قربانی بکرے کی
- تحریر سرور غزالی
- بدھ 07 / ستمبر / 2016
- 6839
شیخ عمر دین صرف عید اور بقر عید کی نمازیں پڑھتے تھے۔ عید کی اس لئے کہ بقرعید کی بھی پڑھنی ہوتی ہے۔ صرف بقرعید کے بغیر عید بھلا کیسے پڑھتے۔ اور بقر عید نہ پڑھتے تو قر بانی کیسے کر تے۔ صرف بکرا قربان کر دیتے نماز پڑھے بغیر تو محلے کے مولوی صاحب ان کو کب بخشتے۔ مولوی صاحب ان سے خوش ہو جاتے کہ ایک تو وہ نماز پڑھ کر ثواب کا کام کر تے اور پھر قربانی کے لئے بھی مولوی صاحب کو بلاتے۔
شیخ عمر دین کا صوم صلوٰۃ سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ ان کا قول تھا کہ نہ وہ گناہ کرتے ہیں نہ اسے دھونے کے لئے عبادت کی ضرورت محسوس کر تے ہیں۔ ان کے نزدیک اسمگلنگ بھی ایک عام پیشے کی طرح ایک پیشہ تھا۔ یہ کوئی ایسا گناہ نہ تھا۔ شیخ عمر دین کی تعلیم نہایت واجبی سی تھی۔ مگر اس سلسلے میں بھی وہ خاصے پر اعتماد ثابت ہو ئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ تعلیم اور اعلی تعلیم انسانوں کو بزدل بنا دیتی ہے۔ کامیاب بزنس مین ہونے کے لئے جس بہادری کی ضرورت ہوتی ہے، تعلیم اس کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو تی ہے۔ ایسی تعلیم جو قانون کی پابندی اور سوچ بچار جیسی قدغن لگا دے، اس کا کیا فائدہ ہے۔
ایک دفعہ کام کے سلسلے میں انہیں حجاز جانا پڑگیا، موسم بھی مذہبی تھا لہذا اس دن سے ان کے نام کے آگے حاجی کا اضافہ ہوگیا۔ جب وہ واپس لوٹے تو مولوی صاحب خود ان کا خیر مقدم کر نے آئے اور بولے آپ کو بڑی سعادت نصیب ہوئی ہے۔’’ بس اب نماز وغیرہ پابندی سے پڑھا کریں اور ہم گناہ گاروں کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ سعادت نصیب کرے۔‘‘حاجی عمر دین نہایت عاجزانہ انداز میں بولے ’’ ہاں بس فرصت نکال کر بزنس کے دوران یا گھر پر ہی کہیں نہ کہیں پڑھ لیا کروں گا۔“
قربانی شیخ صاحب اس لئے کرتے، کہ ایک ہی تو کھانے پینے کا موسم ہوتا ہے۔ تازہ تازہ گوشت اور اس کہ ہزارہا ڈشیں۔ دوسری جانب شیخ صاحب کی دھاک بھی لوگوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ کہ ماشااللہ دو دو بکرے اور ایک گائے قربانی کرتے ہیں۔ شیخ صاحب بقرعید کی تیاری بھی خوب کرتے تھے۔اس کا آغاز جانور کی خریداری سے ہی شروع ہو جاتا۔ وہ جانور دیکھنے ایسے اہتمام سے جاتے جیسے کسی بر دکھاوے پر لڑکی والے جاتے ہیں۔ اور پھر جانور کو بھی خوب چھان پھٹک کر دیکھتے اور کچھ نہ کچھ عیب نکال ہی لیتے۔ بھئی دیکھو تمھارا بکرا لگتا ہے جیسے چشمہ لگائے ہوئے ہے اس کی تو آنکھیں بھینگی ہیں۔ ہاں دیکھو یہ کان کترا ہے ایسا کرو اس کی قیمت اور کم کرو۔ تمام حیلے بہانوں سے وہ جانور بیچنے والے کو رقم پھر یوں ادا کرتے جیسے اس پر احسان کر رہے ہوں اور یہ جانور ان کو مفت میں ہی ملنا چاہئے تھا۔
