہاں مبرد کہتے ہیں۔ دوسرا زم زم جیسے غیر مبرد کہتے ہیں پئیں۔ تاکہ  زیادہ ٹھنڈا پانی ہینے سے گلے میں تکلیف نہ ہو جائے۔

اب دوسرے اہم عمل سعی صفا و مروہ کی تیاری کرے اور صفا پہا ڑی پر آ جائیں۔ اتنے بلند ضرور ہوں کہ بیت اللہ شریف صاف نظر آ جائے۔ اب قبلہ رو ہو کر دونوں ہا تھ کانوں تک اٹھانے کی بجائے ایسے اٹھائیں جیسے دعا میں اٹھائے جاتے ہیں۔ پھر بلند آواز سے تین مرتبہ پڑھیں اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ اَ للّٰہُ اَ کْبَرْ وَ لِلّٰہِ الْحَمْد۔ اور تیسرا کلمہ و چوتھا کلمہ و درود شریف پڑھ کر دعا مانگیں اور مروہ کی طرف چل پڑیں۔ سعی کے دوران چوتھا کلمہ جو نماز کی کتابوں میں عام لکھا ہوا ہے یہ یاد کر کے جائیں۔ اور وہاں پڑھتے رہیں۔ جب صفا سے چلیں گے تو تھوڑی دور سبز ستون آ جائیں گے وہاں بتیاں بھی سبز ہیں وہاں سے تیز چلنا شروع کردیں دوڑنا نہیں ہے مگر دوڑنے کے قریب تیز چلیں اور پڑھیں رَ بِّ ا غْفِرْ وَ ارْ حَمْ اِ نَّکَ اَنْتَ الْاَ عَزُّ الْاَ کْرَمُ۔ جب سبز بتیاں ختم ہو جائیں تو تیز چلنا بندکردیں۔ مروہ پر پہنچ کر ایک چکر پورا ہوگیا پھر صفا کی طرف آ ئیں ۔ صفا پر دوسرا چکر پورا ہو گیا ۔ اس طرح ساتواں چکر مروہ پرختم ہوجائے گا ۔ سعی سے فارغ ہو کر مسجد حرام میں دو رکعت نفل ادا کریں۔ اس کے بعد حجام کے پاس جائیں اور سر پر استرا پھروا دیں۔ یا موٹی مشین سے بال منڈھوا دیں۔ یاد رکھیں کہ بالوں کو منڈھوانے کا کتروانے کی نسبت بہت زیادہ ثواب ہے۔ بعض لوگ غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ وہ وہاں پر صرف ایک چھوٹی سی لٹ قینچی سے کاٹ لیتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ ایسا کرنے سے آدمی احرام سے نہیں نکلتا۔ کم ازکم چوتھائی حصہ بالوں کا کٹوانا واجب ہے۔ سر مڈھوانے کے بعد عمرہ مکمل ہو گیا ۔ عورتیں تمام بالوں کو اکٹھے کرکے آخر سے انگلی کے پورے کے برابر کاٹ لیں۔ اس کے بعد غسل کریں اورعام کپڑے پہن لیں۔

حج کے پانچ دن اور ادائیگی حج کا آسان طریقہ: حج میں تین چیزیں فرض ہیں جن کو ترتیب وار اداکرنا اور اس کے مخصوص مقام اور وقت پر ادا کرنا فرض ہے۔ اگر ان میں سے کوئی فرض بھی چھوٹ گیا توحج  نہ ہوگا۔ اس کا بدل کوئی چیزنہیں بن سکتی۔1۔ حج کی نیت سے احرام باندھنا۔ احرام باندھنے طریقہ اوپرلکھا جا چکا ہے۔  2۔ وقوف عرفات ۔ نوذولحج کوزوال آفتاب کے بعدرات صبح صادق تک عرفات میں ٹھہرنے کاوقت ہے۔ اس دوران عرفات میں تھوڑاسا وقت بھی ٹھہرگیا تویہ فرض ادا ہوجائے گا ۔ 3 ۔ طواف زیارت جس کا وقت 10 زوالحج کی صبح سے 12ذوالحج کوغروب آفتاب تک ہے ۔ اور یہ طواف قربانی اور سرمنڈوانے کے بعد کیا جاتا ہے ۔

حج کے واجبات : یہ واجبات چھ ہیں۔ اگر کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس کا ازالہ قربانی یا صدقہ سے ہوجاتا ہے۔ واجبات یہ ہیں۔  1۔ وقوف مزدلفہ 2۔ سعی صفا مروا  3۔ رمی جمار یعنی کنکریاں مار نا  4۔ قربانی کرنا نمبر 5۔  حلق یا قصر کرنا یعنی بال منڈوانا 6 ۔ طواف وداع کرنا ۔
حج کی سنتیں : سنت کا مطلب ہوتا ہے کہ جس پر عمل کا بہت ثواب ہے اور بلا وجہ ترک کرنا بری بات ہے۔ فرق صرف یہ ہے اگر سنت حج چھوٹ جائے تو کسی قسم کی جزا لازم نہیں آتی۔ سنتیں یہ ہیں ۔ طواف قدوم کرنا یعنی منیٰ جانے سے پہلے طواف کرنا ۔ سات ذوالحج کو بعد نماز فجر منیٰ کی طرف چلنا وہاں پانچ نمازیں پڑھنا۔ عرفہ کی رات منیٰ میں قیام کرنا۔ عرفہ کے دن طلوع آفتاب کے بعد منیٰ سے عرفات جانا۔ منیٰ سے مکہ واپس ہوتے ہوئے تھوڑی دیر محصب میں ٹھرنا۔ امام کا خطبہ پڑھنا اور اسے سننا گیارہ تاریخ کو مسجد نمرہ میں جانا۔

