کچھ ابن خلدون کے بارے میں ۔ 3

  • تحریر
  • بدھ 07 / ستمبر / 2016
  • 6233

غرناطہ میں دو سال رہنے کے بعد ابن خلدون نے محسوس کیا کہ اس کے حاسد پیدا ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کے خلاف شکایتوں اور سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ چناںچہ سلطان اور اس کے وزیر لسان الدین کے کان بھرے جانے لگے ہیں، جس کی وجہ سے ان لوگوں کا اس کے ساتھ وہ پہلے کا سا رویہ نہیں رہا۔ یہ دیکھتے ہوئے ابن خلدون غرناطہ چھوڑنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں اس کے پرانے دوست امیر عبداللہ نے (جو ابو عنان کی موت کے بعد اب آزاد ہوچکا تھا) اسے بجایہ آنے کی دعوت دی۔ بجایہ پہنچنے پر ابن خلدون کا شان دار استقبال ہوا۔ حکومت کے اہل کار گھوڑوں پر اس کے خیرمقدم کے لیے آئے۔ عام لوگوں کا یہ حال تھا کہ اس کی دست بوسی کے لیے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ یہاں پہنچ کر ابن خلدون نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ اس کے بعد کا، سات سال کا، عرصہ ( 1365 سے  1372) اس نے بجایہ، بسکرہ اور تلمسان آنے جانے میں گزارا۔

ابو عبداللہ اپنے حریف ابنِ عم ابوالعباس کے مقابلے میں اپنی حکومت کو سنبھال کر رکھنے میں دشواری محسوس کرنے لگا۔ اس کے بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے ابن خلدون نے پیش کش کی کہ وہ بجایہ کے کوہستانی علاقہ میں جاکر بربر قبائل سے ملے اور ان سے ٹیکس وصول کرنے کا خطرناک کام انجام دے۔ یہ رقم ابوعبداللہ کی حکومت کو اقتصادی طور پر قائم رکھنے کے لیے اشد ضروری تھی۔ بربر قبائل میں رہ کر ابن خلدون نے قبائلی زندگی اور ان کے اخلاق و عادات کا قریب سے مطالعہ کیا۔ 1366 میں جب سلطان ابوعبداللہ کا انتقال ہوگیا تو ابن خلدون اس کی اولاد کے لیے کام کرنے پر اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکا۔ ان کی مایوس کن حالت کو دیکھتے ہوئے اس نے ابوعبداللہ کے حریف ابنِ عم ابوالعباس کے ہاں جانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ سنبھال سکے۔

اس سے اگلے آٹھ یا نو سال ابن خلدون کے طوفانی کیریئر کے لیے بہت نازک اور اہم تھے۔ انہی سالوں میں اس نے شمال مغربی افریقہ کی سیاسی زندگی میں ایک اہم اور خود مختار کردار ادا کیا۔ ابوالعباس کے ہاں کچھ عرصہ گزارنے پر اس نے محسوس کیا کہ اس حکمران کے سامنے اس کی پوزیشن کچھ غیر یقینی سی ہے۔ چناںچہ وہ اس کو بھی چھوڑ کر چل دیا۔ اس کے بعد تلمسان کے حاکم ابوحمّو نے جو اس کے دوست حاکمِ بجایہ ابوعبداللہ کا داماد تھا اسے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی اور اسے اپنا وزیراعظم بنانے کی پیش کش کی، لیکن ابن خلدون نے جو اب تک اونچے حکومتی عہدوں اور ان سے وابستہ مکروفریب اور چال بازیوں سے دل برداشتہ ہوچکا تھا۔ اس پیش کش کو قبول نہ کیا، اور اس کی ایک وجہ یہ بتائی کہ اس نے اپنے علمی کاموں سے اب تک کافی غفلت برت لی تھی، اور اب اس کی خواہش تھی کہ وہ امن و سکون کے ساتھ علمی اور تحقیقی کام کرے۔

تلمسان کو چھوڑنے کے بعد ابن خلدون اولادِ عارف کے ہاں آکے ٹھہرا جو زغبہ قبائل کا ایک خاندان تھا۔ یہاں اس نے اپنے اہل خانہ کو بھی بلا لیا۔ اولادِ عارف نے اس خاندان کو اپنی حفاظت میں قلعۂ سلامہ میں ٹھہرایا۔ یہاں ابن خلدون نے تین سال سے زیادہ عرصہ آرام اور خاموشی میں گزارا۔ یہیں اس نے اپنی تاریخ لکھنے کا آغاز کیا۔ وہ بتاتا ہے کہ ’’نومبر 1377 میں مَیں نے تاریخ کا ’’مقدمہ‘‘ مکمل کیا، اس غیرمعمولی اسلوبِ اظہار سے جو میری اس مراجعت اور گوشہ نشینی نے میرے اندر اِلقا کیا، کہ الفاظ اور خیالات میرے ذہن میں ہجوم کرکے آتے جاتے تھے اور میں انہیں لکھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ (صرف پانچ ماہ میں) یہ تخلیق مکمل ہوگئی۔‘‘ اپنی تاریخ کو مکمل کرنے میں ابن خلدون کو مزید چار سال لگ گئے جن میں اس نے اپنے کام کی تکمیل کے لیے تیونس کے کتب خانوں سے بھرپور فائد اٹھایا۔