قربانی کے دن شیخ صاحب، مولوی صاحب سے جانوروں پر چھری پھراوتے اور باقی کام خود سنبھال لیتے۔ ان کی بیگم محلے سے آئے ہوئے حصوں میں سے تھوڑا بہت پہلے ہی پکا رکھتیں اور جھٹ مولوی صاحب کی خاطر شروع ہو جاتی۔ مولوی صاحب فارغ ہوکر، قربانی کا گوشت غریب غربا میں تقسیم کر نے کی ہدایت کر کے کہیں اور کے لئے چل دیتے۔ شیخ صاحب لنگوٹی کس کر ، چھری سلاخ پر رگڑتے، جانوروں پر پل پڑتے۔ ابھی انہوں نے کھال پوری طرح سے اتاری بھی نہ ہوتی، مطلب قربانی کے جانوروں کی، کہ بقر عید پر قربانی کے کھال جمع کر نے والے نازل ہو جاتے۔ ان کھال جمع کر نے والوں کابس نہیں چلتا ورنہ وہ تو بقرعید سے ایک شب پہلے ہی قربانی کے جانوروں کی کھال جمع کر نے کی مہم کا آغاز کر دیتے۔ کہ بھائی قربانی کی کھال آج ہی دے دو، قربا نی بے شک کل کر لینا۔
شیخ صاحب انہیں کھال تو کیا دیتے الٹا ایک آدھ کھال ان کھال جمع کر نے والوں سے بھی رکھوا لینے کی باتیں کر تے۔ کہتے ’’میاں ساری کھالوں پر تم لوگوں کا حق کہاں سے ہوگیا۔ آخر ہم بھی انسانوں کی کھالیں اتارتے ہیں بھلا جانوروں کی کیوں نہیں۔ ان کا خیال تھا کہ کھال پھیچھڑے، معدہ غرضیکہ جانور کی ہر چیز، قدرت نے انسانوں کے کام آنے کےلئے بنائی ہے۔ کھال بیچ کر وہ رقم کھری کرلیتے۔ حصہ وغیرہ تقسیم کر نے کو وہ فضول سمجھتے۔ ان کاموں میں ان کی بیگم ان کا بڑا ساتھ دیتیں۔ پہلے تو وہ ادھر سے آئے گوشت کو اُدھر روانہ کر دیتیں اور پھر اکا دکا گھروں میں جہاں حصہ بھیجنا ضروری ہوتا وہاں بھیج ہی دیتیں۔ چند ایک غریب غربا کو بھی چھان پھٹک کر کچھ نہ کچھ دے دیتیں۔ جب تک کوئی سوالی جان کو نہ آجاتا، اول تو اس کی جانب متوجہ ہی نہ ہوتیں پھر سوالوں کا سلسلہ شروع کر دیتیں۔ افغان مہاجر ہو ، دیکھو سوڈان اور ایتھوپیا میں بھی تو آخر انسان ہی بستے ہیں ان کا بھی کچھ حق بنتا ہے۔ پھر سوال کرتیں عیسائی تو نہیں قربانی کا گوشت تمہیں نہیں دے سکتے۔ ایسے موقع پر وہ بالکل بھول جاتیں کہ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کی کھال ان کے شیخ جی بلا تفریق مذہب و ملت اتار لیتے ہیں۔
کسی ہندو سے انہیں کوئی خطرہ ہی نہیں ہوتا۔ کہ وہ گوشت مانگنے ہی نہیں آتا۔غریب سبزی اور ساہوکار گوشت کے بجائے انسانوں کی بوٹیاں اتارتا ہے۔ ویسے بھی یہ پڑوسی ملک کا اندرونی مسئلہ ہے جہاں ایک گائے کے کاٹے جانے پر اتنا اودھم مچتا ہے کہ ہزاروں انسانوں کی گردنیں کٹ جاتی ہیں۔ ملا کا فتوی ہوتا ہےکہ گائے ضرور قربان کرنی ہے۔ اور پنڈت کا اعلان ہوتا کہ ماتا کا خون بہا ضرور لینا ہے۔ یوں چند رشوت خور پولیس والوں اور غنڈوں کی ملی بھگت سے، ہندو اور مسلمانوں کی لاشوں اور لہو کا تعفن، قربانی کے جانوروں کے ساتھ ساتھ اٹھتا۔ ایسے ہی جیسے غربت کے اندھیرے میں ڈوبے گاؤں سے انسانوں اور جانوروں کے جسم کی ملی جلی بساند اٹھتی ہے۔ جہاں کے بسنے والے انسانوں میں کوئی تفرقہ نہ ہواور غربت ان سب کی ازلی یگانگت کی نشانی ہو۔