یوم حج: آٹھ ذوالحج کی صبح کو اپنی قیام گاہ میں نہا دھوکر صاف ستھرے ہوکر صاف چادروں کا احرام باندھ لیں۔ وقت ملے تو ایک طواف بھی کرلے اور منیٰ کی طرف روانہ ہوجائیں۔ وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشا ادا کریں اور رات کے قیام کے بعد نماز فجر ادا کرکے عرفات چلے جائیں۔ مسجد نمرہ کے قریب کوشش کریں کہ قیام ہوجائے ۔ آذان نماز ظہر کے بعد امام صاحب دوخطبے دیں گے ۔ پھر اقامت ہوگی ظہراور عصر دونوں نمازیں ملا کر ظہر کے وقت میں ادا کریں۔ ہر نماز کی اقامت جدا جدا ہوگی۔ عرفات کے قیام کے دوران تلبیہ پڑھتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ پھر جو جو دل چاہے اس کا سوال کریں۔ آئندہ کے لئے تمام گناہوں سے توبہ کرلیں ۔غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ آجائیں اورجبل قزح کے پاس قیام کریں۔ نماز عشاء کے وقت میں اذان اوراقامت کے بعد مغرب اورعشاء ملا کرپڑھیں۔ یہ رات شب قدرسے بھی افضل ہے۔ 10ذوالحج کونماز فجرمزدلفہ میں اداکرکے سورج نکلنے سے پہلے منیٰ کی طرف چل پڑیں۔ ایک جمرے کی جسے جمرہ عقبہ اورعام زبان میں بڑاشیطان کہتے ہیں، رمی کریں۔ یعنی سات کنکریاں اسے ماریں۔ بہترہے کہ زوال آفتاب سے پہلے رمی جمرہ عقبہ ادا کرلیں۔ واپس اپنے خیمہ میں آکر خود قربانی کرنا ہوتوقربان گاہ جاکراپنے ہاتھ سے قربانی کردے۔ اگربینک میں پیسے جمع کرائے ہیں تو جو و قت قربانی کا دیا گیا ہے تو اس کاانتظارکریں۔ تھوڑا سا وقت احتیاطا اورگزارکر سرکے بال منڈوالیں۔ عورتیں سارے بال اکھٹے کرکے انگلی کے پورے کے برابرکاٹ لیں۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ آکرطواف زیارت کریں اورسعی صفا مروہ کریں۔ اور واپس منیٰ چلے جائیں وہاں گیارہ اوربارہ تاریخ کوتینوں جمرات کی رمی زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کریں۔ سب سے پہلے جمرہ اولی کی پھرجمرہ وسطہ کی پھرجمرہ عقبہ کی رمی کی جاتی ہے۔ اگربارہ زوالحج کوغروب آفتاب سے پہلے منیٰ سے چلا آیا تودرست ہے اگرتیرہ ذولحج کووہاں ٹھرارہا تو پھر جمرات کی رمی کرنا پڑے گی۔ بارہ تاریخ کو واپس مکہ مکرمہ آجائے اور طواف ودع کی نیت کرکے طواف کر لے الحمدللہ حاجی کا حج مکمل ہوگیا ۔

نابالغ بچوں کا حج : جو بچے بڑے ہوں مگر ابھی با لغ نہیں ہوئے اور تمام ارکان ادا کرنے کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں تو والدین ان سے تمام افعال حج اسی طرح اپنے سا تھ کرواتے رہیں۔ جو بچے چھوٹے ہیں مگر دوڑتے پھرتے ہیں ان کو چا ہیے کہ دو چھو ٹی چھو ٹی چادریں احرام کی بندھوا دی جائیں۔

جنایات : ممنوعات احرام یا ممنوعات افعال حج میں سے کوئی بھی چیز بلا عذر سرزد ہو گئی تو اس کی جزا یا کفارہ لا زم ہوگا۔ اگر کسی جانور کا شکار کیا تو اس کے بدلے میں اسی طر ح کا جانور وہاں خیرات کرنا پڑے گا ۔ مثلا ہرن شکار کیا تو بکرا یا دنبہ نیل گائے شکار کی تو اس کے بدلے میں گائے ذبح کرنی پڑے گی۔ جوں ٹڈی مچھر مکھی مار دی تو ایک دو ریال صدقہ کر دے ۔ اگر سر کے بال داڑھی کے بال منڈھوا دیے یا ہا تھ پیروں کے نا خن کٹوا دیے یا سلہ ہوا کپڑا تمام دن پہنے رکھا، ان حالتوں میں ایک بکرا یا دنبہ ذبح کرنا پڑے گا ۔ اگر خوشبو کا استعمال کیا پھر بھی یہی جزا ہو گی۔ اگر خوشبثو بھی لگائی اور احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے تو دو جانور ذبح کرنے پڑیں گے۔