اب ہم یہاں شمال مغربی افریقہ میں گزارے ہوئے ابن خلدون کے باقی ماندہ ایام کے ذکر کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اب تک اس کی زندگی کے جو حالات قارئین کے سامنے آئے ان سے انہوں نے یہ اندازہ لگایا ہوگا کہ اس کی زندگی عموماً کس نہج پر گزری، اور زندگی میں جو مقصد اس کے سامنے تھا اس میں وہ کب اور کہاں تک کامیاب ہوا، اور کیسے بعض موقعوں پر وہ ناخوش گوار حالات میں سے گزرا۔
ابن خلدون کے ساتھ اب ہم مصر چلتے ہیں، اور وہاں اس کی تقرریوں اور عہدوں سے متعلق تفصیلات کو چھوڑ کر ایک خاص واقعے کا ذرا تفصیل سے ذکر کریں گے، جس کا تعلق منگول فاتح تیمورلنگ کے ساتھ اس کے رابطے اور ملاقاتوں سے ہے۔

مصر جانے کے لیے ابن خلدون نے حاکم ابوالعبّاس سے حج پر جانے کی اجازت طلب کی (حج کا بہانہ اُن دنوں بہت چلتا تھا) جو دستور کے مطابق اسے دی گئی۔ اکتوبر 1382 میں ابن خلدون اسکندریہ جانے کے لیے جہاز پر سوار ہوا لیکن اس کے اہلِ خانہ (غالباً) یرغمال کے طور پر تیونس میں رہ گئے۔ سمندر پر چالیس دن گزارنے کے بعد وہ دسمبر 1382 میں اسکندریہ پہنچا اور بجائے مکّہ معظمہ جانے کے وہیں مصر میں اُتر گیا۔ جنوری 1383 میں وہ قاہرہ چلا آیا۔ یہاں اس وقت مملوک بادشاہوں کی حکومت تھی جو خوش حال اور سیاسی طور پر نسبتاً مستحکم تھی۔ اس وقت المِلک الظاہر برقوق مصر کا حکمران تھا۔ اُس تک ابن خلدون کی شہرت پہنچ چکی تھی، اس لیے اس نے اس کی بڑی قدر افزائی کی، اور اسے مختلف موقعوں پر پروفیسر، صدرِ کلّیہ اور قاضی کے عہدوں پر تعینات کیا۔ برقوق نے جب اسے مالکی فقہ کا قاضی القضاۃ مقرر کیا تو اس نے ملک میں رائج رشوت ستانی اور بدعنوانی کا قلع قمع کرنے کی ٹھانی اور اس سلسلے میں نالائق مفتیوں اور جاہل قانونی مشیروں کو نکال پھینکنا چاہا۔ لیکن ان اقدامات کی وجہ سے وہ غیر ہردل عزیز ہوگیا۔ اس کی مخالفت بڑھنے لگی۔ نتیجہ یہ کہ وہ ایک سال سے بھی کم عرصہ قاضی کے عہدے پر رہ سکا۔ وہ مخالفوں کی ان ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا، لیکن اسی زمانے میں اس کے ساتھ وہ سانحہ پیش آگیا جس میں تیونس سے آنے والے اس کے بیوی بچے مع اپنے اثاث البیت کے اسکندریہ کے قریب جہاز کے ساتھ ہی ڈوب گئے۔ یہ اکتوبر نومبر 1384 کا واقعہ ہے۔

کچھ عرصے بعد برقوق نے انتقال کیا اور اس کی جگہ اس کا جواں سال بیٹا فرج تخت نشین ہوا۔ اسی زمانے میں تاتاری لشکر منگول امیر تیمور کی قیادت میں مصر جانے کے لیے دمشق کی فصیلوں پر دستک دینے لگا۔ مصری فوج کوشاہ فرج کی سربراہی میں دمشق جانا ہوا، تاکہ اسے تیموری حملے سے محفوظ رکھے۔ ابن خلدون اگرچہ اب شاہ کی ملازمت میں نہیں تھا، تاہم اسے بھی مجبور کرکے ساتھ لے جایا گیا۔ دسمبر1400 میں یہ لوگ محاصرے میں آئے ہوئے شہر دمشق میں پہنچ گئے۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں میں فرج اور اس کے مشیروں کو اطلاع ملی کہ ان کے پیچھے مصر میں بغاوت کا منصوبہ باندھا جا رہا ہے۔ یہ سُنتے ہی یہ لوگ تو فی الفور واپس چلے گئے۔ اب دمشق کے محصور شہر میں لوگوں کے علاوہ ایک طرف فوج تھی اور دوسری طرف قاضی اور فقہا تھے جن میں ابن خلدون بھی شامل تھا۔

