ہمارے گھر آیا پھلوں کا بادشاہ
- تحریر ڈاکٹر خلیل طوقار
- جمعرات 08 / ستمبر / 2016
- 7328
پھلوں کا بادشاہ مابدولت حضور سلامت ’’آم‘‘ نے اس سال آخر کار اس خاکسار کے غریب خانہ میں بھی جلوہ نمائی کی۔ اس خاکسار کی بری عادت یہ ہے کہ وہ چند ایک کے علاوہ اکثر پھل پسند نہیں کرتا۔ اور پھل کھاتا بہت کم ہے۔ اس کے پسند کے پھلوں میں ایک آلوچہ ہے اور دوسرا پھلوں کا بادشاہ ’’آم‘‘! ترکی میں مقیم پاکستانی سفیر جناب سہیل محمود کی مہربانی ہے کہ پاکستان کے پھلوں کا بادشاہ اور اس خاکسار کا پسندیدہ پھل آم، ہمارے گھر میں بھی تشریف لایا۔
ماشا اللہ ہمارے سفیر جناب سہیل محمود بہت ہی نفیس النفس اور اعلی اقدار کے انسان ہیں اور جب سے وہ ترکی میں تشریف لائے ہیں نہ صرف ترکی اور پاکستان کے مشترکہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بلکہ ترکی میں اردو کی ترویج و ترقی کے لیے ان تھک کوششیں کرتے رہے ہیں۔ وہ ترکی میں تشریف آوردہ پہلے پاکستانی سفیر ہیں جنہوں نے ترکی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبہ جات کی طرف توجہ دی ہے۔ یہ بھی ان کی برتر و اعلی خصوصیات میں شامل ہے کہ وہ اپنی سرکاری تقاریر یا اردو میں یا ہماری زبان (ترکی)میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ترکی میں یہ بھی کیا ہے کہ سال کے مختلف دنوں میں ترکی کی مختلف بلدیات کے ساتھ مل کر پاکستان سے متعلق مختلف موضوعات پر مختلف تقریبات منعقد کرارہے ہیں۔ کبھی پاکستانی تہذٰیب و ثقافت کا دن، پھر کبھی پاکستانی کھانوں کا دن اور پھر مینگوفیسٹیول!
مگر ستم ظریفی یہ کہ یہ تمام پروگرام ہمارے دارالحکومت انقرہ میں ہوا کرتے ہیں، اس لیے عرصے سے میرے دل میں رشک و حسد کی لہریں شدت سے موج زن ہورہی تھیں۔ لیکن یہ جو مینگو فیسٹیول ہے ناں، واہ ! اس کو سن کر اور ترکی اخبارات میں مینگو فیسٹیول کی خبریں پڑھ کر دل میں حسد کی لہریں نہیں بلکہ ایک طوفان بپا ہوا کہ کیوں نظر التفات اس شہر غریباں پر مرکوز نہیں ہوتی؟
شاید اللہ تعالی نے میری سن لی اور ہمارے سفیر جناب سہیل محمود کے دل باخبر کو میری دعاؤں کا احساس ہوا۔ تو انہوں نے اس خاکسار کو فون کرکے فرمایا کہ آپ کو آموں کا تحفہ بھیجنا چاہتے ہیں۔ جس ایڈریس میں بھیجنا ہے وہ بھیجوادیں۔ اللہ اکبر کیا بڑی خوش خبری تھی یہ میرے لیے۔ اور اس طرح سے پھلوں کا پاکستانی بادشاہ ہمارے غریب خانہ میں تشریف لایا۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ یہ بیچارہ ہمارے باورچی خانہ میں اپنی تمام تر شان و شوکت سے آیا مگر جلد از جلد آنجہانی ہوگیا!
میں جناب سہیل محمود کا تہہ دل مشکور ہوں کہ انہوں نے میرے دل کا بڑا ارمان پورا کیا۔