دو ملاؤں میں مرغی حرام
پچھلے کئی ہفتوں سے روزانہ کشمیر کے بارے میں ایک خبر اخباروں میں شائع ہورہی ہے کہ کشمیر میں کرفیو اب بھی جاری ہے۔ میں نے کشمیر کے حوالے سے کئی بار کوشش کی کہ حالاتِ حاضرہ پر کچھ لکھوں۔ لیکن ایک بات سے میں کافی پریشان تھا کہ اگر کشمیر کی حمایت میں لکھوں تو ہندوستانی حکومت مجھے پڑوسی ملک کا حمایتی سمجھے گی اور اگر کشمیریوں کے خلاف لکھوں تو میرا ضمیر مجھے ہمیشہ دھتکارتا رہے گا۔
آخر میرے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا اور میری بے باکی اور سچائی نے آج مجھے کشمیر کے حالات سے دوچار لوگوں کی آہ وا زاری اور بے بسی پر قلم اٹھانے پر مجبور کر ہی دیا ۔ پھر میں نے اپنی بزدلی کا گلا گھونٹ کر طئے کیا کہ کشمیر کے حالات پر قلم اٹھایا جائے جہاں کے معصوم لوگ اپنی بات منوانے کی خاطر دو ملکوں کی ہٹ دھرمی کی چکی میں پچھلے کئی سالوں سے پس رہے ہیں۔
کشمیر میں احتجاجیوں اور سیکورٹی فورس کے درمیان جھڑپ میں کئی لوگوں کی جان چلی گئی ہے اور کرفیو میں اب تک کوئی ڈھیل نہیں دی گئی ہے ۔ جس سے عام لوگوں کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور کشمیروں کی ہمدردی میں ہندوستان سمیت دنیا کے کئی شہروں میں احتجاج بھی ہورہا ہے۔ کشمیر کے حالات کے خراب ہونے اور قابو سے باہر ہونے کی ایک اہم وجہ برہان وانی کی موت ہے جسے ہندوستانی فوج نے مار ڈالا ہے۔
برہان وانی پر الزام ہے کہ وہ ایک عسکریت پسند تھا اور کشمیر کی آزادی کی مہم میں کافی سر گرم تھا۔ برہان وانی کی پیدائش ایک تعلیم یافتہ اور اچھے گھرانے میں ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ برہان وانی کو پندرہ سال کی عمر سے عسکریت پسندی میں ملوث پایا گیا، جب اس پر اور اس کے بھائی پر پولیس نے کسی وجہ کے بغیر تشدد کیا تھا۔ برہان وانی سوشل میڈیا پر انتہائی فعال تھا اور وہ دوسرے عسکریت پسندوں کی طرح اپنی شناخت کو نہیں چھپاتا تھا۔ اس کے ویڈیو پیغام ہندوستانی ناانصافی اور جبر کے حوالے سے ہوتے تھے جو نوجوانوں میں کافی مقبول تھے۔ ان پیغامات میں وہ نوجوانوں سے ظلم خلاف آواز اٹھانے کی بات کہتا تھا۔ لیکن ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ برہان وانی دراصل نوجوانوں سے ہتھیار اٹھانے کے لئے کہتا تھا۔ برہان وانی کے جنازے اورتدفین میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ برہان وانی کشمیر میں کتنا مقبول تھا۔
گوہر گیلانی کشمیر کے ایک معروف صحافی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم اور کتنے دن تک وہ اس طرح کرفیو دزہ شہر میں پھنسے رہیں گے۔ ان تمام دنوں میں گوہر گیلانی نے اپنے آپ کو ایک قیدی سے مشابہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کشمیر کو دنیا کی جنت کہتے ہیں لیکن ہماری جنت اب مکمل طور پر ایک جہنم بن چکی ہے۔ گوہرگیلانی یہ بھی کہتے ہیں کہ اب کشمیریوں کو قید خانے میں جانے کا کوئی خوف نہیں رہا ہے کیونکہ ہم جیسے ہزاروں کشمیری ایک خوبصورت قید خانے میں رہ رہے ہیں۔ زیادہ تر ہم جیسے لوگ دن بھر کتابیں پڑھتے رہتے ہیں ۔ موبائل نیٹ ورک کو بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہم دنیا سے کٹ چکے ہیں۔ پچھلے سات جمعہ سے سرینگر کی جامع مسجد میں نماز بھی نہیں ہو رہی ہے۔ دکانیں بند پڑی ہیں اور اور ضروری اشیاء کی کمی ہے۔ اکثر شام کو ٹیلی ویژن پر یا تو کشمیر کے حوالے سے بحث کو دیکھتا رہتا ہوں جس میں یا تو لوگ کشمیر کے خلاف سخت باتیں کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں یا پھر تعصب سے بھرے جملے بولتے ہیں۔ ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے یہ مجھے یاد دلاتا رہتا ہے جب میں بھی اس میں حصہ لیتا ہوں۔ جب میں کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں تو زیادہ تر احتجاج کرنے والے نوجوان آزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے پائے جاتے ہیں جب کہ چند نوجوان بھارتی سیکورٹی فورس پر پتھر بھی پھینکتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جواب میں سیکورٹی فورس آنسو گیس یا بندوق کا استعمال کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ نوجوان مارے جارہے ہیں۔
سیکورٹی فورس اور احتجاج کر نے والوں کے درمیان جھڑپ میں اب تک سرکاری ذرائع کے مطابق لگ بھگ 70نوجوان مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں لوگ زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ تین ہزار نوجوان سیکورٹی فورس کے چھرّوں سے زخمی ہوگئے ہیں۔ 1989 میں کشمیر میں جب دو گروپوں نے احتجاج کرنا شروع کیا تھا تو کشمیر کے حالات بد سے بد تر ہونے لگے۔ ایک گروپ نے کشمیر کی آزادی کی مانگ کی تو دوسرے گروپ نے پڑوسی پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی تحریک چلائی۔ اس کے بعد سے کشمیر کے نوجوان کشمیر میں مسلسل تشدد اور احتجاج دیکھ رہے ہیں۔ یہ نوجوان آئے دن صرف کرفیو، گرفتاریاں، ناکہ بندی، حراست میں ہلاکت، سیکورٹی فورس کی زیادتی اور عصمت دری کی ہی خبر سنتے رہتے ہیں، جس سے کشمیریوں کا ہندوستانی حکومت پر اعتماد اٹھ چکا ہے۔
بی بی سی کے ایک مضمون میں صحافی گوہرگیلانی نے بتایا کہ جب ہمیں اے فار ایپل اور بی فار بال یا سی فار کرکٹ سیکھنا چاہئے تھا اس وقت ہم بد قسمتی سے اے فار آرمی، بی فار بلٹ اور سی فار کرفیو سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کرفیو اور مارنا مرنا کشمیریوں کی زندگی کا روز مرہ کا حصہّ بن چکا ہے۔ اس کے بعد جوں جوں بچے بڑے ہوتے ہیں ان کے ذہن میں فرضی انکاؤنٹر،عدالتی قتل ، عدالت سے غائب ہوجانا اور اجتماعی قبر جیسی باتوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر کشمیریوں کو ہندوستانی فوجی سے اپنی بے عزتی اور ذلت کی شکایت اور ناراضگی ہے۔ مثلاً اپنے ہی دھرتی پر اپنی شناخت کو ثابت کرنا، اسکول جاتے ہوئے بچوں کے بیگ کو غصہّ میں پھینک دینا، اٹھک بیٹھک کروانا اور کشمیریوں کو حقارت بھری نظر وں سے دیکھنا، سیکورٹی فورس کا روز مرّہ کا معمول بن گیا ہے۔
لیکن برہان وانی کی موت نے کشمیریوں میں نفرت کی ایک نئی آگ بھڑکا دی ہے اور دیکھا یہ جارہا ہے کہ اب کشمیری بنا کسی دوسرے ملک کی مداخلت اور مدد کے، ہندوستانی فورس کے خلاف سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مسلح باغی اب عام کشمیری کو نشانہ نہیں بنا رہے اور ہندوؤں کو امرناتھ آنے کی آزادی دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیری پنڈتوں کو واپس آکر اپنے گھروں میں بسنے کا موقعہ دیا جارہا ہے۔ کشمیریوں میں اتحاد کی جھلک پائی جارہی ہے۔
یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ زیادہ تر کشمیری والدین اپنے گھروں تک محدود ہیں اور اپنی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں تو وہیں ان کے بچوں کو یہ سوالات کرتے ہوئے پایا جاتا ہے ۔ ہندوستان کیا ہے؟ جواہر لعل نہرو کون تھے؟ ریفرنڈم کیا ہے؟ ہندوستان نے ہماری زمین پر قبضہ کیوں کر رکھا ہے؟ ہمیں آزادی کب ملے گی؟