فقہا اور علما چاہتے تھے کہ فاتح تیمور کے ساتھ بات کرکے اس سے شہر کے لیے امان طلب کریں۔ لیکن فوجی عہدے دار اس بات پر بضد تھے کہ ’’ہمیں آنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے، اور ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں‘‘۔ تاہم علما اور قاضی صاحبان فوج کو راضی کرکے کسی طرح امیر تیمور سے مل آئے۔ تیمور نے کشادہ دلی سے ان کا استقبال کیا، ان کے لیے امان نامے لکھے اور ان کے ساتھ یہ طے ہوا کہ دوسرے دن شہر کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور تیمور کی طرف سے ایک امیر شہر میں داخل ہوکر دارالامارت میں قیام کرے گا اور اس کے باشندوں پر حکومت کرے گا۔ تیمور نے ان علما اور فقہا سے ابن خلدون کے متعلق پوچھا اور یہ جان کر وہ شہر میں موجود ہے اسے اپنی طرف بھیجنے کے لیے کہا۔ اب مسئلہ وہی تھا کہ قلعے کا دروازے کھلے بغیر ابن خلدون باہر کیسے جا سکتا تھا۔ چناںچہ اسے بھی علما اور مشائخ کی طرح رسیوں کے ذریعے قلعے کی فصیل سے نیچے اتارا گیا، اور وہاں سے وہ امیر تیمور سے ملنے کے لیے اس کے کیمپ میں جا پہنچا۔ امیر تیمور سے پہلی ملاقات کا احوال ہم ابن خلدون کی اپنی زبان سے سنتے ہیں ۔ کہتا ہے:

’’جب میں اس سے ملا تھا اور اس کے پاس پہنچنے کے لیے فصیلِ قلعہ سے لٹکایا گیا تھا... اس وقت میرے ایک دوست نے جو اپنی سابقہ واقفیت کی بنا پر اُن لوگوں کے رسم و رواج کو خوب جانتا تھا مجھے مشورہ دیا کہ میں کوئی تحفہ اس کی خدمت میں لے جاؤں، خواہ وہ کتنا ہی کم قیمت کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ ان کے فرماں رواؤں سے ملاقات کرنے کی یہ ایک مقررّہ رسم ہے۔ لہٰذا میں نے کتب فروشوں کے بازار سے قرآن مجید کا ایک نہایت خوب صورت نسخہ، ایک نفیس جائے نماز، ایک نسخہ البوصیری کے مشہور قصیدہ بردہ کا جو آں حضرتؐ کی مدح میں ہے، اور مصر کی اعلیٰ درجے کی مٹھائیوں کے چار ڈبے خریدے۔ میں ان تحائف کو لے کر اس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اس وقت قصرالابلق کی دربارگاہ میں بیٹھا ہوا تھا۔

جب اس نے مجھے آتے دیکھا تو کھڑا ہوگیا، اور مجھے اپنے دائیں طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا، جہاں میں ایک نشست پر بیٹھ گیا... تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد میں اس کے سامنے پہنچ گیا اور ان تحائف کی جانب اشارہ کیا جو میرے ملازموں کے ہاتھوں میں تھے۔ میں نے انھیں نیچے رکھوایا اور وہ میری طرف متوجہ ہوا۔ پھر میں نے مصحف کو کھول کے سامنے کیا۔ جب اس نے دیکھا تو بہ عجلت تمام اٹھایا اور اسے اپنے سَرپر رکھ لیا۔ پھر میں نے قصیدہ بردہ اس کی خدمت میں پیش کیا۔ اس نے اس کے بارے میں اور اس کے مصنف کے بارے میں مجھ سے سوالات کیے۔ اور مجھے جو کچھ معلوم تھا میں نے بیان کر دیا۔ پھرمیں نے اس کی خدمت میں جائے نماز پیش کی جسے اس نے لیا اور چوما۔ پھر میں نے اس کے سامنے مٹھائیوں کے ڈبے رکھے اور اس نے رسم کے مطابق ازراہِ اخلاق ایک ڈبے میں سے ذرا سی مٹھائی لے کر کھائی اور ڈبے کی باقی ماندہ مٹھائی حاضرین دربار میں تقسیم کر دی۔ اس نے یہ سب تحائف قبول کر لیے اور ان پر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ اس کے بعد اس نے ایک خاص فقیہ اور متبحرعالم عبدالجبار کو طلب کیا، تاکہ وہ ہم دونوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض ادا کرے۔‘‘