میں جب 1989 میں کلکتہ یونیور سٹی میں ایم اے کا طلب علم تھا تو میں اپنے چند اساتذہ اور ساتھیوں کے ہمراہ ایجوکیشن دورے کی غرض سے ایک ماہ کے لئے کشمیر گیا تھا۔ مجھے آج بھی یہ بات یاد ہے جب ہم سرینگر سے واپس جمّوں آرہے تھے تو راستے میں چند لمحوں کے لئے ہماری بس کھانے پینے کے لئے ایک ریسٹورنٹ کے پاس رکی۔ سبھی لوگ ریسٹورنٹ میں کھانے پینے میں مصروف تھے کہ قریب ہی بیٹھی ایک بوڑھی کشمیری عورت سے میری ملاقات ہوئی جو جموّں سے کشمیر جارہی تھی۔ سلام و کلام کے بعد اس خاتون نے کہا کہ میں سرینگر جا رہی ہوں اور کشمیر کے حالات آج کل اچھے نہیں ہیں۔ میں نے ان سے برجستہ پوچھا کہ کیا وہ کشمیر کی آزادی چاہتی ہیں؟ انہوں نے فوراً مجھے جواب دیا ’ یقیناً‘ اور انہوں نے بتا یا کہ میرے دو بیٹے ہیں اور میں چاہوں گی کہ کشمیر کی آزادی کے لئے میرا ایک بیٹا شہید ہوجائے۔ اسی دن مجھے اس بات کا احساس ہو گیا کہ کشمیر کا مسئلہ دو ملکوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ کشمیر کا مسئلہ صحیح معنوں میں کشمیریوں کا ہے جسے دو ملکوں کی باہمی نفرت نے الجھا رکھا ہے۔
آئیے آپ کوکشمیر کی مختصر تاریخ بتاتے ہیں۔ 1846 میں کشمیر کو شاہی صوبہ کے طور پر تخلیق کیا گیا۔ تقسیم کے بعد کشمیر کے مہا راجہ کی ہچکچاہٹ سے کہ کیا وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کس ملک میں شامل ہوں، دونوں ملکوں کو جنگ کرنے پر مجبور کر دیا۔1949 میں کشمیر کا بٹوارہ کر دیا گیا اور ایک حصہ پاکستان میں شامل ہوگیا جسے آزاد کشمیر کہتے ہیں اور دوسرا ہندوستان میں شامل ہوا۔ 1962 میں چین نے کشمیر سے ملحق بارڈر اکسائی چن تنازعہ پر ہندوستان کو شکست دی تھی۔ 1965 میں ہندوستان اور پاکستان کے بیچ دوسری جنگ ہوئی تھی جو ایک جنگ بندی معاہدے کے تحت ختم ہوئی ۔1972 میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین لائن آف کنٹرول قائم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ 1999 میں کارگیل کی مختصر جنگ ہوئی جب انتہا پسند لائن آف کنٹرول پار کر گئے تھے۔
اس مضمون میں میں نے کشمیر کے افسوس ناک حالات کا ذکر کیا ہے تو وہیں اس بات پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ کیا کشمیر کا مسئلہ واقعی دو ملکوں کا مسئلہ ہے۔ یوں تو کشمیر کے مسئلہ کو لکھنے اور جاننے کے لئے ایک مضمون ناکافی ہے۔ ٹھیک اسی طرح سے جیسے کشمیر کے لوگوں کی آواز سننے کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ہم تو اب کشمیر کی خبروں سے اتنے افسردہ اور غمگین ہوگئے ہیں کہ نہ تو کچھ کہہ پا رہے ہیں اور نہ ہی کچھ سمجھ پا رہے ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ یوں تو ہندوستانی سیاستدانوں کے لئے ایک درد سر ہے لیکن اسے اس قدر پیچیدہ اور حساس بنا دیا گیا ہے کہ اگر کوئی اس کی حمایت میں بات کہے تو اسے پاکستان نواز کہا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی کشمیریوں کے خلاف کہے تو اسے بھارتی یا دیش بھگت کہاجاتا ہے۔ میری یہی دعا ہے کہ اس مسئلہ کا حل جلد نکلے اور کشمیر ایک بار پھر دنیا میں جنت کی مثال بنے ۔ لیکن فی الحال مجھے ان تمام باتوں سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بالکل دو ملاؤں میں مرغی حرام، کی مانند بن چکا ہے۔